Japan is the jewel of Asia.
Al-Risala, November 2000, pp. 36–39
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے جواب میں جاپانی وزیراعظم نے ہندوستانی ماہرین کو جاپان آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جاپان میں ایک کہاوت ہے کہ اگر ہیرے کی پالش نہ کی جائے تو اس میں چمک نہیں آئے ہیرے کے لئے ضروری ہے کہ اس پر پالش کی جائے۔
In Japan, there is a saying that if the jewel is not polished, it will not shine. It is necessary for the jewel to be polished. اس مثال میں دیکھئے۔ جاپانی وزیراعظم اگر اپنے اندر فخر پسندی کا مزاج لئے ہوئے ہوتے تو وہ مسٹر نرائن مورتی کے جواب میں پر فخر انداز میں کہتے کہ آپ کے اس اعتراف کا شکریہ۔ جاپان کا قومی مزاج تواضع پسندی کا مزاج ہے۔ اسی مزاج کی بنا پر جاپانی وزیراعظم کی زبان سے
فخریہ الفاظ کے بجائے منکسرانہ الفاظ نکلے۔
زاویہ نظر (attitude of mind) کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے سائنٹفک طرزِ خیال (scientific attitude)، اور دوسرا ہے متعصبانہ طرزِ خیال (biased attitude)۔ سائنٹفک طرزِ خیال یہ ہے کہ آدمی کے ذہن پر کسی غیر متعلق چیز کا غلبہ نہ ہو، وہ خالص حقائق کی روشنی میں اپنی رائے قائم کرے۔ وہ اپنی ذات کو الگ کر کے بے لاگ طور پر حقیقتوں کو دیکھ سکے۔ برعکس متعصبانہ طرزِ فکر یہ ہے کہ آدمی کا ذہن ایک متاثر ذہن ہو۔ وہ اس ذہنی کمزوری میں مبتلا ہو جائے جس کو پیشگی طور پر اچھا یا برا خیال رکھنا (preoccupation) کہا جاتا ہے۔ اس فرق کو دوسرے لفظوں میں حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic approach) اور غیر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (un-realistic approach) کہہ سکتے ہیں۔
عربی کا ایک مقولہ ہے کہ کسی چیز کی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے (حبک الشئ یعمی و يصم)۔ یہی بات برعکس طور پر بھی درست ہے۔ یعنی کسی چیز سے بغض آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے (بغضک الشئ يعمی و يصم)۔
میں سمجھتا ہوں کہ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا معاملہ، دونوں ہی معاملہ میں آدمی کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اس پر ہے کہ اس کے اندر صحیح طرزِ فکر پایا جائے۔ غلط طرزِ فکر اگر جزئی طور پر ہو تب بھی وہ آدمی کے لئے ہلاکت کا سبب بن جائے گا۔
طرزِ فکر کا نادرست ہونا کوئی سادہ بات نہیں، وہ نہایت سنگین بات ہے۔ جو لوگ اس کمزوری میں مبتلا ہوں، ان کا نقطہ نظر اور طریق عمل دونوں غلط ہو کر رہ جائیں گے، ایسے لوگ، حدیث کے الفاظ میں، پہلے قول زور کا شکار ہوں گے اور اس کے بعد عمل زور کا شکار۔ مزید یہ کہ حقائق کی اس دنیا میں چونکہ غیر حقیقی نقطہ نظر قابل عمل نہیں، اس لئے حالات کے دباؤ کے تحت آخر کار وہ دہرا معیار (ڈبل اسٹینڈرڈ) کا شکار ہو جائیں گے جس کا دوسرا نام منافقت ہے۔ یہاں میں اس معاملہ کی کچھ مثالیں نقل کروں گا۔
دہلی میں ایک بدنام ہندی اخبار ہے۔ وہ ہر ایک کے بارے میں الٹی باتیں چھاپتا رہتا اس نے ہندوستان کی ایک اسلامی جماعت کے بارے میں چھاپا کہ وہ پاکستان کی ایجنٹ ہے۔ جماعت کے لوگوں نے جب اس کو پڑھا تو ایسا نہیں ہوا کہ وہ اس کو صحیح مان کر اس کی عمومی تشہیر کرنے بلکہ اس کو دیکھتے ہی انہوں نے کہہ دیا کہ یہ بالکل غلط ہے۔ اس کے برعکس اسی اخبار میں میرے بارے میں ایک بے ہودہ رپورٹ چھپی تو اس جماعت کے لوگوں نے فوراً اس کو صحیح مان کر اس کو ہر طرف پھیلانا شروع کر دیا۔
اس دہرا روش کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہی تھا کہ یہ لوگ متعصبانہ طرز فکر میں جی رہے تھے۔ اپنے بارے میں متعصبانہ محبت اور دوسرے کے بارے میں متعصبانہ بغض۔ اس کا نقصان انہیں یہ اٹھانا پڑا کہ وہ دہرا طرز فکر کی برائی میں مبتلا ہو گئے۔ اپنے معاملہ میں ان کے سوچنے کا طریقہ کچھ تھا اور دوسرے کے معاملہ میں ان کے سوچنے کا طریقہ کچھ اور۔
