Al-Risala · October 2000

Personally I have no problem.

Al-Risala, October 2000, pp. 35–38

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے معلوم نہیں کہ کہنے والے نے یہ جملہ کس سیاق میں کہا تھا مگر مذکورہ اعلان کے بعد جب اس کی زبان سے یہ الفاظ سنائی دئے تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ کہہ رہا ہو کہ دہلی کا موسم اگر بہت گرم ہے تو مجھے اس کی کوئی پریشانی نہیں۔ کیوں کہ یہاں میں ائرکنڈیشنڈ جہاز میں سفر کر رہا دہلی ائر پورٹ پر اترتے ہی میرے لئے ائر کنڈیشنڈ گاڑی کھڑی ہو گی جو مجھے میرے ائر کنڈیشنڈ گھر میں پہنچادے گی اور وہاں سے دوبارہ میں ائرکنڈیشنڈ گاڑی میں سفر کرتے ہوئے اپنے ائرکنڈیشنڈ آفس میں پہنچ جاؤں گا۔

موجودہ ہندوستان میں اوپر کے طبقہ کی نفسیات عام طور پر یہی ہے۔ ان لوگوں نے آزادی کے بعد دولت کما کر اپنے ذاتی معاملہ کو خوب درست کر لیا ہے۔ اب انہیں یہ پریشانی نہیں کہ ملک کے بقیہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی خود غرضانہ سوچ ہمارے ملک کے تمام مسائل کی اصل جڑ ہے۔ ۲۷ مئی ۲۰۰۰ کی شام کو میں واپس دہلی پہنچا تو یہاں ڈاک میں جو خطوط تھے ان میں سے ایک خط حیدر آباد کے ایک صاحب کا تھا۔ انہوں نے حیدر آباد کے اخبار روزنامہ سیاست (۱۵ مئی ۲۰۰۰) میں چھپے ہوئے ایک مضمون کی کٹنگ بھیجی تھی جس کا عنوان یہ تھا: ’’جذباتی نعروں کی سیاست اقلیتوں کے لئے مضرت رساں“ مکتوب نگار نے اپنے مفصل خط میں لکھا تھا:

”اخبار سیاست کے اس مضمون کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ آپ کا ہی مضمون ہو جو کہ کئی برس پہلے پڑھا تھا۔ پھر دوبارہ پڑھ رہا ہوں۔ مگر اس فرق کے ساتھ کہ آپ کے نام کے بجائے اس پر کسی اور کا نام لکھ دیا گیا ہو۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے مضمون کو پڑھ کر ہر سطح کے لوگ ایک ہنگامہ کھڑا کر دیتے تھے۔ لیکن یہ اللہ کا آپ پر بڑا فضل رہا ہے کہ آپ کی زندگی میں ہی لوگ آپ کی فکر کی باتیں کہہ رہے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کی مسلسل کوشش اللہ کے فضل سے رنگ لارہی ہے، بلکہ سمجھے کہ لاچکی ہے۔ سفر سے واپسی کے بعد وہاں سے کئی لوگوں کے خطوط موصول ہوئے۔ ان میں سے ایک جناب اسلم احمد (بتیا، چمپارن) کا خط تھا۔ اس خط کے بعض حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔

”میں ایک Commercial Bank (بینک آف انڈیا) میں کام کرتا ہوں۔ میرا واسطہ بہت سے لوگوں سے پڑتا ہے جس میں ہندو اور مسلمان سبھی ہوتے ہیں۔ میری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان میں جو پڑھے لکھے لوگ ہیں ان کو الرسالہ کے مشن سے واقف کر لیا جائے۔ اس کے لئے میں ان لوگوں کو آپ کی کتابیں ہدیتاً دیتا رہتا ہوں۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنے شہر کے

ایک عیسائی مشنری اسکول کے ایک پادری کو جو آکسفورڈ سے تھا۔ اسگریزی میں ایم۔ اے تھے، الرسالہ انگریزی دو سال تک پڑھایا۔ اسے پڑھنے کے بعد وہ آپ سے بہت متاثر نظر آئے اور الرسالہ کی بہت تعریف کی۔ اس طرح سے میں نے بہت سے غیر مسلم تعلیم یافتہ لوگوں کو الرسالہ کی مطبوعات تحفہً پڑھنے کو دیں اور اچھا feed back پایا۔ بہار سے ملنے والے خطوط میں سے ایک اور خط ایک مسلم خاتون صوفیہ حیدر صاحبہ کا تھا۔ ان کے کچھ حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔

