شکایت ایک نفسیاتی کمزوری
Al-Risala, May 2001, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
شکایت کا سبب کوئی انسان نہیں، اس کے اسباب خود قانونِ فطرت کے اندر ہیں۔ بھی کچھ لوگ مل کر رہیں یا مل کر کوئی کام کریں تو لازماً ایک کو دوسرے سے ناخوش گوار تجربات یہی تجربات شکایت پیدا کرتے ہیں۔ اب جو آدمی شکایت کو فطرت کے نظام کا ایک تقاضہ سمجھے وہ اس کو نظر انداز کر دے گا۔ اور جو آدمی شکایت کو ایک شخص کا فعل سمجھ لے وہ اس کے خلاف شکایت میں مبتلا ہو جائے گا۔
کوئی بڑا کام کرنے کے لئے ہمیشہ متحدہ کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی کچھ لوگ متحد ہوں گے تو لازماً ایک کو دوسرے سے شکایت بھی پیدا ہوگی۔ اب اگر ایسا ہو کہ لوگ شکایتوں کو لے کر ساتھ چھوڑ دیں تو کبھی کوئی بڑا کام نہیں ہو سکتا۔ بڑا کام صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ وہ شکایت کے باوجود متحد رہیں، شکایت کے باوجود وہ مقصد کی خاطر دوسروں سے جڑے رہیں۔
اس معاملہ کا دوسرا سخت تر پہلو ایک اور ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں شکایت کا پیدا ہو: اس لئے شکایتی مزاج کے لوگ عملاً ڈبل اسٹیٹنڈرڈ بن جاتے ہیں۔ وہ ایسا کرتے ہیں کہ جہاں ان کا گہرا انٹرسٹ وابستہ ہو، وہاں تو وہ شکایت کو نظر انداز کر کے جڑے رہتے ہیں۔ گہرے انٹرسٹ کا معاملہ نہ ہو وہاں وہ فوراً شکایت لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ شکایتی مزاج ایک قسم کی نفسیاتی کمزوری ہے۔ اس نفسیاتی کمزوری کے ساتھ آدمی کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ حتی کہ یہ نیکی بھی اس کے لئے مقدر نہیں کہ کوئی شخص ایک بڑا کا کر رہا ہو تو وہ اس کا اعتراف کرے۔ کیوں کہ اپنے مزاج کی بنا پر اس کو کوئی نہ کوئی ایسی شکایتی بات مل جائے گی جس کا حوالہ دے کر وہ اس کو رد کر دے اور اس سے الگ ہو جائے۔