Al-Risala · January 2000

حکمتِ اعراض

Al-Risala, January 2000, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب اپنے خط مورخہ ۲۸ ستمبر ۱۹۹۹ میں لکھتے ہیں: میں نے ہندی اخبار’’ہندوستان‘‘ کا شمارہ ۲۸ ستمبر ۱۹۹۹پڑھا۔ اس کے اداریہ میں یہ لکھا تھا کہ حال میں سورت (گجرات) میں’’گنیش وسرجن‘‘ کا جلوس نکلا۔ اس موقع پر پولیس اور جلوس کے درمیان ٹکراؤ ہوگیا۔ پتھراؤ پتھراؤ اور فائرنگ کے نتیجہ میں جلوس کے آٹھ افراد ہلاک اور کئی درجَن زخمی ہو گئے۔ یہ جلوس شہر کے مسلم محلہ کی ایک مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلم اور ہندو یا مسلم اور پولیس کے درمیان لڑائی ہو جاتی مگر عملاً اس کا الٹا ہوا۔ مسلمانوں نے وہاں پر صبر کا رویہ اپنایا جس کی وجہ سے انھیں اس کا پھل مل گیا۔ کسی بھی مسلمان کا نقصان نہیں ہوا۔ کیوں کہ ٹکڑاؤ انتظامیہ اور ہندوؤں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ پڑھ کر آپ کی وہ بات یاد آ گئی جو آپ’’الرسالہ‘‘ یا کئی دیگر کتابوں میں لکھ چکے ہیں۔ (سہیل احمد، حسن البنا منزل، جامعۃ الفلاح، بلریا گنج، اعظم گڑھ)

’’سورت‘‘ کا یہ واقعہ تمام اخباروں میں آ چکا ہے۔ اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ کی طرف الرسالہ میں بار بار نشاندہی کی جاتی رہی ہے ۔ وہ یہ کہ ــــــ مسلم کش فسادات کا اصل سبب جلوس کا نکلنا اور اس کا مسلم محلہ سے گزرنا نہیں ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ جب جلوس نکلے تو محلہ والے اس کے مقابلہ میں غیر حکیمانہ رویہ اختیار کریں۔ حکیمانہ رویہ ہمیشہ حفاظت کا ضامن ہوتا ہے اور غیر حکیمانہ رویہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔

اس معاملہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جلوس کے وقت وہاں کے مسلمان اگر منفی ردعمل کا طریقہ اختیار کریں تو مسئلہ مسلم ورسس پولیس بن جائے گا۔ اور اگر وہاں کے مسلمان ایسے موقع پر اعراض کارویہ اختیار کریں تو سارا مسئلہ جلوس ورسس پولیس بن جائے گا۔ اس اصول کی صداقت بار بار فسادات کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ سورت کا مذکورہ واقعہ اس حکمت کی ایک مثبت مثال ہے۔ دور اول کے مسلمان مخالفین کی سازشوں اور زیادتیوں کے درمیان گھر ے ہوئے تھے۔

وقت نصیحت کرتے ہوئے ان سے کہا گیا کہ : اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی ۔ (آل عمران (۱۲۰) اب یہ غور کیجئے کہ دشمن کی سازشوں کے مقابلہ میں صبر کس طرح ڈھال بن جاتا ہے ۔ اور زیر سازش گروہ کو اس کے نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آئے تو اس کے مقابلہ میں رد عمل کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اشتعال انگیز صورت حال کو دیکھ کر آدمی بھڑک اٹھے اور فوری جذبات کے تحت جوابی کارروائی کرنے لگے۔ اور دوسرا یہ کہ فریق ثانی کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہ ہو بلکہ اپنے جذبات کو روک کر پورے معاملے پر غور کرے۔ اور اس کے بعد جو کچھ کرے ٹھنڈے ذہن کے تحت سوچ سمجھ کر کرے۔

مذکورہ تقسیم میں پہلی قسم کے رد عمل کا نام غیر صابرانہ رد عمل ہے اور دوسری قسم کے رد عمل کا نام صابرانہ رد عمل۔ دوسرے لفظوں میں اس فرق کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ غیر صابرانہ رد عمل پیش آمدہ صورت حال کا جذباتی جواب (emotional response) ہے۔ اس کے برعکس صابرانہ رد عمل یہ ہے کہ پیش آمدہ صورت حال کے مقابلہ میں جو جوابی کارروائی کی جائے وہ ایک سوچا سمجھا جواب (considered response) ہو۔

صبر کوئی بے عملی نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے سامنے کوئی نا پسندیدہ صورت حال پیش آئے تو وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اعلیٰ ترین بہادری ہے۔ آدمی بے صبری کے ساتھ جذباتی اقدام کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب ہو گیا۔ اس کے برعکس جب ایک آدمی صبر والی روش اختیار کرتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بھڑکے ہوئے جذبات کو قابو میں رکھا۔ اس نے اپنے جذبات کو اپنی عقل پر غالب ہونے نہیں دیا۔

Printed page