Al-Risala · April 2001

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Al-Risala, April 2001, pp. 11–30

By Maulana Wahiduddin Khan

مسند احمد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کے حوالہ سے ایک حدیث آئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: خط رسول اللہ ﷺ خطاً ثم قال هذا سبيل الله مستقيماً و خط عن يمينه وشماله ثم قال هذه السبل ليس منها سبيل الاعلیه شيطان يدعوا إليه . ثم قرأ، وأن هذا صراطى مستقيماً فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله (تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر (۱۹۰/۲) یعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے (زمین پر) ایک خط کھینچا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے۔ پھر آپ نے اس سیدھے خط کے دائیں اور بائیں مزید خط کھینچے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ متفرق راستے ہیں، ان میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اپنی طرف لوگوں کو بلا رہا ہے۔ پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: وأن هذا صراطی مستقیماً فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله (الانعام (۱۳۶) اس روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے ایک حقیقت کو تمثیل کے روپ میں بتایا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، زندگی میں ایک شاہراہ (highway) ہوتی ہے جو ایک مقام سے دوسرے مقام تک سیدھی چلی جاتی ہے۔ جو آدمی اس سیدھی شاہراہ پر چلے وہ چلتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ مگر جو شخص شاہراہ کے اطراف میں بکھرے ہوئے ذیلی راستوں میں چلے گا وہ شاہراہ کے دائیں اور بائیں بھٹک جائے گا، وہ اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ دین میں کچھ اساسی تعلیمات ہیں۔ اسی کے ساتھ دین کے کچھ جزئی اور فروعی مسئلے ہیں۔ جو آدمی اپنی ساری توجہ اساسی تعلیمات پر لگائے وہ آخر کار اللہ تک پہنچ جائے گا جو ہر مومن کی اصل منزل ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی اساسی تعلیمات کے معاملہ میں بے توجہی برتتا ہے اور فروعی اور جزئی مسائل میں مشغول ہو جائے، وہ دین کے اصل دھارے سے بھٹک جائے گا۔ وہ اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچے گا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین میں جو اصولی یا اساسی احکام ہیں بس وہی مطلوب ہیں، جزئی یا فروعی مسائل مطلوب نہیں۔ یہ مطلوبیت کے فرق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تاکید کے فرق کا معاملہ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو زور وتاکید میں تبدیلی (shift of emphasis) کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایمان کے معاملہ میں اصل چیز ذاتی معرفت ہے۔ اب اگر معرفت کے بجائے گروہی نسبت پر زور دیا جانے لگے تو عارفانہ ایمان ختم ہو کر صرف آبائی ایمان باقی رہے گا۔ اسی طرح عبادت کے معاملہ میں اصل چیز خشوع ہے۔ اب اگر ساری بحث خارجی قسم کے جزئی مسائل پر ہونے لگے تو عبادت کا عمل قلبی خشوع کا ایک عمل نہ رہے گا بلکہ ظاہری اورجسمانی آداب کا ایک عمل بن کر رہ جائے گا۔ اسی طرح قرآن سے تعلق کی اصل اس کی آیتوں میں تدبر کرنا اور اس سے نصیحت حاصل کرنا ہے۔ اب اگر سارا زور اس کے الفاظ کی فنی ادائیگی پر دیا جانے لگے تو قرآن نصیحت کی کتاب نہ ہو کر صرف لفظی تلاوت کی کتاب بن جائے گا۔ اسلامی احکام کے سلسلہ میں اصل اہمیت ذاتی اتباع کی ہے۔ اب اگر ساری تقریر و تحریر کا موضوع یہ بن جائے کہ ان احکام کو دوسروں کے اوپر نافذ کرو تو اسلامی احکام ذاتی اتباع کا موضوع نہ رہ کر خارجی نفاذ کا موضوع بن جائیں گے اور پھر اس کے نتیجہ میں جو چیز ظہور میں آئے گی وہ اسلام کی تعمیل نہ ہوگی بلکہ اسلام کے نام پر بے فائدہ ہنگامہ آرائی اور تخریب کاری ہو گی، وغیرہ۔ رخ نے بے رخ ہونا ہر کام کے کرنے کا ایک صحیح رخ ہوتا ہے اور ایک غلط رخ۔ آدمی صحیح رخ پر چل کر منزل پر پہنچتا ہے اور غلط رخ پر چل کر ادھر اُدھر بھٹک جاتا ہے۔ مثلاً تجارت میں کامیابی کا راز محنت اور دیانت داری ہے۔ اب تاجر کے لئے عمل کا صحیح رخ یہ ہوگا کہ وہ محنت اور دیانت کا ثبوت دے کر تجارتی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہ تاجر کا صحیح تجارتی رخ پر چلنا ہے۔ شخص صحیح رخ پر چلے وہ ضرور ایک نہ ایک دن کامیاب ہوگا۔ اس کے برعکس اگر وہ یہ کرے کہ بازار کے دوسرے تاجروں کی بربادی پر اپنی تجارتی ترقی کی بنیاد رکھنا چاہے، یا بینکوں میں ڈاکہ ڈال

کر آنا فانا کروڑ پتی بننے کا خواب دیکھے، یا تجارت کے نام پر جلسہ جلوس اور احتجاج اور مطالبہ کی مہم چلائے اور سمجھے کہ اس طرح وہ اپنی تجارتی منزل پر پہنچ جائے گا تو یہ سب اس کے لئے غلط رخ پر بھٹکنے کی صورتیں ہوں گی۔ ایسا تاجر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ تمام صورتیں کسی تاجر کے لئے رخ سے بے رخ ہونے کی صورتیں ہیں اور جو شخص رخ سے بے رخ ہو جائے اس کے لئے اس دنیا میں کوئی کامیابی نہیں۔

یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ دین کی بھی ایک صراط مستقیم ہے اور ایک اس میں بھٹکنے کے صراط مستقیم پر چلنے کو قرآن میں اقامت دین کہا گیا ہے اور ادھر ادھر کے راستوں میں بھٹکنے کو تفرق في الدين شورٰ ی ۱۳)۔

دین کی صراط مستقیم پر قائم ہونا یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کو اپنا سب کچھ بنائے، وہ اسی سے سب سے زیادہ ڈرے، وہ اسی سے سب سے زیادہ محبت کرے۔ اس کو سب سے زیادہ فکر آخرت کی وہ ہر معاملہ کو آخرت کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہو۔ اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو کہ وہ جہنم کے عذاب سے بچ جائے اور اس کی سب سے بڑی طلب یہ ہو کہ خدا اس کو جنت میں داخل کرے۔ دنیا میں ذمہ دارانہ زندگی گزارے۔ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں اس کا رویہ احتیاط اور تقویٰ کا رویہ ہو نہ کہ آزادی اور بے قیدی کا رویہ۔ یہ دین کا سیدھا راستہ ہے۔ جو اس پر چلے گا وہ لازماً خدا کو پالے گا۔ وہ اس کی رحمت ونصرت میں حصہ دار بنایا جائے گا۔ سیدھا راستہ ہی آدمی کو منزل تک پہنچاتا ہے۔

