Al-Risala · October 2000

Forts, Legacies of the past.

Al-Risala, October 2000, pp. 20–35

By Maulana Wahiduddin Khan

اس با تصویر مضمون میں ہندوستان کے مختلف قلعوں کی رنگین تصویریں تھیں۔ سب سے زیادہ نمایاں تصویر دہلی کے لال قلعہ کی تھی جس کو شاہ جہاں نے بنوایا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، دہلی کے لال قلعہ سے تھوڑی دوری پر یہاں کی جامع مسجد واقع ہے۔ دونوں کا جائے وقوع اس طرح ہے کہ جب قلعہ کی تصویر لی جاتی ہے تو اس کے فوکس میں جامع مسجد نمایاں طور پر دکھائی دینے لگتی ہے۔ چنانچہ سو اگت کی موجودہ تصویر میں بھی ایسا ہی تھا۔ کو دیکھ کر مجھے مسلمانوں کا وہ دور یاد آگیا جو پانچ سو سال پہلے دنیا میں موجود تھا۔ اس وقت مسلمان زندگی کے مختلف شعبوں میں اس طرح چھائے ہوئے تھے کہ جدھر سے بھی دیکھا جائے ان کا فوکس میں آنا لازمی تھا۔ مثلاً علم الحساب کی بات ہو تو فورا عربی ہندسہ (Arabic Numerals) کا تذکرہ سامنے آ جائے گا۔ علم جغرافیہ کا چرچہ ہو تو الادریسی کا نام سامنے آ جائے گا جس نے یورپ کے ایک بادشاہ کے لئے پہلا عالمی نقشہ بنایا تھا۔ بحری جہاز رانی کا تذکرہ ہو تو ملا ح ماجد کا نام سامنے آ جاتا ہے جس نے واسکوڈی گاما کے لمبے سفر میں اس کی رہنمائی کی تھی۔ طرز تعمیر کا ذکر ہو تو تاج محل کا نام فوراً سامنے آ جاتا ہے جو اپنے زمانہ کے لحاظ سے ایک تعمیری چھلانگ کی حیثیت رکھتا تھا۔ علم طب کا تذکرہ ہو تو فوراً ان مسلم حکماء کا نام سامنے آ جائے گا جنہوں نے تاریخ میں سب سے پہلے آپریشن کا طریقہ ایجاد کیا۔ علم افلاک کا تذکرہ ہو تو ان مسلمانوں کا نام سامنے آ جاتا ہے جنہوں نے تاریخ کی سب سے پہلی رصد گاہ بنائی۔

علم تاریخ کا ذکر کیا جائے تو فورا ابن خلدون کا نام سامنے آ جاتا ہے جس نے فن تاریخ کو

پہلی بار شاہی داستان کے دائرہ سے نکال کر اس کو انسانی تاریخ کا موضوع بنایا۔ لندن کے برٹش میوزیم میں آج بھی ایسے قدیم سونے کے سکے رکھے ہوئے ہیں جن کو ڈھالنے کے لئے بغداد کے مسلم سکہ گر بلائے گئے تھے۔ چنانچہ ان مسلم سکہ گروں کے نام ان پر کندہ ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے زمانہ عروج میں دنیا کو سب سے بڑی جو چیز دی وہ یہ ہے کہ انہوں نے جدید سائنس کے دور کا آغاز کیا۔ اس معاملہ میں انسانیت کے لئے مسلمانوں کی جو دین ہے اس کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ”اسلام دور جدید کا خالق“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جہاز کے اندر اعلانات ہوئے تو معلوم ہوا کہ اس جہاز کے کیپٹن مسٹر محبوب ہیں۔ اس بات کی علامت تھی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ترقی کے وہ تمام مواقع موجود ہیں جو کسی دوسرے کے لئے ہو سکتے ہیں۔

۱۹۴۷ سے لے کر اب تک مسلمانوں کے تقریباً لکھنے اور بولنے والے لوگ مسلمانوں کو یہ تاثر دیتے رہے تھے کہ ہندوستان ان کے لئے ایک پرابلم کنٹری ہے۔ میں غالباً پہلا شخص تھا جس نے مسلمانوں کو یہ بتانا شروع کیا کہ اس ملک میں ان کے لئے وہ تمام مواقع پوری طرح موجود ہیں جو کسی دوسرے ملک میں ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میرے مشن کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں مگر میں نے اللہ کی توفیق سے اپنا مشن جاری رکھا۔ آج یہ حقیقت اتنی نمایاں ہو چکی ہے کہ بے آنکھ والے بھی اس کو دیکھ سکتے ہیں۔

اصل یہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلم رہنماؤں کی نظر کچھ انتہا پسند ہندوؤں کے لکھے یا بولے ہوئے لفظوں پر تھی۔ اس کے برعکس میری نگاہ فطرت کے قوانین اور تاریخ میں کام کرنے والی قوتوں پر تھی۔ اور زندگی کا فیصلہ ہمیشہ تاریخی قوانین کے تحت ہوتا ہے، کسی لیڈر کا اخباری بیان اس کا فیصلہ نہیں کرتا۔

پٹنہ ائیر پورٹ پر میں اترا تو وہاں مولانا عبد الرحیم امدادی، مسٹر ایم ٹی خان، مولانا بدرالدین قاسمی، وغیرہ موجود تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہو کر پہلے مسٹر ایم ٹی خان کی

