Al-Risala · January 2001

اغیار کی رعایت

Al-Risala, January 2001, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں ایک مستقل اصول وہ ہے جس کو قرآن میں تالیف قلب کہا گیا (التوبہ 60) تالیف قلب کا مطلب ہے دلوں کو جوڑنا، لوگوں کو اپنے سے مانوس یہ مقصد صرف اس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے کہ دوسروں کی رعایت کی دوسروں کے جذبات اور مفادات کا احترام کیا جائے۔ تالیف کا یہ اصول اسلامی دعوت کا ایک اہم اصول ہے۔ وہ ابدی طور پر انسانی سماج میں مطلوب ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں تالیف قلب کے اس اصول پر عمل مثلاً جب آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو اس وقت وہاں اہل ایمان کے ساتھ مشرکین اور یہود بھی آباد تھے۔ اس وقت آپ نے اپنی طرف سے ایک منشور جاری فرمایا جس کو عام طور پر صحیفہ مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے اعلان فرمایا کہ ہر گروہ کو اپنے مذہب اور کلچر کی آزادی ہوگی۔ ہر قبیلہ کے نزاعی معاملات اس کی اپنی قبائلی روایات کے تحت طے کئے جائیں گے۔ عقیدہ اور کلچر کے معاملہ میں کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔ یہود کے ساتھ آپ نے خصوصی رعایت کا معاملہ فرمایا، رمضان کے روزہ کی فرضیت سے پہلے آپ بھی انھیں دنوں میں روزہ رکھتے رہے جب کہ یہود روزہ رکھتے تحویل قبلہ کا حکم آنے سے پہلے تقریباً سترہ مہینہ تک آپ نے یہود کے قبلہ (بیت المقدس) کو اپنا قبلہ بنائے رکھا۔ یہود کے قبلہ عبادت کو اپنا قبلہ بنانا اس لئے تھا کہ آپ امید رکھتے تھے کہ اس طرح وہاں کے یہود آپ سے مانوس ہوں گے اور آپ کے قریب

(تفسیر القرطبی ۱۵۰/۲)

پیغمبر اسلام ﷺ کا طریقہ مخالفت کے جواب میں مخالفت نہ تھا۔ بلکہ مخالفت کے جواب میں رعایت تھا۔ آپ کی سوچ یہ نہیں تھی کہ لوگوں کو دبا کر انھیں اپنا تابع بنائیں۔ اس کے برعکس آپ کا طریقہ یہ تھا کہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور رعایت کا معاملہ کیا جائے، ان کے دل کو نرم کر کے انھیں اپنا ساتھی بنایا جائے۔

Printed page