آپ کا خط مورخہ ۲۳ جون مجھے مل چکا ہے جو کہ صرف ایک خط نہیں ہے بلکہ میرے لئے ایک قیمتی نصیحت نامہ ہے۔ یہ کام بظاہر میں پہلے سے اور انجانے میں کر رہی تھی مگر اس نے میرے نظریہ میں اور دل کی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ مگر آپ کے خط نے میرے سوچنے اور دیکھنے اور سمجھنے میں زبردست مثبت تبدیلی لادی۔ آپ کی نصیحت کہ ”اس دنیا میں کسی کو بھی اپنا مستقل دشمن نہیں سمجھنا چاہئے۔ بلکہ اس ذہن کے ساتھ کام کرنا چاہئے کہ ہر شخص میرا potential friend ہے۔ اس نصیحت نے نہ صرف جماعت والوں کی طرف سے میرے دل کے کینہ کو صاف کر دیا ہے بلکہ ان کے قریب جانے کا حوصلہ بھی عطا کیا ہے۔ اس سے نہ صرف اتحاد ملت کے کام میں اضافہ ہوگا بلکہ کافی خاموشی کے ساتھ میں الرسالہ کے مضامین و نصیحت کو ان کے اندر تک پہنچا سکوں گی۔ اس کا نتیجہ بھی سامنے آرہا ہے۔ ایک خاتون جو خود بھی دینی کام کر رہی ہیں۔ آپ کا الرسالہ کافی شوق سے لے کر پڑھ رہی ہیں۔ انہیں آپ کے الرسالہ کا سفر نامہ بہت پسند آتا ہے۔ آپ کی اعراض کی تعلیم گویا کانٹے کے بدلے پھول دینے کی تعلیم میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ میرے لیے ’دلوں کو پھیر دینے والے‘ سے صراط مستقیم پر مضبوطی سے قائم رہنے کی دعا کریں۔ میری تعلیم میں ہر روز ”تذکیر القرآن “ بھی شامل ہے۔ میں اس کی تعریف کس طرح بس آپ یہ سمجھیے کہ میں نے اب تک قرآن کو کئی بار پورا پڑھا ہے، معنیٰ کے ساتھ بھی

اور کچھ تفسیر بھی۔ مگر تذکیر القرآن کو پڑھ کر مجھے لگا کہ میں نے ابھی تک قرآن کو پڑھا ہی نہ تھا۔ اب مجھے قرآن ملا ہے، قرآن کو میں نے اب پایا ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے کہ قرآن کو تذکیر و نصیحت کے لئے اتارا گیا ہے)۔ میرے تیا شہر میں کئی جگہ عورتوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ دینی حلقوں کی طرف سے ہوتا ہے۔ میں ہر ایک سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہوں۔ میرے گھر میں تقریباً سب لوگ (امی، ابا، دادی) آپ کا رسالہ پڑھتے ہیں۔ پہلے وہ دوسری کتابیں پڑھتے تھے۔ مگر آج انہوں نے کہا کہ جب سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں اب دوسری کتابوں میں دل نہیں لگتا۔ میری دادی ہر وقت آپ کے الرسالہ وہ دیگر کتابوں کو پڑھتی کل انہوں نے مئی ۱۹۹۷ کے الرسالہ کا پونہ کا سفر پڑھاتو آپ کے لئے دعا کی کہ "اللہ ان کو اور لمبی حیات دے تاکہ دنیا کو سبق پڑھائیں۔ ایسا شخص ہم نے پوری صدی میں نہ آپ ہم سب کے لئے خدا سے دعا کریں۔ میری خواہش ہے کہ میرا گھر، میرا خاندان بلکہ میرا پورا علاقہ وشہر دعوتی مشن سے وابستہ ہو جائے۔ اگر آپ اس کے لئے کوئی قیمتی رائے عطا کریں تو مجھے اس سے محروم نہ کریں۔ (صوفیہ حیدر، بتیا، بہار)

پٹنہ سے میں الائنس کے جس جہاز پر ۲۷ مئی کو دہلی آیا تھا، یہ وہی جہاز تھا جو بعد کو ۱۷ جولائی کو پٹنہ میں اترتے ہوئے حادثہ کا شکار ہو گیا اور ائیر پورٹ کے قریب گر پڑا۔ اس کے بیشتر مسافر جل کر مرگئے۔ اس حادثہ پر پٹنہ کے ایک ہندی اخبار نے اپنی رپورٹ چھاپتے ہوئے یہ سرخی لگائی تھی "منزل قریب تھی اور موت نے دستک دے دی"۔

یہ حادثہ جو مذکورہ جہاز کے مسافروں کے ساتھ پیش آیا، جلد یا بدیر یہی انجام سارے انسانوں کے لئے مقدر ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی ہر آن اس اندیشہ سے دوچار ہے کہ اس کی سواری اچانک مسافر سمیت تباہ ہو جائے، خواہ وہ بظاہر اپنی منزل کے عین قریب پہنچ گیا ہو۔

Printed page