سوال و جواب
Al-Risala, May 2001, pp. 39–43
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کا ذمہ دار آپ مسلمانوں کو قرار دیتے ہیں کہ وہی اس کی ابتدا کرتے ہیں۔ کے لوگوں کو آپ اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے۔ کیا یہ صحیح بات ہے، زیادہ تر مسلمانوں کی غلطیوں کی نشاندہی آپ کس لئے کرتے ہیں وضاحت فرمائیں۔ (سید نسیم الدین مجاہد، حیدر آباد) فرقہ وارانہ فساد کے بارے میں میرا نقطہ نظر کیا ہے اس کو سمجھنے کے لئے میری کتاب ’’حل یہاں ہے‘‘ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اس کے ’’آغاز کلام‘‘ کو۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۸۵ میں شائع ہوئی۔ یہ میرے اوپر بے بنیاد الزام ہے کہ میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمان فساد کرتے اصل یہ ہے کہ اس معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک، یہ کہ فساد کا ابتدائی ذمہ دار کون ہے۔ دوسرے یہ کہ فساد کے مسئلہ کو حل کیسے کیا جائے۔ اس موضوع پر جو کچھ میں نے لکھا اس کا تعلق اس مسئلہ کے صرف ایک پہلو سے ہے وہ یہ کہ فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ کا حل کیا ہے۔ الگ سوال ہے کہ فرقہ وارانہ فساد کون شروع کرتا ہے۔ دوسرے لکھنے اور بولنے والے لوگ زیادہ تر اسی پہلے سوال پر لکھتے اور بولتے ہیں جب کہ میرے نزدیک زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس کے نقصان سے بچایا جائے۔ فساد کس نے شروع کیا۔ یہ ایک خالص نظری نکتہ ہے۔ کیسے روکا جائے یہ ایک عملی سوال ہے اور اس کا براہ راست تعلق مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت مجھ کو اصلا اسی نے دلچسپی ہے کہ مسلمانوں کی جان اور ان کے اموال محفوظ ہوں اور وہ اس ملک میں زیادہ سے زیادہ ترقی کر سکیں۔
اس نقطہ نظر سے جب میں سوچتا ہوں تو اس کا جواب مجھے قرآن میں واضح لفظوں میں ملتا قرآن کا وہ جواب یہ ہے : وإن تصبروا و تتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً (آل عمران ۱۲۰) قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے کید یا سازشی منصوبوں سے بچنے کا یقینی
فارمولا یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں صبر اور تقویٰ کا انداز اختیار کیا جائے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فساد زیادہ تر جلوس کے سوال پر ہوتا ہے۔ مسلمان اس کی روٹ بدلنے پر اصرار کرتے ہندو اپنے جلوس کی روٹ بدلنے پر راضی نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے دونوں کے درمیان تکرار ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے فساد بن جاتی ہے۔ قرآن کی مذکورہ رہنمائی کی روشنی میں دیکھیے تو اس مسئلہ کا حل صبر و اعراض ہے نہ کہ ٹکرائو۔ یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جلوس کے معاملہ میں نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کریں۔ جلوس کا مسلم محلہ سے گزرنا صرف ایک وقتی مسئلہ جلوس کے دونوں طرف ہمیشہ پولیس موجود ہوتی ہے جو اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ جلوس کے لوگ محلہ کے اندر داخل نہ ہوں، وہ سڑک سے گزرتے ہوئے آگے چلے جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا ہر موقع صرف چند منٹ کے صبر و اعراض کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر مسلمان ایسے موقع پر تھوڑی دیر کے لئے صبر و اعراض کا ثبوت دیں تو انہیں بیک وقت دو فائدے حاصل ہوں گے: ایک صبر کا ثواب جو قرآن کے الفاظ میں بے حساب حد تک ایمان والوں کو ملتا ہے (الزمر ۱۰)۔ دوسرا فائدہ یہ کہ ان کا یہ وقتی اعراض فرقہ وارانہ فساد کے بم کو پھٹنے سے پہلے ہی ڈفیوز کردے گا۔ اور مسلمان جان و مال کے نقصان سے بچ جائیں گے۔ جو لوگ ماہنامہ الرسالہ کا مطالعہ کرتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ الرسالہ میں بار بار ایسی واقعاتی مثالیں شائع کی جاتی رہی ہیں جب کہ صرف صبر و اعراض کرنے کی وجہ سے فرقہ وارانہ فساد ٹل گیا اور مسلمان جان و مال کے نقصان سے مکمل طور پر محفوظ رہے۔ اس معاملہ کی مزید تفصیل ہماری کتاب (حل یہاں ہے) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اب اس مسئلہ کو لیجئے کہ اس معاملہ میں الرسالہ میں جو مضامین آتے ہیں ان میں زیادہ تر مسلمانوں کی کوتاہیوں کا ذکر ہے اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہی قرآن کا اسلوب قرآن میں ایک مستقل معاشرتی اصول یہ بتایا گیا ہے کہ تم پر (دوسروں کی طرف سے) مصیبت بھی آتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے عمل کا نتیجہ ہوتی ہے (الشورٰی ۳۰)۔ اسی اصول کی روشنی میں قرآن میں کم از کم دوبار صحابہ کو ان کی داخلی کوتاہیوں کی طرف توجہ دلائی گئی جب کہ
معاملہ بظاہر نہ صرف یکطرفہ تھا بلکہ اغیار کے ظلم وزیادتی کا ثبوت بھی وہاں موجود تھا۔ یہ دونوں حوالے غزوہ احد وحنین سے تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ معلوم ہے کہ غزوہ احد سراسر قریش کی ظالمانہ کارروائیوں کی بنا پر پیش آیا تھا۔ ان کی یکطرفہ جارحیت اسی سے ثابت ہے کہ وہ مکہ سے اقدام کر کے مدینہ پہنچے اور یہاں آ کر بلا سبب مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے جس کے نتیجہ میں احد کی جنگ پیش آئی۔ اس میں مسلمانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ احد کے اس واقعہ پر قرآن میں تبصرہ نازل ہوا تو اس میں قریش کے خلاف سخت بیان دینے کے بجائے خود اہل ایمان کو تنبیہ کی گئی قرآن میں ارشاد ہوا کہ یہ در اصل تمہارا باہمی نزاع (آل عمران ۱۵۲) تھا جس کی بنا پر تم کو احد کے موقع پر جان و مال کا نقصان اٹھانا پڑا۔
دوسرا واقعہ وہ ہے جس کو اسلام کی تاریخ میں غزوہ حنین کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے غزوہ حنین قبیلہ ہوازن کی یکطرفہ جارحیت کے نتیجہ میں پیش آیا تھا۔ اس موقع پر بھی مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ مگر قرآن میں جب غزوہ حنین پر تبصرہ نازل ہوا تو دوبارہ یہی ہوا کہ جارح قبیلہ کے خلاف بیان دینے کے بجائے خود اہل ایمان کو تنبیہ کی گئی۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ حنین کے دن تمہارے اندر عجب اور ناز (التوبہ ۲۵) پیدا ہو گیا تھا اور یہی تمہارے لئے نقصان کا سبب بنا۔ یہی قرآنی اسلوب ہے جس کو میں اپنی تحریروں میں اختیار کرتا ہوں۔ اگر فرقہ وارانہ فسادات کے بارے میں یہ کہنا ہو کہ اس کو شروع کرنے والا کون تھا تو میرا جواب بھی وہی ہو گا جو دوسرے مسلم رہنماؤں کا جواب ہوتا ہے۔ مگر جیسا کہ عرض کیا گیا، اس طرح کے معاملات میں میرے سامنے یہ سوال ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی جان و مال کو کیسے محفوظ کیا جائے اور جب میں اس دوسرے سوال پر غور کرتا ہوں تو میں مجبور ہوتا ہوں کہ قرآن کی روشنی میں بات عرض کروں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ میرے بھائی صاحب نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آج کل کے مسلمانوں کو کس قسم کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی
ہے کہ مسلمانوں کو حقیقت پسند بنایا جائے مگر وہ میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ آپ اس کا جواب عنایت فرمائیں اور اس مسئلہ کو واضح کریں۔ (صوفیہ حیدر، بتیا، بہار) آپ نے مذکورہ سوال کا بالکل درست جواب دیا۔ رہنمائی کے سلسلہ میں صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی نظری یا تاریخی باتوں کو جانے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ یہ جانے کہ زمانی حالات کیا ہیں اور زمانی حالات کے اعتبار سے لوگوں کو کس قسم کی رہنمائی دینے کی ضرورت ہے۔