رہائش گاہ (عدالت گنج) پہنچا۔ یہاں کچھ دیر قیام رہا اور لوگوں سے مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔ مسٹر ایم ٹی خان ہائی کورٹ میں اچھے عہدے پر ہیں۔ اپنے عہدہ کے لحاظ سے ان کو موجودہ مکان سے زیادہ بڑا سرکاری مکان مل رہا تھا مگر ان کے ہندو پڑوسیوں نے سخت اصرار کیا کہ وہ یہیں رہیں، وہ دوسرے مکان میں نہ جائیں۔ چنانچہ انہوں نے موجودہ مکان ہی میں رہنے کا

پٹنہ ریاست بہار کی راجدھانی ہے۔ بہار ہندوستان کی چند بڑی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ اس کی ابتدائی تاریخ ۱۵۰۰ قبل مسیح تک جاتی ہے۔ ساڑھے تین ہزار سال کی اس طویل مدت کے درمیان بہار کے جغرافی نقشہ میں بھی بار بار تبدیلیاں ہوئی ہیں اور اس کے سیاسی نقشہ میں بھی۔ اس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ البتہ ایک سبق آموز بات یہاں قابل ذکر ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برتانکا (۱۹۸۳) میں بہار پر چار صفحہ کا مقالہ شامل ہے۔ اس میں مسلم عہد اور برطانی عہد کے لئے حیرت انگیز طور پر دو مختلف قسم کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ مثلاً بہار میں برطانی عہد کا تذکرہ کرتے ہوئے ”برطانیہ کے تحت “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے: Under the British it formed a part of the Bengal presidency until 1912 (2/984)

اس کے بعد انسائیکلو پیڈیا کے اسی مقالہ میں جب مسلم عہد کا تذکرہ کیا گیا ہے تو ہر عکس طور پر وہاں ”مسلم حملہ آور “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ The name Bihar (Vihar) dates back to about AD 1200 and was given by the Muslim invaders who were struck by the large number of Buddhist monasteries (viharas) they saw. (2/984)

تاریخ نویسی کا یہ غیر علمی انداز ہر قوم اور ہر گروہ میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ غالباً یہ سب سے بڑی وجہ ہے جو اس میں رکاوٹ بن گئی کہ انسانی سوچ کا ارتقاء حقیقت پسندانہ بنیاد پر ہو سکے۔ انسانی تاریخ کو مجرد طور پر خارجی حقائق کی روشنی میں لکھنا چاہئے نہ کہ ذاتی تعصبات کی روشنی میں۔ ۲۵ مئی ۲۰۰۰ کی شام کو پٹنہ سے موتی ہاری کے لئے روانگی ہوئی۔ بارش کی وجہ سے

موسم بہت خوش گوار ہو گیا تھا۔ مگر سڑک کا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ ہماری گاڑی ہر قدم پر اس طرح ہچکولے کھاتی ہوئی چل رہی تھی جیسے کہ ہم پختہ سڑک پر نہ چل رہے ہوں بلکہ کسی کچی سڑک پر چل رہے ہوں۔

آزادی کے بعد جن ہندوستانی لیڈروں کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور آئی وہ سب رومانی قسم کے لیڈر تھے۔ وہ سوشلسٹ سوسائٹی، نان الائینڈ مومنٹ، پبلک سیکٹر، مزدور نواز قوانین اور سماج واد جیسے خیالی افکار میں گم تھے۔ انہوں نے سڑک اور اس طرح کی دوسری چیزوں پر توجہ دینے کے بجائے اپنی خیالی دنیا کو قائم کرنے پر ساری طاقت لگادی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی خیالی دنیا تو بن نہ سکی کیوں کہ وہ بننے والی ہی نہ تھی۔ اور جو کام ممکن تھا وہ اس لئے انجام نہیں پایا کہ اس کے لئے انہوں نے حقیقی طور پر کام ہی نہیں کیا۔

راستہ میں ایک بہت لمبا پل آیا معلوم ہوا کہ یہ پل گنگاندی کے اوپر بنایا گیا ہے اور وہ تقریباً پانچ کلو میٹر لمبا ہے۔ یہ پل آزادی کے بعد بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے صرف کشتیوں کے ذریعہ سفر ہوا کرتا تھا۔ لمبا راستہ طے کرنے کے بعد موتی ہاری پہنچے تو رات ہو چکی تھی۔ یہاں رحمن ماڈل اکیڈمی میں پروگرام تھا۔ تعلیم یافتہ ہند و اور مسلمان بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے تھے۔ پہنچنے میں تین گھنٹے کی تاخیر ہو گئی۔ بہت سے لوگ انتظار کرنے کے بعد واپس ہو گئے تھے۔ یہاں ایک اجتماع ہوا اس میں بھی کافی لوگ شریک تھے۔ میں نے تعلیم کی اہمیت پر تقریر کی۔ موتی ہاری میں رحمن ماڈل اکیڈمی کے جلسے میں کئی اعلیٰ سرکاری افسران بھی شریک تھے۔ رحمن اکیڈمی کے بانی ڈاکٹر ایم۔ یہ تعلیمی ادارہ انہوں نے ۱۹۸۹ میں قائم کیا تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف جاب حاصل کرنا یا پیسہ کمانا نہیں ہو تا بلکہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو باشعور بنانا ہے۔

