God is the same yesterday, today and forever.
Al-Risala, November 2000
By Maulana Wahiduddin Khan
عام ذوق کے خلاف ان کے کمرے میں مورتی وغیرہ کی تصویر نظر نہیں آئی۔
پانی پت کی سڑکیں دوسرے شہروں سے اچھی دکھائی دیں۔ سڑک پر ٹریفک بھی
ضابطہ کے مطابق تھی۔ آگے والا آسانی سے پیچھے والے کو سائیڈ دیتا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف خوبصورت مکان اور دفتر دکھائی دئے جو گو یا خوشحالی کی علامت تھے ۔ میں نے یہاں کے ایک صاحب سے پوچھا کہ پانی پت اور ہریانہ کی ترقی میں عوام کا کتنا ہاتھ ہے اور حکومت کا کتنا۔ انہوں نے کہا کہ ففٹی پرسنٹ عوام کا اور رففٹی پرسنٹ گورنمنٹ کا۔ کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی گورنمنٹ صرف ففٹی پرسنٹ ہی کرسکتی ہے۔ بقیہ ففٹی پرسنٹ عوام ہی کو کرنا پڑتا ہے۔ عوام اگر اپنے حصہ کا کام ٹھیک طور پر نہ کریں تو تنہا گورنمنٹ کی مدد کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرسکتی۔
نوجوانی کی عمر میں جب میں نے پانی پت کا نام سنا تو اس کے ساتھ جنگی واقعات کی داستانیں شامل تھیں ۔ پانی پت کے میدان میں قدیم زمانہ میں کئی جنگیں پیش آئی ہیں۔ پانی پت کا لفظ میرے ذہن میں انھیں خونیں قسم کی یادوں سے جڑا ہوا تھا۔ ے مٹی کو جب کہ موسم بھی خوشگوار ہو چکا تھا پانی پت کی مختلف سڑکوں سے گزرتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ایک نئے پانی پت کو دریافت کر رہا ہوں ۔ حال میں جب میں امریکہ کے شہر فلوریڈا گیا تھا تو وہ مجھے بہت خوبصورت شہر معلوم ہوا تھا۔ جدید پانی پت بھی مجھ کو فلوریڈا کی قسم کا ایک شہر دکھائی دیا۔ میں نے کہا کہ پانی پت مستقبل کے ہندوستان کی ایک علامت ہے۔ غالباً اگلے ۲۵ سال میں ہندوستان کا نقشہ بالکل بدل چکا ہوگا۔
پانی پت کے ایک تعلیم یافتہ ہندو سے میں نے پوچھا کہ آج کا ہندو نو جوان کس طرح سوچتا انہوں نے جواب دیا کہ آج کے ہند و نو جوان میں بہت تیزی سے انٹرنیشنل تھنکنگ پیدا ہورہی اب وہ صرف بھارتی اصطلاح میں نہیں بلکہ گلوبل اصطلاح میں سوچتا ہے۔ میں نے سوچا کہ ۱۹۲۵ میں جن لیڈروں نے ملک کی ترقی کا سب سے بڑا فارمولا ”بھارتینا‘‘ کی صورت میں دریافت کیا تھا وہ تاریخ کے بارے میں کتنا کم جانتے تھے۔ ۱۹۲۵ سے اب تک کی مسلم قیادت تقریباً پوری کی پوری اسی بھارتینا کے خلاف ردعمل کا نام ہے۔ مسلمانوں میں کوئی ایسا قائد نہیں اٹھا جو یہ جانتا
ہو کہ تاریخ کا عمل خود ہی بھارتیہ اور ہندو تو جیسے کٹر نظریات کو بلڈوزر کر رہا ہے۔ پھر ہمیں اس کے خلاف بے فائدہ سرگرم ہونے کی کیا ضرورت ۔ ہمیں خود اپنی تعمیر کے مثبت کام میں لگنا چاہئے، نہ کہ تخریب غیر کے منفی کام میں۔
پانی پت سے کرنال تک کا راستہ ایک خوبصورت ماحول میں طے ہوا۔ خوشگوار موسم، کشادہ سڑک اور سڑک کے دونوں طرف دور دور تک کھلے میدان جن میں جگہ جگہ درخت ابھرے ہوئے، اس طرح کے ماحول میں سفر کرتے ہوئے ہم کرنال میں داخل ہوئے۔ کرنال میں بھی ہر طرف اسی طرح ترقی کے مناظر تھے جو پانی پت میں دکھائی دئے۔
کرنال کے اندر چلتے ہوئے ہم مانو سیوا سنگھ کے کیمپس میں داخل ہوئے۔ یہ ہماری پہلی منزل یہ گویا ایک باغ کے اندر ایک وسیع ادارہ تھا جس میں انسانی خدمت کی مختلف سرگرمیاں دکھائی یہاں ایک خاص بات یہ نظر آئی کہ لوگوں میں باہمی تعاون کا ماحول ہے۔ چنانچہ میں جس پروگرام کے لئے کرنال آیا، اس کا انتظام ایک اور ادارے نے کیا ہے مگر مانو سیوا سنگھ کی طرف سے اس کو بھر پور تعاون دیا گیا۔
