فطرت کی آواز
Al-Risala, May 2001, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
علاؤالدین خان صاحب (پیدائش ۱۹۶۶ء) میرپور کے رہنے والے ہیں۔ ۲۰ ستمبر ۲۰۰۰ء کو دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر یہ مانتا ہوں کہ ہندوستان میں دعوت کے مواقع بہت زیادہ ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان میل ملاپ کو بڑھایا جائے۔ اور مسلمانوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا کیا جائے تاکہ وہ ملاقات کے مواقع کو دعوتی مقصد کے لئے استعمال کر سکیں۔
انہوں نے ایک ذاتی تجربہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ دو سال پہلے کا واقعہ ہے۔ ایکسپریس کے ذریعہ میرٹھ سے علیگڑھ جا رہا تھا۔ اسٹیشن پر پہنچنے میں کچھ دیر ہو گئی۔ پلیٹ فارم پر پہنچا تو گاڑی چل چکی تھی۔ میں ابھی گاڑی پر بیٹھ نہیں پایا تھا کہ اس کا پچھلا ڈبہ سامنے آگیا، جو ریلوے گارڈ کا ڈبہ ہوتا ہے۔ گارڈ نے مجھ کو پلیٹ فارم پر دیکھ کر کہا کہ آئیے، اس ڈبہ میں چنانچہ میں دوڑ کر گارڈ کے ڈبہ میں سوار ہو گیا۔
گارڈ صاحب کا نام رام کمار ورما تھا۔ وہ مراد آباد کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے مجھے ڈبہ کے اندر بیٹھنے کی جگہ دی چنانچہ میں وہاں بیٹھ گیا۔
کچھ دیر کے بعد انہوں نے اپنا ٹفن کیریر نکالا اور اسے میز پر رکھ دیا اس کے بعد مجھ سے کہا کہ آئیے کھانا کھائیے میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں کھانا کھا چکا ہوں۔ فارغ ہونے کے بعد انہوں نے کہا کہ کیا میں شراب پی سکتا ہوں؟ میں نے کہا کہ آپ کی مرضی۔ یہ کہہ کر میں نے اپنے بیگ سے ایک کتاب نکالی اور اس کو پڑھنے لگا۔
دوسری طرف گارڈ صاحب شراب پینے میں مشغول ہو گئے۔ اس ماحول سے مجھے وحشت سی ہوئی، خاص طور سے اس لیے کہ وہاں شراب کی تیز بو پھیل گئی تھی۔ میں نے ارادہ کیا کہ اگلے اسٹیشن (ہاپوڑ) میں ٹرین سے اتر کر دوسرے ڈبہ میں سوار ہو جاؤں گا۔ گارڈ صاحب کو میرے
ارادے کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ آپ ایک دھارمک آدمی ہیں میں آپ کو اپنے ساتھ علیگڑھ تک لے چلوں گا۔ آپ درمیان میں نہیں اتر سکتے۔ تاہم میں وہاں ٹھہر نہ سکا اور ہاپوڑ ریلوے اسٹیشن پر اتر کر دوسرے ڈبے میں چلا گیا۔ البتہ میں نے یہ کیا کہ اس وقت میرے بیگ میں اسلامی مرکز دہلی کی چھپی ہوئی کتاب ’انسان اپنے آپ کو پہچان‘ (ہندی) کا ایک نسخہ تھا، وہ میں نے گارڈ صاحب کو پڑھنے کے لئے دے دیا اور اتر کر دوسرے ڈبے میں سوار ہو گیا۔
گھر واپس آنے کے بعد میں اس واقعہ کو تقریباً بھول چکا تھا مگر ڈیڑھ مہینہ بعد مذکورہ گارڈ کا ایک خط ملا۔ گارڈ صاحب کو میں نے جو کتاب دی تھی اس پر میرے پتے کی مہر لگی ہوئی تھی۔ پتہ کو دیکھ کر گارڈ صاحب نے میرے نام یہ خط بھیجا تھا۔ میری طرف سے جواب میں تاخیر ہوئی تو ان کا دوسرا خط آگیا۔ انہوں نے اپنے خطوط میں یہ لکھا کہ آپ کی دی ہوئی کتاب میں نے کئی بار انہوں نے لکھا کہ واقعہ یہ ہے کہ اس کتاب نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ اس نے میرے اندر نئی سوچ پیدا کر دی۔ اب میں اس قسم کی اور کتابیں پڑھنا چاہتا ہوں۔ مسٹر رام کمار ورما (گارڈ) نے خط کے ذریعہ یہ خواہش ظاہر کی کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ طے شدہ وقت کے مطابق میرٹھ کے ریلوے اسٹیشن کے گیسٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات ہوئی انہوں نے بتایا کہ آپ کی دی ہوئی کتاب کو پڑھنے کے بعد میرے اندر اسلام کے مطالعہ کا شوق پیدا ہوا، چنانچہ میں ہندی میں اسلامی کتابیں حاصل کر کے ان کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ اس مطالعہ کے بعد میرے اندر بہت سی فکری و عملی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ پہلے میں شراب کا سخت عادی تھا۔ مگر اب میں شراب کو بالکل چھوڑ چکا ہوں۔
اس واقعہ کو جب میں نے سنا تو میں نے کہا کہ یہ مسٹر گارڈ کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ مسٹر نیچر کا واقعہ ہے۔ ہر آدمی جو اس دنیا میں پیدا ہوا ہے وہ مسٹر نیچر ہی ہے۔ دعوت کا کام یہ ہے کہ لوگوں کو ان کی اپنی اس حقیقت سے آگاہ کر دیا جائے۔ اس کے بعد ہر آدمی دینِ فطرت کو اس طرح قبول کر لے گا جیسے کہ وہ اس کی اپنی ہی بھولی ہوئی چیز ہو۔