Al-Risala · February 2000

But, historically, it is debatable.

Al-Risala, February 2000

By Maulana Wahiduddin Khan

نڈیا کے اخبارات انڈیا کا شمارہ ۳۵ دسمبر ۱۹۹۵ اور یکم تا ۳۱ جنوری کی کات سٹوری کا عنوان تھا: ہندی اخبار امر اجالا کا شمارہ ۳۰ دسمبر ۱۹۹۵ دیکھا۔ اس کا ایڈیٹوریل کا عنوان تھا: ویا پاک درمیانی صفحہ کے مضمون کا عنوان تھا: اسلام اور راج نیتی۔ اس کے مضمون نگار آفتاب احمد میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ میں میڈیا کے ظہور نے ہمیں ایک نیا موقع دے دیا ہے۔ وہ یہ کہ ہم صرف ایک قابل اشاعت تحریر تیار کر سکیں۔ اور وہ اگلے دن اخباروں اور رسالوں میں چھپ کر لاکھوں ے ایک خاص اِڈیارز کی تمازت کے حامل رسائل اور اخباروں اور میگزینوں کو عام لوگوں کے سامنے برائے مطالعہ موجود ہو گی ۔

اجتماع گاہ میں ہندی زبان کا ایک ہینڈ بل تقسیم کیا گیا ۔ اس کا عنوان تھا : چتر کوٹ کا یہ سندیش ایک رہے گا بھارت دیش اتحاد کو لفظوں میں ڈھالنا کتنا زیادہ آسان ہے ، اور اس کو حقیقت کی شکل دینا کتنا زیادہ مشکل ۔ ایک صاحب نے بتایا کہ جس زمانہ میں چودھری چرن سنگھ پرائم منسٹر تھے ، وہ ان سے ملے۔ انھوں نے چودھری جی سے گو ہتیا اور برہمنوں کے بارے میں کچھ بات کہی۔ چودھری چرن سنگھ نے سننے کے بعد کہا: آپ لوگ گائے اور برہمن کی بات تو کرتے ہیں ، منش کی بات کبھی نہیں کرتے۔ ہے، آپ کے سامنے ہیں۔ اس بارے میں رے ہیں، اس کے بارے میں

بہت بڑے میدان میں اسٹیج بنایا گیا تھا۔ ہندوستان بھر کے لوگ اس میں آئے ہوئے تھے۔ یہاں اسٹیج پر جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک پھلہاری باباتھے جواجودھیاسے آئے تھے۔ وہ سچے سادھو ہیں۔ وہ بابری مسجد کو توڑ کر مندر بنانے کے سخت خلاف تھے۔ اب بھی مقامی طور پر زیادہ ہندو انھیں کے ساتھ ہیں۔ مگر باہر سے آئے ہوئے لوگ اور گورنمنٹ کی بے عملی کی وجہ سے ۶ دسمبر ۱۹۹۶ کا حادثہ پیش آیا۔ انھوں نے حکومت کے اعلیٰ ذمہ داروں سے مل کر کہا کہ اگر آپ ساتھ دیں تو میں سیکڑوں سادھوؤں کو لے کر موجودہ مندر کو توڑ کر دوبارہ وہاں مسجد بنا دوں گا۔ مگر انھیں حکومت کا تعاون نہیں ملا۔ ان کا پتہ یہ ہے:

Phalahari Baba, Rajgopal Mandir, Ayodhya, Faizabad. (Tel.2042)

یہاں بہت سے لوگ ملے جنھوں نے اخبارات میں میرے مضامین پڑھے تھے یا مجھ کو ٹی وی پر دیکھا تھا۔ کچھ ایسے بھی تھے جو الرسالہ کے باقاعدہ قاری تھے۔ انھیں میں سے ایک محمد اسماعیل جملے تھے ۔ وہ جالنہ سے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ الرسالہ سے پہلے وہ الجمعیۃ ویکلی میں میرے مضامین پڑھا کرتے تھے۔

ہر تحریک اپنے وابستگان کے اندر کوئی خاص مزاج بناتی ہے۔ مثلاً سیاسی مزاج، احتجاجی مزاج، قومی مزاج وغیرہ۔ الرسالہ مشن کے سلسلہ میں میرا تجربہ ہے کہ جو لوگ پابندی سے اس کو پڑھتے ہیں ان کے اندر بھی ایک مخصوص مزاج بنتا ہے۔ یہ سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مزاج ہے۔ غالباً یہ صرف الرسالہ کی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے قارئین میں اس قسم کا مزاج بناتا ہے۔ کسی اور تحریک کے سلسلہ میں کم از کم میں نے ایسا تجربہ نہیں کیا۔ اسی طرح تنقید کو برداشت کرنے کا مزاج بھی الرسالہ والوں میں دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ قرآن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ یہ تو سائنس کی دریافت کے خلاف ہے۔ پھر آپ اس کی کیا توجیہہ کریں گے۔

میں نے کہا کہ قرآن میں ایسا موجود ہی نہیں۔ آپ کی مراد غالباً اس آیت سے ہے جس کے

الفاظ ہیں کہ: والشمس تجری لمستقر لھاذالک تقدیر العزیز العلیم (یس) انھوں نے کہا کہ ہاں، میں نے کہا کہ اس آیت میں یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ میں جو بات ہے وہ یہ کہ سورج کا ایک مستقر یعنی اس کا ایک معین مدار ہے جس پر وہ گردش کرتا ہے۔ یہ عین سائنٹفک بات ہے۔ اس دنیا میں ذرہ سے لے کر بڑی بڑی کہکشاؤں تک کا نظام یہ ہے کہ ہر ایک کا ایک مرکز (مستقر) ہے، اور ہر چیز اپنے اپنے مرکز کے گرد گھوم رہی ہے۔ زمین کا مستقر سورج اور سورج کا مستقر کچھ اور ہے۔ قرآن میں سورج کے خود اپنے مستقر کے گرد گھومنے کا ذکر ہے نہ کہ زمین کے گرد گھومنے کا۔

اس طرح کے اجتماعات کا سب سے بڑا فائدہ میرے نزدیک یہ ہے کہ اس میں بڑے پیمانہ پر لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک صاحب سے میں نے کہا کہ بالفرض اگر کوئی اور فائدہ نہ ہو تب بھی صرف ملنے کی خاطر (interaction for the sake of interaction) اس کو جاری

