قبل از وقت اقدام نہیں
Al-Risala, January 2001, pp. 19–20
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام ﷺ تقریباً ۱۳ سال تک مکہ میں رہے یہاں کی اکثریت آپ کی مخالف انھوں نے ہر طرح آپ کو ستایا۔ تاہم آپ کے دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں وہاں کے تقریباً دو سو مرد اور عورت اسلام میں داخل ہو گئے۔ یہ لوگ بار بار آپ سے یہ کہتے کہ ہم ظلم کے خلاف جہاد کریں گے۔ مگر آپ ہمیشہ انھیں صبر کی تلقین کرتے مثلاً حضرت عمر فاروق نے قریش کے مظالم کے خلاف جہاد کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: یا عمر انا قلیل (سیرت ابن کثیر ١/ ٤٤١) یعنی اے عمر ہم تھوڑے ہیں۔ مکی دور کے آخر میں مدینہ کے تقریباً دو سو آدمی اسلام میں داخل ہوگئے۔ کو جب معلوم ہوا کہ مکہ کے لوگ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو ظلم وزيادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انھوں نے بھی کہا کہ ہم کو ان ظالموں کے خلاف لڑنے کی اجازت دیجئے مگر ان سے بھی آپ نے یہی فرمایا کہ صبر کرو کیوں کہ مجھے قتال کی اجازت نہیں دی گئی۔ فانی لم اومر بالقتال)
پیغمبر اسلام ﷺ نے ہر قسم کے ظلم وزيادتی کے باوجود تقریباً ۱۵ سال تک یکطرفہ
طور پر صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے بعد پہلی بار آپ غزوہ بدر کے موقع پر اپنے اصحاب کو لیکر دشمنوں سے مقابلے کے لئے نکلے۔ یہ بھی آپ نے اس وقت کیا جب کہ اللہ تعالی کی طرف سے یہ کھلا وعدہ آگیا کہ آسمان سے فرشتے تمہاری مدد کے لئے آئیں
پیغمبر اسلام ﷺ کا طریقہ یہ نہیں کہ جب بھی کوئی ظلم کرے تو فوراً اس کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے۔ آپ کی سنت یہ ہے کہ ظلم کے باوجود صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عملی اقدام صرف اس وقت کیا جائے جب کہ اس کا نتیجہ خیز ہونا یقینی بن