ایک مسلم افسر نے بتایا کہ بہار میں سرکاری سروس میں ہندو مسلم کے درمیان امتیاز نہیں چنانچہ یہاں مسلم افسران کی تعداد کافی ہے۔ موتی ہاری سے رات میں روانہ ہو کر پٹنہ،

منشاٹولہ (جامع مسجد) پہنچا۔ یہاں کی زیر تعمیر مسجد میں ایک جلسہ رکھا گیا تھا۔ اس میں تعمیر ملت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ترقی کے تمام مواقع موجود ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ محنت کے ساتھ کام کیا جائے۔

منشانولہ کی مسجد میں تقریر کے بعد ہم لوگ شانتی ہوٹل گئے اور رات یہاں گزاری۔ ۲۶ مئی ۲۰۰۰ کی صبح کو ہمارا قافلہ ہوٹل سے روانہ ہو کر پٹیا کے یتیم خانہ میں پہنچا۔ یہ یتیم خانہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک، لڑکوں کے لئے، اور دوسرا، لڑکیوں کے لئے۔ یتیم خانہ نہایت وسیع رقبہ میں قائم ہے اور تعمیر وغیرہ کے لحاظ سے کافی شاندار ہے۔ یتیم خانہ کے رجسٹر پر میں نے جو الفاظ لکھے وہ یہاں نقل کئے جاتے ہیں:

۲۵ مئی ۲۰۰۰ کو بتیا کا یتیم خانہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میں نے اس کو اپنی امیدوں سے زیاوہ پایا۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو زیادہ سے زیادہ ترقی عطا فرمائے۔

کسی بچہ یا بچی کا یتیم ہونا کوئی برائی نہیں۔ یہ ایک نعمت ہے جو فطرت کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے۔ اگر یتیم ہونا نعمت نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ پیغمبر اسلام کے لئے یتیمی کا انتخاب نہ فرماتے۔ یتیم ہونا کسی بچہ یا بچی کے لئے قدرت کی طرف سے ایک خوشخبری ہے۔ اس بات کی خوشخبری کہ تم کو زندگی کے سفر کے لئے دہ کورس عطا کیا گیا ہے جو اس انسان کو عطا ہوا جس کے بارے میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم حضرات بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپ ﷺ پوری تاریخ بشری کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔

یتیم بچہ یا بچی کو پیدا ہونے کے بعد دنیا میں اپنے فطری امکان کو بروئے کار لانے کے لئے اور کیا چیز ملنی چاہئے اس کا اشارہ اس قرآنی آیت میں ملتا ہے۔

الم يجدك يتيماً فآوى (الانشراح)۔ یعنی اپنے آغاز حیات میں اپنی زندگی کی تعمیر کے لئے ایک ماوی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ یتیم خانہ اور اسی طرح تمام یتیم خانے اسی آیت کی عملی تفسیر وہ یتیموں کو ماٰوی فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے کام کو میں اپنی زبان میں منصوبہ خداوندی

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بتیا کے اس یتیم خانہ کو حقیقی معنوں میں یتیموں کا مأویٰ بنائے اور اس کو زیادہ سے زیادہ ترقی عطا فرمائے۔

یتیم خانہ کے ایک طالب علم فصیح اختر (۱۷ سال) نے ایک نعت سنائی۔ غالباً یتیم نے ان کی آواز کو کافی پر اثر بنا دیا تھا۔ اس نعت کا ایک شعر یہ تھا:

پتھر کا کلیجہ بھی شق ہو فولاد بھی پانی پانی ہو اتنا ہے کلام رب میں اثر جو تم کو اثر معلوم نہیں یہ یتیم خانہ ۱۹۲۸ء سے قائم ہے۔ ایک صاحب نے اپنا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ بچپن میں میں یتیم ہو گیا تھا۔ میرے رشتہ داروں نے مجھے اس یتیم خانہ میں داخل کر دیا۔ میرے ساتھ دو یتیم بچے اور تھے۔ ہم تینوں نے یتیم بچوں کی حیثیت سے اس یتیم خانہ میں پرورش پائی۔ بظاہر ہمارا کوئی مستقبل نہ تھا۔ مگر آج ہم تینوں اللہ کے فضل سے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کے اسی یتیم ہونے کا نتیجہ ہے۔ یتیمی کی حالت بہترین حالت ہے۔ یتیمی آدمی کے اندر خود شناسی پیدا کرتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر خود کفیل بننے کا جذبہ ابھارتی ہے۔ یتیم آدمی سمجھتا ہے کہ میرا کوئی سہارا نہیں، اس لئے مجھ کو خود ہی سارا عمل کرنا ہے۔ اس طرح وہ دوسرے سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ یتیمی کے حالات آدمی کو ہیر و بنا دیتے ہیں۔ بتیا میں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک صاحب وہ تھے جن کی عمر ۳۰ ان کے والدین کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا۔ رشتہ داروں نے ان سے بڑی بے رخی حتی کہ ان کو معمولی مدرسہ میں داخل کر دیا۔ چنانچہ ان کا ابتدائی زمانہ تکلیفوں اور مصیبتوں بے عزتی اس کے علاوہ تھی۔ اس کے بعد وہ کسی طرح بمبئی پہنچ گئے وہاں انہوں نے محنت کرنا شروع کیا یہاں تک کہ اب وہ ایک کامیاب انسان کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ بچپن میں وہ بے سہارا اور یتیم تھے۔ اب وہ پورے معنوں میں ایک سلف میڈمین (self-made man) گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ان کے سینہ میں لوگوں کے خلاف سخت شکایات ہیں۔ ان کا سینہ ماضی کی تلخی یادوں سے بھرا ہوا ہے۔

