ذمہ داری پر نظر
Al-Risala, May 2001, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
خلافت فاروقی کے زمانہ میں خالد بن ولید کا شامی افواج کی سپہ سالاری سے ہٹایا جانا اور ان کی جگہ ابو عبیدہ بن الجراح کو سپہ سالار مقرر کرنا، اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے۔ خلیفہ ثانی کا یہ حکم پہنچا تو خالد بن ولید کی قیادت میں رومیوں سے جنگ ہو رہی تھی اور ابو عبیدہ بن الجراح ان کی ماتحتی میں لڑ رہے طویل جنگ کے بعد صاف ظاہر ہو چکا تھا کہ عنقریب مسلمانوں کی فتح ہونے والی ہے : فاخفى ابو عبيدة الخبر وصار في مكانه خلف خالد حتى ظهرت مقدمات النصر. وقد سئل عن عدم اخذه بلواء القيادة على الفور فقال: ماسلطان الدنيا اريد و ما پس ابو عبیدہ نے خبر کو چھپایا اور خالد کی ماتحتی میں بدستور لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ مقدمات فتح ظاہر ہو گئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ قیادت کا جھنڈا آپ نے فوراً کیوں نہ لے لیا تو انھوں نے جواب دیا: دنیا کی بڑائی میں نہیں چاہتا اور نہ دنیا کے لئے عمل کرتا ہوں۔
یہ تاریخ کا وہ واقعہ ہے جب کہ ایک جنرل ایک ملتے ہوئے فوجی کریڈٹ کو بالقصد چھوڑ دے اور اسے دوسرے کے حصہ میں جانے دے۔ ایسا اس لئے ہوا کہ ابو عبیدہ کو دنیا میں اپنی عزت و شہرت کے مقابلہ میں اللہ تعالی کے سامنے سر فروئی کا زیادہ خیال تھا۔ اُنھیں دکھائی دے رہا تھا کہ دنیا کے لحاظ سے کامیابی یہ ہے کہ خبر کا فوراً اعلان کیا جائے۔ اس کے برعکس آخرت کے لحاظ سے کامیابی یہ ہے کہ خبر کو چھپایا جائے۔ ذمہ داری کے خیال نے حقوق کو ان کی نظر میں بے حقیقت بنا دیا۔ وہ افسر کی حیثیت میں ہوتے ہوئے ماتحت بن کر لڑتے رہے اور بالقصد اس کو گوارا کر لیا کہ جنگ کی فتح کا سہرا ان کے ایک ماتحت فوجی کو حاصل ہو جائے۔
دوسری طرف اسی واقعہ میں خالد بن ولید کے کردار کو دیکھئے ۔ یرموک کی فتح کے بعد جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ نہ صرف اس عظیم جنگ بلکہ پچھلے بے شمار معر کوں کا فاتح معزول کر دیا گیا ہے، تو ان کے اندر سخت بے چینی پیدا ہو گئی۔ بہت سے فوجی اور غیر فوجی ان کے گرد جمع ہو گئے۔
انہوں نے حضرت خالد کی بہادری اور ان کی اسلامی خدمات کے بارے میں پرجوش تقریریں کیں اور ان کی معزولی پر اپنی زبردست ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کو ابھارا کہ وہ خلیفہ کا حکم ماننے سے انکار کر دیں اور وعدہ کیا کہ ہم سب لوگ آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں۔ (يحرضونه على عصيان امر الخليفة ويعدونه بانهم سيكونون معه) مگر خالد بن ولید نے اس قسم کے مشورہ کو ماننے سے قطعا انکار کر دیا۔ وہ بخوشی اس پر راضی ہوگئے کہ اپنے ایک جونیر افسر عبیدہ بن الجراح کو سر دار مان لیں اور ان کی ماتحتی میں ایک معمولی فوجی کی حیثیت سے اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرتے رہیں۔ اس وقت انھوں نے جو جملہ کہا، وہ تاریخ نے ان لفظوں میں محفوظ رکھا ہے : انا لا اقاتل فى سبيل عمر ولكن فى سبيل رب عمر (میں عمر کی راہ میں جنگ نہیں کرتا بلکہ عمر کے رب کی راہ میں جنگ کرتا ہوں)۔
خالد بن ولید کو اس بلند کرداری پر جس چیز نے ابھارا وہ دراصل ایمانی نفسیات تھی جس کی نظر ہمیشہ حقوق کے بجائے ذمہ داریوں پر ہوتی ہے۔ اس واقعہ میں بظاہر ان کا ایک مسلمہ حق پامال ہورہا تھا، مگر اللہ کے سامنے جواب دہی کی ذمہ داری ان کے ذہن پر اس قدر چھائی ہوئی تھی کہ حق کی ظاہری پامالی انھیں بھول گئی اور ذمہ داری کے احساس کے سوا کوئی چیز انھیں یاد نہ رہی۔ جب آدمی کا یہ حال ہو کہ حقوق کے مقابلہ میں اس کی نظر ذمہ داریوں پر ہو تو اسی طرح ہر مسئلہ میں وہ اپنی ذات کو الگ کر کے معاملہ کرتا ہے۔ وہ ایسی بلند سطح پر پہنچ جاتا ہے جہاں ذاتی وقار، فوری مصالح، گر وہی تحفظات سب بے حقیقت ہو جاتے ہیں۔ صداقت کے سامنے آتے ہی وہ اس طرح لپک پڑتا ہے جیسے اس کے اور صداقت کے درمیان کوئی روک ہی نہ تھا۔
حقوق کے مقابلہ میں ذمہ داریوں پر نظر ہونا، یہی تمام اعلیٰ اخلاقیات کی جڑ ہے۔ یہ چیز آدمی کے اندر پیدا ہو جائے تو گویا اس کے اندر سارے اخلاقی اوصاف پیدا ہو گئے۔ انفرادی معاملہ ہو یا اجتماعی، ہر جگہ وہ کھر اثابت ہوتا ہے، ہر امتحان میں وہ پورا اترتا ہے، ہر کٹھنائی اس کی شخصیت کو نیا جلا دینے والی ثابت ہوتی ہے۔ اس کی شخصیت اندرونی تضاد سے خالی ہوتی ہے، اس لئے خارجی دنیا میں بھی اس سے کسی تضاد کا ظہور نہیں ہوتا۔