Al-Risala · December 2000
لہجے میں نرمی اور اپنائیت
Al-Risala, December 2000, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کے اندر جو فطرت ہے وہ عبادت کی فطرت ہے ۔ آدمی کا پورا وجود عبادت کا طالب ہے۔ لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر نماز پڑھنے کا جذبہ لیے ہوئے ہے۔ ہر آدمی کا پورا جسم اور اس کے تمام اعضا نماز کی صورت میں ڈھل جانے کا خاموش داعیہ لیے ہوئے ہیں۔ اب جب ایک آدمی کسی نمازی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کا پورا وجود کہ اٹھتا ہے کہ یہی وہ عمل ہے جس کی طلب وہ اپنے اندر لیے ہوئے تھا۔ نماز اس کو خود اپنی تلاش کا جواب معلوم ہونے لگتی ہے ۔ اس کی فطرت کی یہ تڑپ اس کو مجبور کرتی ہے اور وہ نمازیوں کے ساتھ نماز میں جھک جاتا ہے ۔