جو لوگ صرف ہم قوم یا ہم مذاق لوگوں سے ملیں ان کی فکری ترقی یقینی طور پر رک جائے فکری ترقی کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر قسم کے لوگوں سے ملا جائے۔ حتی کہ ان لوگوں سے بھی جو ہم سے الگ رائے رکھتے ہوں۔ جو بظاہر ہمارے مخالف یا ہمارے دشمن ہوں۔ جلنا ہمیشہ مفید ہوتا ہے، بشرطیکہ کھلے ذہن کے ساتھ ملاقات کی جائے۔

اس وقت رات کے ۸ بجے ہیں۔ اور میں گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرہ میں بیٹھا ہوا یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ جب میں کمرہ کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوا تو اندر بالکل اندھیرا تھا۔ پھر بجلی کی سوئچ دبانے کے بعد اجالا ہو گیا اور یہ ممکن ہو گیا کہ میں اس کے اندر لکھ پڑھ سکوں۔

بظاہر یہ ایک سادہ سی بات ہے جو ہر روز ہر آدمی کے ساتھ پیش آتی ہے۔ تاہم اگر سوچیے تو اس میں بہت بڑی ایمانی خوراک موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخصوص حکمت کے تحت دنیا کو اس طرح بنایا

ہے کہ یہاں باربار اجالااوراندھیراآتارہے تاہم مختلف اسباب سے رات کے وقت بھی انسان کو روشنی کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے خدا نے مصنوعی روشنی کا امکان دنیا کے اندر رکھ دیا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ٹرین اور جہاز میں عمومی لائٹ بجھانے کے بعد بھی ایک نجی لائٹ ہوتی ہے جس کو محدود طور پر روشن کر کے کوئی شخص اپنی ضرورت پوری کر لیتا ہے۔ سورج کی عمومی روشنی کے ساتھ مصنوعی روشنی کا محدود انتظام واضح طور پر منصوبہ بندی کا ثبوت ہے۔ اورمنصوبہ بندی ثابت ہونے کے بعد اپنے آپ منصوبہ ساز کا وجود ثابت ہو جاتا ہے۔

۳ دسمبر کو دوپہر کا کھانا میں نے کمرہ میں منگا لیا تھا۔ شام کا کھانا لوگوں کے ساتھ کھانے کے لئے ڈائننگ ہال میں چلا گیا۔ وہاں ہم لوگ ایک میز کے گرد نو آدمی تھے۔ لوگ مسلسل بول مگر میں بالکل خاموش سر جھکائے ہوئے بیٹھا تھا۔ دیر تک مجھے اس طرح سکوت کی حالت میں دیکھنے کے بعد ایک تعلیم یافتہ ہندو خاتون نے کہا: ’’مولانا صاحب اپنے میں رہتے ہیں، خدا کے ساتھ‘‘ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم میرا حال یہ ہے کہ مجھے بولنے سے زیادہ چپ رہنا پسند چپ رہنے کا مطلب سوچنا یا ذکر فکرا ہے، اور سوچنا یا ذکر و فکر کرنا بلا شبہ ایک عبادت ہے۔ ہال کے اندر ٹی وی چل رہا تھا۔ اس پر گانے کی آواز آرہی تھی۔ جموں سے آئے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ آجکل عجیب حال ہوگیاہے ۔ ہندستانی گانے ویسٹرن ٹیون پر آتے ہیں۔ ہندستانی گانوں کو تباہ کر دے گا۔

اس قسم کی نقل مذہب میں بھی بڑے پیمانہ پر رائج ہے۔ لوگ اپنے مذہبی عمل کو خارجی شکلوں کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔

ایک صاحب (مسٹر جوشی) نے مسلم پرسنل لا میں ریفارم کی ضرورت بتاتے ہوئے کہا کہ قوانین کبھی مقدس نہیں ہوتے، اور نہ ابدی اور ناقابل تغیر ہوتے ہیں۔ ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کیوں کہ سماج کوئی جامد چیز نہیں۔ اور قوانین اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ بدلتے

ہوئے سماج میں انصاف اور ہم آہنگی فراہم کر سکیں:

Laws are not sacrosanct, unchanging and eternal. They cannot be. Because society is not static. And laws are designed to ensure just and harmonious social relationship in a changing میں نے کہا کہ آپ کی یہ بات قدیم قیاسی منطق پر مبنی ہے جو اب علمی دنیا میں ختم ہو چکی ہے۔ آپ نے پیشگی طور پر فرض کر لیا کہ قوانین ہمیشہ قابل تغیر ہوتے ہیں، اس لئے اسلامی قانون کو بدلنا اس کے بجائے استدلال کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے اسلام کے قانون سے مثال دے کر یہ ثابت کریں کہ فلاں قانون فلاں متعین سبب کی بنا پر قابل تبدیلی ہو گیا ہے۔ اس کے بعد تبدیلی کا مگر آپ حقیقت کے بجائے مفروضہ کی بنیاد پر تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ایسا مطالبہ یقینی طور پر غیر علمی اور ناقابل قبول ہے۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو نے بتایا کہ ہمارے مولوی صاحب بچپن میں اپنے اشعار کے ذریعہ ہم کو جغرافیہ پڑھایا کرتے تھے۔ مثلاً انھوں نے سری لنکا کا جغرافیہ اس طرح ہمیں یاد کرایا تھا : اک طرف لٹکاہوالنکابہ شکل آم ہے مجھے یاد آیا کہ اقبال احمد سہیل مرحوم نے اسی طرح کئی تاریخی کلمات موزوں کئے تھے۔ غزنوی کے داخلہ ہندوستان (۱۰۰۱) کے لئے : ادھر ادھر ڈنڈا، بیچ میں دوائنڈا۔ ۳۱ دسمبر کی صبح کو نماز فجر ادا کی۔ اس کے بعد گیسٹ ہاؤس کی لمبی بالکنی میں ٹہلنے لگا۔ اس وقت فضا میں کہر چھایا ہوا تھا۔ ہر چیز گہرے کہر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ قریب کے درخت بھی صاف دکھائی نہیں دیتے سورج نکلنے کے ساتھ فضا صاف ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ ہر چیز صاف دکھائی دینے لگی۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح ایک اور کہر ہے جس نے موجودہ زمانہ میں تمام اعلیٰ حقیقتوں کو ذہنوں سے اوجھل کر دیا ہے۔ اس کو ذہنی کہر آلودگی (beffoging of mind) کہہ سکتے ہیں۔ دوسرے قسم کا کہر پریس کے دور نے پیدا کیا ہے۔ لوگوں نے غلط قسم کی باتیں اور حقائق کی غلط تعبیرات اس طرح پھیلا دی ہیں کہ اب وہ انسانی ذہنوں پر پردہ بن کر چھا گئی ہیں۔ آدمی حقیقتوں کو ان کی صحیح

