آوت جات پنھیاٹوٹی سنتن کو سیکریا سے کیا کام
Al-Risala, February 2000
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی تمھارے یہاں آنے جانے میں میرا چپل ٹوٹ جائے گا۔ میں ایک سنت ہوں سنت کو سیکری سے کیا مطلب۔
۳ دسمبر کی دوپہر کو جلسہ کا افتتاح تھا۔ رام لیلا میدان کے ایک وسیع پنڈال میں ملک کی چودہ ریاستوں سے آئے ہوئے پندرہ ہزار سے زیادہ آدمی جمع تھے۔ یہاں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ دیدی نرمل دیش پانڈے نے کہا کہ تلسی داس نے اپنی رام چرت مانس اسی چتر کوٹ میں بیٹھ کر لکھی تھی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا:
چتر کوٹ کے گھاٹ پر بھئی سنتن کی بھیڑ تلسی داس چندن گھسیں تلک دینہ رگھو بیر انھوں نے کہا کہ آج دوبارہ اسی چتر کوٹ میں سنتوں کی بھیڑ ہو رہی ہے۔ اجودھیا میں ایک
انسان نے جنم لیا، اور چتر کوٹ نے اس کو بھگوان بنا دیا۔ انھوں نے کہا کہ رام راجیۃ وہ ہے جہاں کوئی کسی سے بیر نہ کرے، جہاں نفرت اور بیر ہو وہ راون راج ہے۔ انھوں نے کہا کہ ونو با جی کہا کرتے تھے کہ ہندوستان کا دماغ شہر میں ہے مگر ہندوستان کا دل گاؤں میں ہے۔
ایک ہندو ودّوان نے بتایا کہ دنیا میں اٹھارہ الگ الگ رامائن ہیں۔ سب سے پہلے والمیکی نے رامائن لکھی تھی۔ اس کے بعد کئی لوگوں نے رامائن لکھی۔ ان میں سے ایک تلسی داس کی رامائن ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر اٹھارہ قسم کی رامائن ہیں۔ اگر والمیکی کی رامائن کو اصل قرار دیا جائے تو بقیہ سترہ رامائنیں اس کی تشریح قرار پائیں گی۔
یہاں ناناجی دیش مکھ سے بھی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے چتر کوٹ میں ایک یونیورسٹی (مہاتما گاندھی وشوو دیالیہ) بنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے نوکریوں کی طرف دوڑتے ہیں۔ ہم اس یونیورسٹی میں یہ ذہن بنانا چاہتے ہیں کہ تعلیم نوکری کے لئے وہ انسان بنانے کے لئے ہوتی ہے۔
مسٹر پنچم لال، آئی اے ایس پٹنہ سے آئے تھے۔ (235209 .Tel) وہ نہایت ذہین اور جرات مند آدمی ہیں۔ وہ وہاں کلکٹر ہیں۔ مگر وہ نہ کسی نیتا کی سنتے ہیں اور نہ حکومت کی۔ وہ وہی کرتے ہیں جو انصاف کا تقاضا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا نباہ کیسے ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے نوکری کی
وہ نہایت شستہ اردو بول رہے تھے۔ انھوں نے اقبال کے کئی شعر سنائے۔ مثلاً حسب ذیل شعر: اہل دانش عام ہیں کم ہیں مگر اہل نظر کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا میرا ایاغ سمین کے منچ پر میری نشست نرمل دیش پانڈے کے پاس تھی۔ درمیان میں انھوں نے منتظمین میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے آہستہ سے کہا: کہا:دیکھیے لوگ بہت منچ پر آ رہے ہیں۔ اپنے لوگوں کو اتار دیجئے ۔ منچ اگر چہ بہت بڑا تھا لیکن باہر کے مہمان ہی بہت کافی تھے۔ اور اس کی گنجائش نہیں تھی کہ تنظیم کے لوگ بھی آ کر یہاں بیٹھیں ۔ اس لئے انھوں نے ایسا کہا۔ میں نے سوچا