سوامی پریم مورتی جی سے ملاقات ایک دلچسپ تجربہ تھی۔ وہ مانو سیوا سنگھ کے ذمہ دار اعلیٰ ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اپنی سنستھا کے بارے میں کچھ بتائیے۔ انہوں نے نہایت سادہ انداز میں کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ بندوں کی سیوا خدائی عبادت ہے۔
سوامی جی سے میں نے پوچھا کہ آنند والے جیون کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کا تار خدا سے جڑ جائے، آنند اسی کے لئے ہے۔ جب خدا کی رحمت ہوتی تھی کسی انسان کا تار خدا سے جڑ خدا کی رحمت سب کے لئے ہے۔ وہ برابر سب پر رحمت کر رہا ہے۔ مگر جو خود سے رحمت نہ چاہے اس کو رحمت ملے گی بھی نہیں۔
سوامی پریم مورتی نے اپنی تنظیم مانو سیوا سنگھ کے بارے میں ایک ہندی پمفلٹ دیا اس میں کچھ اقوال لکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے دو قول یہ تھے:
ہر گھٹنا بھگوان کی لیلا ہے۔ ”کار یہ اسی کا سدھ ہوتا ہے جو دوسروں کے کام آتا ہے۔ میں نے سوامی جی سے پوچھا کہ کوئی سوتر کی بات بتائیے۔ انہوں نے ایک لمحہ سوچا، اس کے بعد کہا: ہر سمتیہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار رہے۔ کیوں کہ جو اللہ تعالیٰ کرتے ہیں وہ صحیح کرتے ہیں۔ مسٹر سٹیش گگلانی روٹری کلب کے ممبر ہیں۔ وہ ایک تاجر ہیں اور اسی کے ساتھ سماجی ویلفیئر کا کام بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے ۸ سال سے وہ یہ کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے 9 ہزار لوگوں کی بیڑی چھڑائی، ۹۰۰ لوگوں کی شراب چھڑائی۔ ۴۰ آدمی کا گانجہ اور ہیروئن چھڑائی، وغیرہ۔
میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس میں کامیاب کیسے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر آدمی فطری طور پر جینا چاہتا ہے اور اچھی طرح جینا چاہتا ہے۔ وہ ایک بری عادت میں پھنس گیا ہم اس کو اس سے کونسلنگ (counselling) اور ترغیب (persuasion) کے ذریعہ اس کا ذہن بناتے اس کو دوائیں دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کے گھر کے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ وہ کس طرح اس معاملہ میں ہماری مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ جدید سائنس کی دریافت کردہ حقیقتوں کو ہم انہیں آسان انداز میں سمجھاتے ہیں کہ کس طرح نشہ انسان کے پورے سسٹم کو خراب کر دیتا ہے۔ اور اس کو جیتے جی بیکار بنا دیتا اس طرح جب اس کو ہماری بات سمجھ میں آ جاتی ہے تو وہ اس طرح اپنی عادت چھوڑنے پر راضی ہو جاتا ہے۔ ہم نے ۸ سال کی مدت میں ۴۰ ہزار آدمیوں پر کام کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے جزئی طور پر نشہ چھوڑ دیا اور تقریباً ۲۰ پرسنٹ لوگوں نے کلی طور پر۔
مولانا محمد الیاس صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ پانی پت کے ایک مدرسہ میں مہتمم ہیں۔ مدرسہ کا نام الجامعۃ الاسلامیہ دارالعلوم ہے۔ اس ادارہ میں طلبہ کی تعداد ۱۱۵ ہے۔ اس مدرسہ کی چھ شاخیں مختلف دیہاتوں میں قائم ہیں۔ ۱۹۴۷ کے انقلاب کے بعد پانی پت کا علاقہ مسلمانوں سے بالکل خالی ہو گیا تھا۔ پانی پت میں صرف ایک مولانا لقاء اللہ صاحب باقی رہ گئے تھے۔ مگر مولانا محمد
