ایک کتاب
Al-Risala, February 2000
By Maulana Wahiduddin Khan
راج موہن گاندھی مشہور ہندوستانی اسکالر ہیں۔ ان کی ایک کتاب ۱۹۹۹ میں پنگوئن بکس نے شائع کی ہے۔ ۴۶۰ صفحہ کی اس کتاب کا نام" انتقام اور مصالحت" (Revenge and کتاب میں جنوبی ایشیا کی تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں اسلام کی تاریخ بھی شامل ہے۔
اس کتاب میں مسلم حکمرانوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ گیارہویں صدی میں مسلم حکمران اسلام کا جھنڈا لے کر ہندوستان میں داخل ہوئے۔ راستہ میں جو ملا اس کو انھوں نے قتل کر دیا، بے شمار بتوں کو توڑ ڈالا، ہیرے جواہرات کو لوٹا۔ ان کے ہاتھ سے تلوار کبھی جدا نہ ہوتی تھی (صفحہ کتاب کتاب میں کثرت سے اس طرح کی باتیں درج کی گئی ہیں جب کہ ان کا کوئی مستند تاریخی حوالہ اس سلسلہ میں مصنف کی دلیل کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ہر مسلماں رگ باطل کے لئے نشتر تھا۔ یہ بات خدا کی طرف سے اقبال نے اپنی نظم جواب شکوہ میں کہی ہے، جو کہ جنوبی ایشیا کے سب سے مشہور جدید مسلم شاعر تھے۔ ساختہ مذہبی فریضہ یا دعوت حق کے معاملہ میں ان کا رد عمل متشددانہ تھا، قول اور عمل دونوں اعتبار سے:
"To every vein of falsehood, every Muslim was a knife". This is God speaking in Jawab-e-Shikwa ('Reply to the Complaint'), composed by one of south Asia's most famous modern poet, Iqbal. To a presumed religious duty or the call of truth, the response, whether in deed or verse, was violent. (p. 68). مذکورہ کتاب ایک تاریخی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ اس میں اقبال کے شعر کا حوالہ نہایت عجیب
کسی تاریخی بیان کو مستند تاریخ پر مبنی ہوناچاہیے نہ کہ کسی شاعر کے شعر پر۔ اقبال کا مذکورہ مصرعہ یقینی طور پر ایک شاعرانہ تخیل ہے، اس کا اسلام کی حقیقی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن راج موہن گاندھی نے اس شعر کی بنیاد پر تاریخ کے بارے میں ایک سنگین نظریہ قائم کر لیا۔ یہ بات علمی اعتبار سے سخت قابل اعتراض ہے۔ تاہم یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس غلط تصویر کشی کے زیادہ ذمہ دار اقبال ہیں یا راج موہن گاندھی۔
کچھ مسلم بادشاہوں نے اپنے سیاسی مقصد کے لئے بعض سخت کارروائیاں ضرور کی ہیں مگر ان کا جنر لائزیشن یقینی طور پر درست نہیں ۔ اس معاملہ میں مصنف کے خلاف بدگمانی اس وقت کم ہو جاتی ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے اگر چہ مسلم بادشاہوں کے رول کے بارے میں سخت قسم کے منفی تاثر کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انھوں نے مسلم صوفیاء کے مثبت رول کو بہت زیادہ سراہا ہے۔ حتی کہ صوفیاء کا یہ کارنامہ بھی انھیں قابل اعتراض نظر نہیں آتا کہ انھوں نے لاکھوں ہندوؤں کو مسلمان بنایا (صفحہ ۷۵)
مصنف کے بارے میں تعصب کا شبہہ اس وقت اور کم ہو جاتا ہے جب ہم کتاب کا وہ حصہ پڑھتے ہیں جس میں ہند و عہد کا ذکر ہے۔ ہندو عہد کے بارے میں انھوں نے اس سے بھی زیادہ سخت تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ مثلاً وہ مہا بھارت کے عہد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: مہا بھارت کے زمانہ میں انتقامی کارروائیاں عام تھیں اور عفو و درگزر کی حیثیت اتفاقی تھی۔ کہنے کے لئے اگر چہ عفو و درگزر کی بات کہی جاتی تھی مگر عمل زیادہ تر انتقامی ہوتا تھا:
In the Mahabharta, revenge is a fact, reconciliation a fancy; forgiveness is preached, vengeance practised. (p. 16)
کسی کتاب کا معاملہ ہو یا کسی تاریخ کا معاملہ، کوئی رائے قائم کرنے کے لئے ہمیشہ اس کے پورے مجموعہ کو دیکھنا پڑتا ہے۔ کسی جزء کو دیکھ کر رائے قائم کرنا یا اس کو جنرلائز کر دینا علم کے خلاف بھی ہے اور دیانت داری کے خلاف بھی۔
اس سلسلہ میں ایک اور قابل اعتراض بات علامہ اقبال کے اردو شعر کا انگریزی ترجمہ ہے۔ اقبال کے شعر کے الفاظ یہ تھے: ہر مسلمان رگ باطل کے لئے نشتر تھا۔ اس شعر میں نشتر کے لفظ کا انگریزی ترجمہ نائف (knife) کیا گیا ہے جو کہ درست نہیں۔ یہ ترجمہ مشہور انگریزی رائٹر مسٹر خوشونت سنگھ نے کیا ہے۔ خوشونت سنگھ انگریزی کے اچھے ادیب ہونے کے ساتھ اردو زبان سے بھی مگر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ انھوں نے اس معاملہ میں یہ غلطی کیوں کی۔ اقبال کے شعر میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ ' نشتر' ہے۔ اس کا ترجمہ مسٹر خوشونت سنگھ نے نائف کیا ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے سے بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ نائف کا لفظ انگریزی میں اس کاٹنے والے آلہ کے لئے بولا جاتا ہے جس کے لئے اردو میں چھری یا چاقو کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مگر نشتر اس سے مختلف چیز ہے۔ نشتر کا لفظ اردو یا فارسی میں جراحی آلہ (surgical (knife کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ نشتر کے لئے انگریزی میں صحیح الفاظ یہ ہیں: scalpel, lancet, fleam. اقبال کے اصل الفاظ کے مطابق، ان کے شعر کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان رگ باطل کے لئے جراحی آلہ تھا۔ لیکن مسٹر خوشونت سنگھ کے ترجمہ کے مطابق اس کا مفہوم یہ بن گیا کہ : ہر مسلمان رگ باطل کے لئے ایک چھری تھا۔
اقبال کے شعر کو میں تاریخی اعتبار سے درست نہیں سمجھتا۔ اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہر مسلمان باطل کی رگ کے لئے نشتر بنا ہوا ہو۔ باطل کے مقابلہ میں مسلمان کا کام پرامن دعوت ہے نہ کہ جراحی نشتر زنی۔ لیکن ان کے شعر کا مذکورہ انگریزی ترجمہ کرنے والے مترجم بھی یکساں طور پر غلط ہیں۔ اقبال کا کلام اگر خلاف تاریخ ہے تو انگریزی مترجم کا ترجمہ خلاف دیانت۔