ایک واقعہ دو انجام
Al-Risala, May 2001, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
دہلی کے اوکھلا وہار کے علاقہ میں ایک تقریری پروگرام کے تحت جانا ہوا۔ سے اوکھلا وہار تک کے اس سفر میں مندرجہ ذیل افراد میرے ساتھ تھے: برادرم محمد خالد ندوی، مسجد کے امام قاری محمد سمیع اللہ صاحب، اور واحد علی انجینئر صاحب Tel. 6922073۔ ۱۰ جون ۱۹۹۸ کی شام کو اس مسجد میں پہنچا۔ جس کو عام طور پر جسولا ویہار کی مسجد کہا جاتا اس مسجد کو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کے بارے میں مجھے کوئی عشاء کے وقت جب میں وہاں پہنچا تو یہ میرے لئے ایک غیر متوقع منظر تھا۔ نے دیکھا کہ یہ مسجد جس کا نام اقراء مسجد ہے کسی آبادی میں نہیں ہے بلکہ وہ ایک کھلی ہوئی جگہ پر گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ یہاں مسجد کے چاروں طرف مسلمانوں کی ایک بڑی کالونی تھی اس کالونی کے اندر انہوں نے یہ مسجد بنائی تھی۔ مگر یہ کالونی غیر قانونی تھی اور دلی کے ماسٹر پلان کے خلاف بنائی گئی تھی۔ چنانچہ ۱۹۸۹ میں راجیو گاندھی کی حکومت کے زمانہ میں اس قسم کی دوسری بہت سی کالونیوں کی طرح اس کو بھی مکمل طور پر توڑ دیا گیا۔ D.D.A کے عملہ نے بلڈوزر کے ذریعہ مسلمانوں کے ہزاروں مکانوں کو ڈھادیا۔
آخر میں مسجد کی باری تھی مگر یہاں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ D.D.A کا ایک ملازم جس کا نام پنڈت شرما تھا وہ بلڈوزر کا آپریٹر تھا۔ اس نے مسجد کو بلڈوزر کرنے سے انکار کر دیا۔ کے افسر نے سختی کے ساتھ حکم دیا مگر وہ راضی نہیں ہوا، افسر نے دھمکی دی کہ میں تم کو۔ ملازمت سے برخواست کر دوں گا۔ پنڈت شرمانے کہا کہ آپ جو چاہیں کریں، مگر میں مسجد پر اپنا بلڈوزر نہیں چلا سکتا۔ چنانچہ پوری کالونی مکمل طور پر ڈھادی گئی۔ مگر یہ مسجد اکیلی عمارت کی حیثیت سے کھڑی رہی۔ ایک عرصہ تک یہ مسجد غیر آباد پڑی ہوئی تھی۔ اب قاری محمد سمیع اللہ صاحب نے اس کو آباد کیا ہے۔ انہوں نے اس کی نئی تعمیر کر کے وہاں ایک مدرسہ بھی قائم کر دیا
ہے جس کا نام مدرسۃ الحراء ہے۔
ایک طرف جسولا ویہار کی یہ مسجد ہے جس کو توڑنے سے ہندو انکار کر دیتا ہے، دوسری طرف ایودھیا کی مسجد ہے جس کو ہندو اقدام کر کے توڑ ڈالتا ہے۔ یہ فرق کیوں۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ جسولا ویہار کا ہندو ایک نارمل ہندو تھا۔ جب کہ ایودھیا کا ہندو ایک غیر نارمل جس کی انا کو نا اہل مسلم لیڈروں نے اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے بھڑکا دیا تھا۔ جسولا ویہار کا ہندو اگر مسٹر ہندو تھا تو ایودھیا کا ہندو مسٹر ایگو تھا۔ سیکڑوں سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر ہندو نے کبھی کسی مسجد کو نہیں توڑا مگر جب مسٹر ہندو کو بھڑکا کر مسٹر ایگو بنا دیا جائے تو اس کے بعد وہ ہوگا جو ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو ایودھیا میں پیش آیا۔
اجتماعی زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ دوسروں کے ایگو (انا) کو نہ بھڑکائیں۔ انسان کا ایگو بھڑکایا گیا ہو وہ اپنی ضمیر کے تابع ہوتا ہے اور جس انسان کا ایگو بھڑکا دیا جائے وہ اپنی نفس امارہ کے تابع بن جاتا ہے اور جو انسان اپنی نفس امارہ کے تابع بن جائے وہ گویا ایک حیوان ہے، اگرچہ بظاہر وہ ایک انسان دکھائی دیتا ہو۔
