Al-Risala · April 2001

تاریخی پیغمبر

Al-Risala, April 2001, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم مکہ میں مسیحی عالم ورقہ بن نوفل نے پیغمبرِ اسلام سے کہا تھا: کاش کہ اس زمانہ میں جب لوگ آپ کو قبیلہ سے نکال دیں گے میں زندہ رہوں۔ یہ الفاظ ورقہ نے پیغمبرِ اسلام سے ٦١٠ء میں کہے تھے۔ اس کی یہ پیشین گوئی ٦١۶ء میں واقعہ بن کر سامنے آگئی۔ اوپر کا فقرہ کونستان ورژیل جارج (رومانوي مستشرق) کی کتاب ”پیغمبر اسلام“ سے ماخوذ تمام پیغمبروں میں یہ صرف پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کہ آپ کی زندگی کے ہر واقعہ کو سن اور تاریخ کی زبان میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ آپ کی زندگی تاریخ کا ایک صفحہ ہے نہ کہ محض روایتی کہانیوں کا مجموعہ۔

یہ بات بظاہر سادہ سی ہے مگر وہ بے حد عجیب ہے۔ کیوں کہ پیغمبر اسلام کے سوا جتنے بھی دوسرے پیغمبر اس دنیا میں آئے، ان سب کا معاملہ یہ ہے کہ خالص علمی اعتبار سے آج وہ اعتقادی شخصیت ہیں نہ کہ تاریخی شخصیت۔ ان کا ذکر صرف مقدس مذہبی کتابوں میں ملتا ہے، باقاعدہ تاریخ میں ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

حضرت نوح کس تاریخ کو کشتی میں سوار ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے کس تاریخ کو عراق حضرت موسیٰ کو کب نبوت ملی۔ حضرت مسیح کس تاریخ کو پیدا ہوئے۔ یہ ساری باتیں خالص تاریخی معیار سے غیر معلوم ہیں۔ جب کہ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کے تمام واقعات باقاعدہ تاریخ وار انداز میں ثابت اور معلوم ہیں۔

یہ صورت حال انسانیت کے لئے بہت بڑی رحمت ہے۔ اس کی وجہ سے اب انسان کے لئے انتخاب کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس کو اس آزمائش میں نہیں کھڑا ہونا ہے کہ اپنی ہدایت کے لئے بہت سے پیغمبروں میں سے ایک کا انتخاب کرے۔ وہ غیر ضروری تلاش کی زحمت میں پڑے بغیر اپنا ہاتھ پیغمبرِ آخرالزماں کے ہاتھ میں دے کر مطمئن ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنے سچے رہبر کو پالیا۔

Printed page