Al-Risala · April 2001

سوال و جواب

Al-Risala, April 2001, pp. 32–40

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں ہمیشہ جادو پایا جاتا رہا ہے۔ فرعون مصر کے جادو گروں سے لے کر اب تک جادوگری کا یہ فن موجود ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ جادو کے زور پر چیزوں کو بدلا جا سکتا ہے۔ کہ فرعون کے زمانہ میں مصر کے جادوگروں نے رسیوں اور لاٹھیوں کو بدل کر انہیں سانپ بنادیا تھا (طٰه ۶۶) کیا یہ کسی انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ خدا کی تخلیق کو بدل دے اور چیزوں کو کچھ سے (ایک قاری الرسالہ، ناندیڑ)

جادو کے بارے میں اس قسم کا خیال درست نہیں۔ جادو گر جو کام کرتا ہے وہ نظر بندی ہے نہ کہ کسی چیز کو بدل کر اس کو کچھ سے کچھ کر دینا۔ اس سلسلہ کا ایک دلچسپ واقعہ وہ ہے جو آگرہ

میں ۸ نومبر ۲۰۰۰ کو پیش آیا۔ یہ واقعہ اسی زمانہ کے اخباروں میں چھپا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آگرہ کے تاج محل کو دیکھنے کے لئے وہاں بہت سے لوگ اکٹھے تھے۔ اس وقت وہاں کلکتہ کا مشہور سی سارکار (P. C. Sorcar) آیا۔ اس نے ۲ منٹ کے لئے تاج محل کو ”غیر موجود“ دیکھنے والوں نے اچانک دیکھا کہ تاج محل دن کی روشنی میں ان کی نظروں سے غائب ہو گیا دو منٹ کے بعد تاج محل دوبارہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوا دکھائی دینے لگا۔ اس معاملہ کی وضاحت کرتے ہوئے خود مذکورہ جادوگر نے بتایا کہ میں نے تاج محل کو غیر موجود نہیں کیا تھا بلکہ صرف ایک ٹرک (trick) کے ذریعہ ایسی تدبیر کی تھی کہ تاج محل وقتی طور پر لوگوں کو دکھائی نہ اس نے کہا کہ اس قسم کے جادو کی حقیقت یہ ہے کہ وہ وقتی طور پر تصرف کر کے انسان کی آنکھ اور چیز (object) کے در میان روشنی کا سلسلہ منقطع کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ چیز موجود ہوتے ہوئے بھی دیکھنے والوں کو دکھائی نہیں دیتی یا کسی اور صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ آباد کے انگریزی اخباردکن ہیرالڈ (Deccan Herald) کے مطابق مذکورہ جادو گر نے اس معاملہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:

The Taj Mahal did not disappear, it was only out of sight. An object is said to have vanished when the light rays coming from that object cannot enter the eyes. If the rays coming from the object are bent, the image can be distorted or varished. (The Deccan Herald, Hyderabad, December 24, 2000)

بنگال کے مذکورہ جادو گر مسٹر سر کار نے مزید کہا کہ سائیں بابا جیسے لوگ جو دھوکا دکھاتے ہیں وہ سب میں بھی دکھا سکتا ہوں۔ فرق یہ ہے کہ سائیں بابا جیسے لوگ اپنے آپ کو گاڈ (God) کہتے ہیں، مگر میں اپنے آپ کو پر یٹینڈر (Pretender) کہتا ہوں۔

میرا کام ایسا ہے کہ مجھ کو زیادہ تر ہندوؤں کے در میان رہنا پڑتا ہے، ہندو لوگوں سے اکثر باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے پایا ہے کہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے دو سب سے بڑی شکایتیں ہیں۔