الیاس صاحب نے بتایا کہ اب پانی پت میں ۲ لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ یہی معاملہ پورے ہریانہ اور پنجاب کا ہوا۔
۱۹۷ میں کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ یہ علاقہ دوبارہ مسلمانوں سے آباد ہوگا۔ مگر تاریخ ہمیشہ انسانوں کے مزعومات کو رد کر دیتی ہے۔ اسی کی ایک مثال یہ علاقہ بھی ہے۔
مولانا محمد الیاس صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ مدرسہ کے کام سے جڑے ہوئے ہیں اور اسی کے ساتھ آپ تبلیغ سے بھی جڑے ہوئے ہیں اپنے کچھ تجربات بتائیے۔ انہوں نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے ایک دلچسپ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل سب سے بڑا جہاد مدرسہ چلانا ہے۔ آپ تبلیغ میں جائیں تو ہر جگہ آپ کا اعتراف ہوگا۔ ہر جگہ آپ کی ضیافتیں ہوں گی۔ ہر جگہ آپ کا استقبال کیا جائے گا۔ ہر جگہ قیام اور دوسری ضرورتوں کا اچھا انتظام ملے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ کہیں جائیں اور وہاں لوگوں کے سامنے مدرسہ کی بات کریں تو لوگ سلام کا جواب دینا بھی پسند نہیں کریں گے، منہ پھیر کر ادھر ادھر چلے جائیں گے۔ مدرسہ کے کام میں بے عزتی ملتی ہے جب کہ تبلیغ کے کام میں جایئے تو وہاں آپ کو عزت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس زمانہ میں جس کو جہاد کا ثواب لینا ہو وہ ایک
۷ مئی کو ساڑھے دس بجے وہ سمینار شروع ہوا جس کے لئے میں کرنال آیا تھا۔ یہ سمینار مانو سیواسنگھ کے ہال میں ہوا۔ یہ ادارہ ایک وسیع پارک جیسے ماحول میں قائم ہے۔ صبح کی بارش کی وجہ سے موسم خوشگوار ہو گیا تھا۔ ہال کی تمام کرسیاں بھری ہوئی تھیں ۔ یہ سب پڑھے لکھے لوگ تھے۔ میں ۹۹ فیصد ہندو تھے۔ میرے سوا صرف دو مسلمان اور دو سدار نظر آئے۔ سب سے مختصر تقریر سر دار راؤ گرو بخش سنگھ کی تھی۔ یہاں مقررین کو دس منٹ کا وقت دیا گیا تھا۔ سردار گرو بخش سنگھ کو بھی دس منٹ دیا گیا مگر وہ صرف ایک منٹ کے لئے بولے۔ انہوں نے کہا کہ: منش کی ایک ہی ذات ، اس کو پہچانو۔ (انسان سب ایک ہیں ۔ اس حقیقت کو جانیئے)
مجھے اس سمینار میں چیف گیسٹ کے طور پر بلایا گیا تھا۔ اپنی آدھ گھنٹہ کی تقریر میں میں نے کہا
کہ موجودہ زمانہ میں جو مسائل نظر آتے ہیں ان کا پیدا کرنے والا انسان ہے۔ جنگ کون چھیڑتا ہے، صنعتی کثافت سے پانی اور فضا کو کون آلودہ کرتا ہے، انسان۔ کرپشن کے ذریعہ قومی معیشت کو کون تباہ کرتا ہے، انسان۔ سیاسی طاقت کو فسادی طاقت میں کون تبدیل کرتا ہے، انسان۔ اصل مسئلہ نظام (سسٹم) کو بدلنے کا نہیں، بلکہ انسان کو بدلنے کا ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ انسان کو صحیح معنوں میں انسان بنایا جائے۔
مذہب کا اصل مقصد یہی ہے۔ مذہب کا نشانہ انسان کو انسان بنانا ہے۔ انسان کی اصلاح ہو جائے تو بقیہ چیزوں کی اصلاح اپنے آپ ہو جائے۔ اس سلسلہ میں میں نے اسلامی تعلیمات سے کچھ مثالیں پیش کیں ۔ اور بتایا کہ اسلام کا اصل نشانہ فرد کی اصلاح ہے۔ کسی حکومت یا سسٹم کو نشانہ بنا کر اس کے خلاف گن کلچر چلانا اسلام نہیں۔
