Al-Risala · December 2000

فاقہ نہیں

Al-Risala, December 2000, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۵ جنوری ۱۹۹۷ء کو دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں روزہ پر ایک اجتماع تھا۔ پر جناب سید حامد صاحب نے کہا کہ ایک بار دہلی میں ایک جلسہ تھا جس میں مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ایک تقریر ڈاکٹر تارا چند کی بھی تھی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ سال کا پورا ایک مہینہ روزہ میں بتانے کا جو طریقہ مسلمانوں میں ہے اس کے بارہ میں مسلمانوں کو نظرثانی کرنا چاہیے۔ یہ اپنی کارکردگی کو گھٹانے کے ہم معنیٰ ہے۔ یہ طریقہ مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔

میں نے اپنی تقریر میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر معقول اعتراض ہے۔ علمی حیثیت سے اس کے اندر کوئی وزن نہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ یہ روزہ کوئی فاقہ کشی (starvation) نہیں ہے۔ روزہ دار ایک مہینہ کے دوران صرف یہ کرتا ہے کہ وہ دن میں نہ کھا کر رات کو کھاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بعض فرقے ایسے ہیں جو ۲۴ گھنٹہ میں صرف ایک بار کھاتے ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے ہر قسم کی ترقیاں حاصل کی ہیں۔ پھر ایک مہینہ کے لیے دن کے بجائے رات کو کھانا کیوں ترقی میں رکاوٹ بن جائے گا۔

روزہ دراصل اپنی غذائی عادتوں (food habits) پر کنٹرول کرنے کا نام ہے۔ ایک لفظ میں غذائی تنظیم (regulated eating) کہہ سکتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ جسمانی صحت کے لیے بہترین طریقہ ہے۔ منضبط انداز میں خوراک لینے والے ہمیشہ صحت مند رہتے ہیں اور زیادہ کام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس غیرمنظم خوراک لینے والے لوگ اپنی صحت کو خراب کر لیتے ہیں اور نتیجۂ اپنی کارکردگی کی مقدار کو بھی گھٹا لیتے ہیں۔

ماہ رمضان کے روزہ کا مطلب شاید مذکورہ قسم کے لوگ یہ لے لیتے ہیں کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک مہینہ تک مسلسل کھانا اور پینا چھوڑ کر فاقہ کی زندگی گزاریں۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ اسلامی حکم کا مطلب صرف یہ ہے کہ عام حالت میں اگر لوگ دن کو کھاتے ہیں اور رات کو نہیں کھاتے

تو رمضان میں ایک مہینے کے لیے وہ اس ترتیب کو بدل دیں۔ یعنی دن میں نہ کھا کر رات کے اوقات میں کھائیں ۔ روٹین میں اس قسم کی تبدیلی جسمانی اعتبار سے بھی مفید ہے اور روحانی اعتبار سے بھی۔

ماہِ رمضان کے روزہ کے بارہ میں یہ اصولی اور نظریاتی بات تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اصولی اور نظریاتی اعتبار سے ماہِ رمضان کے روزہ کے بارہ میں مذکورہ قسم کا اعتراض بالکل بے بنیاد ہے۔ اس کے حق میں کوئی واقعی دلیل موجود نہیں۔

مگر یہ صرف اصول اور نظریے کی بات نہیں۔ عملی واقعات بھی اس کو بالکل بے بنیاد ثابت کر رہے ہیں۔ عملی واقعات سے میری مراد (روزہ داروں) کی تاریخ ہے مسلمان پچھلے چودہ سو سال سے سال میں ایک مہینہ روزہ رکھتے چلے آرہے ہیں۔ مگر تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ اس روزہ نے کسی بھی درجہ میں ان کو کمزور نہیں کیا۔

اسلام کے دور اول میں اصحابِ رسول کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تھی ۔ یہ سب کے سب روزہ دار تھے ، مگر انھوں نے تاریخ کا اہم ترین انقلاب برپا کیا۔ یہ اصحاب رسول روزہ دار قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں عرب قبائل ، رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر سب کے سب غیر روزہ دار لوگ تھے۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آیا۔ ہے کہ غیر روزہ داروں کے اوپر روزہ دار قوم نے کھلی فتح حاصل کی ۔

اس کے بعد روزہ دار مسلمانوں نے بڑے بڑے معرکے سر کیے ، اور وقت کی سب سے بڑی سلطنت قائم کی۔ ایک شاعر نے بجا طور پر کہا ہے کہ :

Printed page