میں نے ان سے نصیحت کے طور پر دو باتیں کہیں۔ ایک بات یہ کہ یاد رکھیے، سب سے بڑی عبادت اللہ کا شاکر ہے۔ شکر بے حد لطیف چیز ہے۔ شکر اور نفرت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ جو آدمی شکر جیسی افضل عبادت کا انعام لینا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے سینہ کو نفرت سے مکمل طور پر پاک رکھے۔ گندے برتن میں آپ دودھ رکھیں تو دودھ خراب ہو جائے اسی طرح نفرت اور انتقام سے بھرے ہوئے سینہ میں شکر جیسے نورانی جذبہ کا جگہ پانا ممکن نہیں۔ دوسری بات ان سے میں نے یہ کہی کہ جن لوگوں نے آپ کو بچپن میں بے سہارا چھوڑ دیا، در اصل یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو ترقی تک پہنچایا۔ فطرت کا یہ قانون ہے کہ جو آدمی اپنے آپ کو بے سہارا پائے اس کے اندر عمل کا بے پناہ جذبہ ابھر آتا ہے۔ زندگی کی مشکلات کسی انسان کے لئے مہمیز کا حکم رکھتی ہیں۔ اس دنیا میں ترقی کے درجہ تک وہی پہنچتا ہے جس کو زندگی میں جھٹکے لگتے ہیں، یہ گویا شک ٹریٹمنٹ کا معاملہ ہے۔ یعنی زحمت میں رحمت۔ مولانا قاری بدر الدین قاسمی (۲۹ سال) آج کل بمبئی میں رہتے ہیں۔ ان سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ ایک موقع پر میں نے کہا کہ اعلان حق کوئی مطلق چیز نہیں۔ اعلان حق کوئی مطلق چیز ہوتی تو حدیث میں یہ نہ ہوتا کہ: من صمت نجا (جو چپ رہا اس نے نجات پائی) انہوں نے کہا کہ پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے جس کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من رأى منكم منكراً فليغيره بيده فمن لم يستطع فبلسانه ومن لم يستطع فبقلبه و ذلك اضعف الایمان۔ میں نے کہا کہ اس حدیث کو سمجھنے میں عام طور پر سخت غلطی کی جاتی ہے۔ اس حدیث میں استطاعت کی شرط لگی ہوئی ہے۔ استطاعت کا مطلب اقدام کی استطاعت نہیں ہے، بلکہ نتیجہ کی استطاعت ہے۔ یعنی عملی اقدام یا لسانی اقدام کر کے اگر مطلوب نتیجہ بر آمد کرنا اپنے بس میں ہو تو اقدام کیا جائے گا ورنہ خاموشی اختیار کی جائے گی۔ دعا پر اکتفا کیا جائے گا۔

بتایا میں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک جناب محمد امیر اللہ صاحب تھے۔

انہوں نے کافی رقم خرچ کر کے ایک قابل قدر کام کیا ہے۔ یہ ایک قسم کے تعلیمی مسافر خانہ کا قیام ہے جو بس اسٹینڈ اور ریلوے اسٹیشن کے درمیان واقع ہے۔

بتیا میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک مسٹر حیدر علی ہیں۔ ان کا پورا خاندان ابتدا سے الرسالہ کا قاری رہا ہے۔ ان کی والدہ جن کی عمر ۸۵ سال ہو گئی ہے، وہ اب بھی بغیر عینک کے الرسالہ پڑھتی ہیں۔ ان کی صاحبزادی صوفیہ حیدر جنہوں نے حال ہی میں کا کورس کیا ہے، نہایت اہتمام سے الرسالہ کا مطالعہ کرتی ہیں اور الرسالہ کا ہر شمارہ بار بار پڑھتی ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ الرسالہ مطبوعات کا برابر مطالعہ کر رہی ہیں۔ میں نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں سب سے اہم چیز حوصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے گھر والوں کو اور رشتہ داروں کو الرسالہ مطالعہ کے لئے دیتی ہوں مگر کم لوگ اس طرح کی سنجیدہ چیزوں کے مطالعہ میں دلچسپی لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ان عظم الجزاء مع عزم البلاء یعنی جتنی زیادہ تکلیف کے ساتھ عمل کیا جائے اتناہی زیادہ اس کا ثواب ہوتا ہے۔ لئے آپ ایسے لوگوں کے بارے میں شکایت کے بجائے یہ سوچیں کہ وہ آپ کے ثواب میں اضافہ کر رہے ہیں۔

سفر سے واپسی کے بعد صوفیہ حیدر صاحبہ کا ایک خط ملا۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ” آپ کے دورہ کے بعد میرے حوصلوں میں کافی اضافہ ہو گیا ہے “۔ اب وہ زیادہ سرگرمی کے ساتھ خواتین میں الرسالہ مشن کو پھیلانے کا کام کر رہی ہیں۔

