Al-Risala · January 2000

غلط سوچ کا مسئلہ

Al-Risala, January 2000, pp. 19–25

By Maulana Wahiduddin Khan

ماہنامہ الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں: آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ آدمی کے لئے جب کامیابی کا ایک موقع ختم ہو جائے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں کہ اس کے بعد دوسرا موقع وہیں اس کے لئے موجود رہتا ہے جس سے وہ اپنی ترقی کا سفر دوبارہ شروع کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ آدمی کس طرح جانے کہ یہاں اس کے لئے دوسرا موقع موجود ہے۔ (سہیل احمد، نئی دہلی)

نئے موقع کو پہچاننے کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ آدمی بند ذہن کے تحت نہ سوچے بلکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے لئے تیار ہو۔ وہ دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے کے مزاج سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا لے۔ اس کی ایک مثال ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ ۱۹۴۷سے پہلے ہمارے لیڈر اور ہمارے اخبارات مسلمانوں کو یہ بتاتے تھے کہ ہندوستان میں ان کا مقابلہ ہندو اکثریت سے ہے۔ یہاں وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتے ۔ ۱۹۴۷میں تقسیم کے بعد بھی یہی ذہن باقی رہا۔ تمام بولنے والے اور لکھنے والے لوگ مسلمانوں کو یہی منفی سبق دیتے رہے۔ کچھ لوگ اس حد تک گئے کہ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ یہاں کا اکثریتی فرقہ ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں اس ملک کو دوسرا اسپین بنانا چاہتا ہے۔ اس غوغا آرائی نے مسلمانوں کے ذہن کو اتنا زیادہ بگاڑا کہ وہ سمجھنے لگے کہ ہندوستان میں ان کے لئے کامیابی اور ترقی کے مواقع سرے سے موجود ہی نہیں۔ میں ۱۹۴۷سے اس کے خلاف لکھتا اور بولتا رہا ہوں۔ آخر کار آزادی کے تقریباً ۴۰ سال بعد مسلمانوں کا ذہن بدلنا شروع ہوا۔ اب ان کی سمجھ میں آیا کہ ہندوستان میں ان کے لئے ہر قسم کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اب یہاں کے مسلمان ہر میدان میں مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔

اصل یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام فطرت کے قوانین کے تحت چلتا ہے نہ کہ کسی متعصب فرقہ کے منصوبوں یا سازشوں کے تحت۔ کوئی فرقہ یا گروہ بالفرض چاہے بھی تو فطرت اس کے راستہ میں رکاوٹ بن جائے گی اور وہ تاریخ کے پہیہ کو الٹی طرف گھمانے میں کامیاب نہ ہوگا۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، اس دنیا کا نظام فطرت کے اٹل قانون کے تحت چل رہا ہے نہ کہ کسی گروہ کی سازش کے تحت۔ فطرت کے اس قانون کا ایک حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ وہ اکثر حالات میں کمزور فریق کا ساتھ دیتا ہے۔ وہ نام نہاد بڑے گروہ کے مقابلہ میں چھوٹے گروہ کی حمایت کرتا ہے۔ قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب

ایک کمزور گروہ اپنے مقابلہ میں طاقتور گروہ سے کیوں کر بڑھ جاتا ہے اور فطرت کا قانون کس طرح اس کا مددگار بنتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خالق فطرت نے پیدائشی طور پر ہر انسان کے اندر اتھاہ امکانات رکھ دئے ہیں۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ مگر ابتدائی طور پر یہ صلاحیت سوئی ہوئی حالت میں ہوتی ہے۔ یہ تمام اعلیٰ امکانات اس کے اندر بالقوۃ طور پر موجود یہ انسان کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اس بالقوۃ (potential) کو بالفعل (actual) میں تبدیل

یہاں دوبارہ فطرت کا قانون یہ ہے کہ یہ تبدیلی دباؤ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ یعنی کسی فرد یا گروہ کے اوپر حالات کا جتنا زیادہ دباؤ پڑتا ہے، اتنا ہی زیادہ اس کی چھپی ہوئی صلاحیت ابھر کر سامنے آتی یہ عین وہی فطری معاملہ ہے جو، مثال کے طور پر، گنے کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر گنارس سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ مگر معمول کے حالات میں یہ رس گنے سے باہر نہیں آتا۔ گنے کا رس صرف اس وقت اندر سے نکل کر باہر آتا ہے جب کہ اس پر غیر معمولی دباؤ پڑے۔ گنے کو اگر آپ نرم روئی میں رکھ دیں تو اس کا رس کبھی باہر نہیں آئے گا۔ لیکن جب آپ گنے کو کریشر (crusher) میں ڈالتے ہیں تو اس کے اندر بھرا ہوا میٹھا رس نکل کر باہر آ جاتا ہے۔

یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان بھی ہمیشہ دباؤ کے حالات میں ترقی کرتا ہے۔ یہی اصول فرد کے لئے بھی ہے اور یہی اصول جماعت کے لئے بھی۔ اس معاملہ کو مشہور برطانوی مورخ آرنلڈ جے ٹوائن بی نے اپنی کتاب مطالعہ تاریخ (A Study of History) میں کامیابی کے ساتھ واضح کیا

۱۲ جلدوں کی اس کتاب میں اس نے بتایا ہے کہ تاریخ کی تمام بڑی بڑی تہذیبوں کو جو لوگ وجود میں لائے وہ اقلیت میں تھے۔ یہ دراصل اقلیتی گروہ ہے جو تاریخ کے تمام بڑے بڑے واقعات کے پیچھے کام کرتا رہے۔

ٹوئن بی کے مطابق، اس کا اصول یہ ہے کہ اکثریتی گروہ کی طرف سے اقلیتی گروہ کو چیلنج پیش یہ چیلنج اقلیتی گروہ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اکثریتی گروہ کے مقابلہ میں زیادہ کام کرے۔ وجود کو باقی رکھنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو دوسروں سے زیادہ استعمال کرے۔ حالات کا یہ دباؤ اقلیتی گروہ کو ابھارتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہیروانہ کرداراداکرنے کے قابل ہوجاتاہے ۔ ٹوائن بی نے فطرت کے اس اصول کو تاریخ کی اکیس تہذیبوں کی عملی مثال سے ثابت کیا ہے۔

فطرت کا یہی قانون ہندستانی مسلمانوں پر صادق آتاہے ۔ ۱۹۴۷سے پہلے ہندستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ وہ اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے چھوٹے اور بڑے گروہ کے درمیان ایک موازنہ (بیلنس) قائم کئے ہوئے تھے۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو جب ہندستان آزاد ہوا اور یہاں جمہوری دور آیا تو انگریز کا قائم کردہ موازنہ ٹوٹ گیا۔ اب مسلمانوں کی حیثیت اقلیتی گروہ کی ہوگئی اور ہندوؤں کی حیثیت اکثریتی گروہ کی۔ اس کے بعد ہندستانی مسلمانوں کے لئے بہت سے مسائل پیدا ہو گئے جو انگریزوں کے زمانے میں موجود نہ تھے۔

ہندستانی مسلمانوں کے لئے بظاہر یہ ایک مسئلہ تھا۔ مگر فطرت کے قانون کے مطابق وہ ایک اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کی چھپی ہوئی قوتوں کو بیدار کرنے کے ہم معنی تھا۔ بیداری کا یہ عمل ابتدائی طور پر ۱۹۴۷ کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ مگر اپنے پہلے دور میں وہ غیرشعوری حالت میں عمل کرتا رہا۔ اس کے بعد دوسرا دور آیا اور بیداری کا یہ عمل شعوری طور پر شروع ہو گیا۔ عمل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہر جگہ اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے دہلی میں مسلمانوں کا ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع تھا: مسلمانوں کا معاشی چھڑا یہاں مختلف مقررین نے اظہار خیال کیا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ مفروضہ بجائے خود

غلط ہے کہ اس ملک کے مسلمان پچھڑ گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اصل حقیقت برعکس طور پر یہ ہے کہ اس ملک کے تقریباً ہر مسلمان نے ۱۹۷۲ کے بعد ترقی کی ہے۔ میں نے کہا کہ صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں اور خود ہندوستان میں ایک اقتصادی انفجار (economic explosion) آیا ہے۔ میں یہ ایک قسم کا خلاف زمانہ قول ہے کہ مسلمانوں کو اقتصادی اعتبار سے پچھڑا ہوا گروہ بتایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا بیان بظاہر ہی قابلِ رد ہے۔

پھر میں نے اپنی تقریر میں حاضرین کو براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جو مسلمان اس ہال کے اندر موجود ہیں، ان میں سے ہر مسلمان کی اقتصادی حالت ۱۹۷۲ کے مقابلہ میں آج زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر آپ میں سے کسی کا معاملہ اس سے مختلف ہو تو وہ کھڑا ہو کر میرے اس بیان کی تردید کرے۔ حاضرین میں سے کسی ایک مسلمان نے بھی یہ نہیں کہا کہ ۱۹۷۲ میں میری جو معاشی حالت تھی اس کے مقابلہ میں آج میری حالت خراب ہو چکی ہے۔

میں نے اس معاملہ کا باقاعدہ سروے کیا ہے اور اپنی کتاب’’ہندوستانی مسلمان‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق، ہندوستان کا تقریباً ہر مسلم ادارہ، ہر مسلم جماعت، ہر مسجد اور ہر مدرسہ ۱۹۷۲ کے مقابلہ میں آج دگنا اور چوگنا ترقی کر چکا ہے۔ تقریباً ہر مسلم خاندان ۱۹۷۲ کے مقابلہ میں آج زیادہ بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ تعلیم اور اقتصادیات کے میدان میں ہندوستانی مسلمان ۱۹۷۲ کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ یہ ترقی اتنا عام ہو چکی ہے کہ کسی بھی مسلم خاندان کا جائزہ لے کر اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

