Al-Risala · December 2000

اللہ کے لئے جھکنے والے

Al-Risala, December 2000, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے گا اور لوگ سجدہ کے لئے بلائے جائیں گے تو وہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے جو اللہ کے سچے بندے نہ بنے تھے۔ ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت چھارہی ہوگی۔ یہ حال ان لوگوں کا ہوگا جن کو دنیا میں سجدہ کے لئے بلایا جاتا تھا مگر وہ سجدہ نہ کرتے تھے (قلم ۴۳) قیامت میں انسان کو جور سوائی اور عذاب ہوگا اس کی سب سے بھیانک صورت وہ ہوگی جب کہ مالک کائنات اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ وہ خدا جس نے ہم کو پیدا کیا، جس کے کھلانے سے ہم کھاتے ہیں اور جس کے چلانے سے ہم چلتے ہیں جس نے ہم کو وہ سب کچھ دیا ہے جو ہمارے پاس ہے۔ عظیم اور محسن خدا بے پردہ انسان کے سامنے ہوگا۔ ایک طرف انسان ہوگا جس کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ دوسری طرف خدا ہو گا جس کے پاس ساری طاقتیں ہیں۔ انسان کا عجز اور خدا کی قدرت دونوں اپنی کامل صورت میں سامنے ہوں گی۔ اس وقت انسان چاہے گا کہ خدا کی عظمت و جلال کے آگے جھک جائے مگر وہ جھک نہ سکے گا۔ وہ چاہے گا کہ اس کی خدائی کے آگے اپنی بندگی کا اظہار کرے مگر وہ اس اظہار پر قادر نہ ہوگا حتیٰ کہ اپنے آقا اور محسن کے لئے حمد کے کلمات ادا کرنے سے بھی اس کی زبان گونگی ہو جائے گی۔ ایک طرف اللہ کے سچے بندے اپنے رب کے آگے اپنے کو ڈال کر حقیقت کا اعتراف کر رہے ہوں گے۔ دوسری طرف وہ ذلت ورسوائی کا مجسمہ بنا ہوا کھڑا ہوگا۔ یہ ایسا ہولناک لمحہ ہوگا کہ انسان چاہے گا کہ کاش زمین پھٹ پڑے اور وہ اس کے اندر دھنس جائے۔ اس سے بڑی ذلت اور کیا ہو سکتی ہے کہ بندہ اپنے خالق اور مالک کے سامنے ہو مگر وہ اس کے آگے اپنی بندگی کا اقرار نہ کر سکے۔ واضح ہو کہ یہ حال صرف معروف قسم کے کافروں یا بے نمازیوں کا نہ ہوگا بلکہ ان لوگوں کا بھی ہوگا جو محض ظاہری سجدہ کرتے تھے، ان کی روح اللہ کے لئے ساجد نہیں بنی تھی۔ جنہوں نے وہ سجدہ نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بندہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دے۔ وہ بہر تن اس کے آگے جھک جائے۔ بخاری نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :

یکشف ربنا عن ساقہ فیسجد لہ کل مومن و اللہ قیامت کے دن اپنے آپ کو ظاہر کرے گا۔ اس وقت مومن مرد مومنۃ ويبقى من كان يسجد في الدنياء و سمعة اور عورتیں اللہ کے لئے سجدہ میں گر جائیں گے مگر جو شخص دنیا میں فيذهب ليسجد فيعود ظهره طبقا واحدا دکھانے اور سنانے کے لئے سجدہ کرتا تھا وہ سجدہ میں جانا چاہے گا (تفسیر ابن کثیر) مگر سجدہ نہ کر سکے گا اس کی پیٹھ اکڑ جائے گی۔

زندگی میں بار بار وہ لمحہ آتا ہے جب کہ ایک طرف آدمی کی انا ہوتی ہے اور دوسری طرف اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ پر جو شخص انانیت کا راستہ اختیار کرے اور اللہ کے حکم کے آگے نہ جھکے اس نے اللہ کو سجدہ نہیں کیا۔ اگر وہ متعین اوقات میں بظاہر سجدہ کر رہا ہو تب بھی حقیقت کے اعتبار سے وہ سجدہ نہ کرنے والوں میں شامل ہے۔ اس نے ایسا سجدہ کیا ہے جو دنیا میں دیکھنے اور سننے والوں کو تو سجدہ معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی نظر میں وہ سجدہ نہیں۔ ایسے تمام لوگ آخرت میں اس اصلی حالت میں نمایاں ہو جائیں گے جہاں وہ باعتبار حقیقت دنیا میں تھے۔ دنیا میں ان کے سامنے اللہ کا حکم آیا مگر انھوں نے اس کو نظر انداز کیا۔

