Al-Risala · November 2000

ہریا نہ کا سفر

Al-Risala, November 2000

By Maulana Wahiduddin Khan

سرو دھرما ایکتا مشن (پانی پت) کے دو نمائندے اپریل ۲۰۰۰ کے آخر میں مجھ سے دہلی میں ان کے نام یہ ہیں: مسٹر بلراج ملک (ایڈوکیٹ) اور مسٹر وجے آنند۔ ان کی سنستھا کا انگریزی نام یہ ہے: مومنٹ فار یونائٹڈ ورلڈ ۔ پانی پت کے لئے ان کا ٹیلی فون نمبر یہ ہے: Off: 65404, Mobile: 98120-30481 ان لوگوں سے پہلی ملاقات کافی لمبی تھی اور دلچسپ بھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مختلف مذہب کے لوگ مل جل کر رہیں۔ ہر طرف پیار محبت کا ماحول ہو۔ انہوں نے کہا کہ آخر سب مذہب ایک ہی ہیں۔ سب ایک ہی سچائی کو بتاتے ہیں پھر آپس کا جھگڑا کس لئے۔ میں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ مگر ہم آہنگی کے اس مقصد کا صحیح فارمولا انسانی یکسانیت ہے نہ کہ مذہبی یکسانیت۔ ”تمام مذاہب ایک ہیں یہ ایک خلاف واقعہ نظریہ ہے۔ کیوں کہ مختلف مذاہب کی تعلیمات میں ایسے واضح فرق ہیں کہ کوئی آدمی سنجیدگی کے ساتھ ان سب کو ایک نہیں کہہ سکتا۔ البتہ تمام انسان ایک ہیں، بالکل درست بات ہے، اس میں شک کی کوئی گنجائش انسانی یکسانیت کے اسی اصول کی بنیاد پر سماجی اتحاد قائم کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ ایک سماج میں کچھ لوگ سیاہ فام ہوں اور کچھ لوگ سفید فام۔ ایسے سماج میں اتحاد قائم کرنے کے لئے یہ مہم چلائی جائے کہ سیاہ رنگ اور سفید رنگ دونوں ایک ہیں تو کبھی اتحاد قائم کیوں کہ دونوں رنگوں میں واضح فرق ہے۔ اس کے عکس اگر یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کرائی جائے کہ دونوں قسٹم کے لوگ یکساں طور پر انسان ہیں، تو نہایت آسانی سے ان کے درمیان اتحاد قائم ہو جائے گا، کیوں کہ انسانی یکسانیت ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملہ کی مزید تفصیل کرتے ہوئے میں نے کہا کہ’’ تمام مذاہب ایک ہیں‘‘ کا فارمولا لمبے تجربہ کے بعد اس طرح نا کام ہو چکا ہے کہ اب اس کا مزید تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے کہا کہ سماجی اتحاد کا یہ نظریہ سب سے پہلے بادشاہ اکبر (وفات ۱۶۰۵) نے پیش کیا مگر اقتدار کی مکمل حمایت کے باوجود وہ نا کام ہو گیا۔ پھر ڈاکٹر بھگوان داس (وفات ۱۹۵۸) نے ساری عمر کی جدوجہد کے بعد

ایک ضخیم کتاب لکھی جس کا نام تھا وحدۃ المذ اہب (Essential Unity of All Religions) مگر ان کی یہ انسائیکلو پیڈیا ئی مہم بھی مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ اس کے بعد مہاتما گاندھی (وفات ۱۹۴۸) نے اپنی عوامی مقبولیت کا پورا زور اس نظریہ کے حق میں لگا دیا۔ مگر وہ بھی سراسر نا کام رہے۔ اسی طرح کے سیکڑوں بڑے بڑے دماغ سماجی اتحاد کے اس فارمولے کو لے کر اٹھے مگر وہ اپنے مقصد میں ایک فی صد بھی کامیاب نہ ہو سکے۔

پھر ان لوگوں نے کہا کہ اب آپ ہی بتائیے کہ سماجی اتحاد کا صحیح فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے صحیح فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے جس کو ہم اب بھی بڑے پیمانہ پر استعمال کر رہے ہیں، اور وہ ہے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے کہ مذہبی اتحاد کا صحیح فارمولا باہمی اعتراف (mutual recognition) نہیں ہے بلکہ اس کا صحیح فارمولا با ہمی احترام (mutual respect) ہے۔