صورت میں دیکھ نہیں پاتا۔ ہر آدمی غلط سوچ کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔

میں نے سوچا کہ فضائی کہر کو تو سورج نے ختم کر دیا ، یہاں تک کہ ماحول کی ہر چیز اپنی واقعی صورت میں دکھائی دینے لگی۔ مگر ذہنی کہر کو کون صاف کرے گا۔ پھر خیال آیا کہ قیامت کا دن اس کے لئے عظیم تر سورج کی مانند ہو گا۔ اس وقت تمام حقیقتیں اپنی اصلی صورت میں دکھائی دینے لگیں گی۔ کامیاب وہ ہے جو اس سے پہلے اپنی چشم بصیرت سے حقیقتوں کو دیکھ لے۔ حقیقتوں کو قیامت کا سورج نکلنے کے بعد دیکھے، اس کے لئے وہ دن حسرت اور محرومی کا دن ہوگا نہ کہ کامیابی کا دن ۔

جلسہ کے منتظمین کا اندازہ تھا کہ موسم اچھا نہ ہونے کی وجہ سے شاید زیادہ آدمی نہ آسکیں ۔ ۳۱ دسمبر کو بیس ہزار سے زیادہ آدمی چتر کوٹ کے رام لیلا میدان میں جمع ہو چکے تھے۔ یہ تعداد راشن ٹکٹ کی بنیاد پر تھی۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ اور تھے جنھوں نے یہاں کھانا نہیں کھایا اس لئے انھوں نے ٹکٹ بھی نہیں لیا۔ ایک صاحب نے دور تک انسانوں کی بھیڑ کو دیکھ کر کہا کہ میرے خیال سے دو لاکھ آدمی ہوں گے۔ نظر کی بنیاد پر جو اندازے قائم کئے جاتے ہیں وہ اکثر غلط ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ہندوستان کے کونے کونے سے آئے تھے۔ بارش، جاڑے کا موسم، ٹرینوں اور بسوں کا صبر آزما سفر، کوئی چیز انھیں روک نہ سکی۔ بہت سے لوگ تو سیکڑوں میل دور سے بائیسکلوں کے ذریعہ سفر کر کے یہاں پہنچے تھے۔ جب کہ انھیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہاں ان کے لئے کھانے اور ٹھہرنے کا کیا

اس کے پیچھے موونگ فورس کیا ہے۔ یہ غالباً ایک ہی نفسیات ہے جو ہندوؤں اور مسلمانوں اور دوسرے گروپوں میں مشترک طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اور وہ ہے تاریخ کا زور۔ رچناتمک سماج کی پشت پر گاندھی، و نو با بھاوے اور جے پر کاش نرائن جیسے بڑے لوگوں کے نام شامل لوگ اپنے انھیں ’ اکابر‘ کے نام پر ہر طرف سے دوڑے چلے آرہے ہیں۔ خدا یا حقیقت اعلیٰ کے لئے دوڑنے والے شاید نہ مسلمانوں میں ہیں اور نہ ہندوؤں میں۔

۳۱ دسمبر کو گیارہ بجے دوسرا سیشن شروع ہوا۔ اس کا موضوع سرودھر م سمبھاؤسمیلن تھا۔ سے پہلے ایک پارٹی نے مذہبی گیت گایا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا:

تری ذات پاک قرآن میں تری درس وید پران میں گرو گرنتھ جی کے بکھان میں تو پرکاش اپنا دکھا رہا پچھلے ۲۵ سال سے میں دنیا کے مختلف حصوں میں ہر مذہب کی کانفرنس میں شریک ہوتا رہا میرا احساس یہ ہے کہ مذہبی ڈائیلاگ کی راہ میں دو قسم کے مسائل ہیں۔ سامی مذاہب میں یہ مسئلہ ہے کہ ہر مذہبی گروہ اپنے ہی کو سچا سمجھتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں آرین مذاہب کا مسئلہ لوگوں کا یہ سمجھنا ہے کہ ہر مذہب سچا ہے۔ دونوں باتیں بظاہر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ مگر ڈائیلاگ کے عمل کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کے لئے دونوں یکساں طور پر مسئلہ ہیں۔ پونے بارہ بجے ہیلی کاپٹر کی گڑگڑاہٹ کی آواز آئی۔ معلوم ہوا کہ اتر پردیش کے راج پال موتی لال وورا آچکے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد کاروں کے قافلہ کے ساتھ وہ پنڈال میں داخل ہوئے۔

۳۱ دسمبر کے سرودھرم سمیلن میں پہلی تقریر مجھے کرنی تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام کے بارہ میں آج بہت غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسلام کو نفرت کا یا مارکاٹ کا مذہب سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر یہ بالکل الٹی بات ہے۔ اسلام سرتا سرا من اور محبت کا مذہب ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو مادی کے بجائے روحانی بنانا ہے۔ اسلام جب کسی کے دل میں اترتا ہے تو وہ آدمی کے جینے کی سطح کو بلند کر دیتا ایسا آدمی نفرت اور تشدد جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ پھر وہ غیر انسانی کام کیسے کرے گا۔ میں نے مختلف حدیثیں سنائیں ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ واقعات سنائے اور بتایا کہ آپ کا دل کس طرح ساری انسانیت کے لئے شفقت اور محبت سے بھرا ہوا تھا۔ آپ انسان کو ہر حال میں انسان کے روپ میں دیکھتے تھے، خواہ وہ اپنا ہو یا غیر۔

