سوال و جواب
Al-Risala, October 2000, pp. 39–45
By Maulana Wahiduddin Khan
1947 سے پہلے جب دیش کا بٹوارہ نہیں ہوا تھا تو اس علاقہ کے بیشتر مسلمان یہ کہتے تھے کہ آزادی کے بعد جوا کھنڈانڈیا بنے گا اس میں غیر مسلموں کی مجارٹی ہوگی۔ اس میں مسلمانوں کے لئے یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ اپنی پولینکل اور کلچرل پہچان کو باقی رکھتے ہوئے زندگی گزاریں۔ ضروری ہے کہ مسلمانوں کا ایک الگ مسلم لینڈ ہو۔ مگر جب یہ مسلم لینڈ بن گیا تو سین (scene) اب یہاں کا حال یہ ہوا کہ جس کو موقع ملا وہ بھاگ بھاگ کر انہیں ملکوں میں پہنچ گیا جہاں ان کے نظریہ کے مطابق غیر مسلم غلبہ قائم تھا۔ چنانچہ آج بڑی تعداد میں مسلمان انہیں مغربی ملکوں میں جاکر آباد ہو گئے ہیں جہاں غیر مسلم تہذیب کا پوری طرح ڈامینیشن (domination) کیا یہ ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں۔ کیا اسلام ہم کو یہی سکھاتا ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ 1947 سے پہلے چند مستثنیٰ شخصیتوں کو چھوڑ کر برصغیر ہند کے تقریباً تمام مسلمان کی سوچ یہی تھی۔ اس زمانہ میں جو لوگ یہ کہتے تھے کہ مذہب اور قومیت دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، مذہب کا تعلق عقیدہ سے ہے اور قومیت کا تعلق ہوم لینڈ سے، ایسے لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ حتی کہ ایسے افراد کا اس زمانہ میں مسلم سماج کے اندر عزّت کے ساتھ رہنا سخت دشوار ہو گیا یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو میں نے نہ صرف پڑھا ہے بلکہ ذاتی طور پر اس کا تجربہ کیا ہے۔ یہ بھی ایک معلوم واقعہ ہے کہ جب ایک ہنگامہ خیز تحریک کے بعد ایک الگ مسلم لینڈ بن گیا تو یہی لوگ پہلے خود اس مسلم لینڈ میں اپنی مادی ترقی کی کوشش میں لگ گئے۔ اور جب دیکھا کہ اس مسلم لینڈ میں زیادہ بڑی ترقی کے امکانات نہیں ہیں تو وہ بھاگ بھاگ کر ان ملکوں میں پہنچے لگے جن کو مادی اعتبار سے ترقی یافتہ ملک (developed countries) کہا جاتا ہے۔ انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، حیدر آباد اور کشمیر کے 10 ملین (ایک کروڑ) سے زیادہ مسلمان یہاں سے
جا کر امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں چین اور سکون کے ساتھ رہ رہے ہیں بلکہ وہ زبان حال یا زبان قال سے اس پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا مادی مستقبل شاندار طور پر ان سیکولر ملکوں میں محفوظ کر لیا۔
یہ معاملہ بلاشبہ ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ان مسلمانوں نے اپنی علیحدہ تہذیبی شناخت کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ انہوں نے اس معاملہ میں یہاں کی غیرمسلم اکثریت سے کسی بھی مصالحت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ مولانا حسین احمد مدنی جو متحدہ قومیت کے قائل تھے، ان کو شیخ الاسلام کے بجائے شیخ الہندم کہا گیا۔ اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد کو شوبوائے کانام دیا گیا، وغیرہ۔
ان مسلمانوں نے یہاں ایسی دھواں دار تحریک چلائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں میں بہت بڑے پیمانہ پر نفرت اور کشیدگی کی فضا قائم ہو گئی۔ دونوں کے درمیان تعلقات کی اس تلخی نے اس پورے علاقہ میں دعوت کے مواقع کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ نیز یہ کہ اس نام نہاد اسلامی تحریک کے نتیجہ میں انڈیا کے تقریباً ہیں کروڑ مسلمان مزید اضافہ کے ساتھ عین اسی خطرہ میں زیادہ شدت کے ساتھ پھنس کر رہ گئے جس خطرہ سے بچنے کا نام لے کر علیحدہ مسلم لینڈ کی تحریک چلائی گئی تھی۔
