مدارس سنٹر
Al-Risala, September 2000, pp. 74–80
By Maulana Wahiduddin Khan
ضرورت ہے کہ مدارس سنٹر کے نام سے ایک مرکزی ادارہ قائم کیا جائے۔ یہ سنٹر اس مقصد کو اجتماعی طور پر حاصل کرنے کی ایک کوشش ہوگی جس کو مختلف مدرسے انفرادی طور پر حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
مدارس سنٹر کا پہلا مقصد مدارس کے درمیان اتحاد کی فضا پیدا کرنا ہے۔ یہ سنٹر مختلف مدارس کے درمیان شیرازہ کا کام کرے گا۔ اللہ کے فضل سے مدارس کے درمیان ایک قسم کے خاموش اتحاد کا ماحول آج بھی قائم ہے۔ مدارس سنٹر کا کام یہ ہوگا کہ وہ اس اتحاد کو مزید موثر اور با معنی بنائے ۔ مدارس کی اجتماعی آواز کے طور پر کام کرے ۔
۲ موجودہ زمانہ معلوماتی انفجار (information explosion) کا زمانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے ادارے میں ایسے شعبے ہوتے ہیں جو ادارے کو عصری معلومات سے مربوط رکھیں ۔ کا ایک کام یہ ہوگا کہ وہ مدارس سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق رکھنے والی عالمی معلومات کو جمع کرے اور مدارس کو ان سے باخبر کرتا رہے۔
حدیث میں مومن کی جو صفات بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے: ان يكون بصيراً بزمانه پورا کرنے کا ذریعہ ہوگا، وہ ان کو عصری واقفیت سے مسلح کرے گا۔
۳ جیسا کہ معلوم ہے، مدارس کا موجودہ نصاب دو قسم کے علوم پر مشتمل ہے۔ علوم عالیہ، اور جہاں تک علوم عالیہ کا تعلق ہے، وہ بلاشبہ مقدس علم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم یہ تقدس ان کے متن (text) کے لئے ہے نہ کہ ان کی تشریح و تفسیر کے لئے ۔ اس لئے علوم عالیہ میں متن کو علیٰ حالہ باقی رکھتے ہوئے ان کی تشریحی اور تفسیری کتابوں میں وقت کے تقاضے کے مطابق تبدیلی ہوتی رہے گی ۔ علوم آلیہ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ علوم آلیہ کبھی مقدس نہیں ہوتے۔ وہ مکمل طور پر زمانی حالات اور عصری افکار کے تابع ہوتے ہیں۔ اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ علوم آلیہ پر مسلسل نظر
ثانی کی جاتی رہے۔ جیسا کہ سیکولر نظام تعلیم میں عام طور پر کیا جاتا ہے۔ ۴ مدارس سنٹر کا ایک کام یہ ہوگا کہ وہ مدارس کے تعاون سے ایسی فضا پیدا کریں جس میں موجودہ نصاب پر نظر ثانی کے مسئلہ کو ممکن بنایا جا سکے۔ مدارس کے حلقہ میں لمبے عرصہ سے یہ بحث جاری ہے کہ مدارس کے مروجۂ نصاب پر نظرثانی کر کے اس کو مطابق حال بنایا جائے۔ مگر عملاً اس کی طرف بہت کم پیش قدمی ہو سکی ہے۔
مدارس کے موجودہ نصاب میں قرآن اور سیرت اور تاریخ اسلام کا حصہ بہت کم پایا جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ نصاب کی اس کمی کو پورا کیا جائے۔ اسی طرح حدیث کو اصلا حدیث کے طور پر نہیں پڑھایا جاتا بلکہ اس کو فقہ کے ذیل میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس پہلو پر بھی دوبارہ غور و فکر کرنے کی ضرورت اسی طرح موجودہ نصاب میں ”فرق ضالہ“ کے نام پر بہت سی چیزیں داخل نصاب ہیں۔ یہ فرقے قدیم فرقے ہیں جو اب عملاً معدوم ہو چکے ہیں۔ ضرورت ہے کہ طلبہ کو اس کے بجائے آج کے گمراہ فرقوں کے بارے میں معلومات دی جائیں، نہ کہ گزرے ہوئے فرقوں کے بارے میں۔ طرح معقولات کے نام پر جو کتابیں مدارس کے موجودہ نصاب کا جزء ہیں وہ اب عملاً غیر مفید ہو چکی ضرورت ہے کہ اس کے بجائے طلبہ کو جدید معقولات سے واقف کر لیا جائے تاکہ وہ آج کے ذہن کے سامنے اسلام کی مدلل نمائندگی کر سکیں۔
