دعا کب قبول ہوتی ہے
Al-Risala, December 2000, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں مختلف مقامات پر دعا کی حقیقت بتائی گئی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا ہے:
ادعوا ربکم تضرعا و خفیة انه لا یحب | پکارو اپنے رب کو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے۔ المعتدین ولا تفسدوا فی الارض بعد | یقیناً وہ پسند نہیں کرتا حد سے نکل جانے والوں کو۔ اصلاحها و ادعوه خوفا و طمعا ان رحمت | مت خرابی مچاؤ زمین میں اس کی درستی کے بعد۔ اللہ قریب من المحسنين | اس کو ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے۔ (اعراف ۵۶-۵۵) | کی رحمت قریب ہے نیکی کرنے والوں سے۔
اس موقع پر احسان کا مطلب ہے دعا کے موافق عمل کرنا۔ دوسری جگہ یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے: ومن احسن قولا ممن دعا الی الله وعمل صالحا | اور کون شخص ہے بہتر بات میں اس شخص سے کہ پکارے وقال اننی مسلمین حم سجدہ ۳۳ | اللہ کی طرف اور صالح عمل کرے اور کہے کہ میں حکم بردار ہوں دعا کیا ہے۔ بندے کا اعتراف عجز اپنے رب کے سامنے۔ جب ایک شخص اللہ پر اس حد تک یقین اور بھروسہ کر لیتا ہے کہ اس کی ساری امیدیں بس ایک اللہ سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور سے نہ اس کو پانے کی امید ہوتی ہے اور نہ چھینے کا اندیشہ۔ اس وقت اس کی زبان سے جو بنیا بانہ کلمات نکل پڑتے ہیں، اسی کا نام دعا ہے بندہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ کی سپردگی میں دے دیتا ہے اور کہہ اٹھتا ہے کہ میرے رب! رحمتوں کے سایہ میں لے لے ۔ تیرے سوا کوئی کسی کو بچا نہیں سکتا۔ تیرے سوا کوئی کسی کو سایہ نہیں دے سکتا۔ دعا کے یہ الفاظ اللہ کی نظر میں اسی وقت دعا ہیں جب کہ عمل صالح (دعا کے موافق عمل) سے اس کی تصدیق ہو رہی ہو۔ آدمی اپنے رب سے اپنے لئے جس رحمت اور عفو و درگزر کا طالب ہے۔ دوسرے انسانوں کے ساتھ رحمت اور عفو و درگزر کا ہی طریقہ اختیار کرنا زمین کی اصلاح ہے۔ اور جب ایسا ہو کہ آدمی اپنے لئے تو رحمت اور عفو و درگزر کا امید دار ہو اور خود دوسرے انسانوں کے ساتھ سرکشی اور بے پروائی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کا نام زمین میں فساد برپا کرنا اللہ کے سامنے حد بندگی میں ہونے کا اقرار کرنا اور دنیا کی زندگی میں جب دوسرے انسانوں سے عملی سابقہ پیش آئے تو حد بندگی سے نکل جانا ایسا تضاد ہے جو ایک طرف زمین کو فساد سے بھر دیتا ہے اور دوسری طرف آدمی کی دعا کو اللہ کی نظر میں بالکل بے معنی بنا دیتا ہے۔ آدمی اپنی دعا کو اللہ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مگر اس بات کا ثبوت اس کو انسانی تعلقات ہی میں دینا ہے کہ وہ اپنی دعا میں محسن ہے یا نہیں۔ جو شخص انسانی تعلقات میں اپنی دعائیہ حیثیت کو بھول جائے اس کی مثال ایسے آدمی کی ہے جس نے زبان سے بڑے بڑے دعوے کئے مگر جب اس کا امتحان لیا گیا تو وہ صفر سے زیادہ نمبر حاصل نہ کر سکا۔
