Al-Risala · November 2000

درخت کی مثال

Al-Risala, November 2000

By Maulana Wahiduddin Khan

درخت خدا کی ایک انڈسٹری ہے۔ درخت کا آغاز ایک چھوٹے بیج سے ہوتا ہے۔ بیج کے اندر وہ تمام امکانات نہایت کاریگری کے ساتھ سموئے ہوتے ہیں کہ جب بھی اس کو موافق حالات ملیں وہ ایک درخت کی صورت میں اپنے کو ظاہر کرنا شروع کردے۔

بیج کے بونے کی جگہ مٹی ہے۔ آپ بیج کو پتھر میں ڈال کر اس کے متوقع نتائج حاصل نہیں بیج کو جب مٹی میں ڈالا جاتا ہے تو اچانک وہ پوری کائنات سے اس طرح جڑ جاتا ہے جیسے کہ ساری کائنات صرف اسی کی پرورش کے لئے بنائی گئی تھی۔ مٹی نرم ہوکر اس کو موقع دیتی ہے کہ وہ اس کے اندر اپنی جڑیں داخل کرے۔ بیکٹیریا کروڑوں کی تعداد میں اس کے جڑوں میں جمع ہوجاتے ہیں تاکہ فضا سے نائٹروجن الگ کرکے اس کی خوراک فراہم کریں۔ زمین کی تہمیں اپنی معدنیات اور نمکیات کو پانی میں گھول کر اس کی جڑوں کو پہنچاتی ہیں تاکہ وہ کھینچ کھنچ کر اوپر کی طرف جائے اور درخت کی نشوونما کا ذریعہ بنے۔ زمین سے لے کر سورج تک کائنات کا پورا کارخانہ متحرک ہوجاتا ہے تاکہ اس کے لئے مختلف موسم پیدا کرے اور گرمی اور سردی اور بارش کے حالات سے گزارتے ہوئے اس کو ایک مکمل درخت کی صورت میں کھڑا کردے۔

یہ درخت پوری کائنات سے اس طرح ہم آہنگ ہوتا ہے کہ کہیں بھی ماحول کی دوسری چیزوں سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ وہ اگر زمین سے پانی لیتا ہے تو خود بھی زمین سے لی ہوئی رطوبت کو اپنے پتوں کے ذریعہ خارج کرکے بارش کے عمل میں معاون بنتا ہے۔ وہ اگر زمین سے اپنی خوراک حاصل کرتا ہے تو خود بھی اپنے پتوں اور پھولوں کو زمین پر گرا کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ اگر ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ لیتا ہے تو ایک اور مفید چیز آکسیجن کی صورت میں اسے لوٹا دیتا ہے۔ کائنات سے الگ ہوتے ہوئے پوری کائنات سے اس طرح جڑا ہوتا ہے کہ کسی چیز سے بھی کبھی اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا۔

درخت سایہ تلاش کرنے والے کے لئے سایہ مہیا کرتا ہے۔ وہ اپنے پاس سے گزرنے والوں کے لئے مہک اور سر سبز منظر کا تحفہ پیش کرتا ہے۔ جو شخص اس سے غذا حاصل کرنا چاہے اس کے لئے اس کے پاس لذیذ پھل موجود ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ جو لوگ اس کو کاٹ ڈالتے ہیں ان کو بھی وہ لکڑی مہیا کرتا ہے جس سے وہ اپنی مختلف تمدنی ضرورتوں کو پوری کریں۔ جب بھی تجربہ کا کوئی لمحہ آتا ہے تو درخت عین وہی ثابت ہوتا ہے جس کی اس سے امید کی گئی تھی۔

ان سب کے ساتھ درخت ایک ایسا وجود ہے جو زمین میں اپنی جڑیں داخل کر کے خود اپنے بل پر کھڑا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ درخت کا تقریباً نصف حصہ سطح زمین کے نیچے ہوتا ہے اور نصف حصہ سطح زمین کے اوپر۔ وہ زمین کی تہوں میں اس طرح گڑا ہوا ہوتا ہے کہ کوئی اس کو اکھاڑ نہ سکے اور فضا میں اس طرح بلند ہوتا ہے کہ کائنات کی تمام چیزوں سے بے روک ٹوک اپنا رزق حاصل کرے۔ قرآن میں مومن کی مثال درخت سے دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو کن صفات کا حامل ہونا چاہئے۔ مومن وہ ہے جس کے اندر وہی صفتیں انسانی سطح پر موجود ہوں جو درخت کے اندر مادی سطح پر پائی جارہی ہیں۔ مومن کو وہی کام شعور کے تحت کرنا ہے جس کو درخت طبعی قانون کے تحت انجام دے رہا ہے۔ مومن کو خود اپنے ارادہ سے اسی سر سبز دنیا کی تخلیق کرنی ہے جس کو درخت نظام قدرت کی پابندی میں جبرأ وجود میں لاتا ہے۔

عام درخت مٹی کے اندر سے نکلتا ہے۔ مومن کا درخت روحانیت کی ربانی زمین پر اگتا ہے۔ ایک دنیا کے مادی اجزاء سے بنتا ہے اور دوسرا عالم آخرت کے جنتی اجزاء سے۔ عام درخت مادی دنیا کا درخت ہے تو مومن انسانی دنیا کا درخت۔

درخت ایک نمو پذیر وجود ہے، اسی طرح مومن بھی ایک نمو پذیر وجود ہے۔ مومن وہ انسان ہے جو ربانی فکر کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ پوری کائنات اس کے لئے معرفت کا دستر خوان بن

Printed page