اس کے برعکس دین میں متفرق ہونا یہ ہے کہ دین کا کوئی لفظ بول کر ایک غیر متعلق قسم کی دھوم مچائی جائے۔ مثلاً توحید کا نام لے کر اس قسم کی بحثیں شروع کر دی جائیں کہ خدا کا ایک جسمانی وجود ہے یا ایک روحانی وجود۔ وہ صرف عادل ہے یا ظلم پر بھی قادر ہے، وغیرہ۔ یا عبادت کا نام لے کر فضائل عبادت کی طلسماتی کہانیاں سنائی جانے لگیں یا مسائل عبادت میں فنی مو شگافیاں کر کے نئی نئی لامتناہی بحثوں کا آغاز کر دیا جائے۔ کوئی اسلام کے نظام عدل کو قائم کرنے کے نام پر

"ظالم حکمرانوں" کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے اکھیڑ پچھاڑ شروع کر دے۔ کوئی یہ نظر بنائے کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ اور مکمل نظام سیاسی اقتدار کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا لئے سب سے پہلا کام حکومت پر قبضہ کرنا ہے۔ یہ کہہ کر وہ سارے دین کو سیاست بازی کے پر چلا دے۔

اس قسم کی تمام صورتیں دین کی صراط مستقیم سے بھٹکنے کی صورتیں ہیں۔ الفاظ میں تفرق فی الدین ہے نہ کہ اقامت دین (شوریٰ ۱۳)۔ یہ ٹیڑھے راستے ہیں، اور ٹیڑ راستہ پر چلنے والا آدمی قرآن کے الفاظ میں کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچتا۔ مسلمانوں کے درمیان اسلام کے نام سے کوئی سرگرمیاں جاری ہو تو اس کے اسلامی ہونے کے لئے یہی کافی نہیں کہ اس کے علم بردار اسلام کا نام لے رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ضرور ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ یہ لوگ اسلام کی صراط مستقیم پر چل رہے ہیں یا ٹیڑھے اور تنگ راستو میں دوڑ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی تحریک "اقامت دین" کے نام پر اٹھے تب بھی یہ ممکن ہے کہ وہ بظاہر اقامت دین کا نام لے، مگر حقیقتاً اس کی سرگرمی تفرق فی الدین کے خانہ میں جانے والی انتہائی ضروری ہے کہ اسلام کا نہایت گہرا مطالعہ کیا جائے تاکہ آدمی تفرق فی الدین سے بچے، اور حقیقی معنوں میں دین کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے والا بنے۔ اقامت دین اور تفرق فی الدین شرع لكم من الدين ما وصى به اللہ نے تمہارے لئے دین سے وہی چیز مقرر کی جس کا نوحا والذى اوحينا اليك وما اُس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے وصينا به ابراهيم و موسى تمہاری طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور وعيسى ان اقيموا الدين ولا موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ قائم رکھو دین کو اور اس میں تفرقوا فيه كبر على المشركين متفرق نہ ہو۔ مشرکین کو وہ بات بہت گراں گزرتی

ما تدعوهم اليه الله يجتبى اليه من ہے جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو۔ اللہ اپنی طرف يشاء ويهدي اليه من ينيب کھنچ لیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ اپنی طرف اس کی (شوریٰ ۱۳) رہنمائی کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔

اقامت کے معنی ہیں سیدھا کرنا۔ قرآن میں یہی لفظ جھکی ہوئی دیوار کو سیدھا کر دینے کے معنی میں آیا ہے (کہف ۷۷) تفرق کا لفظ تجمع کی ضد ہے۔ اس کا مطلب ہے جدا ہونا۔ قرآن میں یہ لفظ ایسے موقع پر استعمال ہوا ہے جب کہ آدمی اصل شاہراہ کو چھوڑ کر کنارے کے ذیلی راستوں میں بھٹک جائے (انعام ۱۵۳) آیت میں الدین سے مراد توحید اور صرف ایک خدا کی عبادت کرنا ہے۔ یہی وہ دین ہے جو تمام نبیوں کو دیا گیا (وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحى اليه انه لا اله الا انا فاعبدون ، (انبیاء ۲۵) مطلب یہ ہے کہ خدا نے تمام نبیوں کو ایک ہی دین دیا تھا اور وہ توحید کا دین تھا نہ کہ شرک کا دین۔ اس لئے تم اسی دین توحید پر پوری طرح قائم رہو، اس میں شاخیں نکال کر اپنی توجهات کو ادھر ادھر نہ پھیرو۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں جو حکم ہے وہ اقامت بمقابلہ عدم اقامت نہیں ہے بلکہ اقامت بمقابلہ تفرق ہے۔ یعنی مطلق طور پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ دین کو قائم کرو اور دین کو قائم کئے بغیر نہ رہو۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ”الدین“ کو قائم کرو اور ”الدین“ میں تفرق نہ کرو۔ یہ ہوا کہ خدا نے جو الدین (اصل دین) اتارا ہے صرف اسی کی اقامت اور پیروی میں لگو، ایسا مت کرو کہ اس اصل دین میں دوسرے راستے نکال کر اس میں متفرق ہو جاؤ۔ اصل دین پر لگے نہ کہ متفرق پہلوؤں میں بکھر جائے۔

رمضان کے مہینہ کی ایک شام کو جب کہ راقم الحروف بھوک پیاس سے نڈھال ہو رہا میری زبان سے نکلا: کھانا بھی خدا کی کیسی عجیب نعمت ہے، ایک دن بھی نہ ملے تو آدمی کا برا حال ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر ایک صاحب نے کہا: آج کل لوگ کمزور ہو گئے ہیں۔ ورنہ پہلے زمانہ میں ایک دن کیا چار دن لوگ بھوکے پیاسے رہ جاتے تھے۔ میں نے کہا ہاں، مگر وہ بھی مستقل

