Follow one and respect all
Al-Risala, May 2001, pp. 27–28
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (جلدا) میں محمد بن واسع سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص بصرہ سے سوار ہو کر ام ذر کے پاس آیا جب کہ ان کے شوہر ابو ذر کا انتقال ہو چکا تھا۔ اس نے ام ذر سے پوچھا کہ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ مجھے حضرت ابوذر کی عبادت کے بارہ میں بتائیں۔ صحابی کی اہلیہ ام ذر نے جواب دیا: وہ سارے دن اکیلے بیٹھے ہوئے سوچتے رہتے تھے (کان النھار اجمع خالیاً يتفكر) اسی طرح ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (جلدا) میں عون بن عبد اللہ بن عقبہ سے نقل کیا ہے۔ انھوں نے ام الدرداء سے پوچھا کہ حضرت ابو الدرداء کا سب سے افضل عمل کیا ہوتا تھا۔ ان کی اہلیہ نے جواب دیا: سوچنا اور عبرت پکڑنا (التفكر والاعتبار) سالم بن ابی جعد کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء کے سامنے سے دو بیل گزرے۔ دونوں کو ان کے مالک نے کام پر لگا رکھا تھا۔ ایک بیل اپنے کام پر قائم رہا اور دوسرا رک گیا۔ حضرت ابو الدرداء نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اس میں بھی عبرت ہے (ان فی هذا لمعتبراً) یعنی رکنے والے نے مالک کا ڈنڈا کھایا اور دوسرے نے نہیں، یہی معاملہ انسان کے ساتھ اس کا خد کرے گا۔ قرآن میں غور و فکر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ یہ غور و فکر مومن کی مستقل صفت ہے۔ اسی سے آدمی کے اوپر معرفت خداوندی کے دروازے کھلتے ہیں۔ اسی سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی سے وہ اس درجہ احسان تک پہنچتا ہے جس کے متعلق حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو (تعبد الله كانك تراه) قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت السائحون (زمین پر پھرنے والے) بتائی گئی ہے۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے۔ سیاحت کا لفظ قدیم زمانہ سے مذہبی سفر کے لئے بولا جاتا رہا ہے۔ لسان العرب میں اس کی تشریح کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: الذهاب في الارض للعبادة والترهب (عبادت اور دنیا سے بے تعلقی کے لئے زمین میں نکل جانا) مفردات امام راغب میں
قوله: افلم يسيروا فی الارض فتكون لهم قلوب يعقلون بها او آذان يسمعون بها، (الحج ۴۶) بعض مفسرین کے نزدیک السائحون سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی توحید اور اس کے نظام تخلیق میں بہت زیادہ فکر کریں اور اللہ نے جو عبرت اور نشانیاں اپنی توحید اور عظمت کو بتانے والی پیدا کی ہیں ان پر غور کریں (وقيل هم المجاهدون بافكار هم فی توحيد بهم و ملكوته و ما خلق من العبر و العلامات الدالة على توحيده وتعظيمه)
انسان کے بنائے ہوئے تمدن کے ماورا جو خدا کی دنیا ہے وہ خدا کی صفات کمال کا براہ راست مظہر ہے۔ یہاں مخلوقات میں اس کا خالق دکھائی دیتا ہے۔ اپنے اس تخلیقی کارخانہ میں خدا نے ایسی نشانیاں رکھ دی ہیں جو سوچنے والے کی آنکھیں کھول دیں۔ جو اس کے اندر ربانی شعور بیدار کریں، جو اس کو تڑپا کر اس کے رب سے ملا دینے کا سبب بن جائیں۔
آدمی کا عمل اس کی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ سوچ گہری ہوگی اتنا ہی زیادہ گہرانیتیجہ نکلے گا اور سوچ میں جتنی کمی ہوگی اتنا ہی عمل میں کمی ہو جائے گی۔
اسلام کی بنیاد شعور پر قائم ہے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے شعور کو زیادہ سے زیادہ بیدار کیا جائے۔ انسان کی فکری صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ ابھاراجائے۔ انسانی دماغ کے سوئے ہوئے خانوں کو آخری حد تک متحرک کر دیا جائے۔
اسی شعوری بیداری پر اسلامی زندگی کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ باشعور لوگ ہی اعلیٰ ایمان کا تجربہ کرتے ہیں۔ باشعور لوگوں کی عبادت ہی زندہ عبادت ہوتی ہے۔ باشعور لوگ ہی یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان کی زندگیاں ربانی کردار کا نمونہ بنیں۔ باشعور افراد کے مجموعہ کا نام ہی صالح معاشرہ باشعور افراد ہی یہ طاقت رکھتے ہیں کہ وہ اسلام کے اصولوں پر ایک حقیقی نظام بنائیں۔