اردو نیوز (جدہ) کے سوال نامہ کا جواب
Al-Risala, November 2000, pp. 33–35
By Maulana Wahiduddin Khan
مسائل استثنائی طور پر مسلمانان ہند کی زندگی کا حصہ نہیں ہیں بلکہ وہ انسانی زندگی کا عمومی حصہ ان کا سامنا معتدل انداز میں کرنا چاہئے۔ میرے نزدیک اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانانِ ہند کو غیر ضروری طور پر یہ یقین دلایا جائے کہ تم اپنے ملک میں مسائل کا شکار ہو رہے ہو۔ سے زبان و قلم کے حاملین نے مسلمانوں کو اسی فرضی اندیشہ میں مبتلا کیا۔ اس بنا پر ہندوستانی مسلمانوں کا ردِّ عمل اس ملک میں غیر معتدل ہو گیا۔ کامیابی کا راز حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کرنا ہے۔ مگر مذکورہ غلط سوچ کی بنا پر مسلمان ماضی میں ایسا نہ کر سکے۔ حالانکہ یہی ہندوستانی مسلمان جب باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو وہاں وہ مکمل طور پر مقامی حالات کی رعایت کرتے ہوئے عمل کرتے ہیں، اور کامیاب رہتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی انہیں یہی حقیقت پسندانہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔
۲| اتحادِ ملت کی رکاوٹ اتحاد کا غلط فارمولا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اختلاف کو ختم کرو تا کہ اتحاد قائم مگر یہ ایک غیر فطری بات ہے۔ اتحاد کا صحیح فارمولا یہ ہے کہ اختلاف کو برداشت کرو تا کہ اتحاد قائم ہو۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے سے اتحاد قائم ہوتا ہے نہ کہ اختلاف کو مٹانے کیوں کہ اختلاف کو مٹانا تو عملاً ممکن ہی نہیں۔ مزید یہ کہ اختلاف کوئی برائی (evil) نہیں۔ بلکہ وہ عین رحمت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف ذہنی ارتقاء کا واحد ذریعہ ہے۔ رائے نہ ہو تو ذہنی ارتقاء کا عمل رک جائے گا۔ ایسی حالت میں اصل کام یہ ہے کہ اختلاف اور تنقید کے معاملہ میں لوگوں کی غیر ضروری حساسیت کو ختم کیا جائے نہ کہ لا حاصل طور پر خود اختلاف کو مٹانے کی کوشش کی جائے۔
۳| مسلم مجلس مشاورت اور ملی کونسل، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی دوسری تحریکوں کی طرح، صرف ردِ عمل کی تحریکیں ہیں، وہ کسی مثبت فکر یا ایجابی نظریہ کے تحت وجود میں نہیں آئیں۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں صرف وہ تحریک کامیاب ہوتی ہے جو حالات کے مثبت
جواب (positive response) کے طور پر وجود میں آئے، نہ کہ حالات کے منفی جواب (negative response) کے طور پر۔ اور یہ تحریکیں یقینی طور پر اس معیار پر پوری نہیں
فساد، تعلیم، بے روزگاری اور دینی شناخت کے مسائل حقیقی سے زیادہ فرضی ہیں۔ مسئلہ برصغیر ہند کے مسلمانوں کے بے برداشت مزاج کی وجہ سے ایک سنگین مسئلہ بن گیا۔ طرح تعلیمی پس ماندگی کا مسئلہ اس لئے پیدا ہوا کہ مسلمانوں کو تعلیم کے بجائے غیر ضروری سیاسی مسائل میں الجھا دیا گیا۔ بے روزگاری کے مسئلہ کا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کو محنت کا سبق دینے کے بجائے بے نتیجہ طور پر رزرولوشن کا سبق دیا گیا۔ اسی طرح دینی شناخت کے مسئلہ کی حیثیت بھی ایک فرضی خطرہ کی ہے۔ ہندوستان میں اس وقت جتنا زیادہ دینی کام ہو رہا ہے وہ کسی بھی دوسرے ملک میں نہیں ہو رہا ہے، حتی کہ مسلم ملکوں میں بھی نہیں۔ مذہبی آزادی دورِ جدید کا ایک مسلمہ اصول ہے، ایسی حالت میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت کے لئے کسی خارجی خطرہ کا کوئی امکان ہی نہیں۔