اس معاملہ کی دوسری مثال یہ ہے کہ پچھلے تقریباً دو سو سال کے درمیان ہر ملک کے مسلم رہنماؤں کی سوچ کم و بیش ایک ہی چیز کا غلبہ رہا ہے، اور وہ مغربی استعمار (colonialism) کا مسئلہ اس مسئلہ کو اتنا زیادہ بڑھایا گیا کہ موجودہ زمانہ میں پیدا ہونے والا تمام مسلم لٹریچر مغرب کی نفرت سے بھر گیا۔ مغربی قو میں اسلام دشمن ہیں، مغربی قو میں اسلام کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ یہ تصور دور جدید کی پوری مسلم نسل پر چھا گیا۔
یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ نقطہ نظر تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جن مسائل کا شکار ہوئے ان کا سبب تمام تر خود مسلمانوں کا داخلی زوال تھا۔ مگر مذکورہ منفی ذہن کی بنا پر دنیا بھر کے مسلم مقررین اور محررین نے یہ کیا کہ مسلمانوں کے تمام مسائل و مصائب کو مغربی استعمار کے خانہ میں ڈال دیا۔ ذہن اتنا زیادہ بڑھا کہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ مغربی قوموں سے مسلمانوں کا رشتہ عداوت اور مقاطعہ کا ہونا چاہئے نہ کہ محبت اور تعلق کا۔
ایک اور پہلو سے دیکھے تو یہ سارا معاملہ زاویہ نظر (angle of vision) کا نظر آتا ہے۔
کسی چیز کو دیکھنے کے کئی رخ ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک چیز کو اس کے صحیح رخ سے دیکھیں تو اس کے بارے میں آپ کی جو رائے بنے گی وہ درست رائے ہوگی۔ اس کے برعکس اگر اس چیز کو غلط رخ سے دیکھا جائے تو آپ کی رائے اس کے بارے میں بالکل غلط ہو جائے گی۔
اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ ۱۹۷ سے پہلے پنڈت جواہر لال نہرو کی ایک کتاب چھپی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ برٹش ایمپائر نے ہندوستان میں جو ریلوے لائن بچھائی ہے وہ ریلوے لائن نہیں ہے بلکہ وہ لوہے کی زنجیریں ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ ان میں ہندوستان کو ہمیشہ کے لئے جکڑ دیا جائے۔ زاویۂ نظر کے فرق کی بنا پر رائے کے مختلف ہونے کی یہ بڑی عجیب مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں جو ریلوے لائن بچھائی گئی وہ ملک کے لئے ایک عظیم نعمت تھی۔ ہمارے ملک میں پہلی بار سواری اور بار برداری کو انتہائی آسان بنا دیا۔ حتیٰ کہ یہی ریلوے لائنیں تھیں جس کے اوپر نہر و اور دوسرے لیڈروں نے سوار ہو کر آزادی کی تحریک سارے ملک میں پھیلا دی۔ اب اگر جواہر لال نہرو اس زاویۂ نظر سے ریلوے لائن کو دیکھتے تو وہ اس کو ملک کے حق میں ایک نعمت بتاتے مگر انہوں نے ریلوے لائن کو بالکل مختلف زاویۂ نظر سے دیکھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ قیمتی ریلوے لائن ان کو غلامی کی آہنی زنجیر دکھائی دینے لگی۔
اس غیر حقیقت پسندانہ طرز فکر کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ پوری مسلم نسل دہرا معیار (ڈبل اسٹینڈرڈ) کا شکار ہو کر رہ گئی۔ چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک طرف اپنے سابقہ فکری تسلط (obsession) کی بنا پر اپنی تقریر اور تحریر میں برطانیہ اور امریکہ کو ہمیشہ برا کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی ایسا نہ کہے تو فوراً اس کو اسلام دشمنوں کا ایجنٹ قرار دے دیتے ہیں۔ مگر انہی مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ پہلا موقع ملتے ہی وہ اپنی اولاد کو اور اپنے رشتہ دار کو برطانیہ اور امریکہ بھیج دیتے ہیں تا کہ وہ ان ”اسلام دشمن“ طاقتوں کی مشین کے پرزے بن سکیں، صرف اس قیمت پر کہ وہاں ان کو مادی اعتبار سے زیادہ بہتر زندگی حاصل ہو جائے گی۔
دہلی، ۲۶ اگست ۲۰۰۰ دعا گو وحید الدین