حقیقت یہ ہے کہ تمام مذاہب محبت ہی کا سبق دیتے ہیں۔ اقبال نے درست کہا ہے: مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

آخر میں میں نے کہا کہ خدا سے میری دعا ہے کہ وہ ہم سب کو انسانیت اور پیار کے ساتھ رہنے کی توفیق دے۔ کیوں کہ پیار سے بھرے ہوئے سینے ہی اس دیش کو آگے لے جائیں گے۔ بانی بولنے والے لوگ ہی کسی نئے مستقبل کی تعمیر کریں گے۔

آج مجمع کافی تھا۔ پنڈال میں ۲۵ ہزار سے زیادہ لوگ اکٹھے تھے۔ ان میں چند کو چھوڑ کر سبھی میں نے اسلام پر تقریر کی تو پوری کانفرنس میں سب سے زیادہ خاموشی چھائی رہی۔ انتہائی توجہ کے ساتھ میرا ایک ایک لفظ سنتے رہے۔ یوپی کے گورنر موتی لال وو رانے آخر میں کہا: بہت اچھا لگا آپ کا بیان۔

میں نے سوچا کہ اس ملک میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے کتنے زیادہ مواقع تھے۔ رہنماؤں نے صرف ان مواقع کو بر باد کیا۔ انھوں نے برادران وطن سے مناظرہ بازی چھیڑ دی۔ کی آندھی چلا کر دونوں فرقوں کو ایک دوسرے سے دور کیا۔ احتجاج اور حقوق طلبی کے ذریعہ فضا میں تلخی پیدا کرتے رہے۔ ایک کے بعد ایک ایسی تحریکیں اٹھائیں جو صرف نفرت اور تناؤ کو بڑھانے والی ہمارے رہنماؤں نے کبھی بھی محبت اور خیر خواہی کے انداز میں کام نہیں کیا۔ انھوں نے اس ملک کے لوگوں کو مثبت انداز میں اسلام کا پیغام نہیں دیا۔ اس میں استثناء صرف صوفیاء کا ہے۔ سبھی اخباروں کے نمائندے تھے۔ ہر اخبار میں میری تقریر کی رپورٹنگ ہوئی ۔ روزنامہ نو کرم یگ (بانده) یکم جنوری ۱۹۹۶ کا شمارہ راگھ وندرسجان نے مجھے لاکر دیا۔ اس کا ایک پیرا گراف یہ تھا: " مولانا وحید الدین خاں نے کہا کہ سبھی دھرم میں محبت اور انسانیت کی باتیں ملتی ہیں۔ کو مسلمانوں سے نہیں بلکہ مسلمانوں کو اسلام کی کسوٹی پر جانچاجاناچاہیے " اس جلسہ میں زیادہ تر دیہات کے لوگ آئے تھے۔ منتظمین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ اس کا مقصد دراصل عوام کو موبائلائز کرنا ہے۔ اس کے بہت سے سماجی اور اخلاقی فائدے ہیں۔ نے بتایا کہ ایک جاہل عورت سے میں نے پوچھا کہ تم نے یہاں آکر کیا پایا۔ اس نے کہا کہ میں نے تو یہ پایا کہ 'ہندو مسلم سب ایک ہیں اور ہمیں ایک بن کر رہنا ہے اس طرح انھوں نے کہا کہ یہاں ہرذات

کے لوگ اکٹھا بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ اس طرح چھوت چھات کا ذہن ختم ہوتا ہے۔ گاؤں کے لوگ یہاں آکر جب ہزاروں لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر نیشنل اسپرٹ پیدا ہوتی وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک بہت بڑے پریوار کے ممبر ہیں۔ باندہ کے ایک صاحب ایک تھیلی لائے تھے۔ انھوں نے اسے دیدی نزل دیش پانڈے کو پیش انھوں نے کہا کہ اس میں بڑے بڑے پونجی پتیوں کی رقمیں نہیں ہیں۔ بلکہ غریب لوگوں کی محنت کے پیسے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم نے لوگوں کو اکٹھا کر کے کہا کہ ہمیں سرو دھرّم سمبھاؤ سمیلِن کے لئے کچھ دان پیش کرنا ہے۔ تو سب سے پہلے چندہ دینے والا ایک فقیر تھا۔ اس دن اسے بھیک میں دو روپیہ ملے تھے۔ اس نے اپنی جھولی خالی کرتے ہوئے اپنی ساری پونجی ہمیں دے دی، ہم نے کہا کہ تم اس میں سے ایک روپیہ لے لو۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ میں ایک دن بھوکا رہ جاؤں گا۔ دیش کے لئے یہ کوئی بڑی قربانی نہیں۔

بمبئی سے ایک معمر مسلم خاتون مسز لطیفہ قاضی بھی اس اجتماع میں آئی تھیں 4922264)انھوں Tel) انھوں نے بتایا کہ ۱۰ سال پہلے میرے لڑکے ڈاکٹر قاضی سید محمد علی حیدر آباد میں ایم بی بی ایس کے طالب علم تھے۔ انھوں نے حیدر آباد میں آپ کی تقریرسنی۔ اس اس کو سن کر وہ رونے آپ نے اپنی تقریر میں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں سے صلح کرنے کے لئے کاغذ سے رسول اللہ کا لفظ مٹا دیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے یہ صاحبزادے اب نیویارک میں ایم ڈی کا کورس کر رہے ہیں۔ ان کا پختہ خیال ہو چکا ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے نہ کہ لڑنے بھڑنے کا مذہب۔

ایک صاحب نے کہا’’جب تک چناؤ کی راج نیتی نہیں آئی تھی دیش میں کوئی مت بھید نہیں تھا۔ ہندو اور مسلمان کے بیچ میں کوئی فرق نہیں تھا۔ الیکشن کی راج نیتی نے سارا معاملہ بگاڑ دیا۔ اجودھیا سے آئے ہوئے سری مہنت رام نے کہا کہ مسلمانوں کے کچھ لیڈر جب نفرت کی بولی بولتے ہیں تو اس کے رد عمل میں فوراً ہند و فرقہ پرستوں کا سنگٹھن ہو جاتا ہے۔ ہم ہندو فرقہ پرستی کے