میں نے کہا کہ اسلام اور حب وطنی میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کی ہر بات اپنے آپ اسلام میں شامل ہے، خواہ قرآن و حدیث میں صراحتہً اس کا ذکر ہو یا مثلاً قرآن میں نہیں لکھا ہوا ہے کہ اے مسلمانو، تم اپنے وطن سے محبت کرو۔ مگر وطن کی محبت لکھے بغیر اسلام میں شامل ہے۔ قرآن میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ اے مسلمانو، تم اپنی ماؤں سے محبت کرو۔ سے محبت یقیناً اسلام کا ایک حصہ ہے۔ کیوں کہ وہ فطرت کا ایک حصہ ہے۔ اسی طرح وطن سے محبت بھی اسلام کا ایک حصہ ہے کیوں کہ وہ فطرت کا ایک حصہ ہے۔
مسٹر پر دیپ کمار ایڈوکیٹ (پانی پت) کرنال کے سیمینار میں موجود تھے۔ انہوں نے میری تقریر کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ آپ کی تقریر کو سن کر یہ لگا کہ ہم بھی دھارمگ ہو سکتے اب تک ہم سمجھتے تھے کہ دھارمگ ہونے کا مطلب ہے جنونی ہونا۔ اس لئے ہم دھرم سے دور ہی مگر آپ کی باتوں کو سن کر اور آپ کو دیکھ کر اب ہم سمجھے کہ دھرم انسانیت سے پیار کا نام ہے۔ آپ جس دھرم کور پریزنٹ کرتے ہیں اس سے کسی کو بھی نہیں ہو سکتا۔
سیمینار سے پہلے ہندو جا کیلیس (ٹی وی) نے ایک انٹرویو ریکارڈ کیا ان کے سوالات کا تعلق
زیادہ تر موجودہ حالات سے تھا۔ میں نے کہا کہ میڈیا کے لوگ ہمیشہ منفی خبروں کو نمایاں کرتے ہیں اس لئے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر طرف بگاڑ ہی بگاڑ ہے۔ حالاں کہ ان کے سوا بے شمار مثبت خبریں ہیں مگر میڈیا ان کو نمایاں نہیں کرتا۔
میں نے کہا کہ مثال کے طور پر یہ مانوسیواسنگھ جہاں اس وقت ہم بیٹھے ہوئے ہیں یہ لوگ رات دن سماجی خدمت اور تعمیری کام میں لگے ہوئے ہیں مگر میڈیا میں میں نے کبھی ان کے بارے میں نہ سنا اور نہ پڑھا۔ اس کا علم مجھے صرف اس وقت ہوا جب کہ میں کرنال آیا اور اس کو براہ راست اپنی آنکھ سے دیکھا۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں کسی حکومت کو مسلمانوں کے لئے کوئی خطرہ نہیں مسلم کمیونٹی ہو یا کوئی دوسری کمیونٹی، ہر ایک کے مستقبل کا انحصار خود اپنے عمل پر ہوتا ہے۔ طور پر ڈیموکریسی کے زمانہ میں کوئی حکومت نہ کسی کو کوئی چیز دے سکتی ہے اور نہ کسی سے کوئی چیز چھین سکتی اس لئے ہمارے مشن کا سارا راز و اس پر ہے کہ ہم مسلمانوں کے اندر تعمیری سوچ پیدا کریں۔ سمینار کے بعد پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں اکثر اخباروں کے مقامی نمائندے موجود تھے۔ اکثر سوالات تیز وتند نوعیت کے تھے مگر میں نے ہر سوال کا ٹھنڈے طریقہ سے جواب دیا۔ دہلی کے اردو اخبار (قومی آواز ۸ مئی ۲۰۰۰) میں ان پاکستانی خواتین کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی تھی۔ اس کے مطابق،''پاکستان کی ایک خاتون صحافی عارفہ نور نے پاکستان سوسائٹی کو طالبان زدہ بنانے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی قریب میں ملاؤں نے فتویٰ دیا تھا کہ عورتوں کو گھر سے باہر نکلتے وقت سرڈھاکنا چاہئے لیکن پاکستان کی عام عورتوں نے ملاؤں کے اس فتویٰ کو ٹھکرادیا اور وہ منظم طاقت کے سامنے عورتوں کو سرڈھانکنے پر مجبور نہیں کرسکے۔
پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان میں اسلام کے نام پر جو سیاست چلائی گئی اس میں پر جوش اسلام پسند قائدین فخر کے ساتھ یہ کہتے تھے کہ ''پاکستان اسلام کے نام پر الاٹ ہو چکا ہے۔