سرو دھرم ایکتا مشن کے مذکورہ دونوں ذمہ دار میری باتوں کو غور سے سنتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں کی رائے اس کے بارے میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آپ کی بات سے ۸۰ فیصد اتفاق ہے۔ وہ لوگ مجھے کرنال میں ہونے والے ایکتا مشن کے اجلاس (۷ مئی ۲۰۰۰) میں چیف گیسٹ کے طور پر شرکت کی دعوت دینے آئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب آپ لوگوں کو میری بات سے پورا اتفاق نہیں ہے تو ایسی حالت میں آپ کے اجلاس میں شریک ہونا میرے لئے ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ مسئلہ بے حد اہم ہے۔ آپ لوگ اس پر مزید غور کیجئے، اس کے بعد مجھے بتائیے۔ وہ لوگ واپس چلے گئے ۔ چند دن کے بعد ان کا ٹیلی فون آیا کہ ہم نے اپنی کمیٹی میں آپ کی بات کو رکھا اور اس پر کافی سوچ بچار کیا۔ آخر کار ہمارے تمام ممبروں نے آپ کی بات سے پورا اتفاق کر لیا ہے۔ اب آپ کو ہمارے اجلاس میں شرکت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چنانچہ میں نے ان کی دعوت کو منظور کر لیا۔

پروگرام کے مطابق ۷ مئی ۲۰۰۰ کی صبح کو دہلی سے کرنال کے لئے روانگی ہوئی۔

کرنال کا فاصلہ ۱۲۵ کلومیٹر ہے۔ یہ فاصلہ بذریعہ روڈ طے ہوا۔

اس سفر کا پہلا تجربہ بہت خوشگوار تھا۔ کل تک یہاں سخت گرمی کا موسم چل رہا تھا۔ ۷ مئی کی صبح کو ۷ بجے جب ہماری گاڑی دہلی کی سڑکوں پر آگے بڑھ رہی تھی تو اچانک فضا میں بادل گھر آئے اور بارش ہونے لگی۔ مزید خوشگوار بات یہ تھی کہ بارش زیادہ لمبی نہیں ہوئی بلکہ کچھ دیر بارش ہوئی اور پھر تھم گویا کہ وہ صرف موسم کو خوشگوار بنانے کے لئے آئی تھی۔ مجھے مولانا اقبال احمد سہیل (تاریخ وفات ۱۹۵۵) کا ایک مصرعہ یاد آیا:

برس کے بادل جو کھل گیا ہے تو لوگ خوشیاں منارہے ہیں دہلی سے نکل کر ہماری گاڑی ہریانہ کے علاقہ میں داخل ہوئی۔ اب ہم لوگ نیشنل ہائی وے نمبر ایک پر چل رہے تھے۔ یہ ہمارے ملک کی سب سے اہم سڑک مانی جاتی ہے، لیکن اس کا تقابل اگر امریکہ اور ترقی یافتہ مغربی ملکوں سے کیا جائے تو وہ بہت کمتر معلوم ہوگی۔ سڑک، ٹیلی فون اور اسی طرح کے دوسرے وسائل کو انفراسٹرکچر(infrastructure) کہا جاتا میں نے اس مسئلہ پر بہت غور کیا کہ پچاس سال سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک نہ بن سکا جب کہ اسی مدت میں بہت سے ملک جدید معیار کے مطابق، ترقی یافتہ ملک بن چکے ہیں۔ حتیٰ کے سنگاپور جیسے چھوٹے ملک بھی۔ اس مسئلہ پر غور کرنے کے بعد جو بات میری سمجھ میں آئی ہے۔ وہ یہ کہ دوسرے ملکوں نے سب سے زیادہ زور بہترین انفراسٹرکچر پر دیا۔ ہمارے یہاں اس کے بجائے نظریاتی کٹرپن(ideological fanaticism) پر سارا زور دیا گیا۔ میں اپنے مطالعہ سے یہ سمجھا ہوں کہ ہر انسان پیدائشی طور پر ترقی کرنا اور آگے بڑھنا چاہتا ہر انسان کے اندر بے پناہ جذبہ ہے کہ وہ اپنی فطری صلاحیتوں کو استعمال کرکے اپنے حوصلوں کی تکمیل کرے اور بڑے بڑے کارنامے انجام دے۔ ایسی حالت میں انسان کو ترقی کے لئے کسی نظریہ (ideology) کی ضرورت نہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے لئے وہ سہولتیں (facilities) فراہم کی جائیں جن کو استعمال کر کے وہ اپنے فطری حوصلوں کی تکمیل کر سکیں۔ مثلاً تعلیم کے اچھے