کہ مسلم حکمرانوں، مثلاً اورنگ زیب نے ہندوؤں کے اوپر ظلم کیا، دوسری شکایت یہ ہے کہ مسلم لیڈروں نے ملک کا بٹوارہ کرایا، میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ تو پہلے کی باتیں ہیں۔ آج کا ہندوستانی مسلمان تو ہندوؤں سے پوری طرح میل ملاپ کر کے رہنا چاہتا ہے مگر وہ لوگ میرے اس جواب پر مطمئن نہیں ہوتے، ایسی حالت میں رہنمائی فرمائیں کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے۔ (ایک قاری الرسالہ) اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ہم تو مسلمانوں کی نئی نسل سے تعلق رکھتے اورنگ زیب اور مسٹر جناح کے زمانے میں تو ہم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ پھر ہمارے اوپر ان کے کئے کی ذمہ داری کیوں۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی عمل ایک مشترک عمل ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ایک عمل کریں اور قوم کے دوسرے افراد اس پر خاموش رہیں تو پوری قوم اس عمل میں شریک سمجھی جائے گی۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ افراد ہیں جو اعلان کے ساتھ اس عمل سے اپنے آپ کو ڈس اون (disown) کریں، یعنی اس سے اپنی بے تعلقی اور علیحدگی کا اعلان کر دیں۔ ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان معتدل تعلقات صرف اس وقت قائم ہو سکتے ہیں جب کہ وہ اعلان کے ساتھ مغل حکمرانوں یا تقسیم ہند کے لیڈروں سے اپنے آپ کو ڈس اون (disown) کریں، یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم تو اس وقت موجود ہی نہ تھے۔ قرآن میں رسول اللہ کے ہم عصر یہودیوں کو پچھلے نبیوں کے قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے (النساء ۱۵۵)۔ حالانکہ یہ لوگ یہودیوں کی بعد کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، مگر چونکہ وہ اپنے پچھلے اکابر کے فعل سے اپنے آپ کو ڈس اون (disown) نہیں کرتے تھے اس لئے بعد کے یہودیوں کو بھی پچھلے یہودیوں کے ساتھ بریکٹ کر دیا گیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان اپنے سابق حکمرانوں یا اپنے سابق لیڈروں کو ڈس اون (disown) کیوں نہیں کرتے۔ اس پر غور کیجئے تو ایک بے حد سنگین حقیقت معلوم وہ یہ کہ موجودہ مسلمان اسلام کی فکری عظمت پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، وہ بعد کو بننے والی مسلم تاریخ کی عظمت پر کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت کے بجائے اپنے سیاسی اکابر کی

عظمت میں جی رہے ہیں۔ ایسی حالت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے سیاسی اکابر کو ڈس اون (disown) کیا تو وہ اچانک بے زمین ہو جائیں گے اس کے بعد عظمت کی کوئی اور زمین نہ ہوگی جس کے اوپر وہ پھر فخر طور پر کھڑے ہو سکیں۔ مزید یہ کہ اللہ کی دریافت آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتی ہے، جب کہ پُر عظمت تاریخ سے اس کو فخر کی غذا ملتی ہے۔ موجودہ مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر تواضع میں کوئی لذت نہیں پاتے، اس کے بر عکس فخر اور ناز میں جینا ان کو بہت اچھا معلوم ہوتا ہے حالانکہ مومن وہ ہے جو تواضع کی نفسیات میں جئے، نہ کہ فخر و ناز کی نفسیات میں۔

ماہنامہ الرسالہ کا شمارہ فروری ۲۰۰۱ دیکھا۔ میرے خیال سے یہ شمارہ ایک قسم کا نمبر ہے۔ میرے نزدیک اس کے مضامین کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے مختلف ملکوں میں جو سیاسی اور انقلابی تحریکیں اٹھائی گئیں ان کو آپ غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔ نقطہ نظر کے حامیوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ تحریکیں اسلام کے مطابق ہیں۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ : من رأى منكم منكراً فليغيرة بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه و ذلك اضعف الایمان (مشکوۃ المصابیح ۳/ ۱۴۲۱) اس فرمان رسول کے مطابق تغیر منکر مسلمانوں کا لازمی فریضہ ہے۔ یہ تحریکیں اسی فریضہ کو ادا کرنے کی کوشش ہیں۔ تغیر منکر کے فریضہ کو ادا کرنے کی دوسری اور کوشش کیا ہو سکتی ہے (ایک قاری الرسالہ، حیدر آباد) آپ نے مذکورہ تحریکوں کی حمایت میں جس دلیل کا ذکر کیا ہے وہ صرف ایک مغالطہ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حضرات قرآن وحدیث کو اس طرح نہیں لیتے کہ خالی الذہن ہو کر اسلامی حکم کو معلوم کریں۔ بلکہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اس کو کسی نہ کسی طرح آیتوں اور حدیثوں کے حوالے سے صحیح ثابت کر سکیں۔