اس معاملہ کی ایک چشم کشا مثال وہ ہے جو جولائی ۱۹۹۹ میں سامنے آئی۔ نیویارک کے مشہور اقتصادی میگزین فوربس (Forbes) نے ساری دنیا کے ارب پتیوں کا سروے کیا۔ اس سلسلہ میں اس نے ہندوستان کے ارب پتیوں کا بھی سروے کیا۔ اس سروے کے نتائج فوربس میگزین کے شمارہ ۵ جولائی ۱۹۹۹ میں شائع ہوئے۔ اس کے بعد وہ ہندوستان کے تمام اخباروں، مثلاً ٹائمس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس، وغیرہ میں نقل ہوئے۔

فوربس میگزین کے سروے کے مطابق اس وقت ہندستان کے ارب پتیوں (billionaires) میں جو آدمی نمبر ایک پر ہے وہ بنگلور کا ایک مسلمان ہے جس کا نام عظیم ہاشم پریم جی ہے۔ اس کے علاوہ ہندستان کے دس انتہائی بڑے دولت مندوں میں سے تین آدمی مسلمان ہیں۔ انٹیلی جنٹ انوسٹر (Intelligent Investor) کے شمارہ ۱۴ جولائی ۱۹۹۹ میں یہ رپورٹ ایٹ دی ٹاپ (At The Top) کے عنوان سے چھپی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی کے شمارہ ۲۷جون۱۹۹۹میں یہ رپورٹ ویری رچ (Very Rich) کے عنوان سے چھپی ہے۔ دوسرے اخباروں میں یہ رپورٹ رچسٹ انڈین

مستقبل کی قیادت ایک تاریخی قانون مشہور انگریز مورخ آرنلڈ ٹوائن بی ۱۸۸۹ء میں لندن میں پیدا ہوا اور ۱۹۷۵ء میں یارک شائر میں اس کی وفات ہوئی۔ ۳۵ سال کے لمبے مطالعہ کے بعد اس نے اپنی کتاب مطالعہ تاریخ (A Study of History) لکھی۔ یہ کتاب بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کی آخری جلد ۱۹۶۱ میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں پوری انسانی تاریخ کی ۲۶ معلوم تہذیبوں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کا ایک مربوط فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔

آرنلڈ ٹوائن بی اپنے تاریخی مطالعہ کے ذریعہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جب بھی دنیا میں کوئی نئی تہذیب ظہور میں آتی ہے تو اس کے پیچھے کسی اقلیتی گروہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ دراصل اقلیت ہی ہے جو ان فطری اور تاریخی صلاحیتوں کی حامل ہوتی ہے جو کسی نئے تہذیبی انقلاب کو ظہور میں لانے کے لئے اس قسم کا تخلیقی انقلاب کبھی کسی اکثریتی گروہ کے ذریعہ وجود میں نہیں آیا۔ آرنلڈ ٹوائن بی کے اس تاریخی فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی تہذیب کا ابتدائی مرحلہ ماحول کے چیلنج سے ظہور میں آتا ہے۔ یہ ماحول نہ تو اتنا سخت ہو جو ترقیاتی عمل کو ابھرنے نہ دے اور نہ اتنا موافق ہو کہ وہ تخلیقی روح کو معطل کردے۔ تخلیقی اقلیت اس چیلنج کا جواب دے کر غیر فعال اکثریت کو قیادت فراہم کرتی ہے۔ چیلنج کا جواب دینے کے اس عمل کو مزید تقویت اقلیت کے پیش کردہ حل کی عمومی قبولیت سے ملتی ہے (جو اس کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے) :

The initial stage of a civilization is its growth, brought about by an environmental challenge, neither too severe to stifle progress nor too favourable to inhibit creativity. Which finds a response among a creative minority that provides leadership to the passive majority. The mechanism of challenge-response is complemented by the general acceptance of and loyalty to the minority's solutions. اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ملک میں جو گروہ اقلیت میں ہو اس کو عین قانون فطرت کے تحت

اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج کا سامنا پیش آتا ہے۔ یہ صورت حال ایک طرف اقلیتی گروہ کی صلاحیتوں کو بیدار کر کے اس کو فعال بناتی ہے۔ دوسری طرف اکثریتی گروہ چیلنج سے محفوظ ہونے کی بنا پر غیر فعال ہوتا چلا جاتا ہے، اس کو وہ مہمیز نہیں ملتی جو اس کی صلاحیتوں کو بیدار کرے۔ یہ صورت حال مکمل طور پر اقلیتی گروہ کے حق میں ہوتی ہے۔ اب اگر اقلیتی گروہ اتنا کمزور نہ ہو کہ حالات کے دباؤ کے تحت وہ کچل کر رہ جائے تو یہی وہ تاریخی گروہ بن جاتا ہے جو نئی تہذیب پیدا کرے اور انسانیت کو ایک نئے اور بہتر مستقبل کی طرف لے جائے۔

Printed page