Al-Risala · February 2000

دانش مند کون

Al-Risala, February 2000

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک برطانوی مصنف ولیم رالف انگ (William Ralph Inge) کا قول ہے کہ ـــــ دانش مند وہ ہے جو چیزوں کی اضافی قدر کو جانے:

The wise man is he who knows the relative value of things. اس قول کا مطلب کیا ہے اس کو مثال سے سمجھیے ایک طالب علم کو امتحان دینا ہے۔ کے مطابق اپنے گھر سے اسکول کے لئے روانہ ہوتا ہے۔ راستہ میں ایک جاہل لڑکا اس سے الجھ جاتا ہے اور اس کو گالی دیتا ہے جس کے نتیجہ میں طالب علم کو غصہ آجاتا ہے۔

اب طالب علم اگر غصہ ہو جائے اور مذکورہ لڑکے سے انتقام لینے کے لئے اس سے الجھ جائے تو عین ممکن ہے کہ اس جھگڑے میں اتنی زیادہ دیر ہو جائے کہ وہ وقت پر امتحان حال تک نہ پہنچے اور نتیجہ اس کا ایک سال ضائع ہو جائے۔

اسی طرح ایک شخص کو ضروری سفر کرنا ہے۔ وہ گھر سے روانہ ہوتا ہے تا کہ ریلوے اسٹیشن پہنچے اور ٹرین پر سوار ہو کر وقت پر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ لیکن جب وہ گھر سے نکلا تو راستہ میں ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہو گیا۔ اب اگر وہ دیر تک اس آدمی سے جھگڑتا رہے تو عین ممکن ہے کہ اس کو اتنی زیادہ دیر ہو جائے کہ جب وہ ریلوے اسٹیشن پہنچے تو اس کو معلوم ہو کہ اس کی ٹرین چلی گئی۔ ان مثالوں پر غور کیجئے۔ مذکورہ دونوں شخصوں کا ایک مسئلہ وہ تھا جو خود مقام واقعہ پر موجود یعنی ایک شخص کا انھیں گالی دینا یا زیادتی کرنا۔ یہ معاملہ کا وہ پہلو تھا جو براہ راست عین موقع کے وقت دکھائی دے رہا تھا۔ اسی کے ساتھ وہاں ایک چھپا ہوا پہلو بھی تھا جو بظاہر مقام واقعہ پر موجود نہ تھا مگر ایک صاحب بصیرت آدمی غور کر کے اسے جان سکتا تھا۔ وہ یہ کہ اگر ان جاہلوں سے ٹکراؤ کیا جائے اور ان کو سزا دینے کی کوشش کی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک اور انتہائی اہم مصلحت تباہ ہو جائے گی۔ یعنی وقت پر امتحان ہال یا ریلوے اسٹیشن نہ پہنچنا اور محض ایک وقتی نوعیت

کی جذباتی تسکین کی خاطر زیادہ بڑے فائدے سے اپنے آپ کو محروم کر لینا۔ مذکورہ قول میں اسی دوسرے یا بظاہر دکھائی نہ دینے والے پہلو کو معاملے کا اضافی پہلو کہا گیا معاملے کا ابتدائی پہلو، یعنی زیادتی کرنے والے کی زیادتی، ہر آنکھ والا دیکھتا ہے مگر معاملے کے دوسرے پہلو یا اضافی قدر (relative value) کو وہی شخص دیکھے گا جو گہری بصیرت کا حامل ہو اور اپنے اقدام کا فیصلہ عقلی غور و فکر کے تحت کرتا ہو نہ کہ محض وقتی جذبات کے تحت۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں اکثر معاملات میں یہ دونوں پہلو موجود ہوتے غیر دانش مند آدمی صرف سامنے کی صورت حال کو دیکھ پاتا ہے اور اس کے مطابق کارروائی کر کے اپنے معاملے کو بگاڑ لیتا ہے۔ دانش مند انسان وہ ہے جو معاملے کے دیگر پہلوؤں کو دیکھ سکے۔ کی صورت حال سے اوپر اٹھ کر ان حقیقتوں کا ادراک کر لے جو اگر چہ مقام واقعہ پر موجود نہیں مگر آخر کار ظاہر ہو کر وہی فیصلہ کن بن جائیں گی۔

موجودہ دنیا اسی دانش مندی کا امتحان ہے۔ جو آدمی اس اعتبار سے دانش مند ثابت ہو وہی اس دنیا میں کامیاب ہوگا۔ اور جو آدمی اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے اس کے لئے یہاں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

Printed page