کہ یہی صحیح اخلاقی اصول ہے کہ اپنوں کے ساتھ سختی اور دوسروں کے ساتھ نرمی کی جائے۔ اس کے برعکس عمل کریں، وہ اپنوں کے لئے نرم اور دوسروں کے لئے سخت بن جائیں، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نیکی کی بات کرتے ہیں۔ بشر میں تو دو بے تین شر ہے۔ حالت میں تو شر ہی کو غلبہ رہے گا۔ میں نے کہا کہ اس کو اور ڈھنگ سے دیکھئے تو برعکس طور پر آپ کو نظر آئے گا کہ بشر میں شر بہت کم ہے۔ آپ بشر میں شین کا حرف نکال دیجئے ۔ اس کے بعد وہ بر بن جائے بر کا مطلب نیکی ہے۔ اب آپ کو دکھائی دے گا کہ بشر میں دو بے تین نیکی ہے۔ اس طرح کی لفظی باتیں محض لطیفہ ہوتی ہیں۔ ان کو دلیل نہیں کہا جا سکتا۔ دلیل وہ ہے جو حقیقی واقعات پر مبنی ہو، نہ کہ لفظی الٹ پھیر کی بنیاد پر۔
ایک صاحب نے کہا کہ مسلم مہلائیں ساری دنیا میں اتنی زیادہ کھچڑی ہوئی ہیں، اس کا کارن کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ آپ کے غلط جنرلائزیشن کا ہے۔ اگر آپ اس واقعہ کو لیں کہ دنیا میں تین مسلم دیشوں (پاکستان، بنگلہ دیش، ترکی) میں مسلم مہلائیں راج کر رہی ہیں اور اس کو جنرلائز کریں تو آپ کا سوال بدل جائے گا۔ اب آپ کہیں گے کہ مسلم مہلائیں ساری دنیا میں اتنی زیادہ آگے ہیں، اس کا کارن کیا ہے۔ مگر آپ نے کسی خاص محلہ کی کچھ مسلم مہلاؤں کو لیا اور ان کو جنرلائز کر دیا تو آپ کو ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ مسلم مہیلائیں بہت زیادہ کھچڑی ہوئی ہیں۔
چتر کوٹ میں ملک کے مختلف حصوں سے لوگ آئے تھے۔ ایک صاحب بنگال کے تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ انھوں نے اپنے آپ کو گاندھی بھکت بتایا۔ میں نے کہا کہ بنگالی کے بارہ میں پہلا تصور یہ ہوتا ہے کہ وہ انقلابی ہوگا۔ وہ سبھاش چندر کو ماننے والا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں سبھاش چندر بوس ایک پر جوش آدمی تھے۔ مگر دیر پا انقلاب (sustainable revolution) کی طاقت صرف گاندھی کی آئیڈیالوجی میں تھی۔ میں نے کہا کہ مگر آزادی کے بعد کے ہندوستان نے تو
بتایا ہے کہ خود گاندھی کی آئیڈیالوجی بھی دیرپا نہیں تھی :
پروفیسر رام چندر سنگھ (کاشی ودیا پیٹھ، بنارس) نے بہت سی باتیں بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ میں اسلام کو بہت پسند کرتا ہوں۔ مگر میں پکا سہکاری ہوں۔ اسلام میں اگر قربانی نہ ہوتی تو میں اسلام کو سویکار کر میں نے کہا کہ اسلام میں اگر قربانی کی تعلیم نہ ہوتی تو اسلام عالمی مذہب نہ ہوتا۔ چتر کوٹ ایک تاریخی جگہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رام چندر جی کو جب چودہ سال کا بن باس ہوا تو اس کے بعد وہ یہاں آ کر بارہ سال رہے تھے۔ میں نے ایک تعلیم یافتہ ہندو سے پوچھا کہ کیا یہاں اس زمانے کاکوئی چنھ(نشان)ہے (نشان) ہے۔ انھوں نے کہا کہ قریب کے پہاڑ پر ان کے قدم کے نشان بتائے جاتے زنامہ نگاروں، کالم نگاروں) ہے، جس میں ایک حبیب لعت پہاڑوں میں سے ایک ہے ۔ مگر اس طرح کی چیزیں تاریخی طور پر قابل بحث ہیں :