مسجد اور نماز
Al-Risala, December 2000, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت انس رض کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ مسجدوں پر فخر کریں گے مگر اس کو (ذکر و نماز سے) بہت کم آباد کریں گے (يأتي على امتى زمان يتباهون بالمساجد ثم لا يعمرونها الا قليلا) فتح الباری ۶۳۲/۱ حضرت انسؓ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر کرنے لگیں (لا تقوم الساعة حتى يتباهى الناس فی المساجد) سنن ابی داود ۱۲۰/۱ اس طرح کی روایتیں دراصل دورِ زوال کے مظاہر کو بتاتی ہیں۔ جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ روح ختم ہو جاتی ہے، اور ظاہری چیزوں کی دھوم بڑھ جاتی ہے۔ میں لوگ مسجدوں کی کثرت کا پر جوش طور پر چرچا کرتے ہیں۔ وہ مسجد کی شاندار تعمیرات پر فخر کرتے وہ اپنی قومی عظمت کو مساجد کے در و دیوار میں نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں لوگ صرف ظاہر کو جانتے ہیں، اس لیے ان کے پاس عمارتکی عظمت کے سوا کوئی اور عظمت نہیں ہوتی جس میں وہ اپنے کو برتر محسوس کر سکیں۔
مگر جب لوگوں میں دین کی روح زندہ ہو تو ان کی نظر میں در و دیوار کی کوئی اہمیت نہیں معمولی طور پر بنی ہوئی مسجدوں میں نماز پڑھ کر ان کو اور زیادہ سکون ملتا ہے۔ ان کو ایسی مسجدیں پسند آتی ہیں، جہاں روشنیوں کا انتظام نہ ہو، کیوں کہ وہاں توجہ الی اللہ میں ان کے لیے کوئی چیز حارج نہیں نرم قالینوں پر سجدہ کرنے کے بجائے انھیں مٹی کے فرش پر اپنی پیشانی رکھنا زیادہ محبوب ہوتا ہے، کیوں کہ یہ ان کے عاجزانہ سجدہ کے زیادہ حسب حال ہوتا ہے۔
در و دیوار کی عظمتیں ان لوگوں کے لیے خلل اندازی کا باعث ہونے لگتی ہیں جو اللہ کی عظمت و کبریائی میں کچھ لمحے گزارنے کے لیے مسجد میں آتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے اور ان کے رب کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ ہو، اس لیے وہ سادہ مسجدوں کو اپنے لیے پسند کرتے ہیں نہ کہ چمک دمک والی مسجدوں کو۔