دنیا اور آخرت
Al-Risala, October 2000, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
بیج ڈالسے کے دن جو کسان فصل کاٹنا چاہے وہ بیج کو بھی کھوئے گا اور فصل نے بھی محروم یہی معاملہ دنیا اور آخرت کا ہے۔ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت اس کا انعام پانے جو شخص دنیا ہی میں ”انعام“ حاصل کرنا چاہے تو وہ اس قیمت پر ہوگا کہ وہ مطلوب عمل انجام نہ دے سکے گا۔ وہ آخرت کی تعمیر کے واحد موقع کو کھو دے گا۔
جو چیز جنت میں ملنے والی ہے اس کو آدمی موجودہ دنیا میں پانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں ہی کو کھو دیتا ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے جو دنیا کے ذریعہ آخرت کو خریدے نہ کہ دنیا میں پھنس کر اپنے آپ کو آخرت سے محروم کر لے۔
آپ سفر کے دوران وہ سکون حاصل کرنا چاہیں جو صرف گھر پر کسی آدمی کو ملتا ہے تو آپ کبھی اپنی اس طلب میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اسی مثال سے دنیا اور آخرت کے معاملہ کو سمجھا دنیا کو خدا نے عمل کرنے کی جگہ بنایا ہے اور آخرت کو عمل کا انجام پانے کی جگہ۔ سفر کا راستہ ہے اور آخرت اس کی منزل۔
اب اگر آپ چاہیں کہ دنیا ہی میں اپنا انجام پالیں تو آپ کے عمل کی منصوبہ بندی بالکل غلط ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر آپ راستہ میں منزل والا سکون حاصل کرنا چاہیں تو آپ اپنے راستہ کو کھونا کر لیں گے۔ عقل مند آدمی وہ ہے جو دنیا اور آخرت کے اس فرق کو سمجھے۔ سے پہلے اس چیز کی خواہش نہ کرے جو صرف موت کے بعد والی زندگی میں کسی کو مل سکتی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ حقیقت پسند بنے۔ وہ خواہشوں کے پیچھے نہ دوڑے۔ خواہشیں آدمی کو گڑھے کے سوا کسی اور منزل پر پہنچانے والی نہیں۔
ہر آدمی اپنے سینہ میں خواہشات کا ایک سمندر لئے ہوئے ہے۔ یہ خواہشات بجائے خود مگر ان خواہشات کی تکمیل کا مقام آخرت ہے نہ کہ موجودہ دنیا۔