اسلام کے نام پر کیا جانے والا یہ ہنگامہ جب اپنے آخری انجام پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ پاکستان حقیقتًا خوش فہمی کے نام پر الٹ ہوا تھا۔ اگر چہ نام نہاد اسلام پسند بطور خود یہ سمجھتے رہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر الٹ ہوا ہے۔
موجودہ زمانہ میں جو مسلم تحریکیں اٹھیں ان سب میں یہ مشترک کمی تھی کہ ان کے رہنما یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ روح عصر کیا ہے اور تاریخ کی طاقتیں کدھر جا رہی ہیں۔ اسی بے خبری کا یہ نتیجہ ہے کہ سوسائٹی کی ہنگامہ خیز تحریکیں اور بے شمار جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود ملت کے حصہ میں مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
مانو سیوا سنگھ (کرنال) کے بانی اور ذمہ دار سوامی پریم مورتی بظاہر اپنے حلیہ کے اعتبار سے ایک غیر اہم انسان دکھائی دیتے ہیں مگر ان میں بیک وقت دو اعلیٰ صفتیں پائی جاتی ہیں۔ وہ اپنے سینہ میں انسانیت کا درد رکھتے ہیں اور اسی کے ساتھ ان کو زندگی کا کافی تجربہ بھی ہے۔ انہوں نے بہت سی قیمتی باتیں بتائیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ ۱۰ سے ۱۲ سال کی عمر بچوں کے بننے کی عمر ہوتی ہے۔ تک اگر ان سے کام نہ کرایا جائے تو پھر وہ ساری عمر کام نہ کر سکیں گے۔
یہ بلاشبہ ایک درست بات ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اپنی عادتوں کے پابند جس کے اندر جو سوچ بن گئی وہ دوبارہ اس کے علاوہ کچھ اور سوچ نہیں پاتا، وہ اسی پر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اسی طرح جو شخص جس چیز کا عادی ہو گیا وہ دوبارہ اپنی عادتوں کو بدل نہیں پاتا۔ طور پر کوئی شخص ایسا ہوتا ہے جو اپنی سوچ یا اپنی عادت کو از سر نو تشکیل دے۔ کرنال سے ہم لوگ ۷ مئی ۲۰۰۰ء کی شام کو واپس دہلی کے لئے روانہ ہوئے۔ ہمارا قافلہ کچھ دیر کے لئے پانی پت میں رکا۔ یہاں جو کچھ دیکھا اور جن سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک مسٹر پی سی حجاج (67838,68982 .Tel) تھے۔ وہ ۱۹۴۷ میں پاکستان سے انڈیا آئے اور پانی پت میں اپنا کاروبار قائم کیا۔ وہ پانی پت میں ہینڈلوم کا ایک بڑا کارخانہ چلاتے ہیں۔ شوروم اور ان کا آفس اتنا بڑا ہے کہ وہ خود ایک دنیا معلوم ہوتا ہے۔
مسٹر بجاج کو ان کے شاندار آفس میں دیکھ کر ایک عام آدمی سمجھے گا کہ وہ بہت خوش قسمت مگر ان کی اس خوش قسمتی کا راز یہ نہیں ہے کہ وہ چاندی کا چمچہ اپنے منہ میں لے کر پیدا ہوئے یا ان کے نام کوئی بڑی لاٹری کھل گئی۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز پچاس سال کی مسلسل محنت اس وقت ان کی عمر ۶۷ سال ہے مگر آج بھی وہ رات اور دن کے درمیان تقریباً ۱۸ گھنٹہ اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ آپ ان سے کسی بھی وقت ملیں، وہ آپ کو ہر وقت خوش اور تروتازہ دکھائی دیں گے، وہ اپنی تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ سوشل کاموں کے لئے بھی پابندی کے ساتھ وقت نکالتے ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا پیغام ہے کہ محنت کرو اور با اصول زندگی گزارو، تم یقیناً کامیاب رہو گے۔
