سوال و جواب
Al-Risala, May 2001, pp. 34–38
By Maulana Wahiduddin Khan
بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء نہیں اس کی کیا حقیقت ہے براہ کرم واضح فرمائیں۔ (سید احسن الدین، مراد آباد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام انسانوں، بشمول انبیاء علیم السلام پر، افضل واعظم ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار سرے سے ممکن ہی نہیں۔ صاحب ایمان تو در کنار، غیر مسلم بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریز مورخ ٹامس کارلائل (وفات ۱۸۸۱) نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام پیغمبروں کا ہیرو بتایا ہے۔ امریکہ کے ایک اسکالر ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے آپ کو تمام انسانوں میں سب سے بڑا انسان قرار دیا
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا افضل ہونا بجائے خود ایک مسلم واقعہ ہے۔ سوال خود اس واقعہ کا نہیں بلکہ اس کی تعبیر کا ہے۔ یعنی اس حقیقت کی منصوص تعبیر کیا ہے۔ اس کے اظہار کا منصوص طریقہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر یہ ایک تسلیم شدہ واقعہ ہے کہ ہر مومن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی گہرا قلبی تعلق ہونا چاہئے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، اس قلبی کیفیت کی منصوص تعبیر محبت رسول ہے، عشق رسول اس کی منصوص تعبیر نہیں۔ تعبیر کا یہی فرق مذکورہ مسئلہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ قرآن وحدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ "افضل الانبیاء" کی تعبیر قرآن یا حدیث میں اختیار نہیں کی گئی۔ مثلاً قرآن میں (محمد) رسول اللہ و خاتم النبیین تو ہے مگر قرآن میں کہیں بھی محمد افضل الانبیاء جیسی کوئی آیت اسی طرح حدیث میں انا الماحی تو ہے مگر حدیث میں کہیں بھی انا افضل الانبیاء جیسا کوئی
تعبیر کا یہ فرق ایک بے حد اہم حکمت پر مبنی ہے۔ یہ حکمت کیا ہے، وہ ایک حدیث سے
واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ مدینہ کے ایک مسلمان اور مدینہ کے ایک یہودی کے درمیان تکرار ہوئی۔ یہودی نے قسم کھا کر کہا کہ اس خدا کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام دنیا والوں پر فضیلت دی۔ یہ سن کر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے چہرہ پر طمانچہ مار اور کہا کہ اے خبیث، کیا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اوپر بھی۔ اس کے بعد یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور مسلمان کے خلاف شکایت کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: لا تفضلونی علی الانبیاء (تفسیر ابن کثیر ۱/ ۳۰۲) یعنی مجھ کو دوسرے نبیوں پر فضیلت نہ دو۔ اس مفہوم کی اور بھی کئی روایتیں ہیں۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: لا تفضلوا بین الانبیاء (صفحہ ۳۰۲) یعنی نبیوں کے درمیان ایک دوسرے کو افضل نہ بتاؤ۔ مذکورہ روایت بتاتی ہے کہ افضل الانبیاء کی تعبیر شریعت میں کیوں اختیار نہیں کی گئی۔ مسلمان اور یہودی کے مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ افضل الانبیاء کی تعبیر ، بطور واقعہ درست ہونے کے باوجود، لوگوں کے اندر فخر و ناز کی نفسیات پیدا کرتی ہے۔ ہر ایک اپنے فخر کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غیر ضروری قسم کے نزاعات ابھرتے ہیں۔ ایک گروہ دوسرے گروہ پر اپنی برتری ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے، جب کہ زیادہ صحیح اور مفید بات یہ ہے کہ خدا کا اصل دین لوگوں کے درمیان زیر بحث آئے۔ داعی اور مدعو کے درمیان دعوت کے موضوع پر ڈائیلاگ ہو نہ کہ دونوں ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرنے میں مصروف ہو جائیں۔
اس معاملہ میں قرآن اور حدیث سے جو مخصوص تعبیر ملتی ہے اس کا فائدہ یہی ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کو خاتم النبیین (الاحزاب ۴۰) کہا گیا ہے۔ یہ تعبیر اہلِ ایمان کے اندر ذمہ داری کا جذبہ ابھارتی ہے۔ اس سے یہ احساس بیدار ہوتا ہے کہ پیغمبر کے بعد اب پیغمبر کے ماننے والوں کو یہ کام کرنا ہے کہ آپ کے لائے ہوئے دین کی ہر زمانہ اور ہر نسل میں اشاعت کرتے رہیں۔ وہ ختم نبوت کے بعد پیغام نبوت کا تسلسل دنیا میں جاری رکھیں۔