آپ اپنے رب سے امیدوار ہیں کہ وہ آپ کی کوتاہیوں کو نہ دیکھے بلکہ اپنی شان کریمی کے تحت آپ سے اگر آپ فی الواقع اس پکار میں سچے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ دنیا کی زندگی میں جب آپ کا معاملہ ایسے شخص سے پڑے جس کے اوپر آپ قابو یافتہ ہوں تو آپ کو اللہ کے مقابلہ میں اپنی بے بسی یاد آ جائے اور آپ اس کی کوتاہیوں سے درگزر کریں۔ آپ کو اللہ کے عذاب کا ڈر ہے۔ آپ اس کی پکڑ سے بچنے کے لئے اس سے دعا کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ جب کوئی انسان آپ کی گرفت میں آ جائے تو آپ اس کے ساتھ غصہ اور انتقام کے تحت کارروائی نہ کریں بلکہ فیاضی اور حسن سلوک کے ساتھ معاملہ کر کے اللہ سے کہیں کہ خدایا تو بھی مجھ سے فیاضی کا معاملہ فرما۔ آپ اللہ کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنی عاجزی کا اعتراف کر رہے ہیں، اس اعتراف میں آپ اس وقت سنجیدہ ہیں جب کہ آپ کا یہ حال ہو کہ آپ ایک انسان پر قدرت پالیں اور اس پر اپنی کبریائی کا مظاہرہ کر سکتے ہوں مگر اس وقت آپ کو اللہ کے مقابلہ میں اپنی عاجزانہ حیثیت یاد آ جائے اور آپ اپنے رب سے یہ کہتے ہوئے اس شخص کو چھوڑ دیں کہ خدایا میں نے اس سے درگزر کیا تو بھی مجھ سے درگزر فرما۔ اس کے برعکس اگر آپ کا حال یہ ہو کہ آپ اللہ کے سامنے عاجزی کے کلمات دہرائیں اور اس کے بعد بندوں کے ساتھ گھمنڈ اور سرکشی کا طریقہ اختیار کریں۔ اللہ سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگیں اور اپنے بھائی کی خطائیں معاف کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ اللہ سے امیدوار ہوں کہ وہ آپ کی حاجتیں پوری کرے اور آپ کا سابقہ جب کسی دوسرے محتاج انسان سے پڑے تو اس کی حاجت پوری کرنے کا کوئی جذبہ آپ کے اندر نہ ابھرے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دعا کے ساتھ عمل صالح (دعا کے موافق عمل نہیں کر رہے ہیں۔ آپ اپنی دعا میں محسن نہیں ہیں۔ ایسی دعا کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ ایسی دعا حقیقتاً دعا نہیں بلکہ سوا نگ ہے اور سو انگ کسی شخص کو سنرا کا مستحق بناتا ہے نہ کہ انعام کا۔
دعا کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ برکت والے الفاظ ہیں، ان کو رٹ کر صحبت ادا کے ساتھ دہرادو اور پھر ان کے جادوئی اثرات ظاہر ہونے لگیں گے۔ خدا اور بندے کا معاملہ اس قسم کا مشینی معاملہ نہیں ہے۔ خدا الفاظ کو نہیں خود آپ کی ہستی کو دیکھتا ہے۔ خدا کو وہ کلمات درکار ہیں جو آدمی کی اپنی پکار بن کر نکلے ہوں۔ جو اس واقعہ کا ایک نظری اظہار ہوں کہ بندہ صرف ایک اللہ سے ڈرتا ہے اور صرف اسی سے امید رکھتا ہے۔ اس کے احساسات اپنے رب سے اس طرح وابستہ ہو گئے ہیں کہ ہر آن وہ اس سے مصروفِ کلام رہتا ہے، کبھی دل سے اور کبھی زبان سے۔ دعا در اصل پگھلے ہوئے دل کا بیتابانہ طور پر باہر نکل آنا ہے۔ جب کوئی بندہ اس معنی میں دعا کرنے والا بن جائے تو اس کا پورا وجود دعا میں ڈھل جاتا ہے۔ دعا کے الفاظ اور اس کی ہستی الگ الگ نہیں رہتے۔ وہ اندر سے بھی وہی ہوتا ہے جو بظاہر دعائیں دکھائی اس کی دعا جس طرح خدا کے سامنے اس کے سوال کا مظہر ہوتی ہے اسی طرح وہ بندوں کے مقابلہ میں اس کے کردار کو بتاتی ہے۔ یہ ایک ہی حقیقت ہے جو خدا کے سامنے تضرع کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور بندوں کے مقابلہ میں تواضع اور عدم استکبار کی صورت میں۔