پانی پت اگر چہ کرنال کا ایک قصبہ ہے مگر وہ خود ایک شہر کے مانند ہے۔ مزید یہ کہ اس کی تاریخی حیثیت بہت زیادہ ہے۔ ۱۸۶۷ میں پانی پت میں میونسپلٹی کا قیام عمل میں آیا۔ پانی پت میں کئی اچھے تعلیمی ادارے ہیں۔ یہاں اون اور سوت کے بہت سے کارخانے ہیں جو پاور لوم سے چلتے
پانی پت میں تین بڑی لڑائیاں ہوئیں۔ یہاں تک کہ تاریخ کی کتابوں میں پانی پت کی جنگیں (Battle of Panipat) ایک مستقل عنوان بن گیا ۔ یہاں ہونے والی ۳ بڑی جنگوں کی تفصیل یہ ہے۔
پہلی جنگ وہ ہے جو ۲۱ اپریل ۱۵۲۶ کو لڑی گئی۔ یہ جنگ مغل سردار بابر، کابل کا حکمراں، اور دہلی کے سلطان ابراہیم لودی کے درمیان ہوئی۔ اگر چہ ابراہیم لودی کی فوج کی تعداد بہت زیادہ تھی مگر بابر کی انتہائی منظم فوج کے مقابلہ میں اس کو شکست ہوئی۔ ابراہیم لودی خود بھی اس جنگ میں مارا گیا۔ یہی جنگ برصغیر ہند میں مغل سلطنت کا آغاز بنی۔
دوسری جنگ ۵ نومبر ۱۵۵۶ کو ہوئی ۔ یہ جنگ شہنشاہ اکبر کے اتالیق سردار بیرم خاں اور عادل شاہ سوری کے سپہ سالار ہیمو بقال کے درمیان لڑی گئی۔ ہیمو بقال کے پاس ایک لاکھ سپاہی تھے
اور مغل فوج کی تعداد ۲۰ ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ لیکن بالآخر ہیم و گرفتار ہوا اور اس کی فوج تتتر بتر ہوگئی۔ پانی پت کی تیسری جنگ جنوری ۱۷۶۱ء میں لڑی گئی۔ یہ جنگ مراٹھا کمانڈر سداشیو بھاؤ اور احمد شاہ ابدالی کے درمیان ہوئی. مراٹھ مہ فوج کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی اور شاہ ابدالی کے پاس تقریباً چالیس ہزار سوار اور تقریباً ۴۰ ہزار پیادہ سپاہی تھے۔ آخر کار مراٹھوں کو مکمل شکست ہوئی۔ مراٹھوں کی شکست کا ایک خاص سبب یہ تھا کہ اس کے سردار سداشیو بھاؤ نے غیر منصوبہ بند انداز میں فوج کی تعداد بہت بڑھالی جب کہ اتنی بڑی تعداد کے لئے کھانے پینے کا معقول انتظام موجود نہ تھا۔
اس معاملہ کا ایک سبق آموز پہلو یہ ہے کہ احمد شاہ ابدالی کی بظاہر کامیابی کا فائدہ تمام تر انگریزوں کو ملا۔ خود احمد شاہ ابدالی کو اپنے فوجیوں کے اصرار کی بنا پر ہندوستان سے واپس جانا پڑا۔ دوسری طرف مراٹھوں کا زور ٹوٹ جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں کو کسی بڑی مزاحمت کے بغیر انڈیا میں اپنا قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ اس کے بعد لمبی مدت تک اس علاقہ سے سیاسی استحکام ختم ہوگیا۔ اس سیاسی انارکی نے انگریزوں کے لئے کامیابی کا راستہ ہموار کر دیا:
This began 40 years of anarchy in north-west India and cleared the way for later British supremacy. شری پیارے لال (کرنال) کا ایک پیپر یہاں کے سیمین میں پڑھا گیا۔ اس تقریر میں انہوں نے وحدت ادیان کے نظریہ کو پیش کیا تھا۔ میں نے تجربہ کیا ہے کہ جو لوگ وحدت ادیان کی بات کرتے ہیں وہ ہمیشہ بیانیہ انداز میں بولتے ہیں۔ کسی دلیل کے بغیر بیانیہ انداز میں اپنی بات کہتے چلے جاتے ان کی تقریر و تحریر میں نہ کوئی دلیل ہوتی ہے اور نہ کوئی علمی تجزیہ۔ مذکورہ پیپر کا بھی یہی حال تھا۔ کچھ اشعار اور کچھ تمثیلیں، بس اسی پر سارا مضمون تیار کیا گیا تھا۔
پیپر میں قرآن کی ایک آیت کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔ وہ آیت یہ ہے: و كان الله بكل شيئ محيطا (النساء (۱۰۸) اس آیت سے انہوں نے ہمہ اوست (monism) کا نظریہ نکالا تھا، حالانکہ اس آیت کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے، اس آیت میں اللہ کی