ہو کے نہیں رہ سکتے تھے۔ اس واقعہ میں مذکورہ بزرگ کا جملہ اصل بات سے تفرق کی ایک مثال کہنے والے کا منشا اصلاً کھانے کی اہمیت پر زور دینا تھا۔ "ایک دن" کا لفظ اس میں محض اضافی مگر سننے والے نے اسی لفظ کو لے لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بات اپنے رخ سے ہٹ کر غیر متعلق پہلو کی طرف مڑ گئی۔ موصوف اگر کھانے کی "نعمت" کے پہلو کو ابھارتے تو یہ کہی ہوئی بات کی اقامت جب انھوں نے "ایک دن" کے پہلو کو لے کر اس پر تقریر شروع کر دی تو انھوں نے گویا اصل بات سے تفرق کیا۔ وہ شاہراہِ کلام سے جدا ہو گئے۔

اب ایک اور مثال لیجئے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان تمام ملکوں میں کسی نہ کسی طاقت کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ کہیں کسی اقتصادی طاقت کا، کہیں کسی اکثریتی طاقت کا، کہیں کسی سیاسی اور فوجی طاقت کا۔ اس مسئلہ کا حقیقی حل صرف اعداد قوت (انفال (۶۰) ہے۔ یعنی مسلمانوں کا طاقت ور ہونا۔ ظلم و زیادتی ہمیشہ بے طاقتی کی سزا ہوتی ہے اور اپنے آپ کو طاقت ور بنا کر ہی اس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ طاقت ور بنانے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو علم و شعور سے آراستہ کیا جائے، ان میں باہمی اتحاد پیدا کیا جائے، ان کو جدید فکری اور عملی قوتوں سے مسلح کیا ان پہلوؤں سے تیار ہونے کا نام طاقت ور ہونا ہے اور جو قوم ان چیزوں میں طاقتور ہو جائے اس کے اوپر کوئی ظالم، ظلم کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔

اس کے برعکس دوسرا طریقہ یہ ہے کہ احتجاج اور مطالبات کا لفظی طوفان برپاکیاجائے جلسے جلوس کی دھوم مچائی جائے۔ تقریروں اور تجویزوں کا سیلاب بہایا جائے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض وقتی ہنگامے ہیں جن کا کوئی بھی حقیقی فائدہ قوم کو ملنے والا نہیں۔ ان دونوں طریقوں میں سے پہلا طریقہ ملت کی اقامت کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ ملت کے مسئلہ سے تفرق کا پہلا کام اصل کام ہے جب کہ دوسرا کام اصل کام کی نسبت سے غیر متعلق کام، وہ اپنے انجام کے اعتبار سے ملت کے محاذ سے متفرق ہونا ہے نہ کہ ملت کے محاذ پر جد و جہد کرنا۔ ان مثالوں سے اقامت دین اور تفرق فی الدین کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے۔ مذکورہ آیت میں

”الدین“ سے مراد وہ اصل دین ہے جو تمام نبیوں پر اترا۔ توحید سے مراد ہے ۔ کوتنہاخالق اورمالک اورمعبود جاننا، اسی پر بھروسہ کرنا، اسی سے ڈرنا اور اسی سے محبت کرنا، اپنے تمام بہترین جذبات کو اسی کی طرف متوجہ کر دینا۔ اپنا سب کچھ صرف اللہ کو بنا لینا۔ اللہ سے یہ وابستگی جب کسی کے اندر حقیقی معنوں میں پیدا ہوتی ہے تو وہی آدمی کی زندگی بن جاتی ہے۔ کی پوری زندگی کو کچھ سے کچھ کر دیتی ہے۔ آدمی کا سوچنا، اس کا بولنا، اس کا عمل کرنا، اس کا لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا، اس کا مختلف حالات میں ردِ عمل ظاہر کرنا، سب اسی کے تابع ہو جاتے ہیں۔ آدمی اندر سے باہر تک پوری طرح خدا کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ الدین (توحید) کو اس طرح اپنے اندر سمونے کا نام اقامت دین ہے۔ یہ اقامت دین اولاً فرد کے اپنے اندر متحقق ہوتا ہے اور اس کے بعد حسبِ حالات وہ اجتماعی زندگی میں ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے۔

اس کے مقابلہ میں تفرق فی الدین یہ ہے کہ اصل دین کے ارد گرد غیر متعلق بحثیں نکال کر اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا جائے۔ مثلاً اسلامی عقائد میں خود ساختہ کلامی بحثیں چھیڑنا، اسلامی عبادات میں بطورِ خود مسائل وضع کر کے فقہی جھگڑے کھڑے کرنا۔ اسلامی کیفیات پیدا کرنے کے نام پر نئی نئی ”روحانی“ ورزشیں تجویز کرنا۔ اور لوگوں میں اس کو رواج دینا۔ طرح یہ بھی تفرق فی الدین ہے کہ ”توحید“ کے علاوہ دوسری دوسری چیزوں کو عنوان بنا کر تحریکیں چلائی جائیں۔ مثلاً خدائی حکومت قائم کرنے کے نام پر، اسلام کی عظمتِ رفتہ کو واپس لانے کے نام پر، خیر الامم کو اس کے مقامِ بلند کی طرف لے جانے کے نام پر، فساد فی الارض اور طاغوتی نظام کو ختم کرنے کے نام پر، وغیرہ۔ اقامت دین حقیقی معنوں میں موحد بننے کا نام ہے اور تفرق فی الدین دین کے نام پر دوسری چیزوں میں متفرق ہونے کا۔ قدیم حاملینِ شریعت اسی قسم کے تفرق میں مبتلا ہو گئے تھے، چنانچہ ان کے بارہ میں کہا گیا:

وما تفرق الذین اوتوا الكتاب الا من بعد ما - اور اہل کتاب واضح دلیل آنے کے بعد بھی دین جائتهم البينة . وما امروا الا ليعبدوا الله میں متفرق ہو گئے۔ حالاں کہ ان کو یہی حکم ہوا تھا

مخلصين له الدين حنفاء ويقيموا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں دین کو اس کے الصلوة ويوتوا الزکوة و ذلك دين خالص کرکے ،بالکل یکسو ہو کر،اور نماز قائم کریں اور زکوة ادا کریں اور یہی ہے درست دین۔

دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے خارجی ہنگامے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کی دنیا میں بسیرا لینے کا نام ہے۔ دین دار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی فطرت کی اس سطح پر جینے لگے جس سطح پر خدا کی دوسری مخلوقات جی رہی ہیں۔ اس کا شعور اللہ سے مل جائے۔ اس کی یادوں میںاللہ بسا ہوا ہو۔ اس کے پر شوق جذبات کا مرکز صرف اللہ بن جائے۔ جب کوئی شخص خدا کو اس طرح پاتا ہے تو وہی اس کا مطلوب ومقصود بن جاتا ہے۔ اس کی سرگرمیوں کا رخ تمام تر خدا کی طرف ہو جاتا ہے۔ اخلاق و معاملات میں وہ وہی کرنے لگتا ہے جو اس کا خدا اس سے چاہتا ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جبکہ اپنے جذبات اور اپنی مصلحتوں کو اس کی خاطر قربان کر دینا پڑے۔ قرآن میں یہود و نصاریٰ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں ان سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں داخل اور اگر وہ قائم کرتے تورات اور انجیل کو اور جو ان کی طرف ان کے رب کے پاس سے اترا تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے، ان میں کچھ لوگ سیدھی راہ پر ہیں اور بہت سے ان میں برے کام کر رہے ہیں (مائدہ ۶۵۔ ٦٦) اس آیت میں ایمان و تقویٰ اور تورات و انجیل کی اقامت دونوں کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے لئے آسمانی کتاب کی اقامت کا مطلب یہ تھا کہ وہ ایمان لائیں اور تقویٰ کی زندگی اختیار کریں۔ سورہ شوریٰ میں اقامت دین کا مطلب بھی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی حقیقی معنوں میں اللہ کا مومن بن جائے۔ وہ دنیا کی زندگی میں اس سے ڈرنے لگے۔ صرف ایک اللہ اس کے ذہن کا اثاثہ اور اس کے قلب کا سرمایہ ہو۔ اس کا اللہ سے تعلق اتنا گہرا اور اتنا زندہ ہو کہ وہ اس کے اوپر مستقل نگراں بن جائے۔ پر سکون حالات ہوں یا جذباتی ہیجان کا وقت ہو، ہر حال میں وہ اللہ سے

ڈرے اور ہر معاملہ میں وہ اس کی مرضی کا پابند ہے۔

اقامت دین اصلاً انفرادی طور پر اللہ کے دین پر قائم ہونے کا نام ہے۔ مگر جب بہت سے افراد اللہ کے دین پر قائم ہو جائیں تو حالات کے بقدر اس کے اجاعی نتائج بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک درخت ہو تو وہ صرف ایک درخت ہے اور بہت سے درخت ہوں تو ان کے مجموعہ سے ایک باغ وجود میں آجاتا ہے۔ تاہم اجتماعی چیزیں اقامت دین کا بالواسطہ نتیجہ ہیں نہ کہ اس کا براہ راست نشانہ۔

تفرق فی الدین کا مطلب دین سے الگ ہونا نہیں ہے بلکہ دین کی شاہراہ سے الگ ہونا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت پر غور کیجئے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۶ میں ارشاد ہوا ہے: ”کہو، آؤ میںتم کو سناؤں وہ چیزیں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کی ہیں۔ یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی۔ اور بے شرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔ ہیں جن کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریق پر جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم کسی شخص پر اس کے تحمّل سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے۔ اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار کا کیوں نہ ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے جُدا کر دیں گی۔ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچو۔ “ (الانعام ۱۵۲-۱۵۳) اس سے معلوم ہو اکِہ دین کی ایک شاہراہ ہے اور اس کے دائیں بائیں بہت سی پگڈنڈیاں مومن وہ ہے جو شاہراہ پر چلے اور ادھر اُدھر کی پگڈنڈیوں میں نہ کھو جائے ۔ شاہراہ یہ ہے کہ آدمی صرف ایک خدا سے اپنا تعلق جوڑے، خدا کی خدائی میں کسی اور کو شامل نہ

یہی توحید ہے۔ یہ توحید جب کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کے اندر ایک نیا شعور ابھر وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ اس کا خوفِ خدا اور اس کا اعتماد علی اللہ اس کی زندگی میں اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین اور یتیموں اور عام انسانوں کے بارے میں حد درجہ محتاط انسان بن جاتا ہے۔ رزق کے معاملہ میں وہ اپنے کو پوری طرح حلال دائرہ میں محدود رکھتا ہے۔ بے ہودہ کام کرنا اس کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ کسی کو دینا ہو یا کسی سے لینا ہو ہر حال میں وہ انصاف پر قائم رہتا ہے۔ اس کی زبان کھلتی ہے تو سچائی کے لئے کھلتی ہے نہ کہ بیجا حمایت یا بیجا مخالفت کے لئے۔ اس کا تعلق باللہ اس کے اور خدا کے در میان ایک خاموش عہد بن جاتا ہے جس کو وہ کبھی نہ توڑے خواہ اس کے لئے اس کو اپنے آپ پر کتنا ہی جبر کرنا پڑے۔ یہ دین کی شاہراہ پر قائم ہونا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دین کی شاہراہ سے جدا ہونا یہ ہے کہ آدمی مذکورہ چیزوں میں نئی نئی شاخیں نکال کر ان کی دینی اہمیت ثابت کرے اور ان کی طرف دوڑنا شروع کر دے۔ مثلاً اس کا دل اللہ کی کبریائی کے جذبہ سے سرشار نہ ہو البتہ ’’کچھ رجال‘‘ اور ’’کچھ شخصیتوں‘‘ کے ساتھ والہانہ عقیدت کا اظہار اس کا محبوب مشغلہ بنا ہوا ہو۔ تنہائیوں میں اللہ کے ڈر سے اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے نہ ہوتے ہوں البتہ ’’لاؤڈاسپیکر‘‘ کی سطح پر وہ خوب اللہ کے نام کی دھوم مچاتا ہو۔ عبادات میں انابت وتضرع پیدا کرنے کا دھیان اس کو نہ ہو البتہ مسائل عبادت میں طرح طرح کی موشگافیاں پیدا کرنے کا وہ ماہر بنا ہوا ہو۔ وہ اپنے صاحب معاملہ کے ساتھ انصاف نہ کرے البتہ خارجی دنیا میں عدل وانصاف کا نظام قائم کرنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ ہو البتہ دوسروں کے ظلم و بربریت کا اعلان کرنے میں وہ سب سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہو۔

وہ اپنے پڑوسی کی مدد نہ کرے البتہ دور کے مسائل پر تقریر کرنے سے اس کی زبان کبھی نہ اس کا دل اللہ کی یاد سے خالی ہو البتہ ذکر کے نام پر الفاظ کی تکرار کرنے میں لاکھوں کا عدد