اس طرح مختلف لوگوں سے ملنے کے بعد ہم لوگ چن پیا پہنچے۔ یہاں جناب شفیع اختر صاحب (رستم بیڑی والے) کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ جس میں تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ کئی ممتاز ہندو صاحبان بھی یہاں موجود تھے۔ اس موقع پر میں نے قومی یکجہتی کے موضوع پر تقریر کی۔ لوگوں نے اچھے تاثر کا اظہار کیا۔ اس اجتماع میں کچھ اخبار نویس بھی موجود تھے۔ تقریر کے بعد لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک بڑے شہر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں الرساله مشن سے اتفاق رکھتا ہوں اور اس کے لئے عملی طور پر کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ ہندوستان سے لے کر امریکہ تک آپ کو بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو کہیں گے کہ میں دین کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر ٹائم نہیں ملتا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سو سال پہلے کوئی آدمی ایسا نہیں کہتا تھا حالاں کہ اس وقت بھی یہی ٹائم پہلے بھی اسی طرح ۲۴ گھنٹہ کے رات اور دن ہوتے تھے۔

اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پہلے ایک آدمی کو اپنا ٹائم دینے کے لئے زیادہ کھونا نہیں پڑتا تھا۔ اب اس کو ٹائم دینے کے لئے بہت زیادہ کھودینا پڑتا ہے۔ سکہ کی اصطلاح میں پہلے ٹائم کی قیمت بہت کم تھی اور اب سکہ کی اصطلاح میں ٹائم کی قیمت بہت بڑھ چکی ہے۔ وہ فرق ہے جس کی بنا پر آج لوگ ٹائم کا عذر پیش کرتے ہیں۔ جب کہ ماضی میں وہ اس قسم کا عذر نہیں کرتے تھے۔

مزید غور کیجئے تو حقیقۃ ٹائم کا مسئلہ نہیں بلکہ حرص کا مسئلہ ہے۔ آج بھی لوگ اگر سادگی اور قناعت کو اپنا طریقہ بنائیں تو وہ تھوڑے ٹائم میں اتنی کمائی کر سکتے ہیں جو ان کی ضروریات زندگی کے لئے کافی ہو۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ضرورتوں پر قانع نہیں۔ وہ اپنے سماجی اسٹیٹس کو بڑھانے کے لئے زیادہ سے زیادہ دولت کمانا چاہتے ہیں۔ اس لئے ٹائم کی ہر مقدار ان کے لئے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو حقیقت بیانی سے کام لے کر یہ کہنا چاہئے کہ ہم دینی مشن کو اتنا اہم نہیں سمجھتے کہ اس کے لئے ہم اپنا ٹائم دیں۔ ہمارے پاس ٹائم ہے مگر اس کا زیادہ بڑا استعمال ہمارے نزدیک کسب مال ہے۔

چن پیٹا سے روانہ ہو کر ہم لوگ ساٹھی پہنچے۔ یہاں مدرسہ ریاض العلوم واقع ہے۔ ۱۹۴۶ میں قائم ہوا۔ وہ ترقی کرتے کرتے ایک بڑا تعلیمی ادارہ بن چکا ہے۔ اس میں لڑکوں کی تعلیم

کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ آج جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز ریاض العلوم کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد مسجد میں اجتماع ہوا۔ وسیع مسجد پوری طرح بھری ہوئی تھی۔ ریاض العلوم کی مسجد کی تقریر میں میں نے دینی تعلیم کی اہمیت اور مدارس دینیہ کے کردار پر خطاب کیا۔ یہ ایک تفصیلی خطاب تھا اس خطاب میں دوسری باتوں کے علاوہ میں نے ایک بات یہ کہی کہ بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اس ملک میں مدارس کے خلاف سازش ہو رہی مدارس کے خلاف غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ مدارس کے نظام کو تباہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ اس قسم کی مخالفانہ کوششیں ہر چیز کے خلاف اور ہمیشہ کی جاتی رہی ہیں۔

قرآن کے بیان کے مطابق، یہ دنیا عداوتوں کی دنیا ہے۔ ہمیں عداوتوں کے ماحول میں اس کا حل صرف یہ ہے کہ ہم منفی رد عمل سے بچیں اور مثبت رد عمل کے ذریعہ ان حالات کا خاموش مقابلہ کریں۔ میں نے کہا، صحیح البخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ نے فرمایا: ان الله يعطى على الرفق ما لا يعطى على العنف۔ اس حدیث میں یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ مسائل کا مقابلہ اگر تشدد کے انداز میں کیا جائے تو صرف ناکامی ہمارے حصے میں آئے گی۔ کے برعکس اگر مسائل کا مقابلہ نرمی اور امن کے اسلوب میں کیا جائے تو کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔ جمعہ کے پروگرام کے بعد ریاض العلوم میں پریس کا نفرنس تھی اس میں دینک جاگرن ’’ہندستان‘‘ اور دوسرے اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔ سوال و جواب کی صورت میں یہ کانفرنس دیر تک چلتی رہی۔

ایک ہندو اخبار نویس نے کہا کہ سارے مذہبوں کو ایک کیسے بنایا جائے۔ کیوں کہ جب تک سارے مذاہب ایک نہ ہو جائیں۔ ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ اتحاد کا کوئی تعلق مذہبوں کو ایک کرنے سے نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے درمیان آپس میں لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کورواور پانڈو دونوں کا

