Al-Risala · May 2001

لیک بعد از خرابی بسیار

Al-Risala, May 2001, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں میں اضافہ کروں گا کہ اگر راقم الحروف کی رائے پر عمومی طور پر عمل کیا جاتا تو یہ یقینی ہے کہ بابری مسجد کا تاریخی ڈھانچہ اپنی جگہ قائم رہتا، وہ کبھی توڑا نہ جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا انتہائی واقعہ ہمیشہ اشتعال انگیز فضا میں کیا جاتا ہے۔ معتدل فضا میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی کسی مسجد پر حملہ کرے اور وہ اس کو توڑ ڈالے۔ اس نقطہ نظر کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ٦ دسمبر ۱۹۹۲ء کے بعد جب حالات اعتدال پر آگئے اور جلسہ جلوس کی سیاست ختم ہو گئی تو اس کے بعد کوئی اور مسجد ڈھائی نہیں گئی۔ حالانکہ جیسا کہ معلوم ہے بابری مسجد کو توڑنے والے لوگ ٦ دسمبر ۱۹۹۲ء سے پہلے یہ اعلان کر رہے تھے کہ ملک میں تین سو ایسی مسجدیں ہیں جن کو توڑ کر ہمیں دوبارہ مندر بنانا ہے۔ یہ ساری سیاست اس طرح ختم ہو گئی جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

Printed page