اب مذکورہ حدیث رسول پر غور کیجئے۔ حدیث کی اصل الفاظ کے مطابق، مسلمان کی ذمہ داری استطاعت کے بقدر ذاتی پیروی ہے، نہ کہ استطاعت کے دائرہ کو بڑھانے کے لئے دوسروں سے لڑائی چھیڑنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بروقت جو استطاعت آپ کو حاصل ہے، اس استطاعت کے اعتبار سے آپ کو اپنی ممکن ذمہ داری ادا کرنا چاہئے۔ اپنے ممکن دائرہ کو چھوڑ کر غیر ممکن دائرہ پر قابض ہونے کے لئے ہنگامہ آرائی کرنا اس حکم شریعت کے خلاف ورزی ہے نہ کہ اس کی پیروی۔ پہلے میں ایک گروہ سے وابستہ ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ رہ کر میں نے چند مصنفوں کی کتابیں پڑھیں مثلاً سید قطب، سید احمد شہید وغیرہ۔ ان میں زیادہ تر جہاد بالسيف کا ذکر تھا۔ میں بارہویں کا امتحان دیئے بغیر مجاہدین کے ساتھ چل پڑا اور میں تقریباً چار سال ان سے وابستہ پھر میں نے گھر والوں کو بھی چھوڑ دیا۔ گھر والوں کو بہت تکلیف ہوئی۔ ہمارے گھر کی مالی اور تعلیمی سرگرمیوں پر بُرا اثر پڑا۔ 1999 میں میں گرفتار ہوا اور اللہ پاک کی مرضی سے میری جان بچ گئی۔ بعد مجھے پولیس نے P.S.A (public safety act) کے مطابق نظر بند رکھا۔ میں میری ملاقات ایک معروف شخصیت سے ہوئی اس نے مجھے ایک کتاب (اسلام ایک تعارف) دی وہ آپ کی ہی لکھی ہوئی تھی۔ پھر میں نے آپ کی پچاس ساٹھ کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد میرا ذہن بدل گیا میں نے پھر جیل میں (examination form) بھر دیا اور باقاعدہ طریقے سے میرا T.D.C کا امتحان conduct ہوا۔ اب میں دسمبر ۲۰۰۰ یعنی ۹ رمضان المبارک کورہا (release) اب میری خواہش ہے کہ اسلام پر زندگی کو چلاؤں اور پڑھائی بھی کروں لیکن گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں۔ اور اس وقت میری عمر 21 سال کی ہے یہ میرے کمانے کا بھی ٹائم ہے۔ صاحب آپ سے گذارش ہے کہ آپ آگے میری رہنمائی فرمائیے۔ (ایک مسلم نوجوان، کشمیر) یہ صرف ایک مسلم نوجوان کی کہانی نہیں، بلکہ وہ موجودہ زمانہ کے لاکھوں مسلمانوں کی