میں وہ وقت آیا جب کہ ان کو اللہ کے خوف سے جھک جانا چاہئے تھا مگر اس وقت انھوں نے سرکشی دکھائی۔ دنیا میں انہوں نے اس حق کا انکار کیا جو اللہ نے اپنی سنت کے تحت اپنے ایک بندے کی زبان پر جاری کیا تھا۔ وہ اپنے عزت و وقار اور اپنے دنیوی مفاد کو سنبھالنے میں مشغول رہے ۔ ایسے لوگ گویا اسی دنیا میں سجدہ کے وقت سجدہ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کی سہی حالت آخرت میں کھل کر سامنے آجائے گی۔ دنیا میں ان کے دکھانے اور سنانے والے سجدے آخرت کے حقیقی عالم میں ان کے کسی کام نہ آئیں گے ۔ میں اللہ کے آگے جھکنا کسی انسان کے لئے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اس اعلیٰ اعزاز کے حق دار وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا ہو کہ وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔

عبادت خانہ میں آدمی اللہ کے سامنے جو ” سجدہ “ کرتا ہے وہ باعتبارِ ظاہر اقرارِ سجدہ ہے نہ کہ ثبوتِ سجدہ ۔ عبادت کے وقت سجدہ کر کے یہ اقرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کے آگے جھکنے والا ہے مگر اس اقرار کا ثبوت اس کو بندوں کے ساتھ معاملات میں دینا ہے۔ بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں جب تک وہ ” جھکنے “ کا رویہ اختیار نہ کرے اس کا اقرار بے ثبوت رہتا ہے اور بے ثبوت اقرار کی کوئی قیمت اللہ کے یہاں نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : اللہ وہ نہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑ دے اس حالت پر جس پر کہ تم ہو جب تک وہ جدا نہ کر دے ناپاک کو پاک سے ( آل عمران ( ۱۷۹ ) گویا ایمان قبول کر کے آدمی ”نماز روزہ “ کی جو عام زندگی اختیار کرتا ہے اسی سے اس کے لئے جنت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ بلکہ لازماً اس کو جانچا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس کا نماز روزہ حقیقی نماز روزہ ہے یا ” دیکھنے اور سننے والا “ نماز روزہ ہے۔ یہ جانچ کہاں ہوتی ہے۔ کہ خدا خود سامنے آنا نہ خدا کے فرشتے کوئی قلب نما آلہ لے کر آسمان سے اترتے ۔ یہ جانچ انسان اور انسان کے معاملات میں ہوتی ہے ، آدمی نماز کے ذریعہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے جھک جانے والا ہے۔ روزہ کے ذریعہ وہ اقرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کے ڈر سے اس کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دینے والا ہے۔ اس اقرار کا اعلیٰ امتحان انسانی تعلقات میں ہوتا ہے۔ انسان اور انسان کے درمیان بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک حق کا معاملہ آجاتا ہے۔ وہاں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی حق کے آگے جھک جائے ۔ خواہ یہ جھکنا بظاہر ایک کمزور انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔ ایسے موقع پر آدمی اگر جھک جائے تو گویا وہ اللہ کے آگے عملی طور پر جھک گیا ۔ اس نے نماز میں کئے ہوئے اپنے اقرار سجدہ کو سچائی ثابت کیا۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ایک حق کا معاملہ ہو بظاہر کسی انسان کی نسبت سے پیش آیا ہے اس کو وہ محض انسان کا معاملہ سمجھ لے اور عزت و وقار کا خیال اس کو سرکشی پر آمادہ کر دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جانچ کے وقت وہ اللہ کے آگے نہیں جھکا ، اس نے اپنے اقرار سجدہ کا عملی ثبوت نہیں دیا۔ اسی طرح انسان اور انسان کے درمیان معاملات میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ جائز اور ناجائز کے مسائل سامنے آجاتے ہیں۔ معاملہ کرتے ہوئے اس کے لئے ایک ردِ ظلم کا رویہ ہوتا ہے اور دوسرا انصاف کا رویہ ۔ ایسے موقع پر آدمی اگر خدا کے منع کئے ہوئے طریقہ سے رک جائے اور اپنے کو صحیح اور منصفانہ رویہ کا پابند بنائے تو اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ روزہ رکھ کر اس نے اطاعتِ الہی کا جو اقرار کیا تھا اس کو اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا۔ اس نے اپنے اقرار روزہ کا اعلیٰ ثبوت دے دیا۔ اس کے برعکس اگر معاملہ کا وقت اس پر مفاد اور مصلحت کا خیال آجاۓ ، وہ انصاف کے طریقہ کو چھوڑ کر ظلم اور بے راہ روی کا طریقہ اپنائے تو گویا اس نے خدا کی اطاعت نہیں کی ۔ اس نے اپنے اقرار روزہ کا عملی ثبوت نہیں دیا۔