مذکورہ واقعہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ: اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب اللہ کے بس میں ہے ”وإن تصبروا و تتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً إن الله بما يعملون محيط “ (آل عمران (۱۲۰)۔
اس آیت کے مطابق، اس دنیا میں اصل مسئلہ کید (سازش) کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ صبر کی غیر موجودگی ہے۔ اہلِ ایمان اگر صبر کی روش اختیار کریں تو ان کے لئے خدا کی ضمانت ہے کہ ان کے خلاف سازش کرنے والوں کی سازش یقینی طور پر بے اثر ہو کر رہ جائے گی۔ البتہ اگر اہلِ ایمان بے صبری کی روش اختیار کریں تو سخت اندیشہ ہے کہ وہ اغیار کی سازش کی زد میں آجائیں۔ مذکورہ دونوں مثالیں اس کا کھلا ہوا نمونہ ہیں۔ ایودھیا کی مسجد کے معاملہ میں جذباتی
لیڈروں کی رہنمائی میں مسلمانوں نے غیر صابرانہ روش اختیار کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایودھیا کی مسجد کو کچھ مشتعل ہندوؤں نے توڑ دیا۔ اس کے برعکس، دہلی کی مسجد کے معاملہ میں کوئی جذباتی لیڈر اشتعال دلانے کے لئے موجود نہ تھا۔ یہاں فطرت نے مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ انہوں نے صبر اور خاموشی کی روش اختیار کر لی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی کی مسجد جہاں تھی وہیں بدستور قائم رہی، بلکہ سرکاری حکم کے باوجود ہندوؤں نے اس کو توڑنے سے انکار کر دیا۔ جسولا وہار کی مسجد اور ایودھیا کی مسجد کا تقابل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں محلی طور پر ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ تمثیل یا تقابل کا یہ مطلب کبھی نہیں ہوتا کہ دونوں کے درمیان کلی یکسانیت پائی جائے۔ تمثیل یا تقابل ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان جزئی مشابہت کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ کلی مشابہت کے اعتبار سے۔
اسی طرح یہاں جسولا وہار کی مسجد اور ایودھیا کی مسجد کے درمیان جو تقابل کیا گیا ہے وہ صرف ایک پہلو کے اعتبار سے ہے، اور وہ یہ ہے کہ دونوں مسجدوں کا معاملہ یکساں طور پر ہندو کے ساتھ پیش آتا ہے، مگر ایک ہندو مسجد کو توڑ ڈالتا ہے اور دوسرا ہندو مسجد کو نہیں توڑتا۔ زندگی کے معاملات کو سمجھنے کے لئے تقابل (comparison) کا طریقہ نہایت اہم ہے۔ اس تقابل ہی سے زندگی کی زیادہ گہری حقیقتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ بشرطیکہ تقابلی مطالعہ کرنے والا آدمی کھلے ذہن کے ساتھ یہ مطالعہ کرے۔ اور مطالعہ کا جو نتیجہ نکلے اس کو وہ بلا بحث مان لے، خواہ یہ نتیجہ اس کے خلاف ہو، اور خواہ یہ نتیجہ اس کے پورے نظریاتی ڈھانچہ کو ڈھادینے والا ہو۔ کوئی آدمی جب ایک سچائی کا انکار کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں ایک خارجی چیز کا انکار کر رہا ہوں، حالانکہ وہ خود اپنا انکار کر رہا ہوتا ہے، اگر چہ وہ اپنی نادانی کی بنا پر اس کو نہیں جانتا۔