رازداری
Al-Risala, January 2001, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
فتح مکہ کے واقعات کے ذیل میں آیا ہے کہ مدینہ میں آپ نے سفر کے لئے تیاری کا حکم دیا۔ عام مسلمان ضروری تیاری میں مصروف ہوگئے۔ اس زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق اپنی صاحبزادی عائشہ کے گھر میں آئے جو پیغمبر اسلام ﷺ کی اہلیہ تھیں۔ وقت ضروری تیاری کررہی تھیں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنی صاحبزادی سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے تم کو اس کا حکم دیا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے دوبارہ پوچھا کہ یہ تیاری کہاں کے سفر کے لئے ہے۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم مجھ کو نہیں معلوم (واللہ ما ادری) سیرت ابن ہشام ۱۲/۳) پیغمبر اسلام ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ تھی کہ آپ نازک معاملات میں ہمیشہ رازداری کا طریقہ اختیار فرماتے تھے۔ یہی آپ نے فتح مکہ کی مہم میں کیا۔ آپ اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ نکلے مگر آپ نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ہم کہاں صحابہ کہتے ہیں کہ ہم چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے جہاں سے راستہ سیدھامکہ کی طرف جاتا تھا، اس وقت ہم نے جانا کہ یہ سفر مکہ کے لئے ہے۔
نازک اجتماعی معاملات میں رازداری بے حد اہم ہے اکثر اوقات کامیابی کا انحصار اس
پر ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو آپ کے منصوبہ کا پیشگی علم نہ ہو سکے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس حکمت کو نہایت اہتمام کے ساتھ اپنی زندگی میں اختیار فرمایا۔