مقام نزاع سے ہٹ جانا
Al-Risala, January 2001, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام ﷺ نبوت کے بعد تقریباً ۱۳ سال تک مکہ میں رہے۔ کچھ لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا مگر مکہ کی اکثریت آپ کی شدید مخالف بنی رہی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ صرف مخالفت آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لئے کافی نہیں تو وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ انھوں نے طے کیا کہ مکہ کے تمام سردار بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں۔ تاکہ آپ کی تحریک توحید کا خاتمہ ہو جائے۔
یہ ایک نازک موقع تھا۔ بظاہر ایک صورت یہ تھی کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لیکر ان سے مقابلہ کریں۔ مگر آپ نے اس معاملہ کو نتیجہ کے اعتبار سے دیکھا چونکہ اس وقت کے حالات میں مسلح مقابلہ غیر مفید ہوتا اس لئے آپ نے اعراض کے اصول پر عمل فرمایا اور مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی سنت نزاع سے ٹکرانا نہیں ہے بلکہ نزاع کے مقام سے ہٹ جانا
اس طرح آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو بچا کر انھیں زیادہ مفید طور پر استعمال کر سکے۔