بھی اس کے لئے ناکافی ثابت ہو رہا ہو۔ اپنی نماز میں خشوع پیدا کرنے کی اسے فکر نہ ہو البتہ مسجدوں کی آرائش و زیبائش کا وہ خوب اہتمام کرتا ہو۔ اپنے کمزور دینی بھائی کے حقوق اس کو یاد نہ آئیں البتہ بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ اسلامی اخوت کا مظاہرہ کرنا وہ کبھی نہ بھولتا ہو۔ اپنے نفس کو خدا کے آگے جھکانے کا اسے شوق نہ ہو البتہ ساری دنیا کو خدا کے آگے جھکانے کا وہ مجاہد بنا ہوا ہو۔ کی تمام صورتیں تفرق فی الدین کی صورتیں ہیں۔ ان کو خواہ جس نام پر بھی کیا جائے اور ان کے ساتھ کیسی ہی خوش فہمیاں وابستہ کی جائیں وہ خدا کے یہاں مقبولِ دین کی حیثیت سے لکھی نہیں جاسکتیں۔ دین کے راستہ سے متفرق ہونا ایسا ہی ہے جیسے ٹرین کا اپنی پٹری سے اتر جانا۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی تجدیدِ ایمان کے نام پر اٹھے اور پھر کلمہ کی تصحیح اور اس کے طلسماتی خواص پر پوری تحریک چلا دے۔ وہ اسلام کو سر بلند کرنے کا مدعی ہو اور پھر سیاسی کارروائیوں اور احتجاجی جلسوں کے رخ پر دوڑ پڑے۔ وہ دینی تعلیم کو اپنا مقصد بتائے اور پھر گروہی نزاعات اور تعصبات میں قوم کو الجھادے۔ وہ احیائے ملت کا اعلان کرے اور پھر تقریر اور بیانات کے لفظی مشغلہ میں مصروف ہو جائے۔

آدمی جس طرح اقامتِ دین کے عمل میں دین کا نام لیتا ہے، اسی طرح وہ تفرق فی الدین کے عمل میں بھی دین ہی کا نام لیتا ہے۔ دونوں ہی قسم کی سرگرمیاں دین کے نام پر چلتی ہیں۔ ایک اللہ کے یہاں مطلوب ہے اور دوسری اللہ کے یہاں غیر مطلوب۔ ایک سرگرمی سے آدمی کو اللہ کی رضا ملتی ہے اور دوسری سے آدمی اللہ کی ناراضگی کا مستحق بن جاتا ہے۔ اقامت دین کے بارے میں کچھ وضاحتیں قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ جو دین اللہ نے دوسرے نبیوں کو دیا تھا وہی دین تم کو بھی دیا گیا ہے۔ اس دین کو قائم رکھو، اس میں متفرق نہ ہو (الشوریٰ ۱۳) اس آیت کی تفسیر تمام مفسرین یہ کرتے ہیں کہ اس میں دین کے وہ اساسی احکام مراد ہیں جو تمام نبیوں کے یہاں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں۔ اس میں شرائع اور منہاج مراد نہیں ہیں۔ کیوں کہ قرآن کی

صراحت کے مطابق ان میں مختلف نبیوں کے درمیان فرق پایا جاتا ہے (المائدہ ۳۸)۔ منہاج جب مختلف ہوں تو ان کی متحدہ پیروی ممکن نہیں، متحدہ تعلیمات ہی کی متحدہ پیروی کی اس لئے اس آیت میں حکم اقامت کا اطلاق اساسی تعلیمات پر ہوگا نہ کہ تفصیلی اس آیت کا منشا یہ ہے کہ تفصیلی احکام میں تو سع اور حالات کی رعایت کا طریقہ اختیار کیا جائے اور مستقل ور اور تاکید صرف متفق علیہ باتوں پر دیا جائے۔ اس طرح ملت کے اندر حقیقی دینی فضا پیدا ہوگی۔ دین کے وہ ذیلی یا تفصیلی امور جن میں زمانہ اور حالات کے اعتبار سے فرق ہوتا رہتا ہے، ان کو اگر مستقل تاکید کی بنیاد بنایا گیا تو ملت کے اندر تفریق وانتشار ظہور میں آئے گا اور دین کے نام پر ایک ایسی فضا پیدا ہوگی جو عملاً دین کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے (تفصیل کے لئے: تعبیر کی غلطی، الاسلام)

موجودہ زمانہ میں کچھ لوگوں نے اس آیت کی یہ تفسیر کی کہ اقامت دین کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ سارے اسلامی قوانین کو بحیثیت ایک مکمل نظام کے جاری و نافذ کیا جائے۔ مکمل قانون کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی ادارہ تھا، اس تفسیر کے مطابق اقامت دین کا پہلا کام یہ قرار پایا کہ حکومت وقت سے تصادم کر کے اس سے اقتدار چھینا جائے تاکہ مکمل قانون کو نافذ کیا جاسکے۔ مسلم اقلیت کے ملکوں میں اس قسم کے سیاسی جہاد کے مواقع نہیں تھے اس لئے یہاں یہ تفسیر تقریری اور تحریری مہم تک محدود رہی۔ مسلم اکثریت کے ممالک جہاں مواقع کھلے ہوئے تھے، وہاں اس نے قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف براہ راست اقدام کی صورت اختیار کی، اس کے نتیجہ میں نہ صرف حرث و نسل کی ہلاکت اور باہمی فساد وجود میں آیا بلکہ اقامت دین کے نام پر یہ عظیم نقصان ہوا کہ ملت کے اندر ز دینی اتحاد کی وہ فضا بالکل برباد ہو گئی جو اقامت دین کے حکم کا مقصود اصلی تھا۔ اقامت دین کی تحریک کے یہ برعکس نتائج کافی تھے کہ اس کے علمبردار اپنے فکر پر نظرثانی کریں۔ مگر انہوں نے یہ کیا کہ قرآن کی نئی نئی تفسیریں لکھ کر اپنے پیروؤں کے ذہن کو مزید پختہ کرنے کی کوشش کی۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں

ایک تفسیر میں شائع شدہ بحث کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ مذکورہ مفسر قرآن کی سورہ شورٰ ی کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں:

