Al-Risala · November 2000

دو نکاتی پروگرام

Al-Risala, November 2000

By Maulana Wahiduddin Khan

مغربی ملکوں میں اس وقت دس ملین سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ ان مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا مشترک مسئلہ صرف ایک ہے سیکولر سوسائٹی میں وہ اپنی اسلامی پہچان کو کیسے باقی وہ اپنی نسلوں کے دینی تحفظ کو کس طرح یقینی بنائیں ۔ موجودہ حالات میں اس مسئلہ کا یہ حل نہیں کہ اس کے بارے میں مغربی ملکوں کے مسلمان وہاں احتجاج کریں یا مطالبا تی مہم چلائیں۔ اس قسم کی کوئی بھی کوشش وہاں اکثریت کے لئے نا قابل قبول ہوگی ۔ وہ مسئلہ میں اضافہ تو کر سکتی ہے مگر وہ مسئلہ کا حل نہیں بن سکتی ۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں مغربی ملکوں کے مسلمان حقیقت پسندانہ انداز اختیار وہ ناممکن کے پیچھے اپنی طاقت ضائع کرنے کے بجائے اس چیز کو اپنی جد و جہد کا مرکز بنائیں جو موجودہ حالات کے با وجود ان کے لئے ممکن ہے۔ اس مقصد کے لئے ہمیں ایک نتیجہ خیز فارمولا درکار یہ فارمولا واضح طور پر قرآن میں موجود ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن ہمیں دو نکاتی فارمولا دیتا ہے جو قابل عمل بھی ہے اور نتیجہ خیز بھی۔

اس دو نکاتی فارمولے کا پہلا جزء یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو خارج رخی کوششوں (external oriented efforts) کے بجائے داخل رخی کوششوں پر اعتماد کرنا چاہئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قدیم مصر میں بنی اسرائیل کے لئے اسی نوعیت کے مسائل پیدا ہوئے۔ اس وقت ان کے پیغمبر نے اللہ کی رہنمائی کے تحت انہیں یہ ہدایت دی کہ: اجعلوا بیوتکم قبلۃ (یونس ۸۷) یعنی تم لوگ اپنے گھروں کو اپنا قبلہ بنا لو۔

اپنے گھروں کو اپنا قبلہ بنانے کا مطلب یہ تھا کہ اپنے گھروں کو اپنا مرکز بنا لو۔ دین کے تعلق سے تمہارے جو فرائض ہیں ان کو اپنے گھر کے اندر انجام دو۔ اگر تم اعلان کے ساتھ اپنی دینی ذمہ داری کو ادا نہیں کر سکتے تو اعلان کے بغیر اس کو انجام دینے کا نظام بناؤ۔

اس اصول کی روشن میں مغربی ملکوں میں آباد مسلمانوں کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ اپنے دینی تحفظ کا

جو کام خارجی نظام کی مدد سے انجام نہیں دے سکتے اس کو وہ اپنے داخلی انتظام کے تحت انجام دیں۔ اپنی نسلوں کے دینی تحفظ کا انتظام کریں۔ وہ کیسٹ اور لٹریچر اور تقریروں کے ذریعہ اس تعلیمی اور تربیتی مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

اس پروگرام کا دوسرا جزء دعوت ہے۔ دعوت اہل اسلام کے لئے خارجی تبلیغ کے ساتھ داخلی تحفظ کا ذریعہ بھی ہے۔ قرآن میں پیمبر کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم اس چیز کو لوگوں تک پہنچادو جو اللہ کی طرف سے تمہارے اوپر اتاری گئی ہے۔ اس دعوتی عمل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تم کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔

دعوت کیا ہے۔ دعوت انسان کو دین فطرت کی طرف بلانا ہے۔ دعوت گویا لوگوں کو خود ان کے اپنے دین سے روشناس کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت کے اندر تسخیری طاقت موجود ہے۔ دعوت اہل اسلام کے لئے خارجی حالات کے مقابلہ میں تحفظ کا طاقتور ذریعہ ہے۔ دعوت مسئلہ کو نظر انداز کر کے خود مسئلہ پیدا کرنے والے کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ اور تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ طریقہ ہمیشہ کامیاب رہا ہے۔

موجودہ حالات میں مغرب میں آباد مسلمانوں کے لئے قرآن سے جو رہنمائی ملتی ہے وہ یہی یہی دو نکاتی پروگرام ان کے مسئلہ کا حل ہے۔ ”گھروں کو مرکز عمل بنانا“ اگر حالات کے مقابلہ میں دفاعی تدبیر ہے تو دعوت و رگ گویا حالات کے مقابلہ میں عملی اقدام۔ پہلے اصول کی ایک عملی مثال جدید ترکی ہے جہاں سخت قسم کی خارجی ناموافقَت کے باوجود مسلمان اپنے دین کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے۔ دوسرے اصول کی ایک عملی مثال تیر ہویں صدی عیسوی میں پیش آنے والا تاتاریوں کا واقعہ ہے جب کہ بظاہر ایک مخالف قوت کو دعوت کے ذریعہ شاندار طور پر اپنا حامی بنالیا گیا۔

Printed page