خلا ف ہیں۔ ہم اس سے لڑ رہے ہیں۔ مگر مسلمانوں کے کچھ لیڈر، نفرت کی بولی بول کر ہمارا کام مشکل بنا دیتے ہیں۔

Shri Mahant Ram Kirpal Dass, Sanatan Mandir, Ram Ghat, Ayodhya (Tel. 052876-2137)

ایک مقرر نے بتایاکہ ونوبابھاوے جی نے جے جگت کا نعرہ دیا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ دیش کا نعرہ چھوڑ کر سارے جگت کا نعرہ کیوں دے رہے ہیں۔ و نو با جی نے جواب دیا کہ ہماری سوچ عالمی ہونا چاہئے، البتہ ہمارا عمل مقامی اعتبار سے ہونا چاہئے:

We have to think globally but we have to work locally. اجودھیا سے پروفیسر وائی آر ترپاٹھی آئے تھے۔ انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ سارے مذہب ایک ہیں۔ مگر یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی، اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کرسچن لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ہرانسان پاپ کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ دوسری طرف ہندو وید بتاتے ہیں کہ ہر آدمی پر ماتما کا انش کے روپ میں پیدا ہوتا ہے۔ جب مذہبوں کے بیچ میں ایسے اختلافات ہیں تو یہ کہنا کیسے چل سکتا ہے کہ سب مذہب ایک ہیں۔

Prof. Y. R. Tripathi, Principal K. S. Saket Postgraduate College, Ayodhya Faizabad, U.P. (Tel. 0527-814203 (R.)) (05276-2305 O.)

میں نے کہا کہ سارے مذاہب ایک ہیں‘ صرف ایک خیالی فلسفہ ہے۔ وہ کوئی عملی بات مذہبی اختلاف کا حل اختلاف کو برداشت کرنا ہے نہ کہ اختلاف کو مٹانا۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے ایک سابق ہندو استاد نے ۱۹۵۳ کا ایک واقعہ بتایا۔ مسلمان جنھوں نے آزادی کی جنگ میں اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا۔ آزادی کے بعد وہ لکھنؤ میں پنڈت گووند لبھ پنت (چیف منسٹر) سے ملے۔ انھوں نے پنت جی سے کہا کہ میرے جاننے والے مجھ سے کہتے ہیں کہ تم کو آزادی سے کیا ملا۔ آپ مجھے کم سے کم ایم ایل سی بنا دیجئے ۔ تاکہ میں اپنے لوگوں کو جواب دے سکوں۔ گووند لبھ پنت نے مذکورہ مسلمان سے کہا کہ تم کو ایم ایل سی بنا کر ہم کیا کریں گے۔ ہم کو تو وہ آدمی چاہئے جو ہم کو مسلمانوں کا ووٹ دلائے۔ مذکورہ مسلمان نے کہا کہ پنت جی کے یہ الفاظ

سن کر مجھے ایسا لگا جیسے مجھے آسمان سے زمین پر پٹک دیا گیا ہو۔

موصوف نے کہا کہ میں خود ایک کانگریسی ہوں۔ مگر آزادی کے بعد کانگریسی لیڈروں نے بس ووٹ کو سب کچھ سمجھ لیا۔ یہاں تک کہ لیگیوں اور فرقہ پرستوں سے انھوں نے صرف اس لئے جوڑ پیدا کر لیا کہ وہ انھیں اپنے فرقہ کا ووٹ دلا سکیں گے۔

۳۱ دسمبر کی شام کو منچ پر نواح کے ایک بدھسٹ ڈاکٹر تاشی سامپھل (Tashi Samphel) سے ان کی عمر ۴۲ سال ہے آج کل وہ سار ناتھ کے تبت انسٹی ٹیوٹ میں استاد ہیں۔ سے میں نے پوچھا کہ اسلام میں جس طرح لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بیسک اصول ہے۔ اسی طرح بدھ دھر م کا بنیادی اصول کیا ہے۔ انھوں نے منکسرانہ انداز میں کہا: سبھی اکشل کرموں کو نہیں کرنا، کشل کرموں کو کرنا۔ اور من کو قابو میں رکھنا۔

ایک صاحب (مسٹر لال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، انھوں نے کہا کہ میں اس طرح کمیونزم پر بات چل پڑی۔ پہلے نظریاتی گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ سوویت یونین سے کمیونزم کی ناکامی یہ ثابت کرتی ہے کہ مارکسی نظریہ صحیح نہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ عمل کی ناکامی سے نظریہ کی غلطی ثابت نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ یہاں مسئلہ سادہ طور پر عملی ناکامی کا نہیں ہے بلکہ ایک مفروضہ کے غلط ثابت ہونے کا ہے۔ مارکس نے کہا تھا کہ انسانی شعور کوئی مستقل چیز نہیں۔ پیداوار اور تبادلہ کا نظام انسانی شعور کی صورت گری کرتا ہے۔ سوویت یونین میں یہ نظام مکمل طور پر بدل مگر انسانی شعور میں مطلق کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ دولت کی حرص، اقتدار پسندی، اغراض کا ٹکراؤ، سب بدستور پوری طرح جاری رہا۔

وہ بحث کرتے رہے۔ پھر میں نے موضوع بدل دیا۔ میں نے کہا کہ بالفرض اگر آپ کمیونزم کی نظریاتی غلطی نہ مانیں تو ایک اور بات تو خالص تاریخی ہے۔ اس کو تو بہر حال آپ کو ماننا وہ یہ کہ کمیونسٹ نظام عملی طور پر چلنے والا (sustainable) نظام نہیں۔ اس کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ سوویت سسٹم کسی خارجی حملہ کے بغیر خود اپنی داخلی کمزوریوں کی بنا پر ٹوٹ گیا۔ جب کہ وہ نظام

