Al-Risala · May 2001

اخفاء ایک سنت

Al-Risala, May 2001, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت فرمائی تو تقریباً ۱۰ دن کے اس سفر میں بہت سے واقعات پیش آئے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ میں سے ایک عبرت انگیز واقعہ وہ ہے جو سراقہ بن مالک بن جعشم سے تعلق رکھتا ہے۔ عرب کا ایک شہسوار تھا۔ قریش مکہ کو جب معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے محفوظ طور پر نکل کر باہر چلے گئے ہیں تو انہوں نے اعلان کیا کہ جو شخص محمد کو پکڑ کر لائے گا اس کو سو اونٹ کا انعام دیا جائے گا۔ سراقہ، جس نے بعد کو اسلام قبول کر لیا، اس انعام کی حرص میں آپ کی تلاش میں نکلا یہاں تک کہ وہ آپ کے قریب پہنچ گیا۔

مگر جیسا کہ روایات میں آیا ہے، اس کا گھوڑا اٹھو کر کھا کر گر پڑا۔ اس نے بار بار آگے بڑھنے کی کوشش کی مگر ہر بار اس کے ساتھ یہی پیش آیا۔ آخر کار اس نے محسوس کیا کہ یہ معاملہ اس کے قابو سے باہر ہے اور وہ محمد اور ان کے ساتھی ابو بکر کو پکڑ نہیں سکتا۔ چنانچہ اس نے دور سے چلا کر امن طلب کیا۔ نیز کچھ تحفہ پیش کرنا چاہا۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں : فلم یردانی ولم يسألاني إلا أن قالا : اخف عنا۔ (سيرة ابن کثیر ۲ / ۲۴۸) یعنی ان دونوں نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ مجھ سے کوئی سوال کیا۔ دونوں نے صرف یہ کہا کہ قریش سے ہماری بات کو مخفی رکھنا۔

اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم سنت معلوم ہوتی ہے، اور وہ ہے سنتِ راز داری۔ یہ بات عقل اور شریعت دونوں کے خلاف ہے کہ آدمی ہر بات کا اعلان کرتا بعض اوقات اعلان ضروری ہوتا ہے مگر بعض اوقات یہ ضروری ہوتا ہے کہ ایک معاملہ کو پوشیدہ رکھا جائے، عام لوگوں کو اس سے باخبر نہ ہونے دیا جائے۔ اس قسم کی راز داری ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔

Printed page