مذہب ایک تھا ۔ اس کے باوجود دونوں میں خونیں جنگ ہوئی۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں ہونے والی دو عالمی جنگوں میں دونوں فریق ایک ہی مذہب کو ماننے والے تھے۔ حال کی خلیجی جنگ دو ہم مذہب لوگوں کے درمیان ہوئی، وغیرہ۔

میں نے کہا کہ اتحاد کار از ٹالرنس ہے۔ اگر آپ کو ملک میں اتحاد لانا ہے تو مذہبوں کو بے فائدہ طور پر ایک کرنے کی بات نہ کیجئے۔ بلکہ لوگوں کو اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنے کا لوگوں سے کہئے کہ فرق و اختلاف فطرت کا لازمی حصہ ہے۔ دوسرے معاملات میں ایسا ہے کہ لوگ فرق اور اختلاف کے باوجود باہمی احترام کے اصول پر زندگی گزارتے ہیں۔ اصول مذہب کے دائرہ میں بھی کار آمد ہے۔

ریاض العلوم ساتھی میں برابر لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اور ان سے دینی اور ملی موضوعات پر تبادلہ خیال جاری رہا۔ ایک صاحب جو میرے ساتھ سفر میں شریک تھے، وہ شہری زندگی کے عادی ہیں۔ ہمارا سفر زیادہ تر دیہاتی علاقوں میں ہوا، جہاں اونچے نیچے راستے تھے۔ طرح طرح کے پر مشقت معاملات سے سابقہ پیش آیا۔ اس تجر بہ سے وہ کچھ گھبرا گئے اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے سفر کے اس تجربہ کو پر تاسف (deplorable) قرار دیا۔ کہا کہ اسلام نام ہے ہر واقعہ سے مثبت اثر لینے کا۔ مثلاً یہ تکلیف دہ تجربات جو ہمارے ساتھ گذر رہے ہیں، اس سے ہم کو شکر کی غذا لینا چاہئے۔ کیوں کہ یہ ہمارے لئے صرف ایک وقتی مصیبت ہے، جب کہ وہ ان گاؤں والوں کے لئے مستقل مصیبت ہے۔ ہم کو سوچنا چاہئے کہ اللہ نے ہمارے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمایاہے۔ ہم کو اس سخت امتحان میں نہیں ڈالا، جس میں گاؤں اور دیہات کے یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں۔

۲۶ مئی کی شام کو مغرب کی نماز ریاض العلوم میں پڑھی گئی۔ اس کے بعد ہم لوگ آگے کے لئے روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے مجھے ریاض العلوم کے تحت بننے والا لڑکیوں کا مدرسہ دکھایا یہ ایک کشادہ اور خوب صورت عمارت تھی۔ آج کل سارے ملک میں جگہ جگہ مسلم لڑکیوں

لڑکیوں کی تعلیم پر خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ حال میں ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ جو لڑکیاں عالمہ اور فاضلہ بن رہی ہیں ان میں طلاق کی شرح دوسری لڑکیوں سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ان تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کو آسانی سے سروس مل جاتی ہے اس لئے ان کے اندر شوہر کے تابع نہ رہنے کا ہی مزاج پیدا ہو رہا ہے جو مغربی سماج کی لڑکیوں میں اسی سبب سے پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے بحث نہیں کہ آپ کی یہ اطلاع درست ہے یا نہیں۔ نزدیک زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس دنیا میں نہ سارے مرد معیاری ہوتے ہیں اور نہ ساری آپ پڑھائیں یا نہ پڑھائیں اس دنیا میں کبھی بھی نہ تمام خواتین معیاری خواتین بن جائیں گی اور نہ تمام مرد معیاری مرد۔

راستہ میں ہم لوگ جناب جمال الدین صاحب کے دفتر پر رکے۔ ان کی تعلیم صرف نویں کلاس تک ہوئی ہے۔ پہلے ان کی معاشی حالت بہت معمولی تھی، مگر اب وہ ایک کامیاب بزنس چلا رہے ہیں۔ میں نے انہیں دو نصیحتیں کیں۔ ایک یہ کہ اللہ اگر کسی کو پیسہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عیش کی زندگی گزارنے لگے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ بقدر ضرورت پر قناعت کرے اور بقیہ پیسے کو اچھے کاموں میں خرچ کرے۔

دوسری نصیحت یہ کی کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائے۔ تعلیم میں ہر گز کمی نہ کرے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک باپ اپنے بچے کو سب سے بہتر جو چیز دے سکتا ہے وہ اچھی تعلیم جمال الدین صاحب کے یہاں تھوڑی دیر ٹھہرنے کے بعد ہم لوگ آگے بڑھے۔ ہم لوگوں کو سرسیا پہنچنا تھا۔ یہ پورا راستہ تجربات کا ایک سلسلہ تھا۔ ایک جگہ ہماری گاڑی کو ندی کے راستہ سے گزرنا پڑا۔ بارش ہو نے کی وجہ سے راستہ میں جگہ جگہ گڑھے تھے۔ ہوتا تھا کہ یہ راستہ کار کے ذریعہ نہیں بلکہ ٹریکٹر کے ذریعہ طے ہو رہا ہے۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں ہماری زندگی شروع سے آخر تک ایک امتحان ہے۔ اس امتحان کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ

ہم وہ کام کریں جو خدا کی پیدا کی ہوئی گائے کرتی ہے۔ مولانا اسماعیل میرٹھی کا شعر ہے : کل جو گھاس چری تھی بن میں دودھ بنی وہ گائے کے تھن میں میں نے کہا کہ گائے کے اندر جو واقعہ نیچرل پر اس کے تحت ہوتا ہے وہی انسان کے اندر شعوری پر اس کے تحت ہونا چاہئے، یعنی تکلیف میں شکر کا پہلو نکال لینا۔ راحت کی غذا حاصل کرنا، ناخوشگوار تجربات کو خوشگوار احساسات میں تبدیل کرنا، وغیرہ۔ اس طرح سفر کرتے ہوئے ہم لوگ سرا پا پہنچے۔ یہاں مدرسہ صدیقیہ میں خطاب کا اس مدرسہ کو مولانا عبدالرحیم امدادی نے اپنے پیر و مرشد قاری محمد صدیق باندوی کے نام پر قائم کیا ہے۔ یہاں خطاب کا وقت ۱۰ بجے رات تھا۔ یہاں کافی لوگ اکٹھا ہو گئے۔ میں نے اس موقع پر ایک مفصل تقریر کی۔ میری تقریر کا موضوع تعلیم دین کی اہمیت میں نے کہا کہ تعلیم دین فرض کے درجہ میں ضروری ہے۔ تعلیم کا تعلق ایمان سے بہت گہرا ایمان کیا ہے، ایمان دراصل دین خدا کی صداقت کو شعوری اور روحانی طور پر دریافت کرنا یہ دریافت عام حالات میں علم کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

کچھ لوگوں نے یہ شکایت کی کہ آپ ہمارے خطوط کے جواب نہیں دیتے۔ میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ میں ہمیشہ خطوط کا جواب دیتا ہوں، خواہ وہ مختصر کیوں نہ ہو۔ البتہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خط میں لکھنے والے کا پتہ نہیں ہوتا، کبھی سوال واضح نہیں ہوتا، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کو الرسالہ کے سوال و جواب " کے کالم میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ اس کا بھی امکان ہے کہ کوئی خط ڈاک کی خرابی کی وجہ سے مکتوب الیہ تک نہ پہنچاہو۔

مدرسہ صدیقیہ کے پروگرام میں حاضرین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ یہاں کافی دیر ہو گئی۔ یہاں تک کہ رات کے بارہ بج گئے ۔ اس کے بعد ہم لوگ ساتھی کے لئے روانہ ہوئے۔ اندھیری رات تھی۔ ایک بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ ہم چلتے ہوئے ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں ایک پہاڑی ندی واقع تھی۔ ایسی ندیوں میں پانی مستقل نہیں رہتا۔ بلکہ سال میں کبھی کبھی

آ جاتا ہے۔ چنانچہ یہاں پل کے بجائے ڈھلوان سڑک بنا دی جاتی ہے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو سڑک پر پانی پھیل چکا تھا۔ ہمارے ڈرائیور نے گاڑی کھڑی کر دی_ اس کا خیال تھا کہ پانی اتنا زیادہ ہے کہ ہماری گاڑی اس میں سے گزر نہیں سکتی_ اب یہ مشورہ ہونے لگا کہ راستہ بدل کر ایک اور سڑک سے چلا جائے، اگرچہ وہ راستہ لمبا ہے اور کم از کم دو گھنٹہ کی مسافت بڑھ جاتی ہے۔ ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف جنگل پھیلے ہوئے تھے۔ سے ایک روشنی دکھائی دی۔ معلوم ہوا کہ ایک جیپ ہمارے پیچھے آ رہی ہے۔ یہ واقعہ انوکھا تھا کیوں کہ سارے راستہ میں ہمیں کوئی بھی گاڑی دکھائی نہیں دی تھی_ ہم ایک سنسان سڑک سے گزرتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے_ ہماری گاڑی ندی کے کنارے کھڑی ہوئی تھی کہ اچانک جیپ آگے بڑھ گئی اور وہ فوراً دریا میں داخل ہو کر پانی سے گزرتی ہوئی سڑک کے دوسری طرف چلی گئی۔ یہ دیکھ کر ہمارے ڈرائیور کی سمجھ میں آیا کہ پانی اتنا زیادہ نہیں ہے کہ گاڑی اس سے گزر نہ سکے_ چنانچہ ہمارے ڈرائیور نے بھی گاڑی دریا میں ڈال دی_ چند منٹ میں ہم لوگ دریا کے اُس پار پہنچ چکے تھے۔ عجیب بات ہے کہ یہ جیپ ہمیں آگے دوبارہ کہیں دکھائی نہیں دی۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے اسماعیل میرٹھی کا ایک قطعہ یاد آیا:

گھوڑ دوڑ میں کدائی کی بازی تھی ایک دن ترکی پہ کوئی تازی پہ اپنے سوار تھا جو ہچکچا کہ رہ گیا سو رہ گیا ادھر جس نے لگائی ایڑ وہ خندق کے پار تھا رات مدرسہ ریاض العلوم ساتھی کے مہمان خانہ میں گزاری_ صبح کو فجر کی نماز مدرسہ کی مسجد میں ادا کی۔ امام نے دونوں رکعتوں میں سورہ الشمس اور سورہ البروج کی تلاوت کی_ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہم لوگ پٹنہ کے لئے روانہ ہو گئے۔