جس کو مارکس نے سرمایه‌دارانہ نظام کہا تھا، وہ رکاوٹوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مزید طاقت کے ساتھ پھر جو نظام سرے سے قابل عمل ہی نہ ہو، اور اگر قابل عمل ہو تو اس وقت جب کہ بد ترین تشدد کے ذریعہ انسانی آزادی کا خاتمہ کر دیا جائے۔ پھر ایسے نظام کو کیا ضرورت۔ ایک ۶۰ سالہ مسلم خاتون سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے شادی نہیں کی ہے۔ انھوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی ہے اور ایک یونیورسٹی میں ملازم ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کو کیا تنہائی (loneliness) کا احساس نہیں ہوتا، انھوں نے کہا کہ اب دو تین سال سے ہونے لگا ہے۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ سروس سے ریٹائر ہونے کے بعد یہ احساس اور زیادہ بڑھ جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ کچھ عورتیں گھریلو زندگی کے جھنجھٹ سے بچنے کے لئے شادی نہیں کرتیں۔ جوانی کی عمر میں یہ ایک خوش نما بات دکھائی دیتی ہے۔ مگر جب عمر زیادہ ہوتی ہے تو ایسی زندگی سراپا مسئلہ بن جاتی ہے۔

یہاں تمام آنے والوں کو کھانا کھلایا جارہا تھا۔ اس لئے ان کی تعداد کا قطعی اندازہ کرنا ممکن تھا۔ ۳۱ دسمبر کو معلوم ہوا کہ آنے والوں کی تعداد ۲۰ ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ دور اور قریب سے کثیر تعداد میں مرد اور عورتیں وسیع پنڈال میں جمع تھے۔ اسٹیج سے اعلان کیا گیا کہ یہاں دیش کے کونے کونے سے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ کنیا کماری سے لے کر کشمیر تک کے لوگ یہاں جمع ہیں۔

میں نے ایک صاحب سے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں، دونوں ہی میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جلسوں اور میلوں میں بھاری تعداد میں آتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ طرح کے اجتماعات کے بارے میں میرا نظریہ یہ ہے کہ ان کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہوتی۔ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہر آدمی، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، کسی نہ کسی وجہ سے ٹینشن میں رہتا ہے۔ چونکہ سفر کے ذرائع بڑھ گئے ہیں، اس بنا پر لوگوں کے لئے اپنے ٹینشن کو ریلیز کرنے کا یہ آسان طریقہ نظر آتا ہے کہ یہاں سے وہاں چلے جائیں۔ چنانچہ ایسا کوئی موقع سامنے آتے ہی لوگ اپنے گھروں سے نکل پڑتے ہیں۔ ان اجتماعات کی حیثیت زیادہ تر آؤٹنگ کی ہے۔ اپنے اپنے ذوق کے مطابق،

کوئی مذہبی آؤٹنگ کر رہا ہے، کوئی سیاسی آؤٹنگ، کوئی اور آؤٹنگ۔

مسٹر عبدالمعبود ایم ایس سی (دہلی) سروٹس آف پیپل آف انڈیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ سوسائٹی بہت سے رفاہی ادارے (اسپتال، معذوروں کا اسکول وغیرہ) چلاتی میں نے ان سے پوچھا کہ اس طرح کے سماجی خدمت کے ادارے ہندوؤں میں بہت زیادہ جب کہ مسلمانوں میں ایسے ادارے نسبتاً بہت کم ہیں۔ اور جو ہیں وہ بھی اکثر خراب حالت میں چل رہے ہیں۔ جب کہ ہندوؤں کے ادارے عام طور پر کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔

عبدالمعبود صاحب نے کہا کہ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ہندو اس کو پن سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ اگلے جنم میں اس کو اس کا فائدہ ملے گا۔ مگر یہاں یہ سوال باقی رہتا ہے کہ مسلمانوں میں آخرت کا تصور اس سے زیادہ واضح شکل میں موجود ہے۔ پھر آخرت کا تصور ان کے لئے سماجی خدمت کا محرک کیوں نہیں بنتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب موجودہ مسلم رہنما ہیں۔ موجودہ مسلمانوں میں ایسے لوگ تو بہت اٹھے جنھوں نے کچھ معروف مذہبی شکلوں میں آخرت کا فائدہ بتایا۔ مگر ایسے رہنما سرے سے پیدا ہی نہیں ہوئے جو سماجی اور انسانی خدمت کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بتائیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں مدرسہ اور مسجد جیسے کاموں کی تو خوب دھوم دکھائی دیتی ہے مگر سماجی اور انسانی خدمت والی سرگرمیاں ان کے یہاں بہت کم پائی جاتی ہیں۔

یکم جنوری کی صبح کو بہت سے ہندو میرے کمرہ میں آئے۔ ہر ایک نے کہا: ہیپی نیوایئر، ہیپی میں نے کہا کہ آپ کے لئے بھی (same to you)۔ ایک صاحب نئے سال کی خوشی میں کاجو لا کر دینے لگے، وغیرہ۔

نئے سال کی آمد پر خوشی کا اظہار کرنا یا نہ کرنا بظاہر ایک سادہ سی بات ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ نفسیاتی نقطہ نظر سے یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ نئے سال کا اس طرح استقبال کرنا آدمی کے اندر

اس نفسیات کو جگاتا ہے کہ گردش زمانہ نے مجھے کام کرنے کا ایک اور سال دیا۔ اس کے برعکس نئے سال کی آمد پر اگر آپ کے احساس کی دنیا میں اس قسم کی کوئی ہلچل نہ پیدا ہو تو آپ کا حال اس کا ہل انسان کا سا ہو جائے گا جس کے اوپر رات کا اندھیرا ختم ہو کر صبح کا اجالا آئے مگر وہ آنکھ بند کئے ہوئے بدستور اپنے بستر پر پڑاسوتارہے ایک بار کھانے کی میز پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اسلام میں بتایا گیا ہے کہ مومن کا جوٹھا انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ میڈیکل سائنس کی رو سے آپ اس کو کس طرح اکسپلی کریں گے۔

