Al-Risala · October 2000

بے خبری

Al-Risala, October 2000, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک وہ اس پر بولتے رہے کہ ہندوستان میں مسلمان مسائل سے گھرے ہوئے ہیں۔ ان کو تعصب اور زیادتی کا سامنا ہے۔ کے لئے ترقی کے دروازے بند ہیں۔ آخر میں ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ راجستھان میں ایک بزنس کر رہے ہیں۔ اور پچھلے دو سال کے عرصہ میں انہوں نے اطمینان بخش کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جو کاروبار وہ کر رہے ہیں اس میں ان کا سابقہ ۹۹ فیصد غیر مسلموں سے پڑتا ہے۔ یہ غیر مسلم ان کے لئے نہایت مددگار (helpful) ثابت ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں سن کر میں نے کہا کہ آپ کی سوچ میں ایک تضاد ہے۔ اور یہی تضاد آپ کو اصل معاملہ سمجھنے نہیں دیتا۔ آپ اس تضاد کے خول سے باہر آجائیں تو آپ خود بخود جان لیں گے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کی ترقی کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ ماشاء اللہ ایک مسلمان ہیں۔ آپ نے یہاں ایک کاروبار شروع کیا۔ خود آپ کے بیان کے مطابق اسی ہندوستان میں آپ کا کاروبار ترقی کر رہا ہے۔ غیر مسلموں کی طرف سے آپ کو کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ ذاتی طور پر اس مثبت تجربہ کے باوجود کیوں آپ ایسا کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں مسلمان سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے اس کے جواب میں بعض اردو اخبارات کی رپورٹوں اور بعض مسلم رہنماؤں کے بیانات کا حوالہ دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ تعصب اور زیادتی کے نظریہ کی اصل جڑ کیا ہے۔ یہ جڑ ملک کے اپنے حالات میں نہیں ہے بلکہ خود مسلمانوں کی زرد صحافت اور زرد قیادت اس کی ذمہ دار ہے۔ ہمارے درمیان یہ زرد صحافت اور یہ زرد قیادت نہ ہو تو اس معاملہ کو جاننے کے لئے مسلمانوں کے پاس ان کا ذاتی تجربہ ہو گا اور پھر وہ یقینی طور پر جان لیں گے کہ ان کے وطن میں ان کے لئے ہر قسم کی ترقی کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔

Printed page