اس قسم کی متعدد چیزیں ہیں جو موجودہ نصاب پر نظر ثانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ مدارس کے تعاون ہی کے ذریعہ انجام دی جاسکتی ہے۔ مدارس سنٹر کا ایک اہم کام یہ ہوگا کہ وہ اس نظرثانی کے لئے حالات فراہم کرے۔
۵ مدارس کے موجودہ نصاب کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہو گا کہ وہ بڑی حد تک دعوت رخی (dawah-oriented) نصاب ہے۔ اس نصاب کو بنانے والوں کے ذہن میں غالباً یہ مقصد تھا کہ طلبہ کو اس طرح تیار کیا جائے کہ وہ مدارس سے فارغ ہو کر دعوت و تبلیغ کے کام کو موثر طور پر انجام دے سکیں۔ یہ بجائے خود ایک صحیح نہج تھا۔ مگر اب زمانہ اتنا بدل چکا ہے کہ عملی طور پر دیکھا جائے تو ہمارے مدارس ایسے مخاطبین کے لئے دعاۃ تیار کر رہے ہیں جن کا اب کہیں وجود نہیں۔ مثلاً یہ نصاب طلبہ کو
قدیم "معتزلہ" کے خلاف ذہنی طور پر مسلح کرتا ہے۔ مگر آج کے جو زندہ معتزلہ ہیں ان کے خلاف یہ طلبہ اپنے آپ کو تیار نہیں پاتے۔ اسی طرح قدیم ذوق کے مطابق طلبہ کو مناظرہ کے آداب پڑھائے جاتے ہیں حالانکہ آج مناظرہ کا طریقہ متروک ہو چکا ہے اور اس کی جگہ سنجیدہ ڈائیلاگ کا طریقہ دنیا میں رائج ہو گیا ہے، مگر ہمارے فارغین مدرسہ اس کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ وہ جدید طرز کے سنجیدہ ڈائیلاگ میں حصہ لے سکیں۔ اسی طرح یہ فارغین مدرسہ قدیم طرز کی قیاسی منطق پر تیار ہوتے ہیں جبکہ آج دنیا میں سائنٹفک منطق کا دور آچکا ہے جس سے وہ آشنا نہیں ہوتے، وغیرہ وغیرہ۔ نصاب کی تبدیلی کے ذیل میں ایک سوال یہ ہے کہ اس کے لئے مدرسین کہاں سے آئیں مگر یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس معاملہ میں ہمیں موجودہ مدرسین ہی کو تیار کر کے استعمال کرنا ہے نہ کہ نئے مدرسین کو در آمد کرنا۔ یہ عین وہی طریقہ ہے جو یونیورسٹیوں میں عام طور پر رائج ہے۔ وہ یہ کہ جب بھی یونیورسٹی کے نصاب میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے یا کوئی نیا تقاضا سامنے آتا ہے تو اس کے لئے وہ نئے استاد لانے کے بجائے اساتذہ کی موجودہ ٹیم ہی کو مختلف طریقہ سے تیار کرتے ہیں۔ کورس (refresher course) یا کرئش کورس (crash course) چلانا۔ ان کو باہر کی یونیورسٹیوں میں ٹریننگ کے لئے بھیجنا۔ اس مقصد کے لئے انھیں تدریسی کام سے باقاعدہ فراغت دی جاتی ہے تاکہ وہ دلجمعی کے ساتھ اپنے کو نئے تقاضوں کے مطابق تیار کر سکیں۔
سیکولر تعلیمی اداروں میں مسلسل یہ کوشش کی جاتی ہے کہ اساتذہ کے تدریسی معیار کو بڑھایا اس مقصد کے لئے انھیں مختلف قسم کے مواقع دئے جاتے ہیں۔ مثلاً ریسرچ کے لئے ماہنامہ بیرونی سفروں کا انتظام کرنا۔ پروموشن وغیرہ کے ذریعہ ایسے محرک (incentive) فراہم کرنا جوان کے لئے اپنے آپ کو مسلسل تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں، وغیرہ۔ اس سلسلہ میں ایک کام یہ ہے کہ معہد العلما ء یا اور کسی نام سے ایک شعبہ قائم کیا جائے جس کا مقصد عصری تقاضوں کے مطابق علماء کی تیاری ہو۔ منتخب نوجوان علماء متعین مدت کے لئے یہاں بلائے جائیں اور ان کو انگریزی زبان اور عصری معلومات سے بقدر ضرورت مسلح کیا جائے تا کہ وہ دور جدید میں اسلام کی موثر نمائندگی کر سکیں اور جدید اسلوب میں اسلام کا پیغام آج کے انسان تک پہنچائیں۔
