تیسرا امکان
Al-Risala, October 2000, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
برطانیہ کی خاتون اسکالر کیرن آرم اسٹرانگ (Karen Armstrong) ایک منصف مزاج خاتون ہیں۔ اسلام کے بارہ میں ان کی تحریریں عدل و انصاف پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان کی ایک قابل مطالعہ کتاب لندن سے ۱۹۹۱ میں چھپی ہے۔ ۲۸۰ صفحہ کی اس کتاب کا نام یہ ہے: Muhammad: A western attempt to understand Islam اس کتاب میں انہوں نے موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں پر تبصرہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے لکھا ہے کہ موجودہ زمانہ کا انقلابی اسلام، اپنے انتہا پسندانہ اور سفید و سیاہ حل کے ساتھ ایک نوجوان کا مذہب ہے:
Radical Islam with its extreme and black-and-white solutions, is a young person's faith. (p. 12)
معاملہ کو بلیک اینڈ وائٹ میں لینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صرف دو حالتوں کے درمیان مثلاً اگر اس کے ملک میں بظاہر ایک غیر صالح حکمران ہے تو وہ یہ سمجھے کہ اس کو کسی نہ کسی طرح اقتدار سے ہٹا دو اس کے بعد اپنے آپ صالح حکومت قائم ہو جائے گی۔ مگر زندگی اس طرح صرف دو صورتوں کے درمیان نہیں ہوتی۔ عین ممکن ہے کہ آپ دھوم مچا کر غیر صالح حکمران کا خاتمہ کریں اور اس کے بعد عملاً ایک تیسری صورت سامنے آجائے، یعنی ایک اور غیر صالح حکمران کا اقتدار پر قبضہ۔
جو لوگ معاملات کو سفید و سیاہ کی صرف دو صورتوں میں دیکھتے ہیں وہ ہمیشہ اصلاح کے نام پر تباہی لانے کا سبب بنتے ہیں۔ حقیقی اصلاح کے لئے ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو دو صورتوں کے دائرہ سے باہر آکر تیسرے امکان کو دیکھ سکے، جو یہ جانے کہ ہر ایسا اقدام باطل ہے جو عملی طور پر ایک نظام فساد کو ہٹا کر دوسرے نظام فساد کی آمد پر منتج ہونے والا ہے۔