بھاری قیمت
Al-Risala, November 2000
By Maulana Wahiduddin Khan
٢٠٠٠ء میں جو انوکھے انکشافات ہوئے ان میں شاید سب سے انوکھا انکشاف وہ تھا جس کو میچ فکسنگ (match-fixing) کہا جاتا ہے۔ یعنی کھیل کے مقابلہ میں ہار جیت کو پیشگی طور پر طے کر لینا اور اس کے معاوضہ میں بڑی بڑی رقمیں وصول کرنا۔ اس سلسلہ میں جن کھلاڑیوں کے نام بار بار میڈیا میں آئے ہیں ان میں سے ایک ساؤتھ افریقہ کا کرکٹ کپتان ہانسی کرونیا (Hansie Cronje) ہے۔
میچ فکسنگ کا یہ راز کھل گیا اور دوسرے بہت سے کھلاڑیوں کی طرح ہانسی کرونیا بھی قانون کی پکڑ میں آگیا۔ ماہرین نے اس سے زبردست پوچھ گچھ (interrogation) کیا۔ شروع میں اس نے اپنے کو بچانے کی کوشش کی مگر آخر کار مجبور ہو کر اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر ہانسی کرونیا اس سے پہلے کھیل کی دنیا میں ہیرو بنا ہوا تھا۔ مگر اس انکشاف کے بعد اچانک وہ زیرو ہو گیا۔ اس کی دولت اور عزت اور اس کا مستقبل سب کچھ اچانک خاک میں مل گیا۔ اتنے زبردست حزن اور مایوسی (depression) کا شکار ہوا کہ اس کے نفسیاتی ڈاکٹر آئین لوئس (Ian Leuis) کا کہنا ہے کہ اندیشہ ہے کہ ہانسی کرونیا کا حافظہ گہرے طور پر متاثر ہو جائے اور آئندہ وہ معتدل زندگی گزارنے کے قابل نہ رہے۔
ہانسی کرونیا نے اپنی اس بھاری غلطی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب مجھ سے اس قسم کی پیش کش کی گئی تھی، کاش میں نے اسی وقت اس سے انکار کر دیا ہوتا۔ اس نے کہا کہ ایک سادہ نہیں میری زندگی کو کہیں زیادہ پرسکون بنا دیتا اور میری وہ حالت نہ ہوتی جس میں کہ اب میں مبتلا ہوں: A simple no would have made my life a whole lot easier and I wouldn't be in the situation I am in now. (TOI, 22 June, 2000)
آج کی دنیا کے اس واقعہ میں اُس سنگین تر واقعہ کی ایک جھلک ہے جو کل کے دن آخرت میں لوگوں کے ساتھ پیش آنے والا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے موجودہ امتحان کی زندگی میں خدا
کے حکم کو توڑا ہوگا، جنھوں نے دنیوی ترغیبات (temptations) کی خاطر آخرت کے تقاضوں کو نظر انداز کیا ہوگا، جنھوں نے ابدی فائدوں کے مقابلہ میں وقتی فائدوں کو ترجیح دی ہوگی، وہ جب آخرت میں اپنی اس غلطی کا بھیانک انجام دیکھیں گے تو اچانک ان کا سارا قلعہ دھڑام سے گر جائے گا۔ وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے وقتی محرومی کو برداشت کر لیا ہوتا تو ہم کو ابدی تباہی اور محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
قرآن میں انسانیت کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہرگز نہیں، بلکہ تم چاہتے ہو جلد آنے والی (عاجلہ) کو۔ اور تم چھوڑتے ہو دیر میں آنے والی (آخرت) کو۔ (القیامہ ۲۰-۲۱) اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: یہ لوگ جلدی ملنے والی چیز (عاجلہ) کو چاہتے ہیں۔ نے چھوڑ رکھا ہے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو (الدهر ۲۷۲)
موجودہ دنیا میں آدمی کے سامنے جب کوئی خوشنما چیز آتی ہے تو وہ اس کی طرف اتنا زیادہ راغب ہوتا ہے کہ وہ نہیں (no) کہنے کی ہمت نہیں کر پاتا، وہ اس میں ملوث ہو جاتا ہے۔ مگر موت کے بعد وہ دیکھے گا کہ ایک انتہائی وقتی خوشی کی قیمت اس کو ابدی محرومی کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتا۔ مگر اس وقت وہ اپنی اس نادانی پر افسوس کرے گا مگر اس وقت افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