اس سلسلہ میں یہاں میں اپنا ذاتی تجربہ بیان کروں گا۔ میرے اس تجربہ میں دوسرے لوگ بھی ایک عملی سبق پاسکتے ہیں۔
میں نے مدرسہ کی تعلیم کے زمانہ ہی میں ابتدائی انگریزی سیکھ لی تھی۔ لیکن انگریزی زبان میں اپنی استعداد کو بڑھانے اور اس کے ذریعہ جدید طبقہ تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا جذبہ میری زندگی میں بعد کو شامل ہوا۔ اور آخر کار یہی میری زندگی کا اصل مشن بن گیا۔
انگریزی کو دعوت کا ذریعہ بنانے کا جذبہ میرے اندر کیسے پیدا ہوا، اس کے مختلف اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک بلاشبہ وہ ہے جو علماء اسلام سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بہت سے علماء کو یہ احساس ہوا کہ عصری تقاضوں کے مطابق اسلام کی خدمت کرنے کے لئے انہیں مغربی زبان بھی سیکھنا مثال کے طور پر مولانا شبلی نعمانی نے علی گڑھ میں پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی زبان سیکھنے کی کوشش کی اگرچہ وہ اس کو تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ میں مدرسۃ الاصلاح میں اپنی تعلیم کے زمانہ میں دیکھتا تھا کہ میرے استاد مولانا اختر احسن اصلاحی ڈکشنری کی مدد سے انگریزی کتاب پڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اگرچہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کی یہ کوشش کہاں تک پہنچی۔ اس سلسلہ کا ایک سبق آموز واقعہ وہ ہے جو مولانا محمد قاسم نانوتوی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس واقعہ کو مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب سے لے کر ملخصاً یہاں نقل کیا جاتا ہے:
"حج کے سفر (۱۸۷۸ء) میں مولانا نانوتوی سے جہاز کے یورپین کپتان نے مذہبی سوالات کئے جن کا جواب ”ترجمان“ کے ذریعہ دیا گیا۔ کپتان آپ کے جوابوں سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوا مولانا نانوتوی نے اس کے بعد عزم کر لیا تھا کہ حج سے فارغ ہونے کے بعد ہندوستان پہنچ کر وہ خود انگریزی زبان سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ مولانا نانوتوی کا احساس تھا کہ ترجمان کے بغیر براہ راست تقریر سے کپتان زیادہ متاثر ہو سکتا تھا۔ مطلب جس کا یہی ہو سکتا ہے کہ دوسروں تک دین کی دعوت پہنچانے کے لئے انگریزی جیسی زبانوں کے سیکھنے کو بھی حضرت والا نے اپنے ”دینی مجاہدات“ کی فہرست میں شامل کر لیا تھا" (سوانح قاسمی از مولانا مناظر احسن گیلانی مطبوعہ دار العلوم دیوبند، صفحہ ۲۹۹۔ ۳۰۰ ، جلد۔
اس قسم کے مختلف واقعات ہیں جن کے ذریعہ میرے اندر یہ داعیہ پیدا ہوا کہ مدرسہ کی تعلیم کے بعد انگریزی زبان کو سیکھوں اور جدید علوم کا مطالعہ کروں۔ تاکہ میں اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو زیادہ مؤثر طور پر ادا کر سکوں۔
