کوسِ رحلت بکرفت دستِ اجل اے دو چشم وداع سر بکنید
Al-Risala, May 2001, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
”موت آکر رہے گی“ یہ بات ان لوگوں سے کہنے کی ہے جو ابھی جوانی کی عمر میں ہوں لیکن جو لوگ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے ان کے لئے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ان سے یہ کہا جائے کہ ”موت آنا شروع ہو گئی۔ جوان آدمی کے لئے موت بظاہر مستقبل کی ایک خبر ہے لیکن بوڑھے آدمی کے لئے موت حال میں پیش آنے والا ایک واقعہ۔
حقیقت یہ ہے کہ جوان آدمی اگر موت کو یاد نہ کرے تو یہ اس کے لئے غفلت کی بات ہوگی۔ لیکن جو لوگ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر بھی موت کو بھولے ہوئے ہوں ان کی یہ حالت بے حد سنگین یہ گویا کہ سرکشی ہے اور اللہ کے نزدیک سرکشی سے زیادہ سنگین جرم اور کوئی نہیں۔ موت کو یاد رکھنے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ایک واقعہ کی صورت میں روزہر آدمی کے آس پاس پیش آتی ہے۔ یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ کوئی بچپن میں مر گیا اور کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر مرا۔ اس طرح ہر عمر کے لوگ اپنے جیسی عمر کے مرد و عورت کو ہر روز مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے اس کی مثال دنیا میں موجود ہے۔ ایسی حالت میں ہر عقل مند آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو موت کے کنارے محسوس کرے۔ کسی بھی عمر کا آدمی اپنے آپ کو موت سے محفوظ نہ سمجھے۔