Al-Risala · February 2000

جب کشتی ٹوٹی ہو ملاح بدل کر کیا ہوگا

Al-Risala, February 2000, pp. 7–11

By Maulana Wahiduddin Khan

چتر کوٹ سے دوبارہ "مهاكوشل ایکسپریس کے ذریعہ واپسی ہوئی۔ ٹرین کا یہ سفر معمول کے

میں اپنی برتھ پر سو گیا۔ جلد ہی نیند آگئی۔ سفر اگر چہ بارہ گھنٹے کا تھا۔ مگر وہ رات کا سفر تھا۔ اس لئے بیشتر سفر سوتے ہوئے گزر گیا۔

۲ جنوری ۱۹۹۶ کو صبح آٹھ بجے میں مہا کوشل اکسپریس میں سفر کرتے ہوئے یہ سطریں لکھ رہا ٹرین تیزی سے دہلی کی طرف چلی جارہی ہے۔ جب کہ نشست کے اعتبار سے میرارخ اس کے الٹی طرف ہے۔ اس طرح کے واقعہ کو لے کر ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ٹرین کو اس کا انجن چلاتا ہے۔ ٹرین اسی طرف جائے گی جدھر اس کا انجن اسے لے جانا چاہتا ہو۔ ٹرین کے اندر بیٹھے ہوئے مسافر اگر اپنا رخ الٹی طرف کر لیں تب بھی وہ ادھر ہی جائیں گے جدھر ٹرین کا انجن بھاگا چلا جا رہا ہے۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ یہی مثال زندگی کی ہے۔ انسانی زندگی ایک لمبی ٹرین کے مانند ہے جس کو سیاسی اقتدار کا انجن چلاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اہل جاہلیت نے زندگی کے انجن پر قبضہ کر لیا چنانچہ ٹرین تمام مسافروں کو جاہلیت کی منزل کی طرف لئے چلی جارہی ہے۔ اب جو لوگ انسانیت کو بچانا چاہتے ہیں، ان کا پہلا کام ہے کہ وہ سیاسی اقتدار کے انجن پر قبضہ کریں۔ یہ نظریہ نہایت گمراہ کن ہے۔ ۱۹۴۷ میں مہاتما گاندھی نے غیر مطلوب لوگوں سے اقتدار کا ۱۹۷۷ میں جے پرکاش نرائن نے اقتدار کا انجن چھینا۔ اسی طرح پاکستان میں ضیاء الحق نے اقتدار کا انجن چھینا۔ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمن نے ۱۹۷۱ میں اقتدار کا انجن چھینا۔ مصر اور دوسرے مسلم ملکوں میں پیش آیا۔ ہر جگہ لوگ مفروضہ غیر مطلوب افراد سے اقتدار کا انجن چھینتے مگر نتیجہ ہر جگہ صفر رہا۔

نئی دہلی کے اخبار قومی آواز کے شمارہ ۲ جنوری ۱۹۹۶ میں سید شہاب الدین صاحب کا ایک بیان نظر سے گزرا۔ اس میں انھوں نے ’’ملی پارلیمنٹ‘‘ کی مذمت کی تھی جو اپنے اعلان کے مطابق ، خدا کے آخری رسول کی امت کو کفار و مشرکین کے سیاسی اتباع سے نجات دلانے کے لئے اور ہندوستانی مسلمانوں کو ایک اسلامی سیاسی رخ عطا کرنا چاہتی ہے۔ سید شہاب الدین صاحب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ملی پارلیمنٹ کی اس قسم کی سرگرمیوں سے ہندو تنظیموں کو مسلمانوں

کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ نام نہاد ملی پارلیمنٹ کا یہ اعلان کہ اس کا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کو مشرکین کی سیاسی غلامی سے نجات دلانا ہے، ملک کے آئین اور اس کے سیاسی ڈھانچہ سے متصادم ہے۔

سید شہاب الدین صاحب کی یہ بات بجائے خود درست ہے۔ مگر سید شہاب الدین صاحب خود بھی ۱۹۹۲ کے آخر تک اسی قسم کی ٹکراؤ والی تباہ کن سیاست کے قائد بنے رہے۔ اسی کو کہتے ہیں: خود رافضیت دیگراں را نصیحت۔

اسی اخبار کی ایک خبر یہ تھی کہ جموں وکشمیر کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس مسٹرا یم این سنگھر وال نے بتایا ہے کہ ریاست میں ۱۹۹۵ میں انتہا پسندوں نے سب ملا کر ۵۲۸ شخصوں کا اغوا کیا۔ برسوں کے اندر اغوا کئے جانے والے افراد کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ ریاست میں اکتوبر ۱۹۸۹ میں تشدد کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً سولہ سو افراد اغوا کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ۷۲۰ کو اغوا کاروں نے قتل کر دیا۔

کشمیر کی متشددانہ تحریک اسلام کے نام پر چلائی جارہی ہے۔ حالانکہ اس طرح کا اغوا اور قتل اسلامی شریعت میں سراسر حرام ہے۔ عجیب بات ہے کہ وہ علماء جو مسلم پرسنل لاء کے معاملہ میں شریعت سے معمولی انحراف پر بیانات کا اور تقریروں کا طوفان برپا کرنے کے لئے اپنے حجروں سے باہر نکل آتے ہیں، اتنے بڑے غیر شرعی فعل کے بارے میں مکمل طور خاموش ہیں۔

ہمارے ڈبہ میں ایک مرد اور عورت اپنے تقریباً آٹھ سالہ بچہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ بار میں نے سنا کہ لڑکا اپنے باپ سے پوچھ رہا ہے کہ میری ممی کہاں گئی۔ غالباً وہ ٹائلٹ میں گئی ہوئی تھی۔ باپ نے جواب میں پوچھا کہ تم کو کیا کام ہے ممی سے۔ بچہ فوراً نہایت سخت لہجہ میں بولا: آپ کو اس سے کوئی مطلب نہیں۔ اور باپ بالکل خاموش رہا۔

اس قسم کی باتیں بار بار دیکھنے اور سننے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس کی پیشین گوئی حدیث رسول میں کی گئی تھی۔ موجودہ زمانہ میں لوگوں کی اولاد ہی ان کا معبود ہے۔

زمانہ میں انسان مفروضہ طور پر خدا کی بیٹیوں کی پرستش کرتا تھا، آج پرستش کا یہی معاملہ لوگ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے کر رہے ہیں۔

۲ جنوری ۱۹۹۶ کو ٹرین چلتی ہوئی نظام الدین ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ کے مقابلہ میں وہ تقریباً پانچ گھنٹہ لیٹ ہو چکی تھی ۔ میں باہر نکل کر پلیٹ فارم پر آیا تو ریلوے والوں کی طرف سے لاؤڈاسپیکر پر مسافروں کو یہ پیغام دیا جا رہا تھا : ” صاف صفائی کو ہم اپنا آدرش بنائیں گے۔ لاؤڈ اسپیکر اور پریس کے دور میں جو نئی چیزیں ظہور میں آئی ہیں، ان میں سے ایک عجیب چیز یہ ہے کہ اپنی ذاتی ذمہ داری کے اعتبار سے ہر آدمی آدرش کو نظر انداز کئے ہوئے ہے، مگر ہر آدمی دوسروں کو آدرش کا سبق دینے کا چمپین بنا ہوا ہے۔

March 2000 • No. 280 • Rs. 10 عقل مند آدمی اس وقت بولتا ہے جب کہ دوسرے بولنے والے چپ ہو چکے ہوں

Printed page