میں کبھی کسی انگریزی اسکول میں داخل نہیں ہوا مگر مدرسہ کی تعلیم کے بعد لمبی مدت تک ذاتی محنت کے ذریعہ میں نے انگریزی زبان سیکھی۔ میں اس قابل ہو گیا کہ براہ راست ہر قسم کی انگریزی کتاب کا مطالعہ کروں اور ان سے ضروری مواد حاصل کر سکوں۔ میں تقریباً چالیس سال سے ہندوستان کے اندر اور ہندوستان کے باہر انگریزی داں حلقوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہوں۔ عربی اور انگریزی دونوں زبان سے واقفیت حاصل کرنے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ میں ایک بین اقوامی دعوتی مشن جاری کر سکا۔ اس دعوتی مشن کا آغاز تو بہت پہلے ہو چکا تھا لیکن انگریزی زبان کے اعتبار سے اس کا با قاعدہ آغاز ۱۹۸۴ میں ہوا جب کہ میں نے انگریزی ماہنامہ ’’الرسالہ‘‘ کا اجراء نئی دہلی سے کیا۔ الحمد للہ اب تک جاری ہے اور ملک کے اندر اور ملک کے باہر انگریزی داں حلقوں میں دین کی اشاعت کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ در جنوں کی تعداد میں انگریزی کتابیں چھپ کر عالمی سطح پر پھیل رہی ہیں حتیٰ کہ اب یہ دعوتی مشن انٹر میٹ تک پہنچ چکا ہے۔ اور اس کا اپنا ویب سائٹ بھی کھولا جا چکا ہے۔ اللہ کا یہ خصوصی فضل ہے کہ اس پر امن دعوتی مشن کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کا کام بین اقوامی سطح پر انجام پا رہا ہے۔ اس دعوتی مشن میں میرے ساتھ بہت سے اللہ کے بندے لگے ہوئے ہیں۔ ہماری اب تک کی کوششوں سے مختلف ملکوں میں ہزاروں لوگ اسلام کے سایہ رحمت میں داخل ہو چکے ہیں۔ عربی زبان اور دینی علوم کی تکمیل کے بعد انگریزی زبان کا حصول میرے لئے بے حد مفید ثابت اسی دو طرفہ علم کا یہ نتیجہ ہے کہ میرے لئے یہ ممکن ہوا کہ میں بین اقوامی کانفرنسوں میں اسلام کی نمائندگی ملک کے اندر اور ملک کے باہر مجھے بار بار اس قسم کے مواقع ملے۔ اگر میں انگریزی زبان سے بے خبر ہو تا تو میرے لئے یہ ممکن نہ ہو تا کہ میں دور جدید کے دعوتی مواقع کو اس طرح استعمال کر سکوں۔ ۸ مدارس سینٹر کا ایک کام یہ بھی ہوگا کہ وہ مدارس کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کا منظم اہتمام کرے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ غلط فہمیاں بے بنیاد ہیں لیکن وہ اتنی زیادہ پھیلی ہوئی ہیں کہ
اس سے صرف نظر کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔
اس سلسلہ میں ایک سبق آموز واقعہ یہاں نقل ذکر ہے۔ کچھ عرصہ پہلے حکومت ہند کے ایک اعلی ذمہ دار ٹیلی فون کر کے میرے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک خاص مسئلہ میں آپ سے مشورہ کرنے کے لئے آیا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ نومبر 1999 میں انڈین ائر لائنز کا ایک جہাজ جب ہائی جیک کر کے نیپال سے قندھار لے جایا گیا تو اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے میں قندھار گیا تھا۔ ملاقات کچھ افغانی نوجوانوں سے ہوئی۔ ان سے ہم نے پوچھا کہ کیا آپ لوگ سیاحت کے لئے انڈیا آنا پسند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، جب ہم نے پوچھا کہ آپ انڈیا کے کن مقامات کو دیکھنا چاہیں گے تو انہوں نے سب سے پہلے دیوبند کا نام لیا۔ مزید سوال پر انہوں نے بتایا کہ ہم کو وہاں جانے سے دل چسپی اس لئے ہے کہ ہم بھی دیوبندی ہیں۔
حکومت کے مذکورہ ذمہ دار کی بات چیت سے اندازہ ہوا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دیوبند شاید جنگجوئی کی تربیت کا سینٹر ہے۔ افغانستان میں نیز ہندوستان کی سرحد پر جو تشدد عرصہ سے جاری ہے اس کی فکری تربیت کا مرکز شاید دیوبند ہے۔