تعبیر بتاتی ہے کہ ختم نبوت کے بعد آپ کی امت مسئولیت کے اعتبار سے مقام نبوت پر ہے۔ پہلی تعبیر اگر فخر کا احساس پیدا کرتی ہے تو دوسری تعبیر ذمہ داری کا احساس ابھارتی ہے۔ اسی طرح حدیث کی یہ تعبیر کہ ”انا الماحی الذی یمحو بی اللہ الکفر (البخاری، کتاب المناقب) یعنی میں مٹانے والا ہوں، اللہ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹائے گا۔ اُس تعبیر سے دوبارہ ذمہ داری کا گہرا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس میں اہل ایمان کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ہر دور میں جو باطل نظریہ ابھرنے، ہر دور میں دین حق کے خلاف جو شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں ان کے مقابلہ میں وہ بھر پور طور پر کھڑے ہوں اور ہر فکری اور نظریاتی محاذ پر اٹھنے والے طوفانوں کو پیچھے یہ وہی فکری جہاد ہے جس کو قرآن میں جہاد کبیر کہا گیا ہے (الفرقان ۵۲) تعبیر کی اہمیت نفسیاتی اعتبار سے بے حد اہم ہے۔ مثلاً پیغمبر کے ساتھ قلبی تعلق کے بارے میں عشق رسول کی غیر منصوص تعبیر خوش عقیدگی کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں محبت رسول کی منصوص تعبیر اطاعت رسول کا جذبہ ابھارتی ہے۔ اسی طرح افضل الانبیاء کی غیر منصوص تعبیر فخر کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں قرآن و حدیث کی مذکورہ منصوص تعبیر دعوت اور عمل کا جذبہ ابھارتی ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے اجودھیا کی بابری مسجد کے مسئلہ کا یہ حل پیش کیا کہ بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالے کر دیا جائے۔ کیا کوئی مسجد کسی کے حوالہ کی جاسکتی ہے، اس کی (سید اکرام الدین، حیدر آباد)
مسجد ابدی طور پر مسجد ہے۔ مسجد حکماً اللہ کی ملکیت ہے نہ کہ مسلمانوں کی ملکیت۔ مسجد کو کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کے حوالے نہیں کیا جاسکتا کسی بھی شخص کو اس قسم کا حق حاصل میرے بارے میں جو لوگ مذکورہ قسم کی بات کہتے ہیں، وہ میرے اوپر ایک بے بنیاد الزام
کیوں کہ میں نے نہ کبھی ایسا کہا اور نہ کبھی ایسا لکھا، میری کسی بھی تحریر سے اس کا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔
اس معاملہ کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے عقلِ عام ’’کامِن سنس‘‘ ہی کافی ہے۔ میں کامن سنس کو استعمال کر کے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں ہر گز ایسا نہیں کہہ سکتا۔ مسجد اللہ کی ملکیت ہے، وہ کسی انسان کی ملکیت نہیں، ایسی حالت میں اگر میں ایسا کہوں کہ مسلمان بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالہ کردیں تو یہ میرے لئے خود اپنی حیثیت عرفی (reputation) کی نفی کے ہم معنی ہو گا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں مسجد کے معاملہ میں شرعی حکم کو نہیں جانتا اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی حیثیت عرفی کی نفی کا تحمل نہیں کر سکتا، پھر میں کیوں کر ایسا کروں گا۔
میں اللہ کے فضل و توفیق سے تقریباً سے پچاس سال سے قرآن وحدیث کی خدمت کر رہا میرے اس کام کی اہمیت اسی لئے ہے کہ لوگ مجھ کو ایک عالم دین سمجھتے ہیں۔ میں میں خود اپنے ساتھ دشمنی کروں گا اگر میں مسجد کے بارے میں مذکورہ قسم کا بیان دوں۔ کہ اس کے بعد لوگوں کی نظر میں میرا عالم دین ہونا مشتبہ ہو جائے گا، اور اسی کے ساتھ میرا پورا دینی مشن بھی۔ اتنے نازک معاملہ میں میں اتنی بڑی نادانی کیسے کر سکتا ہوں۔ بابری مسجد کے معاملہ میں میری رائے اول دن سے اور اب تک ایک ہی رہی ہے۔ تفصیل الرسالہ کے شماروں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ الرسالہ کے یہ مضامین یکجائی طور پر ایک کتاب میں شائع کئے جاچکے ہیں جس کا نام قیادت نامہ ہے۔ تفصیل کے طالب اس کتاب کو دیکھ سکتے
خلاصہ یہ کہ ۱۹۹۲ء کے حادثہ سے پہلے اور حادثہ کے بعد ہر مرحلہ میں میں ایک ہی بات کہتا رہا ہوں۔ وہ یہ کہ جمہوریت کے ماحول میں جب بھی کوئی نزاعی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو ہمیشہ پر امن دائرہ میں حل کرنا چاہئے۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ ۱۹۹۲ء سے پہلے کچھ خود ساختہ مسلم لیڈر
مسجد کی تحریک کو سڑک پر لے آئے۔ انہوں نے ایک مقامی مسئلہ کو آل انڈیا مسئلہ بنانے کی انہوں نے دھمکی کی زبان استعمال کرنا شروع کیا، مثلاً وہ کہتے تھے کہ بابری مسجد کو چھو کر تو دیکھو۔ اسی طرح انہوں نے اعلان کیا کہ سارے ہندوستان کے مسلمان مارچ کر کے اجودھیا میں داخل ہو جائیں گے۔ اور یہ کہ اگر بابری مسجد ٹوٹی تو سارا ملک ٹوٹ جائے گا، وغیرہ۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے کہا تھا کہ جلسہ جلوس کی سیاست گرمی زیادہ پیدا کرتی ہے اور روشنی یہی میرا کہنا تھا۔ اس معاملہ میں بقیہ علماء اور رہنماؤں سے میرا اختلاف صرف طریقہ کار میں تھا نہ کہ نفس مسئلہ میں۔ جہاں تک مسجد کی شرعی نوعیت کا تعلق ہے اس بارے میں میرا نقطہ نظر عین وہی تھا جو دوسرے حضرات کا رہا ہے۔ البتہ میرا کہنا تھا کہ اس معاملہ کو عدالت یا پر امن گفت و شنید کے دائرہ تک محدود رکھنا چاہئے۔
حالات اب دو اور دو چار کی طرح ثابت کر چکے ہیں کہ جس نقطہ نظر کی حمایت میں نے کی تھی وہی اس معاملہ میں صحیح ترین نقطہ نظر تھا۔ حتیٰ کہ اب تمام اصاغر و اکابر عملاً اسی روش کو اختیار کر چکے ہیں جس کی رہنمائی الرسالہ میں دی گئی تھی۔