نماز کا حکم قرآن میں
Al-Risala, December 2000, pp. 7–9
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں نماز کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: إن الصلوة كانت على المؤمنين كتاباً موقوتاً (النساء ۱۰۳) یعنی بے شک نماز اہل ایمان پر مقررہ وقتوں کے ساتھ فرض ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کا بھی اسی طرح مقرر وقت ہے جس طرح حج کا مقرر وقت ہے۔ کہ نماز کا ایک وقت جب گزر جاتا ہے تو اس کے بعد اس کا دوسرا وقت آتا ہے اور اس طرح رات اور دن کے درمیان اس کی یہ ترتیب مسلسل جاری رہتی ہے (تفسیر ابن کثیر ۱/ ۵۳۹) اب سوال یہ ہے کہ نماز کے یہ مقررہ اوقات کیا ہیں۔ قرآن کے مطالعہ سے واضح طور پر اس کے پانچ اوقات معلوم ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو پانچ اوقات حدیث سے معلوم ہوتے ہیں، ٹھیک وہی اوقات خود قرآن سے بھی ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں: سورج نکلنے سے پہلے (قبل طلوع الشمس، طه ۱۳۰) فجر دوپہر ڈھلنے کے وقت (لدلوك الشمس، بنی اسرائیل ۷۸) ظہر غروب آفتاب سے پہلے (قبل غروبها، طه ۱۳۰) عصر جب شام ہوتی ہے (حين تمسون، الروم ۱۷) مغرب جب رات تاریک ہو جائے (الی غسق الليل، بنی اسرائیل ۷۸) عشاء
اس طرح قرآن سے پانچ نمازیں مع تعئین اوقات ثابت ہو جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ قرآن میں ایسی آیت بھی موجود ہے جس سے صرف استنباط کے طور پر نہیں بلکہ صراحت کے ساتھ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوپر جو نمازیں فرض کی ہیں وہ محمد و طور پر پانچ ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے: حافظوا علی الصلوات والصلوة الوسطیٰ (البقرہ ۲۳۸) یعنی پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی۔
جملہ کی ترتیب بتا رہی ہے کہ اس آیت میں صلوۃ وسطیٰ کا لفظ جس نماز کے لئے آیا ہے وہ صلوات سے علیحدہ ایک نماز ہے۔ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ ”نمازوں“ کی پابندی کرو اور اسی کے ساتھ اُس نماز کی جس کا وقت ”نمازوں“ کے بیچ میں آتا ہے۔ صلوات جمع کا لفظ ہے جو عربی قواعد کے مطابق تین یا اس سے زیادہ نمازوں کے لئے ہے۔ استعمال بتاتا ہے کہ یہاں اس سے تین سے زیادہ نمازیں مراد لینا ضروری ہے۔ کیوں کہ تین کے عدد میں کوئی چوتھی چیز رکھی جائے تو وہ اس کا ”بیچ“ نہیں بن سکتی۔ کم از کم عدد جو یہاں صلوات سے مراد ہو سکتا ہے وہ چار چار کا عدد لینے کی صورت ہی میں یہ ممکن ہے کہ ایک اور نماز اس میں اس طرح شامل کی جائے کہ وہ اس کا بیچ بن جائے۔ گویا صلوٰۃ وسطیٰ وہ بیچ کی نماز ہے جس کے دونوں طرف دو دو باعتبار مفہوم آیت کا ترجمہ یہ ہوگا ـ ”بیچ کی نماز کی پابندی کرو اور بیچ کی نماز سے پہلے دو نمازوں کی اور بیچ کی نماز کے بعد دو نمازوں کی۔ “ اس سے صاف طور پر یہ نظام معلوم ہوتا ہے کہ رات میں دو نمازیں مقرر کی گئی ہیں اور پھر دن میں دو نمازیں ۔ اور ان کے بیچ میں ایک نماز ہے۔ رات کی دو نمازوں سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔ دن کی دو نمازوں سے مراد فجر اور ظہر اور بیچ کی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس طرح کل پانچ نمازیں ہو ملاحظہ ہو نقشہ ذیل :
دن کی دو نمازیں
رات کی دو نمازیں پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو اس نماز کی جو نمازوں کے بیچ میں ہے (قرآن)
مذکورہ آیت کی یہ تشریح صحابہ اور تابعین سے بھی ثابت ہے، مثال کے طور پر مسند احمد اور سنن ابی داؤد کی روایت کے مطابق حضرت زید ابن ثابت انصاریؓ نے کہا کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے مراد بیچ کی نماز ہے جس کے اول بھی دو نمازیں ہیں اور اس کے بعد بھی دو نمازیں ہیں (إن قبلها صلاتين و بعدها صلاتين) تفسیر ابن کثیر ا/ ۲۹۰۔
اسی طرح نحاس تابعی کا قول ہے کہ الصلوٰۃ الوسطیٰ سے مراد عصر ہے۔ کیوں کہ اس سے پہلے دن کی دو نمازیں ہیں، اور اس کے بعد رات کی دو نمازیں ہیں، انها العصر ، لأن قبلها صلاتي نهار و بعدها صلاتي ليل (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، ۳/ ۲۱۰)۔ میں سے ایک نماز کو بیچ کی نماز ، الصلوٰۃ الوسطیٰ کہنا لازمی طور پر نماز کے متعدد ہونے کو ثابت کرتا ہے اور آیت کے الفاظ کے مطابق جب اس تعدد کو متعین کیا جائے تو لازمی طور پر وہ پانچ کا عدد بنتا پانچ سے کم کا عدد دینے کی صورت میں آیت کی تشریح ممکن نہیں۔
نماز کی اصل اللہ کی یاد ہے۔ مگر اس کا نظام ایسی حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ زندگی کے تمام تقاضے نہایت جامعیت کے ساتھ اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ نماز اتحاد اور اجتماعیت کا وہ بندے کو اپنے رب سے جوڑتی ہے۔ وہ ہمارے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی وہ ہمارے اوقات کو منظم کرتی ہے۔ وہ ہلکی جسمانی ورزش کا فائدہ دیتی ہے۔ وہ بار بار ہماری صفائی کرتی رہتی ہے ، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز ہر قسم کی روحانی اور جسمانی برکتوں کا مجموعہ مسلمان اگر حقیقی شعور کے ساتھ نماز پر قائم ہو جائیں تو ان کی دنیا بدل جائے اور وہی ان کے تمام مسائل کے حل کے لئے کافی ہو جائے۔
پانچ نمازیں اہل ایمان کے لئے نظام الاوقات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس میں یہ سبق ہے کہ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اپنے کاموں کو پانچ حصوں میں منظم کر لیں۔ یعنی کچھ کام فجر اور ظہر کے درمیان اور کچھ کام ظہر اور عصر کے درمیان اور کچھ کام عصر اور مغرب کے درمیان اور کچھ کام عشاء اور فجر کے درمیان۔