جہاد اکبر
Al-Risala, February 2000, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے اپنے اپنے آپ کو برے جذبات سے اور برے اعمال سے روکنا بے حد مشکل کام ہے۔ اس کے لئے اپنی خواہشات سے لڑنا پڑتا ہے۔ اس لئے اس کام کو اسلام میں جہاد اکبر کہا گیا ہے۔ صوفیوں کی زندگی اسی جہاد اکبر کا نمونہ ہے۔ اس جہاد میں خود اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے۔ نفرت، حسد، گھمنڈ، بدخواہی، غصہ اور منفی سوچ جیسی برائیوں کو اپنے اندر سے نکالنے کے لئے خود اپنے آپ سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اس جہاد کے نتیجہ میں وہ انسان بنتا ہے جس کو قرآن میں ربانی انسان کہا گیا سماج میں امن اور محبت کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ خیر خواہی اور انسانی احترام کا ماحول قائم ہوتا ہے۔ ہر قسم کی مثبت قدریں فروغ پاتی ہیں۔ انسانی تعمیر کا کام موافق ماحول میں ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس سیاسی لیڈر جس جہاد کی نمائندگی کرتے ہیں وہ دراصل جہاد کے نام پر فساد اس خود ساختہ سیاسی جہاد میں دوسروں کے خلاف لڑائی چھیڑی جاتی ہے۔ اس میں نفرت اور تشدد امن وسکون ختم ہو جاتا ہے۔ قیمتی جانیں ہلاک ہوتی ہیں۔ انسانوں کو بے عزت کیا جاتا تعمیر و ترقی کے تمام کام ٹھپ ہو جاتے ہیں۔ اس کے ذریعہ کوئی نئی چیز حاصل نہیں ہوتی اور جو کچھ حاصل تھا وہ بھی کھو دیا جاتا ہے۔
سیاسی لیڈروں کا یہ نام نہاد جہاد قرآن کی اس آیت کا مصداق ہے: ”اور جب وہ پھرتا ہے تو زمین میں سرگرم ہوتا ہے تا کہ وہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتوں اور جانوں کو ہلاک کرے۔ حالاں کہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا‘‘ (البقرہ ۲۰۵) معلوم ہوا کہ جو سرگرمی اپنے نتیجہ کے اعتبار سے فساد اور خوں ریزی کا سبب بنے وہ اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا اسی طرح سچے اسلامی جہاد کی پہچان یہ ہے کہ وہ انسانی سماج کے لئے رحمت اور برکت کا ذریعہ ثابت ہو۔