موجودہ زمانے میں جہاد کے نام پر مختلف ملکوں میں جو انتہا پسندانہ تحریکیں چلائی انہوں نے بے شمار مسلم خاندانوں کو تباہ کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں نہ اسلام کو کچھ ملا اورنہ مسلمانوں اس قسم کی تحریکیں بلاشبہ اسلامی تحریکیں نہیں اور نہ اس قسم کی عسکری سرگرمیار میاں اسلا یہ سب ایک نادانی کارد عمل تھا جو اسلام کے نام پر کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی تحریک کو اس کے نتیجہ کے لحاظ سے دیکھنا چاہئے۔ جو تحریک لوگوں میں نفرت اور تشدد کو بھڑکائے وہ کبھی اسلامی تحریک نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جو عسکری سرگرمی لوگوں کی تباہی میں اضافہ کرے وہ کبھی اسلامی جہاد نہیں ہو سکتا۔ جو نا پختہ نوجوان اس قسم کی تحریکوں کا شکار ہوتے ہیں وہ شاید اپنی کم فہمی کی بنا پر قابلِ معافی قرار پائیں مگر جو لوگ ان تحریکوں کی لیڈری کرتے ہیں وہ بلاشبہ ایک سنگین جرم کر رہے ہیں جو کسی طرح قابل معافی نہیں۔

قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر جنت میں پھر جنت سے نکال دیا اور زمین پر چھوڑ دیا اور اس کے بعد دنیا بنی شروع ہوئی۔ ساری کائنات کے لوگ اسی جوڑے (حضرت آدم اور حضرت حوا) کے بعد دنیا میں آئے اور پہلا جوڑا یہی تھا۔ میرا ذہن یہ سوال کرتا ہے کہ اگر ہم آج کی دنیا میں دیکھیں تو مجھے اپنی زبان (lan- guage) اپنے ماں باپ سے ہی ملی ہے تو کیا وجہ ہے کہ اگر ہم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد یعنی آدم کی اولاد ہیں تو ہماری زبان ایک کیوں نہیں ہے۔ یہ اتنی زبانیں کہاں سے پیداہوئیں ساری دنیا میں ایک زبان ہو نی چاہئے تھی جس کو سب سمجھ سکتے اور بول بھی سکتے۔ یعنی حضرت آدم کی (نذیر احمد صوفی، سری نگر)

یہ ایک کنفیوزن کی بات ہے نہ کہ حقیقی معنی میں کوئی سوال۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ضروری سوال اور غیر ضروری سوال میں فرق کرے ورنہ وہ ساری عمر ذہنی الجھنوں میں مبتلا رہے

گا اور اس کے اندر صحت مند فکر کا ارتقاء نہ ہو سکے گا۔

جہاں تک اصل سوال کا تعلق ہے اس کو عام تجربہ کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔ میں چار لڑکے ہیں۔ تلاش معاش کے تحت وہ چار مختلف ملکوں میں چلے جاتے ہیں اور وہیں بس اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ چاروں کی زبانیں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گی۔ تقریباً اسی طرح کا کچھ معاملہ حضرت آدم کی اولاد کے ساتھ پیش آیا۔ مہاجرت کے ذریعہ لوگوں کی زبانیں بدلتی رہیں یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بہت سی زبانیں وجود میں آگئیں۔ موضوع پر آپ کو وہ کتابیں پڑھنی چاہئیں جو زبانوں کی تاریخ پر لکھی گئی ہیں۔ آپ الرسالہ میں جہاں قرآن و حدیث کا حوالہ عربی میں پیش کرتے ہیں تو اس کا ترجمہ بھی کر دیتے ہیں لیکن کبھی کبھی ایسا نہ ہونے کی وجہ سے عربی نہ جاننے والوں کو تشنگی رہ جاتی ہے۔ جیسے ماہ اکتوبر ۲۰۰م کے رسالہ کے صفحہ ۲۶ میں سطر ۱۵-۱۶ دیکھیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ براہ کرم جہاں بھی قرآن و حدیث کا حوالہ عربی میں دیں تو عربی کا ترجمہ اردو میں ضرور لکھیں۔ (امان اللہ، سیوان)

