Al-Risala · December 2000

اخلاقی پر ہینز گاری

Al-Risala, December 2000, pp. 42–44

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں رمضان کو شہر الصبر کہا گیا ہے (مشکاۃ المصابیح ۶۱/۳) یعنی صبر و برداشت اس مہینہ میں آدمی کو اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے منفی جذبات پر قابو رکھتے ہوئے فتنوں کی اس دنیا میں کامیاب زندگی گزار سکے۔ آدمی کے منفی جذبات ہی اس کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور روزہ اسی سب سے بڑے انسانی مسئلہ کے حل کی ایک مقدس تدبیر ہے۔

اس بات کو حدیث میں اس طرح کہا گیا ہے کہ ہر چیز کی ایک زکاۃ ہوتی ہے، اور جسم کی زکاۃ روزہ ہے (مشکاۃ المصابیح ۱/ ۶۳۹) یہاں زکوۃ سے مراد پاکی ہے۔ یعنی ہر چیز کو پاک کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ اور جسم کو پاک کرنے کے لئے روزہ کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ روزہ کی حیثیت جسم انسانی کے لئے غسل جیسی ہے۔ پانی کا غسل جسم کے ظاہری حصہ کو پاک کرتا ہے، اور روزہ جسم کے باطنی حصہ کو پاک کرنے والا ہے۔

حدیث میں ہے کہ جب تم میں سے کسی کو کھانے کے لئے بلا یا جائے اور وہ روزہ دار ہو تو اس کو یہ کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں ( اذا دعى احدكم الى طعام وهو صائم فليقل انی صائم ) مشکاۃ المصابیح (۱/ ۶۴۱ )

ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا روزہ کا دن ہو تو وہ نہ بری بات بولے اور نہ شور کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرنے پر آمادہ ہو تو اس کو یہ کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں ۔ (مشکاۃ المصابیح ۱/ ۶۱۱)

روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی عملی پر ہینز کی حالت اپنے آپ پر طاری کرے۔ اس طرح اس کے اندر ایک قسم کی پر ہیزی فکر ابھرتی ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ دنیا میں مجھے پر ہیزی والی زندگی گزارنا ہے۔ ایسی حالت میں اگر کوئی اسے کھانے کی کوئی چیز پیش کرے تو وہ فورا کہہ دیگا کہ میں روزہ دار ہوں۔ کوئی اس کو جرا کہے یا اس کے ساتھ اشتعال انگیزی کرے تو اس کے جواب میں وہ مشتعل نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اس کا دل اس کے اندر سے کہہ رہا ہوگا کہ تم نے تو روزہ رکھ کہ پر ہینز گاری بنے

کا عہد کر رکھا ہے۔ تم کیسے برائی کے فعل میں کسی کے ساتھ شریک ہو سکتے ہو۔ اس طرح روزہ آدمی کے اندر یہ مزاج بناتا ہے کہ وہ غیر انسانی باتوں سے پرہیز کرے ۔ وہ غیر شدیدہ قسم کے قول و فعل سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ وہ اخلاقی پر ہیز کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنے لگے۔

یہ پر ہیز گاری ہی موجودہ دنیا میں ہر قسم کی دینی اور دنیوی ترقی کی واحد ضمانت ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو امتحان کے لئے بسایا گیا ہے۔ اس لئے یہاں طرح طرح کی آزمائشیں ترغیبات بھی رکھ دی گئی ہیں تاکہ اس کے ذریعہ آدمی کو جانچا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ کون آزمائش میں پورا اترا، اور کون آزمائش میں ناکام ہو گیا۔

سب سے پہلے آدمی کا اپنا نفس ہے۔ آدمی کے نفس کے اندر بہت سے ناپسندیدہ جذبات پیدائشی طور پر موجود ہیں۔ مثلاً حسد ، غصہ، نفرت، بغض، خود غرضی ، مفاد پرستی، خود بینی، مصلحت پرستی اور انانیت وغیرہ ۔ جب کوئی موقع آتا ہے تو یہ جذبات ابھرتے ہیں اور آدمی کو اپنی طرف کھینچ لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ آزمائش کی گھڑی ہوتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اسی پر ہیز گاری کے اصول پر عمل کرے جس کی تربیت ایک اضافی کورس کے ذریعہ رمضان کے مہینہ میں اس کو دی گئی ہے۔

اسی طرح شیطان بار بار آدمی کو بہکاتا ہے۔ انسانی پروپیگنڈے اس کو غلط سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ عمومی رواج آدمی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ ان تمام مواقع پر آدمی گمراہی کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت جو آدمی پر ہیز گاری کا اصول اختیار کر کے اپنے کو انحراف سے بچا لے وہ کامیاب ہے، اور جو شخص ایسا نہ کر سکے وہ دنیا میں بھی نا کام ہے اور آخرت کی طویل تر زندگی میں بھی ناکام۔

"پرہیز" ایک مستقل اصول ہے۔ اور روزہ اسی پر ہیز کے اصول کا ایک سبق ہے۔ روزہ داروہی ہے جس کا روزہ اس کو پر ہیز گارانہ زندگی گزارنے کے قابل بنا دے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب امتوں میں سے کوئی امت روزہ کا التزام کرتی ہے تو اس کے شیطانوں کو بیڑیوں میں باندھ دیا جاتا ہے اور اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور آگ کے دروازے اس کے اوپر بند کر دیے جاتے ہیں (رواذا التزمته امة من الامم سلسلت شياطينها وفتحت ابواب جنانها وغلقت ابواب النيران عنها) حجۃ اللہ البالغہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان انسانوں میں بھی ہوتے ہیں اور جنات میں بھی (الانباء ۱۱۲) حدیث کے مطابق ، ماہ روزہ ان دونوں ہی قسم کے شیطانوں سے نجات دینے والا ہے۔ حقیقی طور پر روزہ کے اوپر قائم ہو جائے وہ ان دونوں ہی قسم کے شیطانوں سے محفوظ ہو جائے گی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں قسم کے شیاطین کے لیے انسان کے اوپر قابو پانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ خود انسان کا اپنا نفس ہے ، شیاطین جن لوگوں کے نفس کو خواہشوں کے فریب میں مبتلا کر کے ان کے اوپر قابو پاتے ہیں اور پھر جدھر چاہتے ہیں ان کو ادھر لے جاتے ہیں۔

شیاطین انس کے لیے بھی انسان کے اوپر قابو پانے کا راستہ یہی ہے ، وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے انسان کا نفس بھڑک اٹھے۔ اور جب انسان کا نفس بھڑک اٹھتا ہے تو وہ اپنی عقل کھو دیتا ہے۔ اور پھر شیاطین انس کو موقع مل جاتا ہے کہ جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ روزہ آدمی کے نفس کو زیر کرتا ہے۔ وہ آدمی کے حیوانی جذبات کو گھٹاتا ہے اور اس کے ملکوتی جذبات کو ابھارتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ نفسیاتی خواہشوں کا شکار نہ ہو۔ وہ اشتعال انگیز باتوں پر بھڑک کر قابو سے باہر نہ ہو جائے ۔ اس طرح روزہ شیاطین جن اور شیاطین انس دونوں کو گویا اس طرح زنجیروں میں باندھ دیتا ہے کہ وہ انسان کے اوپر اپنا اثر ڈالنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

Printed page