ادارے، حوصلہ بڑھانے والا ماحول، عمدہ سڑکیں، ٹیلی فون اور بجلی کی عمدہ سہولت، معاون انتظامیہ، سرکاری پابندیوں سے آزاد ماحول، ہر آدمی کے لئے ترقی کے یکساں مواقع، صحت سے تعلق رکھنے والی چیزوں کی آسان دستیابی، امن اور تحفظ کا ماحول وغیرہ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں مختلف قسم کے نظریاتی جنون کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے کوئی بھی کام درست طور پر نہ ہوسکا۔ البتہ دوسرے غیر متعلقین عنوانات پر دھوم مچائی جاتی رہی۔

۱۲۵ کلومیٹر کا یہ سفر غیر متوقع طور پر نہایت خوشگوار موسم میں ہوا۔ ہلکی بارش، آسمان میں بادلوں کی ٹکڑیاں، اس قسم کے مناظر یاد دلار ہے تھے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں قدرت نے پانی کی نعمت کو وافر مقدار میں فراہم کیا ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ آج کل ہمارے ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ پانی کی شدید کمی کی زد میں ہے۔ بہت سے مقامات پر انسان سے لے کر مویشی اور فصلوں تک سب پانی کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کا سبب قدرت نہیں ہے بلکہ ہماری انتظامی نا ہندوستان میں کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں مگر اس پانی کا صرف چھ فیصد حصہ ہمارے حصہ میں آتا ہے۔ باقی سارا پانی بہہ کر سمندروں میں جا گرتا ہے۔

شہری علاقوں میں آج کل ایک نئی مصیبت یہ سامنے آئی ہے کہ زمینی پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی ہے۔ دہلی بھی انہیں شہروں میں شامل ہے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں نہایت غیر منصوبہ بند انداز میں شہروں کو سیمنٹ کنکریٹ کا جنگل بنا دیا گیا ہے۔ بارش ہوتی ہے تو پانی کا بہت کم حصہ زمین میں جذب ہو کر نیچے پہنچتا ہے۔ اس کا بڑا حصہ بہہ کر باہر نکل جاتا ہے۔ قدرت نے ہندوستان کے ساتھ اتنی زیادہ فیاضی کی تھی کہ یہاں کبھی پانی کی کمی نہ ہو۔ مگر فطرت کے نظام کو مصنوعی اسکیموں کے ذریعہ بگاڑ دیا گیا جس کا نتیجہ پانی کی بھیانک قلت کی شکل میں برآمد ہوا۔

ہماری پہلی منزل پانی پت تھی ۔ ہم لوگ پانی پت میں داخل ہوئے تو سڑک کے دونوں طرف خوبصورت مکانات کا سلسلہ دکھائی دیا۔ یہ پچھلے کچھ برسوں کا کرشمہ ہے۔ پانی پت میں ہینڈ

لوم اور اون کا بزنس بہت کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس خوشحالی کے اثرات شہر میں ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔

پانی پت میں ہم لوگ مسٹر بلراج ملک ایڈوکیٹ کی رہائش گاہ پر تھوڑی دیر کے لئے ٹھہرے۔ سرو دھرم ایکتا مشن کے جنرل سکریٹری ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مشن آپ کے لئے ایک وقتی مشن ہے یا وہ آپ کی پوری زندگی کا مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو یہ سوچ کر یہاں آئے ہیں کہ منزل دور ہے اور ہمیں چلتے ہی رہنا ہے۔ میں نے کہا کہ یہی سچی مشینری اسپرٹ ہے۔ ساری عمر کے لئے ہوتا ہے، وہ تھوڑے دن کے لئے نہیں ہوتا۔

پانی پت میں کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک صاحب نے بات چیت کے دوران کہا کہ یہاں کافی انٹرنیشنل تھنکنگ پائی جاتی ہے۔ یہاں کے ایک صاحب نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کا انٹر ایکشن ہر روز ڈائرکٹ یا انڈر ارکٹ دوسرے دیشوں سے ہوتا رہتا ہے۔ ہمارا کاروباری سمبندھ ساری دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اپنے آپ یہ سوچ لوگوں میں آ جاتی ہے کہ جب ہم ایک دوسرے پر زبہر ہیں تو پھر آپس میں نفرت کیسی۔

موجودہ زمانہ تیز رفتار کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ آج یہ حالت ہے کہ دنیا کے ایک کونے میں ایک ترقی ہو تو فوراً وہ دوسرے کونے میں پہنچ جاتی ہے۔ ایک سائنس داں انسانیت کے فائدے کی ایک چیز دریافت کرتا ہے تو اس کی دریافت بہت جلد تمام انسانوں کے لئے قابل قبول بن جاتی ہے۔

مسٹر بلراج ملک کے کمرہ میں ایک قدرتی منظر کی تصویر فریم کر کے دیوار پر لگی ہوئی تھی اس کے ساتھ یہ جملہ لکھا ہوا تھا:

Printed page