Al-Risala · February 2000

It is not history but fiction.

Al-Risala, February 2000

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے سوچا کہ مجھے اگر اس طرح کا ضخیم افسانہ پڑھنے کو کہا جائے تو وہ میرے لئے ایک سزا کے برابر ہوگا۔ لیکن لوگ ایسے ضخیم افسانوں کو مہنگے داموں میں خریدتے ہیں اور انھیں دلچسپی کے ساتھ ایک انسان اور دوسرے انسان میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ میں علم کے لئے پڑھتا ہوں اور لوگ تفریح کے لئے۔

" جہاز ایک بار لیٹ ہوتا ہے، ٹرین بار بار‘‘ اس کا تجربہ مجھے اس سفر میں ہوا۔ دہلی سے جب ہماری ٹرین لیٹ ہو کر چلی تو درمیان میں وہ بار بار مزید لیٹ ہوتی رہی۔ کسی دوسری ٹرین کو گزارنے کے لئے کئی بار ہماری ٹرین درمیانی اسٹیشنوں پر کھڑی کردی گئی۔ ہوائی جہاز میں یہ مسئلہ نہیں۔ جب وہ ہوائی اڈہ سے روانہ ہو جائے تو اس کے بعد وہ درمیان میں لیٹ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد وہ اپنی منزل پر ہی پہنچ کررکے گا۔

۱۷۷ کلومیٹر کا سفر طے کرکے ہماری ٹرین ۳۰ دسمبر ۱۹۹۵ کی صبح کو چتر کوٹ پہنچی۔ گھڑی میں ساڑھے چھ بج رہے تھے۔ جب کہ اس کا اصل وقت ساڑھے چار بجے صبح کا ہے۔ ساتھی پروفیسر سدھونی رن پوچے نے کہا کہ " کبھی لیٹ ہونا اچھا ہوتا ہے۔ " ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر ٹرین ٹھیک وقت پر آتی تو بھی یہاں اندھیر اہوتا۔ دو گھنٹہ لیٹ ہونے کی وجہ سے اب اجالا ہو چکا ہے۔ اور ہم لوگ اطمینان کے ساتھ اپنی قیام گاہ پر جاسکتے ہیں۔

چترکوٹ یوپی اور مدھیہ پردیش کی سرحد پر ہے۔ صرف ایک دریا (منداگنی) دونوں کو الگ کرتا ہے۔ ریلوے اسٹیشن یوپی کے علاقہ میں واقع ہے۔ جلسہ کے منتظمین اسٹیشن پر

ان کے ساتھ روانہ ہو کر ہم لوگ چتر کوٹ کے گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس میں پہنچے۔ یہاں میرا قیام کمرہ نمبر ۲۰۲ میں تھا۔

یہ گیسٹ ہاؤس کھلی جگہ پر واقع ہے۔ میرے کمرہ کے سامنے دور تک سر سبز مناظر ہیں۔ کی روشنی، چڑیوں کی آوازیں، فطرت کا پھیلا ہوا ماحول، اس طرح کی ایک دنیا ہے جو میرے سامنے مجھے فطرت کی دنیا اتنی زیادہ پسند ہے کہ جی چاہتا ہے کہ وہیں جا کر بس جاؤں۔ مگر انسان ایک متمدن مخلوق ہے۔ جنگلوں میں مستقل رہائش اختیار کرنا اس کے لئے ممکن نہیں۔ گیسٹ ہاؤس میں لوگ میرے کمرہ میں آتے رہے، اور ان سے مفید اور معلوماتی گفتگوئیں مسٹر ڈی این بنرجی آئی اے ایس (رٹائرڈ سکریٹری) آجکل دہلی (کنگز وے کیمپ) میں واقع ہر یجن سیوک سماج کے سکریٹری ہیں۔ (7234851 .Tel) انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد صاحب نے عظیم طاقت حاصل کی۔ کی شخصیت کا زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اپنی طاقت کو ضبط و تحمل کے ساتھ استعمال کیا جس میں بعد کی نسلوں کے لئے سبق ہے :

Hazrat Mohammad weilded great power in himself but the greater part of him is that he exercised even more restraint in the exercise of his powers which should serve as a lesson to posterity. D.N. Banerjee, Secretary, Harijan Sevak Sangh, Kingsway Camp, Delhi-9 (Tel. 7234851)

جموں سے بھی کئی لوگ اس کانفرنس میں آئے ہیں۔ ان میں سے ایک ۶۰ سالہ خاتون پروفیسر کوشليا والی ہیں۔ وہ جموں یونیورسٹی میں سنسکرت کی استاد ہیں۔ مہا کوشل اکسپریس جس سے میں چتر کوٹ پہنچا اسی سے وہ بھی یہاں آئی ہیں۔

گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں پہلے سے آپ کو نہیں جانتی تھی۔ مگر ریلوے اسٹیشن پر آپ کو دیکھا تو مجھے آپ کی آنکھوں میں اور آپ کے چہرہ پر بڑی روحانیت نظر آئی۔ اس لئے میں آپ سے ملنے کے لئے آئی ہوں۔ انھوں نے درد کے ساتھ کہا: یہ گاندھی کے ہندوستان کو کیا ہوا۔

تجربہ کار ہیں، کچھ راستہ نکالیے کہ پھر سے دیش پہلے جیسا ہوجائے۔

Prof. Koshelya Walli, 20, Rajendra Nagar, Canal Road Jammu (Tawi) Pin-180001 Tel. (Res.) 543545 اکھل بھارتیہ رچناتمک سماج کا تخیل مہاتما گاندھی کا دیاہواہے ۔ ونوبابھاوے کانام بھی اس میں شامل ہے۔ تاہم اس کو موجودہ نام کے ساتھ نظم انداز میں نرمل دیش پانڈے (ایم۔ پی) نے ۱۹۸۲ میں قائم کیا۔ نرمل دیش پانڈے (۶۲ سال) اس کی آل انڈیا صدر ہیں۔ سماجی خدمت میں مشغول ہونے کی وجہ سے انھوں نے شادی نہیں کی۔ وہ دہلی سے ایک ہندی پندرہ روزہ نتیہ نوتن کے نام سے چترکوٹ میں اس کا شمارہ یکم جنوری ۱۹۹۵ مجھے دیکھنے کو ملا۔ اس میں ایک مضمون پروفیسر محمد ہاشم قریشی (جے این یو) کا تھا۔ اس کا عنوان تھا: اسلام اور اہنسا۔ اس کے چند جملے یہ تھے: ”اہنسا ویروں کا بھوشن ہے، کاپروں کا نہیں۔ اہنسا کے لئے دل بڑا اور انوبل اونچا ہونا ویر لڑتے ہیں سدھانتوں کے لئے، یدھ کے لئے نہیں۔ کمزوروں، عورتوں اور بچوں کی رکشا کے لئے لڑنا بھی اہنسا کا ہی مارگ ہے۔ اتہ اوشیک ہے کہ اسلام کے سدھانتوں کے آدھار پر اس کے انو یائیوں کو آنکا جانا چاہئے نہ کہ انو یائیوں کے بیوہارکے آدھارپر اسلام کو۔ مسلمان کی کمزوری اسلام کی کمزوری نہیں ہے۔ یہاں کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم خاتون آئی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک جلگاؤں کی تھیں جن کا فیملی بیک گراؤنڈ کانگریسی تھا۔ دوسری خاتون دہلی سے تھیں جن کا فیملی بیک گراؤنڈ مسلم لیگ سے تعلق دونوں میں گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک نے کہا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان میں کوئی لیڈر

میں نے کہا کہ میری رائے تھوڑی سی مختلف ہے۔ میرے نزدیک مسلمانوں کا اصل مسئلہ فقدان قیادت کا نہیں ہے بلکہ فقدانِ قبولیت قیادت کا ہے۔ مثال کے طور پر سر سید اور مولانا آزاد دونوں مسلمہ طور پر قیادت کی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔ مگر دونوں ہی کے معاصرین نے انھیں رد کر دیا۔

انگریزوں کا ایجنٹ کہا گیا اور مولانا آزاد کو ہندوؤں کا ایجنٹ۔ پھر میں نے کہا کہ ہم زمانہ لوگوں کی قبولیت سے کوئی شخص لیڈر بنتا ہے نہ کہ مرحوم ہو جانے پر بعد کے لوگوں کی قصیدہ خوانی سے۔ ۳۰دسمبرکی دوپہرکوگیسٹ ہاؤس سے جلسہ کے لئے روانگی ہوئی۔ قریب پہنچے تو سڑک پر انسانوں کا ایک ہجوم نعرہ لگاتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ یہ سب دیہات سے آئے ہوئے عورت اور مرد ایک نعرہ کے الفاظ یہ تھے: ایک بنیں گے، نیک بنیں گے۔ اس کے علاوہ مہاتما گاندھی امر رہے، انقلاب زندہ باد کے نعرے بھی تھے۔ میں گیٹ کے پاس پہنچا تو مجھ سے کہا گیا کہ یہ لوگ آپ کا آشرواد انھیں اپنا آشرواد دیجئے۔ دستی مائکروفون پر میں نے مختصر طور پر کچھ اخلاقی باتیں کہیں اور ان کو دعائیں دیں۔

رام چرت مانس کے مصنف تلسی داس بھی چتر کوٹ آئے تھے۔ یہاں رہ کر انھوں نے اپنی کتاب تیار کی ۔ ایک پنڈت جی نے بتایا کہ تلسی داس کے پاس اکبر بادشاہ کا پیغام آیا جس میں انھیں سیکری (راج دھانی) بلایا گیا تھا۔ تلسی داس خود نہیں گئے۔ انھوں نے ایک دوہا لکھ کر اکبر بادشاہ کو بھیج دیا:

Printed page