میں نے کہا کہ یہ سائنسی جملہ نہیں ہے بلکہ نفسیاتی جملہ ہے۔ اس کو لفظی معنی میں لینا درست مخصوص صورت حال میں جب کہ گلاس ایک ہو اور پانی پینے والے ایک سے زیادہ ہوں تو وہاں کہہ دیا گیا کہ ایک ہی گلاس میں سب لوگ پی لو۔ اس کو مسئلہ نہ بناؤ۔ اس حدیث میں شفاء کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنے سے انسانی محبت و اخوت کا جذبہ بڑھے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ چھوا چھوت کی نفسیات کو ختم کرنے کی ایک بات ہے نہ کہ طبی معنی میں کوئی علاج معالجے کی بات۔ راج کرن سنگھ ایک نوجوان تھے جو بارہ بنکی سے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی سمسیا یہ ہے کہ لوگوں کی مانسکتا بدلتی جارہی ہے۔ نئی پیڑھی کے اندر بھلائی اور برائی کا فرق مٹتا جا رہا ہے۔ بھارتیہ سنستکار یہ تھا کہ دوسرے کے سکھ میں اپنا سکھ۔ نیا بھوتک وادیہ سکھاتا ہے کہ اپنا سکھ تو سب کا ہمیں اس کو بدلنا ہے۔ نہیں تو سارے دیش کا ناس ہو جائے گا۔

مسٹر دیو کمار یادو ایڈوکیٹ (55294 .Tel) باندہ سے آئے تھے۔ وہ وکالت کے ساتھ سماجی کام بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ سماج سدھار کے کام کے لئے نقطہ آغاز (اسٹارٹنگ پوائنٹ) کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلا کام لوگوں میں ایکتا لانا ہے۔ تک مختلف فرقوں (خاص طور پر ہندو مسلم) میں ایکتا نہیں آئے گی، وکاس کا کوئی ٹھوس کام یا کوئی بڑا کام نہیں کیا جا سکتا۔

میں نے سوچا کہ آج ہندوستان کا ہر آدمی کسی نہ کسی الفاظ میں یہی بات کہہ رہا ہے۔ ہر ایک یہ محسوس کرتا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ یکتا ملک کی ترقی کے لئے پہلی اور لازمی شرط ہے۔ یہ ہے کہ یکتا کیسے آئے۔ جب بھی دو فرقوں میں نزاع کی حالت قائم ہو جائے تو اکثر لوگ یہ انتظار کرنے لگتے ہیں کہ دونوں طرف سے پہل ہو اور دو طرفہ بنیاد پر اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں دو طرفہ بنیاد پر کبھی اصلاح نہیں آتی۔ حالات میں اصلاح کا ایک ہی قابل عمل طریقہ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک گروہ پہل کر کے یک طرفہ بنیاد پر جھگڑے کو ختم کردے۔

عبد الکریم صاحب کشمیر سے آئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ دہلی کی حکومت کی غلطی ہے کہ اس نے کشمیر میں بلٹ کا جواب بلٹ سے دینا شروع کیا۔ اسی سے مسائل پیدا ہوئے ۔ مہاتما گاندھی کے طریقہ کو اختیار کیا جاتا تو کشمیر کا مسئلہ پیدا ہی نہ ہوتا۔ تاہم میرا خیال ہے کہ یہ ایک آئیڈیلزم تو ہوسکتی ہے مگر وہ مسئلہ کا عملی حل نہیں۔ نوجوانوں نے جب پڑوس کے دشمن ملک کی مدد لے کر کشمیر میں گن کلچر کا آغاز کر دیا تو اس کے بعد عملی طور پر یہ ناممکن تھا کہ نئی دہلی کی طرف سے اس کہ جواب میں پھول کلچر چلایا جائے ۔ اب کشمیر کے مسئلہ کا یہ حل نہیں ہے کہ کشمیر کے لوگ دہلی سے یہ مانگ کریں کہ آپ لوگ گولی کا جواب گولی سے نہ دے کر گولی کا جواب پھول سے دیجئے ۔ اس مسئلہ کا ممکن حل صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ کشمیر کے لوگ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ہتھیار پھینک دیں۔ پڑوسی ملک سے تعلق کو ختم کر دیں اور پرامن طور پر گفت و شنید کی میز پر آجائیں۔ اس کے سوا ہر دوسری بات صرف خوبصورت لفظ ہے، وہ مسئلہ کا خوبصورت حل نہیں۔

چتر کوٹ کا جلسہ ایک عوامی جلسہ تھا۔ یہاں کا اصول یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو بولنے کا موقع دیا چنانچہ پانچ منٹ، دس منٹ کے وقت میں بہت سے لوگ بولے ۔ یہاں کے تجربہ اور دوسرے تجربات کو دیکھتے ہوئے میں نے مسٹر پنچم لال سے کہا کہ دنیا میں سب سے کم (rarest among the rare)

جو چیز ہے وہ ایسے افراد ہیں جن کے اندر ہم آہنگ سوچ ہو۔ مجھ کو ہر آدمی کا دماغ طرح طرح کی باتوں کا ایک ڈھیر نظر آتا ہے۔ انھوں نے مجھ سے اتفاق کیا۔

یکم جنوری ۱۹۹۶ کو ساڑھے بارہ بجے ایک صاحب منچ پر آئے۔ ان کا نام رام گاندھی تھا۔ ان کی عمر ۸۰ سال تھی۔ ان کا حلیہ، ان کا لباس بالکل مہاتما گاندھی جیسا تھا۔ وہ ایک لاٹھی لئے ہوئے اور بالکل گاندھی کی طرح چلتے ہوئے منچ پر آئے۔ وہ گاندھی جیسی عینک لگائے ہوئے تھے۔ کے اتنا زیادہ مشابہ تھے کہ وہ گاندھی کا زندہ اسٹیچو معلوم ہوتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھاکہ دیش کے لوگوں کے لئے دو شبدوں میں آپ کا سندیش کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گاندھی جی کے راستہ پر چلنے ہی سے دیش کاکلیان ہوگا۔

سومنا دیدی ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں ۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بابا صاحب (ونو با جی) کہا کرتے تھے کہ کل کی دنیا کو مہلا چلائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس کو پورا کرنے کے لئے ہم مہیلاؤں کو تیاری کرنا چاہئے۔