’’بعض لوگوں نے دیکھا کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ تمام انبیاء علیہم السلام کے درمیان مشترک ہے اور شریعتیں ان سب کی مختلف رہی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا، اس لئے انہوں نے یہ رائے قائم کرلی کہ لا محالہ اس دین سے مراد شرعی احکام و ضوابط نہیں ہیں بلکہ صرف توحید و آخرت اور کتاب و نبوت کا ماننا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بجالانا یا حد سے حد اس میں وہ موٹے موٹے اخلاقی اصول شامل ہیں جو سب شریعتوں میں مشترک رہے ہیں۔ لیکن یہ بڑی سطحی رائے ہے جو محض سرسری نگاہ سے دین کی وحدت اور شرائع کے اختلاف کو دیکھ کر قائم کرلی گئی ہے اور یہ ایسی خطرناک رائے ہے کہ اگر اس کی اصلاح نہ کردی جائے تو آگے بڑھ کر بات دین و شریعت کی اس تفریق تک پہنچے گی جس میں مبتلا ہو کر سینٹ پال نے دین بلا شریعت کا نظریہ پیش کیا اور سیدنا مسیح علیہ السلام کی امت کو خراب کر دیا۔ کہ جب شریعت دین سے الگ ایک چیز ہے اور حکم صرف دین کو قائم کرنے کا ہے نہ کہ شریعت کو، تو لا محالہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح شریعت کو غیر اہم اور اس کی اقامت کو غیر مقصود بالذات سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے اور صرف ایمانیات اور موٹے موٹے اخلاقی اصولوں کو لے کر بیٹھ جائیں گے۔ اس طرح کے قیاسات سے دین کا مفہوم متعین کرنے کے بجائے آخر کیوں نہ ہم خود اللہ کی کتاب سے پوچھ لیں کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم یہاں دیا گیا ہے، آیا اس سے مراد صرف ایمانیات اور چند بڑے بڑے اخلاقی اصول ہی ہیں یا شرعی احکام بھی‘‘۔ اس کے بعد موصوف نے مختلف آیتیں نقل کر کے دکھایا ہے کہ قرآن میں دین کا لفظ ایمانیات کے علاوہ قوانین و احکام کے لئے بھی آیا ہے۔ اس لئے لازماً تمام احکام کو دین میں شمار ہونا

چاہیے اور ان سب کو بروئے کار لانے کا نام اقامت دین ہونا چاہیے۔ مذکورہ بالا اقتباس میں ”بعض“ کا لفظ معاملے کی سنگینی کو گھٹا رہا ۔ کیوں کہ یہ رائے صرف ”بعض مفسرین“ کی نہیں ہے بلکہ بلا استثناء تمام قابل ذکر مفسرین کی ہے۔ مذکورہ رائے کو سطحی اور سرسری قرار دینے کے لئے کوئی دلیل نہیں۔ جب حکم کے الفاظ یہ ہیں کہ ”تمام نبیوں کے دین کی پیروی کرو، اس میں متفرق نہ ہو“ تو لا محالہ قرآن کی اس خاص آیت میں الدین سے دین کامشترک حصہ مراد لینا ہو گا نہ کہ متفرق حصہ۔ اقیموا الصلوٰۃ کی آیت میں کوئی شخص اقیموا الزکوٰۃ کو شامل نہ سمجھے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ حکم زکوٰۃ کا انکار کر رہا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ زکوٰۃ کا حکم دوسری آیت میں ہے نہ کہ اقیموا الصلوٰۃ کی آیت میں۔ اسی طرح اقیموا الدین میں شرائع کو مراد نہ لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شرائع سرے سے مطلوب نہیں ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اس آیت میں شامل نہیں ہیں۔ ان کا حکم دوسری آیتوں سے نکلتا ہے اور وہاں جو الفاظ ہیں انہیں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کی نوعیت کیا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان الارض للہ (اعراف ۱۲۸) سے زمین کی اجتماعی ملکیت کا اصول نکالے تو کہا جائے گا کہ اس آیت کا ملکیتِ زمین کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملکیت کے بارے میں بلاشبہ اسلام کے احکام ہیں۔ وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتے ہیں نہ کہ ان الارض للہ سے۔

اس ضمن میں سینٹ پال کا حوالہ بالکل غیر متعلق ہے۔ سینٹ پال ازم جس چیز کا نام ہے وہ یہ کہ کوئی شخص اپنے فعل (خواہ اعتقادی ہو یا عملی) سے نجات نہیں پاتا، بلکہ اس خاص عقیدہ سے نجات پاتا ہے کہ خدا کا بیٹا مصلوب ہو کر انسان کے پیدائشی گناہ کا کفارہ ہو گیا۔ دیگر، سینٹ پال ازم یہ ہے کہ انسان کی نجات کا دار و مدار معروف معنوں میں نہ ایمانیات پر ہے اور نہ اعمال پر۔ بلکہ کفارہ کے مخصوص تصور کو مان لینے پر ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بالکل ایک علیحدہ اقیموا الدین کی مذکورہ تفسیر سے اس کو کوئی مشابہت نہیں۔

یہ بات بھی صحیح نہیں کہ جب اقامت دین کے حکم سے مراد صرف اساسی دین کی اقامت ہے تو بقیہ احکام و ضوابط کس لئے ہیں۔ قرآن سے ثابت ہے کہ شرعی احکام کی تکلیف باعتبار ”وسح“ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس حکم کی تعمیل کسی شخص یا گروہ کے وسع میں نہ ہو اس کے لئے وہ حکم اس وقت تک عملاً موقوف رہے گا جب تک اس کے اندر اس کی قدرت نہ پیدا ہو جائے۔ اساسات دین وہ ہیں جن کی استطاعت ہر شخص کو ہر وقت رہتی ہے، اللہ سے خوف و محبت کا تعلق قائم کرنا اور بندوں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کا معاملہ کرنا کس کے لئے ممکن اس لئے اساسات دین کی اقامت ایک عام حکم ہے جس کا مکلف ہر شخص ہمیشہ رہتا ہے۔ اس کے برعکس احکام اجتماعی کے نفاذ کا معاملہ اقتدار کا طالب ہے۔ اس لئے اس کے نفاذ کو اقتدار کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ جس کو جتنا اقتدار حاصل ہو، اس کے اعتبار سے اس پر وہ احکام مفروض ہوتے چلے جائیں گے جو اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اسی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کیوں مدنی دور میں حکومتی قوانین جاری کئے اورابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیوں تا عمر ایسا نہیں کیا۔ اس فرق کے باوجود دونوں اللہ کی نظر میں مومن کامل تھے۔ کیوں کہ کسی کے دین کا مکمل ہونا یہ ہے کہ نہ وہ اپنے آپ پر دین کو مکمل طور پر غالب کرے نہ یہ کہ دوسروں کے اوپر مکمل حاکم بننے کے لئے ہنگامہ آرائی کرے۔ یہ اندیشہ بھی صحیح نہیں کہ یہ اہل اسلام کو انفرادی عمل پر قانع بنانا ہے۔ کی آیت میں جس توحید پر قائم ہونے کا حکم ہے، دوسرے مقامات (یوسف ۱۰۸) پر یہ عمومی حکم بھی موجود ہے کہ اس پیغام توحید کو دوسرے بندگان خدا تک پہنچاؤ۔ تنفیذ قانون بلاشبہ ایک مشروط حکم ہے۔ مگر دعوت الی اللہ ایک عام حکم ہے جو ہر حال میں مطلوب ہے۔ دعوت کا کام پوری امت کے لئے عظیم ترین اجتماعی نشانہ عطا کرتا ہے۔

