Simple living and high thinking
Al-Risala, December 2000, pp. 32–35
By Maulana Wahiduddin Khan
اب میں روزہ کی حقیقت کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں کچھ باتیں کہوں گا۔ قرآن میں جہاں روزہ کا حکم دیا گیا ہے وہاں ارشاد ہوا ہے کہ یہ حکم تم کو اس لیے دیا جا رہا ہے کہ تاکہ تمہارے
اندر تقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ آدمی کے اندر روحانی صفات پیدا ہوں ۔ وہ روحانی ترقی (spiritual development) کا درجہ حاصل کرے۔
روحانیت ایک فطری صفت ہے۔ وہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود رہتی ہے۔ دنیا میں بار بار ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو فطرت کے اس عمل میں رکاوٹ (distraction) پیدا کرنے والی انھیں میں سے ایک کھانا پینا بھی ہے۔ آدمی صبح سے شام تک مختلف صورتوں میں کچھ نہ کچھ کھاتا پیتا رہتا یہ کھانا پینا فطرت کے اس عمل کے راستہ میں ایک مستقل خلل اندازی ہے۔ چنانچہ ایک مہینہ کے لیے دن کے اوقات میں اس خلل اندازی پر روک لگا دی جاتی ہے تاکہ روحانی ارتقاء کا عمل آدمی کے اندر بے روک ٹوک جاری ہو سکے۔
حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے نزدیک روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے زیادہ اچھی ہے (ولخلوف فم الصائم عند الله أطيب من ريح المسك) مشکاۃ المصابیح ۱/۶۱۱ اس حدیث میں گویا خو شبو کا لفظ محض لفظی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ علامتی معنی میں ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کا ظاہری پہلو اگرچہ نا خوش گوار ہے اس کا اندرونی پہلو خوش گواریوں سے بھرا ہوا ہے۔ بھوک پیاس کا پر مشقت تجربہ آدمی کے اندر اس کی روحانیت کو جگاتا ہے۔
انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ اس کے اندر مادیت بھی ہے اور روحانیت بھی۔ کی ترقی ہمیشہ اس وقت ہوتی ہے جب کہ مادیت کے عنصر کو دبایا جائے۔ روزہ اسی قسم کی ایک تدبیر ہے۔ روزہ کا مقصد آدمی کو اس کے لیے تیار کرنا ہے کہ وہ اپنی روحانیت کا محافظ بن جائے۔ وہ اس مقصد کے لیے اپنی مادی ضرورتوں میں کمی کرے ، خواہ کمی کرنے کا یہ عمل کھانے اور پینے جیسی ناگزیر انسانی ضروریات تک کیوں نہ پہنچ جائے۔
حدیث میں روزہ کو شہر الصبر کہا گیا ہے۔ یعنی صبر کا مہینہ۔ اس سے روزہ کا ایک اور اہم پہلو معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ صبر و ضبط ہے۔ صبر کیا ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ بے قید زندگی کے مقابلہ میں پابند زندگی کا طریقہ اختیار کرے۔ اس اعتبار سے روزہ خود انضباطی (self-discipline) کی مشق ہے جو صالح زندگی گزارنے کے لیے انتہائی طور پر
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی روزہ رکھ کر جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑے (مشکوۃ المصابیح ۱/۶۲۳) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ میں کھانے پینے کا ترک ایک علامتی ترک ہے۔ ترک اس بات کا سبق ہے کہ آدمی ہر قسم کے جھوٹ اور برائی کو چھوڑ دے۔ وہ اپنے معاملات میں اخلاقی پابندی کا طریقہ اختیار کرے۔
اس طرح روزہ انسان کو سماج کا ایک صالح ممبر بناتا ہے۔ وہ انسان کو اس مقصد کے لیے تربیت دیتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اعلیٰ کردار کے ساتھ زندگی گزارے اور پست کرداری کا طریقہ چھوڑ دے۔ حدیث میں روزہ کے مہینہ کو شہر المواساة (هو شهر المواساة) کہا گیا ہے۔ کی ہمدردی کا مہینہ (مشکوة المصابیح ۱/۶۱۳)
اس پہلو کو دوسرے لفظوں میں انسانی خدمت کہا جا سکتا ہے۔ اس اعتبار سے روزہ کا مقصد یہ ہے کہ وہ روزہ دار کے اندر انسانیت کا درد پیدا کرے۔ وہ دنیا میں صرف اپنے لیے نہ جئے بلکہ دوسروں کے لیے جینا سیکھے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں انسان سے فرمائے گا کہ میں تمہارے پاس بھوکا آیا مگر تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ بندہ کہے گا کہ خدا یا تو رب العالمین ہے تو کیسے بھوکا ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آئے گا کہ میرا فلاں بندہ بھوک کی حالت میں تیرے پاس آیا تھا اگر تو اس کو کھلاتا تو مجھ کو تو اس کے پاس پاتا (صحیح البخاری، کتاب المرض)
انسان کے انسان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کی ضروریات میں ان کے کام آئے۔ سماج کے اندر اس طرح زندگی گزارے کہ دوسروں کی حاجتوں کو پورا کرنا بھی اس کی زندگی کے پرو گرام کا ایک جزء بنا ہوا ہو۔ یہ انسانی صفت اس کے اندر ہو سکتی ہے جو دوسروں کی تکلیفوں کو اپنے سینے میں محسوس کرے_ روزہ گویا یہی کیفیت پیدا کرنے کی ایک تربیت ہے۔ روزہ کے ذریعہ بھوک اور پیاس کے تجربہ کو انسان کا ذاتی تجربہ بنا دیا گیا۔ حاجت مند کے درد کو حاجت براری کرنے والے کے دل میں اتار دیا گیا تاکہ وہ انسانی خدمت کی راہ میں زیادہ سے زیادہ سرگرم ہو سکے۔
رمضان کا ایک اور پہلو وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر ۹۷ میں آیا ہے۔ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر (شب قدر) میں اتارا۔ یعنی وہ رات جب کہ سال بھر کے متعلق
قضا و قدر کے محکمہ اور اٹل فیصلے زمین میں کام کرنے والے فرشتوں پر خدا کی طرف سے اتارے جاتے ہیں۔ یہ رات رمضان میں آتی ہے۔ چنانچہ رمضان کی آخری راتوں میں روزہ دار خصوصی طور پر عبادت کرتے ہیں تاکہ وہ اس رات کے فیوض کو پاسکیں ۔ اس سورت (القدر) کا ترجمہ یہ ہے :
ہم نے اس کو اتارا ہے شب قدر میں ۔ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں۔ ہر حکم لے کر ۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے، صبح نکلنے تک ۔
اس سورۃ میں لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا کہ وہ ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ یہ مدت تقریباً ۸۴ سال بنتی ہے ۔ یعنی وہ مدت جو کہ انسان کی اوسط عمر کی مدت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی اگر شب قدر کی برکتوں کو پالے جو گویا روزے کی سعادتوں کا آخری نقطۂ عروج (culmination) ہے تو وہ تمام عمر کے لیے اصلاح یافتہ ہو جائے گا ۔ اور اگر وہ شب قدر کی سعادتوں کو جزئی طور پر پائے تب بھی کم از کم سال بھر اس کی زندگی پر اس کے مبارک اثرات باقی رہیں گے۔ رمضان کے مہینے کی اس اہم ترین رات کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ سلامتی ہی سلامتی ہے :