اس سلسلہ میں ایک سبق آموز حوالہ یہ ہے کہ ایک عالم نے ایک بار فتویٰ دیا کہ المسح علی الخفین واجب (خفین پر مسح کرنا واجب ہے) لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے اس کو وجوب کا درجہ کیوں دیا، جب کہ یہ ایک رخصت کا معاملہ ہے۔ عالم نے جواب دیا کہ موجودہ زمانہ میں لوگ خفین پر مسح کرنے میں کراہت محسوس کرنے لگے تھے، اس لئے میں نے اس کی اہمیت پر زور دینے کے لئے یہ فتویٰ دیا۔
اسی طرح مسلمانوں کے بارے میں بھی یہ دیکھنا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ان کے اندر کیا کمی آگئی ہے کہ ترقی کی دوڑ میں وہ دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حقیقت پسندانہ طرز فکر (realistic approach) ان کے اندر تقریباً ختم ہوگیا موجودہ زمانہ کے مسلمان عام طور پر جذباتی انداز میں سوچنے لگے ہیں۔ وہ اکثر جذباتی فیصلہ کے تحت اقدام کرتے ہیں۔ حالات کا گہرا تجزیہ اور تعمیری منصوبہ بندی کا مزاج ان میں باقی نہیں رہا۔ یہی ان کے موجودہ مسائل کا اصل سبب ہے۔ ایسی حالت میں موجودہ مسلمانوں کے لئے جس رہنمائی کی ضرورت ہے وہ یقینی طور پر یہی ہے کہ ان کے اس مزاج کی تصحیح کی جائے۔ ان کے اندر سے جذباتیت کا مزاج ختم کیا جائے۔ اس کے بجائے ان کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے۔ اس مزاج کا ایک اور تباہ کن نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان عددی اعتبار سے بہت
بڑی طاقت ہیں، مگر اپنی بے اتحادی کی بنا پر وہ صرف ایک کمزور قوم بنے ہوئے ہیں۔ اتحادی کا واحد سبب یہی جذباتیت ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ معمولی اختلاف پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ اختلاف کے وقت اپنا اعتدال کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ اس شخص کے دشمن بن جاتے ہیں جو کوئی ایسی بات کہے جس سے وہ اختلاف رکھتے ہوں۔
فرق اور اختلاف ایک فطری حقیقت ہے۔ وہ ہر سماج میں اور ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ یہ ہے کہ فرق وہ اختلاف کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ صحابہ کرام کے زمانہ میں بھی ان کے اندر بہت سے موجودہ دنیا میں اتحاد ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر اختلاف کو برداشت کرنے کا مزاج ہو۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا، کیوں کہ غیر اختلافی سماج تو دنیا میں کبھی بنایا ہی نہیں جاسکتا۔ قرآن میں آیا ہے کہ تم صبر کرو جس طرح اولوالعزم انبیاء نے صبر کیا اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ (الاحقاف ۳۵) اس کا مطلب کیا ہے، اس کی تفصیل فرمائیں۔ (اسجد نواز صابری، ململ، بہار)
عزم کا مطلب پختہ ارادہ (determination) ہے۔ یعنی اپنے مقصد پر پوری طرح جے رہنا، کسی بھی چیز کا اثر لے کر اپنے مقصد سے منحرف نہ ہونا۔ اس آیت میں داعی کا کردار بتایا گیا داعی سے جو کردار مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے خواہ کتنا ہی زیادہ منفی ردِ عمل کا اظہار ہو، مگر داعی اپنے مثبت رویہ پر قائم رہے۔ مدعو اگر اشتعال دلائے تب بھی داعی مشتعل نہ مدعو اگر قابل نفرت سلوک کرے تب بھی داعی اس کا خیر خواہ بنا رہے۔ مدعو اگر نزاع چھیڑے تب بھی داعی اس سے اعراض کرتے ہوئے لڑائی کی نوبت نہ آنے دے۔ ہے اور دعوت کا کام اس عزیمت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