قدرت کا ہر چیز میں چھایا ہوا ہونا بتایا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر چیز اللہ کی ذات یا اس کے وجود کا حصہ ہے۔
یہ کوئی دلیل نہیں بلکہ محض لفظی تک بندی ہے۔ بدقسمتی سے اس قسم کی لفظی تک بندی ہر مذہبی گروہ اور ہر مذہبی فرقہ میں رائج ہے۔ خود مسلمانوں میں بھی اکثر فرقے اور گروہ اسی قسم کی کمزور دلیلوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ لفظی تک بندی کو عملی دلیل کا درجہ دئے ہوئے ہیں۔
موجودہ زمانہ سائنسی استدلال کا زمانہ ہے۔ آج مبنی بر عقل دلیل (reason-based argument) کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ مگر میرے علم کے مطابق، کسی بھی مذہبی گروہ میں اس قسم کا استدلالی طریقہ موجود نہیں۔ اسلام مکمل طور پر ایک علمی و عقلی مذہب ہے مگر موجودہ زمانہ میں مجھے کوئی بھی مسلم مقرر یا محرر دکھائی نہیں دیتا جس نے حقیقی معنوں میں سائنسی استدلال کے اصول پر اپنے فکر کو پیش کیا ہو ۔
ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان سے نکلا۔ جنت کی قیمت عمل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمل کی کوئی بھی مقدار جنت کی قیمت نہیں بن سکتی۔ جنت کا استحقاق صرف ایک چیز ہے، اور وہ سوال جنت صرف ان انسانوں کے لئے ہے جو حقیقی طور پر یہ کہہ سکیں: اللهم انا نسألك الجنة و نعوذ بك من النار ۔ عمل بھی اسی لئے ہے کہ آدمی کو حقیقی معنوں میں سائل بنا سکے۔ آدمی کے اندر اس پیغمبرانہ سوال کی اسپرٹ جگائے وہی عمل ہے اور جو عمل یہ اسپرٹ نہ جگائے وہ عمل بھی حقیقی عمل نہیں۔
سوال کیا ہے۔ سوال دراصل رب العالمين کی کامل قدرت کے مقابلہ میں اپنے کامل عجز کا اعتراف کرنا ہے۔ سچا سوال ہمیشہ احساس عجز سے ابھرتا ہے نہ کہ احساس عمل سے۔ ایک مجلس میں مجھ سے کہا گیا کہ قرآن کی کوئی آیت ہم کو بتائیے جس میں ہمارے لئے کوئی میں نے یہ آیت پڑھی: لا تؤتوا السفهاء أموالكم (النساء ۵) یعنی تم نادانوں کو اپنے مال نہ دو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مال کو ٹھیک طور پر سنبھالنے کے لئے عقل اور شعور کی ضرورت
اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں کو مالدار بنانے سے پہلے انہیں
میں نے کہا کہ اس کی ایک قریبی مثال پنجاب ہے۔ ۱۹۷ کے بعد پنجاب میں لوگوں کے پاس کثرت سے مال آگیا۔ مگر تعلیم میں کمی کی بنا پر وہ زیادہ باشعور نہ تھے چنانچہ کچھ نادان لیڈروں کے بہکاوے کے نتیجہ میں وہاں متشددانہ انداز میں علیحدگی کی تحریک چل پڑی۔ اس کے انتہائی غیر حقیقت پسندانہ سیاست کا نتیجہ صرف جان و مال کی تباہی کی صورت میں برآمد ہوا۔
میں نے کہا کہ پنجاب میں جو لوگ اعلیٰ تعلیم پائے ہوئے تھے۔ وہ اس تحریک کی غلطی کو اچھی طرح سمجھتے تھے، مثال کے طور پر ڈاکٹر مہندر سنگھ۔ اگر پنجاب میں ڈاکٹر مہندر سنگھ جیسے تعلیم یافتہ لوگ ہوتے تو کبھی اس قسم کی جذباتی تحریک وہاں نہ پھیلتی۔ مگر پنجاب میں جس نسبت سے مال آیا اسی نسبت سے وہاں تعلیم نہ اس غیر مناسب ترقی نے وہاں علیحدگی پسندی کو فروغ دیا۔ اس تباہ کن تحریک کو کچلنے میں صرف نئی دہلی کا جو خرچ ہوا اس کی مقدار ایک سو کروڑ روپیہ تھی۔ دوسرے نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔ پانی پت میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نو جوان مسٹر چودھری سے ملاقات ہوئی۔ واپسی میں وہ گاڑی میں ہمارے ساتھ دہلی تک آئے۔ ان کا خاندان ۱۹۷ میں پاکستان سے یہاں آگیا تھا۔ میں یہ لوگ جس بستی میں رہتے تھے وہاں کے مسلمانوں سے اب بھی ان کے اچھے تعلقات ہیں اور وہ جب بھی ہندوستان آتے ہیں تو ان سے ضرور ملتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال میں ان کا ایک مسلمان دوست پاکستان سے آیا اور پانی پت میں کچھ وقت ان کے ساتھ رہا۔ اس مسلمان نے ایک روز بے تکلفی کے انداز میں کہا کہ ”یار، ہمارے اور تمہارے درمیان کیا فرق ہے۔ سارا جھگڑا صرف نام ہی کا تو ہے اپنا نام بدل لو اور پاکستان آجاؤ۔ میں نے سوچا کہ دو قومی تحریک کا یہ یک قومی انجام کیسا عجیب ہے۔ ۲۷ مئی ۲۰۰۰ کی رات کو ہم لوگ دہلی واپس پہنچے۔
ہندوستان کے مسلم رہنماؤں اور جماعتوں کے قائدین سے سوالات سوال نامہ برائے اردو نیوز (جدہ)
(۱) آزادی کے ۵۳ سال گزر جانے کے بعد بھی مسلمانانِ ہند یکسو نہیں ہیں، انہیں ہمیشہ مسائل درپیش رہے ہیں، آج بھی وہ مختلف النوع مسائل ومشکلات سے دوچار ہیں، آپ کے نزدیک اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ (۲) اتحادِ ملت کے لئے وقتاً فوقتاً کوششیں کی جاتی ہیں مگر خاطر خواہ نتائج برآمد کیوں نہیں ہوتے، آپ کے خیال میں اتحاد ملت کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں کیا ہیں؟
(۳) ملت کے مشترک مسائل پر غور و خوض کر کے ان کے حل ڈھونڈنے کے لئے کیا مسلم مجلس مشاورت اور ملی کونسل کافی ہیں یا کوئی نیا پلیٹ فارم وجود میں آنا چاہئے؟
(۴) ہندوستانی مسلمانوں کو یوں تو فسادات او تعلیم وروزگار کے میدانوں میں پسماندگی جیسے مسائل ہمیشہ درپیش رہے اور آج بھی بڑی حد تک درپیش ہیں، لیکن ہمارا احساس ہے کہ فی زمانہ سب سے بڑا اور اہم مسئلہ ہندوستانی مسلمانوں کی دینی شناخت کا ہے۔ اگر آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں تو اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟ (۵) آپ (کی جماعت یا تنظیم) کے پاس ملتِ اسلامیہ کی فلاح و بہبود اور اس کی تعمیر و ترقی کے لئے کیا
(۶) تعلیم اور روزگار کے میدان میں کی جانے والی کوششوں کو آپ کافی سمجھتے ہیں یا کچھ مزید چاہتے ہیں؟ (۷) عالمِ اسلام کی موجودہ صورت حال کے بارے میں آپ کے احساسات کیا ہیں؟
(۸) مسئلہ فلسطین حل بالخصوص شیلم اور مسجد اقصیٰ کی بازیابی کے لئے آپ کے خیال میں کیا کیا جانا چاہئے؟ (۹) حکومتِ ہند اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ (۱۰) سنا ہے نئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ میں ایف بی آئی (فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن) نے اپنا دفتر کھول لیا ہے جس کا واحد مقصد اسلامی دہشت گردی کی روک تھام بتایا گیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ (۱۱) کیا آپ چاہیں گے کہ مسلم ممالک اور ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان باقاعدہ رابطہ کی کوئی شکل پیدا کی جائے اور اس چکر کو ہندوستان مسلم ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے؟