جب ہم پٹنہ میں داخل ہوئے تو گیارہ بج رہے تھے_ جناب ایم ٹی خان (ڈپٹی رجسٹرار) کی رہائش گاہ پر چند گھنٹہ قیام کیا۔ یہاں چند افراد کی ایک نشست میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ مثلاً ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں جب کہ پریس کا دور آ چکا ہے اور قرآن پوری طرح محفوظ

ہو چکا ہے تو ایسی حالت میں تحفیظ قرآن کے مدارس کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ تحفیظ قرآن کے ادارے آج کل جتنی کثرت سے قائم ہو رہے ہیں ان سے مجھے زیادہ اتفاق نہیں۔ خود یہ بات کہ قرآن کے حافظوں کا تسلسل ہر زمانہ میں امت میں جاری رہنا چاہیے، بے حد اہم کیوں کہ قرآن کی حفاظت سے مراد صرف اس کے لفظی متن کی حفاظت نہیں ہے بلکہ اس کے صوت اور اس کے لہجہ کی حفاظت بھی لازمی طور پر مطلوب ہے اور حفاظت قرآن کا یہ دوسرا پہلو اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا کہ امت میں قرآن کے حفظ اور قرأت کا سلسلہ برابر جاری رہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ نے اپنے دعوتی مشن کے تحت کوئی جماعت نہیں بنائی۔ مشن آپ کے بعد کیسے جاری رہے گا۔ میں نے کہا کہ جماعت یا ادارہ کسی مشن کے تحفظ کا ذریعہ نہیں۔ جماعت یا ادارہ کے ذریعہ جو چیز محفوظ ہوتی ہے وہ تحزُّب (گر وہ بندی) ہے نہ کہ اصولی معنوں میں میں نے کہا کہ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ میرے بعد میرے نام پر کوئی متعصبانہ حزب بن جائے۔ میری دلچسپی مشن کے تحفظ سے ہے اور وہ اللہ کے فضل سے لٹریچر اور انٹرنٹ اور کیسٹ وغیرہ کی صورت میں ساری دنیا میں جاری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے بعد یہ سلسلہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری رہے گا۔ آج ہر جگہ ایسے افراد پیدا ہو چکے ہیں جو اس مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ سلسلہ یقینی طور پر جاری رہے گا۔ وہ کسی کے مرنے پر ختم نہیں ہو سکتا۔ پٹنہ سے دہلی کے لئے جہاز کا وقت تین بجے تھا۔ مولانا عبدالرحیم امدادی وغیرہ کے ساتھ ائر پورٹ پہنچا تو جہاز روانگی کے لئے تیار تھا۔ ائر پورٹ کے اندر داخل ہوتے ہی ایک آدمی نے پوچھا کہ آپ دہلی جا رہے ہیں۔ میں نے کہا، ہاں۔ اس نے میرا ٹکٹ لے کر فوراً بورڈنگ کارڈ بنوایا اور تیزی سے مجھے جہاز کے اندر پہنچادیا۔

میرے دل نے کہا کہ کاش آخرت میں بھی ایسا ہی ہو۔ وہاں بھی جب میں پہنچوں تو ایک فرشتہ میرے انتظار میں کھڑا ہو۔ وہ مجھ کو تیزی سے لے جائے اور جنت کا پروانہ دے کر مجھے جنت میں داخل کر دے۔

آج مئی کی ۔ جہاز میں پڑھنے کے لئے مختلف اخبارات تھے۔ ۲ مئی کے ایشین ایج میں مسٹر ٹی این مورتی کا ایک خط شائع ہوا تھا۔ یہ میچ فکسنگ (match fixing) کے بارے میں تھا۔ یعنی کسی میچ کی ہار جیت کو پیشگی طور پر طے کر لینا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کے کھلاڑی کس طرح صرف پیسہ کی خاطر پورے ملک کی عزت کو بیچ سکتے ہیں۔ پچھلے برسوں میں میچ فکسنگ کے واقعات نے پوری قوم کو اکسپوز کر دیا ہے۔ پچاس سال سے دیش بھکتی کا غلغلہ جاری رہا ہے۔ مگر ایسا معلوم ہو تا ہے کہ حقیقی معنوں میں دیش بھکتی کا کہیں وجود نہیں۔ ساری کی ساری قوم خویش بھکت ہو رہی ہے نہ کہ دیش بھکت۔ ہوائی جہاز کے ائرکنڈیشنڈ کیبن میں ہمارا سفر جاری تھا یہاں تک کہ دلی قریب آگیا۔ وقت جہاز کے اندر اعلانات میں کہا گیا کہ جلد ہی ہم دلی میں اترنے والے ہیں۔ اس میں اناؤنسر نے یہ بھی کہا کہ دہلی کا موسم بہت گرم ہے: .The weather in Delhi is very hot یعنی ۴۱ ڈگری سنٹی گریڈ۔ میرے قریب دو بڑے تاجر آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ کبھی پنجابی میں بولتے تھے اور کبھی انگریزی میں اس لئے میں پوری طرح سمجھ نہیں سکا کہ ان کی گفتگو کس موضوع پر تھی۔ البتہ مذکورہ اعلان کے بعد ایک شخص کی زبان سے یہ الفاظ سنائی دئے کہ ذاتی طور پر میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں:

Printed page