یہ بلاشبہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں تقریباً یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ تمام مسلمان ایک مجرمانہ فعل کے مرتکب ہوئے ہیں جنہوں نے علیحدہ تہذیبی شناخت کے نام پر یہ ہنگامہ کھڑا کیا تھا اور اب نہایت اطمینان کے ساتھ اسی قسم کی سیکولر تہذیب سے موافقت کر کے اس کے اندر پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔
اسلام کے مطابق، ایسے مسلمانوں کے لئے ان کی موجودہ پرسکون زندگی کا کوئی مبرر (justification) موجود نہیں۔ ان لوگوں کے لئے جائز طور پر صرف دو میں سے ایک کا انتخاب یا تو وہ دوبارہ اپنے حاصل کردہ مسلم لینڈ" میں واپس جائیں اور وہاں کی سختیوں
اور تلخیوں کو برداشت کرتے ہوئے وہاں زندگی گزاریں۔ اس کے لئے دوسرا ممکن انتخاب یہ ہے کہ وہ کھلے طور پر یہ اعلان کریں کہ ان کا سابقہ نظریہ غلط تھا۔ ایک مسلمان سیکولر لینڈ میں بھی اسی طرح جائز طور پر رہ سکتا ہے جس طرح مسلم لینڈ میں۔
ان مسلمانوں کی موجودہ حالت گویا تیسرا انتخاب (third option) ہے۔ اور اس معاملہ میں تیسرا انتخاب بلا شبہ کوئی انتخاب نہیں۔ یہ اسی دوہر معیار کی مثال ہے جس کو حدیث میں "الذي یأ تی ھٰؤلاء بوجه وھٰؤلاء بوجه (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب ما قیل فی ذی الوجھین)کہاگیاہے،اس اس قسم کی دہرا روش اسلام میں اتنی زیادہ مبغوض ہے کہ اندیشہ ہے کہ اس کے ساتھ ”نماز اور روزہ بھی غیر معتبر ہو جائے۔
یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اس مجرمانہ فعل کے ذمہ دار صرف وہ لوگ نہیں ہیں جو براہ راست طور پر اس تحریک کے علم بردار بنے ہوئے تھے بلکہ وہ لوگ بھی یقینی طور پر اس میں شریک قرار دئے جائیں گے جنہوں نے اس کے خلاف آواز بلند نہیں کی یا اب وہ کھلے طور پر اس نظریہ کی غلطی کا اعتراف نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے موقع پر کسی کا خاموش رہنا ہمیشہ بالواسطہ تائید کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس مسلمہ اصول کے مطابق، مذکورہ جرم میں اگر کچھ لوگ براہ راست طور پر شریک ہیں تو دوسرے لوگ بالواسطہ طور پر شریک ۔ اس جرم عام سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جو کھلے طور پر اس کی غلطی کا اعلان کریں، اور اس کی پرواہ نہ کریں کہ اس اعلان کا نتیجہ انہیں اپنے ہم قوموں کی طرف سے سخت رد عمل (backlash) کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ میں فلسفہ کا طالب علم ہوں اور اکثر و بیشتر شکوک و شبہات سے دوچار رہتا ہوں۔ طرف میرا طبعی میلان ہے۔ ایک قسم کے شکوک رفع ہوتے ہی دوسرے قسم کے شکوک مجھے ان صورت حال سے نمٹنے کے لئے کیا فلسفہ کا مطالعہ ترک کرنا ہوگا۔ کا مجھے یہ مشورہ ہے کہ فلسفہ کوئی عملی چیز نہیں، فکری چیز ہے اور فکری پیچیدگیوں میں پڑنا اپنا وقت
برباد کرنا ہے۔ اس طرح کی باتوں سے ذہن سازی نہیں ہوتی بلکہ ایمان و یقین کی دولت سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ (طارق اشفاق ، اے ۔ یو ، علی گڑھ )
اس سوال کا جواب کچھ ممتاز فلسفیوں نے خود ہی کامیاب طور پر دے دیا ہے۔ طور پر برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل نے۔ آپ اس کی کتاب علم انسانی (Human Knowledge) کو گہری نظر سے پڑھیں تو آپ اس میں اپنے سوال کا جواب پالیں گے۔
