Al-Risala · December 2000

نماز کی حقیقت

Al-Risala, December 2000, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ عصر کی نماز تھی ۔ امام نے نماز پوری کر کے سلام پھیرا ، تھوڑی دیر بیٹھے اور اس کے بعد دعا کر کے اٹھ گئے ۔ ایک مقتدی نے امام صاحب کو روکا ۔ اور تضحیک کے انداز میں بولے : " عصر کی نیت کی تھی یا ظہر کی ۔ " یہ سن کر تمام نمازی ہنس پڑے جو پہلے ہی سے امام صاحب کو عجیب معنی خیز نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔

میں نے مذکورہ مقتدی سے پوچھا کہ کیا بات ہے ۔ انھوں نے جواب دیا کہ " عصر کے وقت تسبیح (فاطمہ) پڑھی جاتی ہے ۔ مگر امام صاحب نے تسبیح پڑھے بغیر دعا کر لی اور اٹھ گئے یہ خیریت یہ ہے کہ امام صاحب نے کسی قسم کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ خاموشی کے ساتھ اپنے حجرہ میں چلے گیے۔ اگر انھوں نے کوئی تیز جواب دیا ہوتا تو یقیناً بات بڑھتی اور زبانی تنقید باقاعدہ ہاتھا پائی میں تبدیل ہو جاتی۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان آج کل نماز کا کیا حال ہے۔ نماز کو صرف اس کے ڈھانچے کے اعتبار سے جانتے ہیں ۔ فرق اگر ہے تو صرف یہ کہ کچھ لوگ "مسنون" ڈھانچہ کو نماز سمجھے ہوئے ہیں اور کچھ لوگوں نے مبتدعانہ طور پر اس میں کچھ غیر مسنون چیزوں کا اضافہ کر لیا ہے۔ نماز کا بلاشبہ ایک ڈھانچہ ہے ۔ مگر نماز کی اصل حقیقت اس کی اندرونی اسپرٹ ہے، اور یہ اندرونی اسپرٹ خشوع ہے۔ حتیٰ کہ اگر کسی کی نماز میں ظاہری ڈھانچہ ہو مگر اس میں خشوع کی کیفیت نہ پائی جائے تو ایسی نماز حدیث کے مطابق نماز ہی نہیں (لا صلوة لمن لم يتخشع) ڈھانچہ والی نماز اور خشوع والی نماز کی ایک پہچان یہ ہے کہ جو آدمی ڈھانچہ والی نماز پڑھے، اس کی نظر دوسرے کی نماز پر ہوتی ہے ۔ اور جو آدمی خشوع والی نماز پڑھے اس کی نظر اپنی نماز پر ۔ پہلی قسم کا آدمی دوسروں کی نماز میں "ٹکنکل" خامی نکال کر ان کے خلاف تقریر کرے گا۔ اور دوسری قسم کا آدمی خود اپنی نماز کی کمیوں کو سوچ کر چپ رہے گا۔ وہ اپنے احتساب میں اتنا زیادہ مشغول ہوگا کہ اس کو یہ فرصت ہی نہ ہوگی کہ وہ دوسروں کی نماز پر تبصرہ کرے۔

نماز اللہ کی یاد کا نام ہے ، اور اللہ کی یاد کسی آدمی کے اندر جو کیفیت پیدا کرتی ہے اسی کو خشوع کہا گیا ہے۔

رب کے پاس اس حال میں پہنچتا ہے کہ وہ بالکل پاک صاف ہوتا ہے اور اس کو جنت میں داخل کر دیا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پانی سے ہاتھ پاؤں کو دھونا اپنے آپ آدمی کو گناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔ خطا اور گناہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قلبی اعمال ہیں۔ ان کا تعلق آدمی کی نیت اور ارادہ سے ہے۔ اس لیے وہ اسی وقت دھل سکتے ہیں جب کہ آدمی کا قلب دھل جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی روایتیں اس انسان کے لیے ہیں جس کا جسمانی وضو اس کے لیے روحانی وضو بن جائے۔ جو وضو کا عمل اس طرح کرے کہ اسی کے ساتھ اس کا قلب اور ذہن بھی دھلتا چلا جائے، جس کی نفسیات اس کے وضو میں شامل ہو گئی ہو۔ ایک شخص جس کے دل میں اللہ کا خوف اور آخرت کا فکر سمایا ہوا ہو، وہ جب وضو کرتا ہے تو اس کے اندرونی احساسات کے اثر سے اس کا وضو کا عمل ایک ربانی عمل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کا مادی عمل اس کی روحانی کیفیات کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ وضو کے ظاہری عمل میں مشغول ہوتے ہیں اور اس کا ذہن دعا اور ذکر کے باطنی عمل میں۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا! ہاتھ اور پاؤں اور چہرے کو آپ نے آج کے دن پانی سے دھویا ہے، اس کو کل کے دن اپنی رحمت سے دھو دیجیے۔ جس جسم کو آپ نے دنیا میں مادی اعتبار سے پاک کیا ہے، اس کو قیامت کے دن اپنی رحمت اور مغفرت کے نورانی غسل سے پاک کر دیجیے۔

جب ظاہری وضو کے ساتھ یہ باطنی وضو مل جائے تو یہی وہ وضو ہے جس کے بعد آدمی کے لیے جنت کے سب دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اس سے کہہ دیا جاتا ہے کہ تم جس دروازہ سے چاہو داخل ہو جاؤ۔

جسمانی وضو جسم کی پاکی ہے، اور روحانی وضو روح کی پاکی۔

Printed page