بندہ کو اپنے رب کے سامنے جو "سجدہ" کرنا ہے اس کے تین خاص مواقع ہیں۔ ایک موقع وہ ہے جس کو اعتراف حق کہا جا سکتا ہے۔ اللہ اپنے کسی بندے کی زبان سے جب حق کا اعلان کرائے تو لوگوں کے اوپر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اس پر بلیک کہیں ۔ اپنے رب کی آواز کو پہچانیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیں۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو ان کی مثال اس بد قسمت بچہ کی ہوگی جو اپنے مہربان باپ کو دیکھنے کے لئے اندھا ہو جائے اور اس کی آواز کو سننے کے لئے اپنے کان کو بہرا کر لے۔ خدا کی آواز اگرچہ ایک انسان کی زبان سے بلند ہوتی ہے مگر وہ ایک ایسی آواز ہوتی ہے جس کی تصدیق سارے زمین و آسمان کر رہے ہوتے ہیں اور آدمی کی اپنی فطرت پوری طرح جس کا ساتھ دے رہی ہوتی ہے۔ ایسی آواز کے آگے نہ جھکنا اتنا بڑا انکار سجدہ ہے جس کے بعد ظاہری سجدوں کی کوئی سجدہ کے جانچ کا دوسرا میدان اللہ کی راہ میں قربانی ہے۔ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ وقت کے تمام ذرائع اور وسائل کو استعمال کر کے اس کا دین لوگوں تک پہنچایا جائے۔ دین کی اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کا ممکن انتظام کیا جائے۔ مخالفین اگر خدا کے دین کو دبانا چاہیں تو اللہ کے وفادار بندے کھڑے ہو کر دین کی طرف سے دفاع کریں خواہ اس راہ میں ان کو اپنا سب کچھ لٹانا پڑے۔ یہ دین کے لئے قربانی کے مواقع ہیں۔ جو لوگ ان مواقع پر اپنے جان و مال کو پیش کریں وہ جانچ میں پورے اترے اور جو لوگ اپنے جان و مال کو دین کی ضرورتوں میں نہ دیں وہ جانچ میں نا کام ہو گئے۔ "سجدہ" کے امتحان کا تیسرا میدان روز مرہ کے انسانی تعلقات ہیں۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان معاملہ کرتے ہوئے جب بھی ایسا ہو کہ دو قسم کا رویہ سامنے آجائے ۔ ایک وہ ہو جس کا حکم اللہ نے دیا ہے، دوسرا وہ ہو جو اپنے جی کی خواہش کے مطابق ہے۔ اس وقت جو شخص اللہ کے حکم کے آگے جھک گیا وہ اللہ کے آگے سجدہ کرنے والا بنا اور جو شخص اپنے جی کی خواہش پر چلا اس نے گویا سجدہ سے انکار کر دیا۔ نماز میں رکوع کے لئے جھکنا اور سجدہ کے لئے گر پڑنا اگر حقیقی معنوں میں جھکنا اور گر پڑنا ہو تو مسجد کا سجدہ اور مسجد کے باہر کا سجدہ ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتے ۔ بلکہ دونوں ایک ہی واقعہ کی دو مختلف صورتیں بن جاتی ہیں اسی طرح روزہ میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑنا اگر سچے شعور اور جذبہ کے ساتھ ہو تو رمضان کے مہینے میں خدا کی ممنوعات کو چھوڑنا اور اس کے بعد زندگی کے معاملات میں خدا کی ممنوعات کو چھوڑنا دو الگ الگ چیزیں نہیں رہتیں ۔ بلکہ ایک ہی تصویر کے دور رخ بن جاتے ہیں ۔ جو شخص اس طرح سجدہ کرنے والا اور اس طرح روزہ رکھنے والا بن جائے وہ اللہ کی یاد میں جینے لگتا ہے، وہ آخرت کی فضاؤں میں سانس لینے لگتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے اللہ کے داعی کو پہچان کر اس کا اعتراف کر لینا یا اللہ کے دین کے لئے قربانی دینا ایسا ہی بن جاتا ہے جیسے کسی شخص کا اپنے محبوب بیٹے کو پہچاننا اور اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر دینا۔

آخرت کا دن سچائی کے اعتراف کا دن ہے ، اس دن وہی لوگ سچائی کے اعتراف کی توفیق پائیں گے جنہوں نے دنیا میں سچائی کے اعتراف کا ثبوت دیا ہو۔ آخرت کا دن مالک کائنات کے آگے جھکنے کا دن ہے ، اس دن وہی لوگ مالک کائنات کے آگے جھکنے کے اہل ہوں گے جو دنیا کے معاملات میں اس کے آگے جھکنے والے بنے ہوں ۔ آخرت کا دن اللہ کی رحمتوں میں شامل ہونے کا اس دن وہی لوگ اللہ کی نعمتوں میں شامل ہوں گے جنھوں نے اس وقت اللہ کی پکار پر لبیک کہا ہو جب کہ اللہ ابھی پردہ غیب میں ہے۔ آخرت کا دن وہ دن ہے جب کہ اللہ اپنی تمام نعمتیں اپنے بندوں پر انڈیل دے گا ، ایسے انعام میں حصہ پانے والا وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے دنیا میں اپنے تمام اثاثہ کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ہو۔

Printed page