یہ شکایت درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ الرسالہ محض عام قسم کا ایک ماہنامہ نہیں، وہ مکمل طور پر ایک مشن ہے اس کا مقصد پڑھنے والے کو صاحب مشن بنانا ہے، نہ کہ اس کو وقتی قسم کی ایک ذہنی تفریح فراہم کرنا۔ آپ کو چاہئے کہ الرسالہ کوآپ اپنے لئے رابطہ کا ذریعہ بنائیں۔ الرسالہ کی باتوں پر لوگوں سے مذاکرہ کریں۔ الرسالہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش اس طرح یہ ہونا چاہئے کہ اگر ایک قاری کو اس کا کوئی عربی لفظ یا جملہ سمجھ میں نہ آئے تو اس کو سمجھنے کے لئے وہ اپنے قریبی عالم سے ربط قائم کرے۔ اور اگر کسی قاری کو انگریزی کا کوئی لفظ یا جملہ مشکل معلوم ہو تو وہ اس کو سمجھنے کے لئے اپنے قریب کے کسی انگریزی داں سے ملے۔

الرساله کا حقیقی قاری وہی ہے جس زندگی میں الرسالہ اس طرح شامل ہو جائے کہ وہ اس کے لئے لوگوں سے ربط کا ذریعہ بن جائے، وہ اس کے لئے لوگوں سے تعلقات کا مرکز و محور بن گیا ہو۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو الرسالہ کے ہر قاری کو کرنا ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کے پاس وقت ہے اور اسباب موجود ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنے علم کو بڑھائیں۔ وہ اس بات کی کوشش کریں کہ جو چیز ان کو آج معلوم نہیں ہے، کل کے دن وہ انہیں معلوم ہو جائے۔ میں بہت مجبور ہوں بات یہ ہے کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی اور جہاں میری ممی شادی کروارہی ہیں وہاں تو بالکل ہی نہیں کرنا چاہتی۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی لڑکا صرف دنیا کو دکھانے کے لئے مجھ سے شادی کرلے۔ مجھے صرف زندگی گزارنی ہے۔ زندگی جینے کی ذرہ برابر بھی خواہش نہیں ہے لیکن سماج میں اکیلے ایک لڑکی کی زندگی نہیں گزار سکتی۔ اور کسی سے یہ بات کہہ نہیں سکتی اور کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہے جس سے میں مشورہ لے سکوں۔ میری مدد کریں۔ میں اپنے جواب کا بے صبری سے انتظار کروں گی۔ (ایک مسلم خاتون) شادی کے سلسلہ میں اکثر لڑکے یا لڑکیاں اپنی فرضی آرزوؤں کے تحت یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا میں ان کے لئے کوئی معیاری جوڑا موجود ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں نہ کوئی بیوی معیاری بیوی ہے اور نہ ہی کوئی شوہر معیاری شوہر۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر پسند والی شادیاں درمیان ہی میں ٹوٹ جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی معیاری جوڑے کے حصول کا نام نہیں ہے بلکہ وہ غیر معیاری جوڑے کے ساتھ نباہ کرنے کا نام ہے۔

عورت اور مرد دونوں کے لئے زندگی فطرت کا ایک قیمتی تحفہ ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کو چاہئے کہ وہ اس تحفہ کو خوشی کے ساتھ قبول کرے۔ وہ جینے کی طرح جئے اور جب اس کی موت آئے تو وہ اس احساس کے ساتھ مرے کہ اس نے زندگی کا فریضہ ادا کرنے میں اپنی طرف سے

کوئی کو تاہی نہیں کی۔

دوسری اہم بات یہ کہ غیر مطلوب جوڑے کے ساتھ زندگی گزارنا یا غیر مطلوب افراد کے ساتھ کام کرنا کوئی برائی نہیں۔ اس کے اندر ایک بے حد مثبت پہلو چھپا ہوا ہے وہ یہ کہ اسی کے دوران انسان کی ذہنی اور روحانی ترقی ہوتی ہے۔ ذہنی اور روحانی ترقی، اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ انسان نا موافق صور تحال پر راضی ہو جائے، وہ فرق اور اختلاف کے با وجود مل جل کر رہنے کا طریقہ سیکھ لے۔ اپنی پسند کی دنیا تلاش کرنے کا نام عقل مندی نہیں، عقل مندی یہ ہے کہ آدمی پسند کے خلاف جینے کاراز دریافت کرلے۔

Printed page