اصل یہ ہے کہ فلسفہ کم از کم ۵ ہزار سال سے حقیقت کی تلاش میں سرگرم رہا ہے مگر اس کو کبھی حقیقت کی دریافت نہ ہو سکی۔ اس کے برعکس سائنس کو موجودہ زمانہ میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ فلسفہ علم کلی تک پہنچنا چاہتا تھا جو موجودہ دنیا میں ممکن ہی سائنس نے اسی حقیقت کو دریافت کر کے علم جزئی پر قناعت کر لی اس لئے وہ کامیاب ہو گئی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایکس رے مشین کے سامنے ایک آدمی کو کھڑا کر کے جب مشین کی سوئچ دبائی جاتی ہے تو فوراً ایک پلیٹ پر آدمی کی داخلی تصویر آ جاتی ہے۔ اب فلسفی یہ جاننا چاہے گا کہ ایسا واقعہ کیوں کر ہوا! چونکہ انسان کی اپنی محدودیتوں (limitations) کی بنا پر اس علم تک پہنچنا ممکن نہیں اس لئے فلسفی ابدی طور پر اس میں الجھ کر رہ جائے گا۔ اس کے حصہ میں آخر کار کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہ آئے گا۔ اس کے برعکس سائنس نے یہ کیا کہ "کیوں" کے سوال کو الگ کر کے "کیا ہے" کو لے لیا۔ اس طرح وہ اس میں کامیاب ہو گئی کہ انسانی تمدن کو ایک قیمتی تحفہ دے سکے۔
اس معاملہ میں حقیقت پسندی کی بات یہ ہے کہ آدمی اجمالی علم پر اکتفا کرے۔ وہ جزئی علم پر راضی ہو جائے اور کلی علم کے پیچھے بے فائدہ طور پر نہ دوڑے ۔ قرآن میں اسی حقیقت کو ایک سوال کے جواب میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تم کو اس دنیا میں صرف علم قلیل دیا گیا ہے۔ اس مضمون کی تفصیل کے لئے راقم الحروف کی کتاب "مذہب اور سائنس " کا مطالعہ کریں۔
ایک حدیث اس طرح ہے کہ ”حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے خدا کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک دنیا ختم نہ ہوگی جب تک لوگوں پر ایسا دن نہ آئے گا کہ قاتل کو یہ علم نہ ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا اور مقتول یہ نہ جانے گا کہ میں کیوں قتل ہوا۔ نے عرض کیا کہ ایسا کیوں ہوگا۔ ارشاد فرمایا کہ فتنوں کی وجہ سے قتل بہت بڑھ جائے گا۔ فرمایا ان فتنوں میں قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں جہنم میں داخل ہوں گے۔ حدیث میں قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں کے جہنم میں داخل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ قتل کرنے والا جہنم میں جائے گا یہ تو سمجھ میں آتا ہے لیکن قتل ہونے والا جہنم میں جائے گا، یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ حدیث کا اصل مفہوم کیا ہے۔ براہ کرم مطلع فرمائیں۔ (خورشید احمد، شوپیاں) اس اشکال کا جواب خود حدیث میں موجود ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ کے اس ارشاد کو سننے کے بعد صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول قاتل کا جہنم میں جانا تو معلوم ہے مگر مقتول جہنم میں کیوں جائے گا۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: کل واحد منهما يريد قتل صاحبه (النسائی، تحریم القتل) یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
قتل کا ایک واقعہ وہ ہے جب کہ قاتل یک طرفہ طور پر مجرم ہو اور مقتول یک طرفہ طور پر مگر جب بگاڑ بڑھ جائے تو معاملہ یک طرفہ (unilateral) نہیں رہتا بلکہ دو طرفہ (bilateral) ہو جاتا ہے۔ یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے دونوں یکساں طور پر سرکش ہوتے ہیں اور یہ صرف اتفاق کی بات ہے کہ اس دو طرفہ سرکشی کے دوران ایک شخص مارا گیا اور ایک شخص اس دوسری صورت میں ظاہر ہے کہ دونوں ہی اللہ کے نزدیک مجرم قرار پائیں گے کیوں کہ اسلام کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ عمل کا دار ومدار نیت پر ہے (انما الاعمال بالنيات)۔
قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین سے واپسی پر نبوت عطا کی گئی۔ لیکن اس وقت ان کو تو رات نہیں دی گئی۔ فرعون اور اس کی قوم کے دریائے قلزم میں غرق ہونے کے بعد کوہ طور پر چالیس روز کا اعتکاف کرنے کے بعد ان کو تو رات دی اس کی صراحت قرآن میں کئی مقام پر آئی ہے ایک جگہ ارشاد ہوا ہے۔ اور ہم نے اگلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لئے بصیرت، ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (القصص ۴۳) اس آیت کے "القرون الاولیٰ" کے فقرے کے بارے میں ایک تفسیر یہ آئی ہے: یعنی اگلی قوموں سے مراد قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عطا کی گئی۔ (زبدۃ التفسیر من فتح القدیر، للامام الشوکانی ۵۱۲) نزول تو رات سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت ودعوت کے اولین مخاطب فرعون اور اس کی قبطی قوم تھی۔ دعوت کے دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کو کس قسم کی تعلیمات بتاتے تھے اور ان کا ذریعہ قرآن سے اس کی صراحت نہیں ملتی۔ کیوں کہ تو رات ان کی ہلاکت کے بعد نازل ہوئی۔ کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام وہی چیز ان کے سامنے پیش تو نہیں کرتے تھے جسے ہم شریعت اسلامی میں سنت یا وحی غیر متلو کہتے ہیں؟ میری اس الجھن کو دور فرمائیں۔ (غلام نبی، ہری نگر) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ وہی ہے جو دوسرے تمام پیغمبروں کا معاملہ تھا۔ میں وہ ابھی دورِ دعوت میں تھے اور دور دعوت میں ہر پیغمبر اپنی قوم کو صرف توحید کا پیغام پیش چنانچہ حضرت موسیٰ نے بھی فرعون اور قوم فرعون کے سامنے توحید کا پیغام پیش کیا۔ جہاں تک تو رات کا تعلق ہے وہ احکام کا مجموعہ ہے۔ اس طرح کے احکام ہمیشہ اس وقت اترتے ہیں جب کہ اس کے موافق معاشرہ بن چکا ہو۔ بنی اسرائیل جو اس وقت کے اہل ایمان تھے، جب
وہ صحرا ء سینا میں آباد ہوئے اس وقت وہاں ان کا معاشرہ قائم ہوگیا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کے مشن کے اس دوسرے مرحلے میں تورات کی صورت میں شرعی احکام انہیں دے دیے گئے۔ معاملہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی پیش آیا۔ مکہ میں مرحلہ دعوت چنانچہ اس وقت آپ مکہ کے مشرکین کو توحید کا پیغام دیتے رہے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں جب اہلِ ایمان کا معاشرہ قائم ہو گیا، اس وقت آپ پر احکام نازل کئے گئے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ : دنیا بقدر مقدر، اور دین بقدر مشقت۔ اس معاملہ کی حقیقت کیا ہے براہ کرم وضاحت فرمائیں (پرویز اختر صدیقی ۔ مہادیو روڈ، آگرہ)
اس معاملہ میں صحیح بات یہ ہے کہ دنیا بقدر امتحان، اور دین بقدر اخلاص۔ وہ تمام چیزیں جن کو دنیا کہا جاتا ہے وہ سب امتحان کا پرچہ ہیں، مثلاً مال، اولاد، شہرت، مقبولیت، عہدہ اور اللہ کو جس چیز میں جس آدمی کا امتحان لینا منظور ہوتا ہے وہ چیز اس کو دے دی جاتی ہے۔ دنیا کی محرومی نہ تو سزا کے لئے ہے اور نہ دنیا کی فراوانی انعام کے لئے۔ دونوں ہی یکساں طور پر امتحان کے لئے ہیں۔
جہاں تک دین کا معاملہ ہے وہ تمام تر اخلاص پر مبنی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی نقشۂ محنت ہے اور اس نقشہ کے مطابق جو آدمی پریکٹس کرے اس کو پریکٹس کرتے کرتے دین مل جائے گا۔ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ کی نظر آدمی کے اندرونی اخلاص پر ہوتی ہے۔ جس آدمی کے اندر جتنا اخلاص ہوتا ہے اسی کے بقدر وہ اللہ کی توفیق سے دین میں ترقی کرتا رہتا ہے۔ گویا کہ اس معاملہ میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ دنیا بقدر امتحان اور دین بقدر اخلاص۔