ایک لفظ اکثر ایک سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ ”دین “ کا لفظ بھی قرآن میں لغوی اور مرادی اعتبار سے کئی معنوں میں آیا ہے۔ ان تمام معانی کی فہرست بنانا اور یہ کہنا کہ اقیموالدین میں

لفظ دین کے یہ تمام معانی مراد ہیں، ایک غیر علمی بات ہے۔ کیوں کہ لفظ کا مفہوم ہمیشہ سیاق کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے نہ کہ مختلف مفہومات کی گنتی سے۔ اس طریق استدلال کی غلطی اس سے واضح ہے کہ قرآن کی پہلی سورہ میں دین کا لفظ ”جز ا“ کے معنی میں آیا ہے۔ اب اگر مذکورہ طریق استدلال کو صحیح سمجھا جائے تواقامت دین کے مفہوم میں یہ بھی شامل کرنا پڑے گا کہ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ جدوجہد کر کے روزِ جزا کو برپا کریں تاکہ لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جاسکے۔ پھر کیا اس انقلابی تعبیر کے دعویدار اپنے دین کو مکمل کرنے کے لئے مالک یوم الدین بننے کو بھی پریشان کن مناظر بھی ٹیلیویژن پر دکھائے جائیں گے۔ اپنے پروگرام میں شامل کریں گے۔

لیکن ٹیلیویژن نے اگر اس منفی پہلو کو اپنا یا ین ، جب تک توں اقيموا الدين کو اساسات دین کی اقامت کے معنی میں لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ " موٹی موٹی تعلیمات کو لے لیا اور باقی سب کو چھوڑ دی1۔ اللہ " اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس متفق علیہ دین کو پکڑو جو اصلاً اور دائماً مطلوب ہے۔ فروعی اور اختلافی چیزوں کو مدار اقامت نہ بناؤ۔ سے مراد " موٹی موٹی تعلیمات " نہیں ہیں بلکہ وہ اصلی اور حقیقی تعلیمات ہیں جن پر آخرت کی بنیاد ہے (جیسا کہ آگے ہم دیکھ رہے ہیں کہ قرآن کریم نے مختلف مقامات پر تقریر کے دوران اس کی مزید توضیح نجات کا انحصار ہے۔ انبیاء کی غیر اختلافی تعلیمات کیا طور پر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں۔ اللہ کے سوا کسی کو الہ نہ بنانا صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا رزق طیب کھانا اور عمل صالح کرنا ایک دوسرے کے ساتھ انصاف برتنا دوسروں کی ڈالی ہوئی اذیت پر صبر کرنا دعوت حق کا ساتھ دینا آگ یا جہنم سے ڈرنا اور جنت کا خوش خبری قرآن کے تتبع سے اس کو واضح ۸۱ آل عمران کو جو تم نے اپنے ہاں | رہائش دی

یہی تمام انبیاء کا دین رہا ہے اور یہی وہ دین ہے جو اصلاً اور حقیقۃً اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ ظاہری اعمال بھی وہی مقبول ہیں جن میں مندرجہ بالا تعلیمات کی روح پائی جائے۔ اس کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ مزید یہ کہ انہیں تعلیمات میں اللہ کا پورا دین آ جاتا ہے۔ جو شخص ان چیزوں پر قائم ہو جائے وہ گویا پورے دین پر قائم ہو گیا۔ اللہ کے نزدیک اس نے اپنے دین کو کامل دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کوئی خارجی ”نظام“ نہیں ہے جس کو اقتدار پر قبضہ کر کے لوگوں کے اوپر نافذ کیا جائے۔

دین حقیقتاً آدمی کی اپنی زندگی کا نقشہ ہے۔ آدمی کا اپنا وجود جس کے ساتھ وہ صبح و شام جی رہا ہے، جس کو لے کر وہ پیدا ہوتا ہے اور جس کو لے کر وہ مر جاتا ہے، اس وجود کودین دار بنانا اور اس کو ہمہ تن اللہ کی مرضیات پر ڈھال لینا ہی دراصل اقامت دین ہے۔ یہ انسانی وجود کسی قانون یا کسی سیاسی ادارہ کی گرفت سے باہر کی چیز ہے۔ یہ صرف آدمی کے اپنے ارادہ کی گرفت میں آتا اس پر کسی دوسرے کا حکم نہیں چلتا بلکہ صرف اپنا حکم چلتا ہے۔ اسی انسانی وجود پر خود اپنے ارادہ سے دین کو غالب کرنے کا نام اقامت دین ہے نہ کہ حکمرانوں سے سیاسی منازعت کرنے کا یا دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا مارنے کا۔

سیاسی اقتدار بھی بلاشبہ اسلام کا ایک جز ہے۔ مگر وہ اہل اسلام پر اللہ کا انعام (نور ۵۵) یہ انعام صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ اہل اسلام کا کوئی گروہ قابل لحاظ تعداد میں اپنے اوپر مذکورہ دین کو قائم کر چکا ہو۔ اساسات دین کی اقامت کے بعد ہی شرائع دین کی اقامت کے مواقع کھولے جاتے ہیں۔ اصل دین پر خود قائم ہو جانا گویا اپنی پیٹھ کو ”کوڑے“ کے لئے پیش کر جو لوگ اس خود سپردگی کا ثبوت دے دیں انہیں کو دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا مارنے کا سیاسی اجازت نامہ عطا ہوتا ہے۔ خود سپردگی کی اس کیفیت کے بغیر لوگوں کو کوڑا مارنا خدا کی زمین میں صرف فساد برپا کرنے کا باعث ہوتا ہے نہ کہ انصاف قائم کرنے کا۔ ایسے لوگ جو دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا لگانے کے لئے تو بہت بے قرار ہوں، مگر خود اپنی ”پیٹھ“ پر لفظی تنقید کو بھی برداشت نہ