ان کی یہ بات سن کر مجھ پر ہنسی آگئی۔ میں نے کہا کہ دیو بندی تو میں بھی ہوں۔ میری تعلیم مدرسۃ الاصلاح اس مدرسہ کا سنگ بنیاد دیوبند کے مولانا اصغر حسین نے رکھا تھا جو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے پھر میں نے ان کو بتایا کہ دیوبندی یا دیوبندیت سے مراد وہ مسلک ہے جس میں اتباع سنت پر زور دیا جاتا ہے۔ اسی نسبت سے ان افغانی نوجوانوں نے اپنے کو دیوبندی بتایا۔ کیوں کہ افغانستان کے لوگ عرصہ دراز سے دینی تعلیم کے لئے دیو بند آتے رہے ہیں۔ اور وہ اپنے شرعی مسلک کے اعتبار سے دیوبند کے علماء پر اعتماد کرتے ہیں اس معاملہ کا سیاسی تشدد یا جنگ جوئی سے کوئی تعلق نہیں۔ وضاحت کے بعد وہ پوری طرح مطمئن ہو گئے۔
مدارس دینیہ کے خلاف اس قسم کی غلط فہمیاں بڑی تعداد میں ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہی غلط فہمیاں ہیں جن کی بنا پر مدارس کے خلاف طرح طرح کی باتیں کہی جاتی ہیں، مثلا مدارس پر کنٹرول کرنے کے لئے قانون بنایا نیا کچھ لو گوں کی طرف سے بھارتیہ کرن کا نعرہ لگایا جاتا۔ یا کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ
مدارس قومی یکجہتی یا نیشنل فکرمید کرنے میں رکا وٹ ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ مدرسے جب تک قائم ہیں اس وقت تک ملک میں مجموعی ترقی نہیں ہوسکتی، کیوں کہ وہ مسلمانوں کو ملک کی مین اسٹریم میں داخل ہونے میں روک بنے ہوئے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
یہ الزامات بلا شبہ بے اصل اور بے بنیاد ہیں اور اگر سنجیدہ انداز میں کو شش کی جائے تو یقینی طور پر ان کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ مجوزہ مدارس سنٹر کا ایک ضمنی یا جزئی کام یہ بھی ہو گا کہ وہ مناسب انداز میں ان غلط فہمیوں کی تردید کرے۔ وہ بروقت ان کی حقیقت سے لوگوں کو واقف کرائے۔ غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ایک اسلامی کام ہے جس کو قرآن میں تبین کہا گیا ہے۔
مدارس سنٹر کا اصل ایجابی کام یہ ہو گا کہ وہ مدارس اور اس کے نظام سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ وہ لوگوں کے سامنے مدارس کی صحیح تصویر پیش کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدارس کا صحیح تعارف ہی مدارس کے خلاف غلط فہمیوں کی کافی اور یقینی تردید ہے۔
مدارس سنٹر کا ایک کام یہ ہو گا کہ وہ ملک میں پھیلے ہوئے مدارس کے بارے میں معلومات جمع وہ ان کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کرے۔ وہ مدارس کے مشترک مقاصد کے حصول کے لئے وہ مدارس کے جال کو انفرادی دائرہ سے نکال کر ایک وسیع مشترک مجموعہ بنادے۔ خلاصہ یہ کہ مدارس سنٹر داخلی اعتبار سے مدارس کے لئے شیرازہ اتحاد ہو گا اور خارجی اعتبار سے مدارس کا اجتماعی نمائندہ۔ ایک اعتبار سے وہ مدارس کے استحکام کی علامت ہو گا اور دوسرے اعتبار سے مدارس کی آفاقیت کا محافظ۔ مدارس سنٹر کے قیام کی صورت میں مدارس کی افادیت اور مدارس کی طاقت دونوں میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔ مدارس سنٹر گویا ایک غیر سیاسی ایمپائر کی غیر سیاسی راجدھانی ہوگا۔ وہ بیک وقت مرکز ملت بھی ہو گا اور اس کے ساتھ مرکز مدارس بھی۔