یہ بات کہ فلاں گروہ دنیا کو چلائے گا، فلاں گروہ دنیا کی امامت کرے گا۔ یہ میرے نزدیک صرف سادہ لوحی کی بات ہے۔ دنیا کی امامت کون کرے، اس کا فیصلہ براہ راست خدا کی طرف سے کوئی گروہ نہ دعویٰ کے ذریعہ دنیا کا امام بن سکتا ہے اور نہ خود ساختہ تیاری کے ذریعہ۔ ایک مقرر نے بڑے جوش کے ساتھ کہا: گاندھی نے غلامی کو ختم کیا۔ انھوں نے ہم کو آزاد میں نے سوچا کہ اس قسم کی باتیں آج ہر جگہ کہی جارہی ہیں۔ پاکستان کے لوگ کہتے ہیں کہ ہندو قیادت کسی بھی طرح پاکستان بننے دینا نہیں چاہتی تھی۔ مسٹر محمد علی جناح نے اپنی بے مثال قیادت کے ذریعہ پاکستان کو بنوایا۔ اسی طرح کسی مسلم ادارہ میں جائیے تو وہاں اپنے حضرت کی قصیدہ خوانی ہورہی ہوگی۔ اور ادارہ کی ساری ترقی حضرت کے حصہ میں ڈالی جارہی ہوگی۔ خدا کی زمین پر کوئی بھی نہیں جو خدا کی تعریف کرے۔ جس کا سینہ اس احساس سے لبریز ہو جائے کہ جو کچھ اس کو ملا ہے وہ خدا کے دینے سے ملا ہے۔ اگر خدا نہ دیتا تو وہ کچھ بھی پا نہیں سکتا تھا۔

۳۱ دسمبر کو آخری سیشن تھا، ۲ بجے دن میں میری تقریر تھی۔ خلاصہ یہ تھا کہ آپ کو میرا آخری سنڈلیش صرف ایک ہے” ’’آشاوادی بنیےاورنراشاکو چھوڑ دیجئے“۔ میں نے کہا کہ پچھلی رات کو جب میں گیسٹ ہاؤس میں سونے گیا تو ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا۔ لیکن آج جب میں سو کر اٹھا تو سورج نکل آیا اور دوبارہ چاروں طرف اجالا پھیل گیا۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ خدا اس طرح اپنے بندوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس دنیا میں ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے۔ یہاں ہر نہیں میں ہے کا امکان چھپا ہوا ہے۔ یہ دنیاکبھی سمسیاؤں سے خالی نہیں ہو سکتی۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ سارا سماج ویسا ہی ہو جائے جیسا کہ ہم چاہتے ہیں۔ ایسی حالت میں کرنا کیا ہے۔ کرنا یہ ہے کہ سمسیاؤں میں جینا سیکھئے ۔ آپ جانتے ہیں کہ گلاب کے پیڑ میں جہاں پھول ہوتے ہیں۔ کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ آپ کتنا ہی بلڈوزر چلائیں مگر جب بھی گلاب کی شاخیں دوبارہ نکلیں گی تو ان میں پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہوں گے۔

یہ فطرت کا خاموش پیغام ہے کہ اگر پھول چاہتے ہو تو کانٹوں کو نظر انداز کرو۔ کانٹوں سے اپنی نگاہیں ہٹا لیں تو سارا باغ آپ کو پھول ہی پھول دکھائی دے گا۔ یاد رکھئے ، زندگی کانٹوں سے نباہ کرنے کا نام ہے، کانٹوں کے خلاف شور کرنے کا نہیں۔ زندگی صبح کے انتظار کا نام ہے، رات کے آنے پر واویلا کرنے کا نہیں۔

مسٹر راگھ وندرکمارسجان دوہندی اخباروں کے کرسپانڈنٹ ہیں۔ آج (کانپور) اور نو کرم یگ انھوں نے تفصیل کے ساتھ اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندو مسلم مسئلہ اخباروں میں جتنا زیادہ دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں وہ اتنا زیادہ نہیں بلکہ اس سے بہت کم ہے۔

علاقہ کے تمام اخباروں میں جلسہ کی رپورٹنگ ہوئی۔ دینک جاگرن (کانپور) نے اپنے شمارہ یکم جنوری میں جو رپورٹ شائع کی، اس کا ایک حصہ یہ تھا: دہلی سے آئے ہوئے مولانا وحید الدین نے کہا کہ ”اسلام پیار کا گرنتھ ہے، اور نرمتا اس کا پہلا سبق ہے۔ انھوں نے کہا کہ پیار اور شانتی بھرے سینہ

سے ہی دیش کو آگے لے جایا جاسکتا ہے۔ قرآن میں بتائی ہوئی کسوٹی پر کھرا اتر مسلمان شانتی کا سمر تھک ہوتا ہے۔ یکم جنوری ۱۹۹۶ نئے سال کا پہلا دن تھا۔ صبح کو میں گیسٹ ہاؤس کے سامنے ٹہل رہا تھا۔ اور خاموشی کے ساتھ اپنا احتساب کر رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ میری عمر اب کافی ہوگئی ، میں بڑھاپے کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ اور اب تک شاید میں کچھ نہ کر سکا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمر بے کار گزر گئی۔

میں نے دو چیزوں کو اپنی کوششوں کا نشانہ بنایا تھا۔ مسلمانوں کے اعتبار سے یہ نشانہ کہ موجودہ مسلم نسلوں کے لئے اسلام کو ان کی از سر نو دریافت (re-discovery) بناؤں۔ ہندوؤں کے اعتبار سے میرا نشانہ یہ تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تناؤ ختم ہو۔ دونوں فرقوں کے درمیان معتدل حالات میں اختلاط ہونے لگے۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ پہلا مقصد پوری طرح حاصل ہوا اور نہ دوسرا مقصد۔

یکم جنوری ۱۹۹۶ کی شام کو واپسی کا دن تھا۔ مغرب کی نماز گیسٹ ہاؤس میں پڑھی۔ بعد پروفیسر ہاشم قریشی اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ڈائننگ ہال میں کھانا کھایا۔ کھانا بالکل سادہ تھا روٹی ، دال ، سبزی ، چاول ۔ وہ بالکل میرے ذوق کے مطابق تھا۔ اس طرح کا سادہ کھانا میں شوق سے کھاتا ہوں۔ جس پر تکلف کھانے کو لوگ ڈٹ کر کھاتے ہیں ، اس کے بارہ میں میرا احساس اکثر ان الفاظ میں ڈھل جاتا ہے :

Printed page