کریں، وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہیں۔ قیامت میں ان سے پوچھا جائے گا کہ جب تمہاری انانیت کا یہ حال تھا کہ تم لفظی کوڑے کی مار برداشت کرنے کے لئے بھی تیار نہ تھے تو تم کو کیا حق تھا کہ دوسروں کے اوپر مادی کوڑے برسانے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ اس سیاسی تعبیر کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ جو چیز اللہ کے نزدیک اہم تھی وہ لوگوں کے نزدیک غیر اہم بن گئی اور جو اللہ کے نزدیک غیر اہم تھی وہ لوگوں کے نزدیک اہم قرار پائی۔ مذکورہ مفسر قیموالدین کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں: ’’انبیاء علیہم السلام کو جب اس دین کے قائم کرنے اور قائم رکھنے کا حکم دیا گیا تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہ تھی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں۔ اور اتنی بات بھی نہ تھی کہ وہ دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں تاکہ لوگ اس کا برحق ہونا تسلیم کرلیں، بلکہ یہ بھی تھی کہ جب لوگ اسے تسلیم کر لیں تو اس سے آگے بڑھ کر پورا کا پورا دین ان میں عملاً رائج اور نافذ کیا جائے۔ تاکہ اس کے مطابق عمل در آمد ہونے لگے اورہوتارہے اس میں شک نہیں کہ دعوت و تبلیغ اس کام کا لازمی ابتدائی مرحلہ ہے جس کے بغیر دوسرا مرحلہ پیش نہیں آسکتا۔ لیکن ہر صاحب عقل آدمی خود دیکھ سکتا ہے کہ اس حکم میں دعوت و تبلیغ کو مقصود کی حیثیت نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ دین قائم کرنے اور قائم رکھنے کو مقصود قرار دیا گیا ہے۔ تبلیغ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ضرور ہے مگر بجائے خود مقصد نہیں ہے۔ کوئی شخص اسے انبیاء کے مشن کا مقصد وحید قرار دے بیٹھے۔ ‘‘ (صفحہ ۴۸۸) قرآن میں تمام انبیاء کے بارے میں صراحتہً یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ صرف تبلیغ (پہنچا دینے) پر مامور تھے۔ قوموں کو پوری طرح باخبر کر دینے کے بعد ذاتی ذمہ داری کی حد تک ان کا کام ختم ہو جاتا تھا۔ ’’قائم کرنا اور قائم رکھنا‘‘ تمام تر مدعو کے اپنے رد عمل پر منحصر ہے۔ انبیاء کی ذمہ داری کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے۔ قرآن میں کوئی ایک آیت ایسی نہیں ہے جس میںنبیوں کے مشن کو ’’قائم (نافذ) کرنے اور قائم (نافذ) رکھنے‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔

اس کے برعکس کثرت سے ایسی آیتیں موجود ہیں جن میں پہنچادینے کو ان کا فرضی منصب بتایا گیا

فهل على الرسل الا البلاغ المبين (النحل (۳۵) پس رسولوں پر ذمہ نہیں مگر پہنچادینا کھول کر۔ وما نرسل المرسلين الا مبشرين و منذرين اور نہیں بھیجتے ہیں ہم پیغمبروں کو مگر بشارت دینے والے اور ڈرانے والے۔

دعوتی جدوجہد کی عملی تفسیر انبیاء کرام کی زندگیاں ہیں۔ ہر نبی نے دعوت دین کے کام کو کامل اور مکمل صورت میں انجام دیا۔ اس لئے اس مہم کی اسی انجام دہی کو " مقصود “ کی حیثیت دی جائے گی جو تمام انبیاء کے یہاں مشترک طور پر پائی جاتی ہو۔ اور معلوم ہے کہ تمام انبیاء کے یہاں جو چیز مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ پہنچا دینا ہے نہ کہ " پورے کے پورے دین کو عملاً رائج و نافذ کر دینا ۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ دعوتی مشن کا اصل مقصود یہ ہے کہ مدعو تک خدا کا پیغام پوری طرح پہنچ جائے ۔ نہ کہ اس کو قائم کرنا اور قائم رکھنا ۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کا تعلق اہلیت سے ہے نہ کہ فرض یعنی ایسا نہیں کہ مسلمانوں کا یہ لازمی فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ سیاسی تحریک چلا کر حکومت قائم کریں۔ بلکہ درست بات یہ ہے کہ اللہ جب کسی گروہ کے اندر حکومت کی اہلیت پاتا ہے تو وہ اس کے حق میں ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ اس کو حکومت و اقتدار کا منصب حاصل

جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے، یہ اہلیت بنیادی طور پر دو ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: يا داود إنا جعلناك خليفة فى الارض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى (ص ۲۶) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کے لئے دو لازمی صفات مطلوب ہیں کہ وہ ذاتی خواہشات اور تعصبات سے اوپر اٹھ گیا ہو۔ اور یہ کہ وہ ہر حال میں حق اور عدل پر فیصلہ کرے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔

زمین کے سیاسی اقتدار فائز ہونے کی یہ لازمی شرط ہے۔ جو لوگ اپنے اندر یہ دونوں شرطیں پیدا کر لیں وہ اپنے آپ حکومت واقتدار کے مستحق ہو جائیں گے۔ ان دونوں شرطوں کے بغیر کسی بھی گروہ کو حکومت ملنے والی نہیں، اور اگر مل جائے تو وہ اس کے پاس باقی رہنے والی نہیں۔ قرآن کے مطابق اقامت دین اور اقامت حکومت دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔ اقامت دین سے مراد دین کی انفرادی پیروی، اور اقامت حکومت سے مراد اسلامی قوانین کا اجتماعی نفاذ ہے۔ ایک فرد کا خدا کے دین کو اختیار کرنا صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ اس کے دل میں اس کا قوی ارادہ پیدا ہو جائے۔ دین کو سچائی کے طور پر دریافت کرنا، اللہ سے تقویٰ کا تعلق پیدا ہو جانا، آخرت کی جواب دہی کا شدید احساس، یہ وہ چیزیں ہیں جو ایک فرد کے اندر دین کی پیروی کا طاقتور ارادہ پیدا کرتی ہیں۔ اگر یہ محرکات آدمی کے دل کے اندر موجود نہ ہوں تو فرد کا دین الہی پر قائم ہونا ممکن نہیں۔

اجتماعی دائرہ میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا تعلق سب سے زیادہ اس بات سے ہے معاشرہ کے اندر اس کی قبولیت کا مادہ پیدا ہو چکا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی حکومت اوپر نافذ نہیں کی جاتی بلکہ خود معاشرہ کے اندر سے ابھرتی ہے۔ اسلام کے اجتماعی قوانین کے نفاذ لئے پہلا کام معاشرہ کو تیار کرنا ہے۔ اگر معاشرہ تیار نہ ہو تو محض سیاسی ہنگامہ آرائی سے اسلام حکومت کا قیام ممکن نہیں۔

برائی کا سرچشمہ کوئی حکمران گروہ نہیں ہے۔ برائی کا حقیقی سر چشمہ انسان کا اپنا نفس۔ جب تک نفس کی اصلاح نہ ہو، کوئی بھی خارجی تدبیر حقیقی دینی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی، نہ قر زندگی میں اور نہ معاشرہ کی زندگی میں۔

Printed page