ہم اپنا کام اسلامی سنٹر اور الرسالہ مشن کے تحت کر رہے ہیں۔ ہماری تشخیص کے مطابق تمام مسائل کی جڑ صحیح طرز فکر کا فقدان ہے، اس لئے ہم اپنی تمام کوشش مسلمانوں کے اندر فکری بیداری اور شعوری تعمیر پر لگائے ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ مسلمانوں کا تعلق غیر مسلموں سے داعی اور مدعو کا تعلق ہے نہ کہ حریف اور رقیب کا۔ موجودہ زمانہ میں ”غلط رہنمائی کے نتیجہ میں“ مسلمانوں کا تعلق غیر مسلموں سے رقابت کی بنیاد پر قائم ہو گیا جو دعوتی عمل میں ایک سنگین ہم مسلمانوں کے اندر دوبارہ دعوتی شعور کو زندہ کر رہے ہیں۔ ہماری یہ کوشش ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان معتدل فضا قائم ہوتا کہ دعوتی عمل دوبارہ موثر انداز میں جاری ہو سکے۔
تعلیم اور روزگار کے میدان میں اب ہندوستانی مسلمانوں کے اندر ایک نمایاں تغیر (sea change) آچکا ہے۔ آج کا ہندوستانی مسلمان ان دونوں میدانوں میں اتنی تیزی سے آگے
بڑھ رہا ہے کہ بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں ہندوستانی مسلمان تمام مسلم ملکوں سے آگے بڑھ جائیں گے۔ جہاں تک عالمِ اسلام کی موجودہ صورت حال کا تعلق ہے، وہ بظاہر کوئی روشن تصویر پیش نہیں کرتے۔ اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مسلم دنیا کے مسلمانوں میں پر شور تحریکوں کے باوجود، ابھی تک اس چیز کا فقدان ہے جس کو سمت کا شعور (sense of direction) کہا جا سکتا ہے۔
۷| فلسطین کے مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ ۱۹۴۸ سے لے کر اب تک اس معاملہ میں جو کچھ کیا گیا وہ سب جذباتی رد عمل کے تحت کیا گیا نہ کہ کسی سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت۔ اس مسئلہ کے حل کا آغاز یہ ہے کہ اس غلطی کی اصلاح کی جائے۔ اس اصلاح کی پہلی علامت یہ ہوگی کہ اس موضوع پر جذباتی تقریر اور متشددانہ طریقہ کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور کامل یکسوئی کے ساتھ پر امن طریقہ کار کو اختیار کیا جائے۔
۸| حکومتِ ہند اور اسرائیل کے تعلقات کی نوعیت میرے نزدیک کوئی غیر معمولی چیز نہیں۔ انٹرسٹ کا معاملہ ہے جو ہر ایک کے ہاں پایا جاتا ہے۔ امریکہ کھلے طور پر اسرائیل نواز ہے۔ کے باوجود اکثر عرب ممالک اس سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ نیز تقریباً ۸ ملین مسلمان اسی اسرائیل نواز امریکہ میں آباد ہو کر اس کی قومی مشین کا پرزہ بنے ہوئے ہیں۔ پھر ایک کے بارے میں احتجاج اور دوسرے کے بارے میں خاموشی کا کیا جواز۔
۹| ’’اسلامی جہاد‘‘ کے نام پر جب امریکہ کے مفادات کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو ہر ملک اسی طرح اپنے تحفظ کی تدبیر کرے گا، خواہ وہ امریکہ ہو یا کوئی دوسرا مسلم یا غیر مسلم ملک۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ان لوگوں کو نصیحت کی جائے جو اسلام کے نام سے غلط طور پر تشدد کا کلچر چلا رہے ہیں نہ کہ
۱۰| ہندوستانی مسلمان اور مسلم ممالک کے درمیان مذہبی روابط ہمیشہ سے موجود ہیں اور آئندہ بھی باقی مگر ایسا تعلق جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سیاسی نوعیت رکھتا ہو، وہ نہ پہلے مفید تھا اور نہ آئندہ مفید ہو سکتا ہے۔ (۱۲ اگست، ۲۰۰۰)