Al-Risala · January 2001

عملی حالات کی رعایت

Al-Risala, January 2001, pp. 27–29

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام ﷺ نے ذی الحجہ ۹ھ میں حج کا فریضہ ادا فرمایا۔ اس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان اکٹھے تھے۔ آپ نے اپنے خطبہ میں جو باتیں فرمائیں ان میں سے ایک وہ تھی جس کو انسانی مساوات کا اعلان کہا جاسکتا آپ نے اس موقع پر یہ تاریخی الفاظ فرمائے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں۔ فضیلت کا تعلق صرف دین اور تقویٰ

اس خطبہ کے تقریبا ڈھائی ماہ بعد مدینہ میں آپ کی وفات ہو گئی۔ آپ کی وفات کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کس کو خلیفہ بنایا جائے۔ مذکورہ اعلان کے مطابق بظاہر صرف یہ ہونا چاہئے تھا کہ دین اور تقویٰ کی بنیاد پر خلافت کا فیصلہ کیا جائے نہ کہ نسل اور قبیلہ کی بنیاد مگر عملا ایسا نہیں ہوا۔

آپ کی وفات کے بعد مدینہ کی ایک چو پال (ثقیفہ بنی ساعدہ) میں مسلمانوں کا اجتماع لوگوں کا پہلار جحان یہ تھا کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنایا جائے جو مدینہ کے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس وقت حضرت ابو بکر صدیق نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث پیش کی کہ الائمۃ من قریش۔ یعنی خلیفہ یا امام قریش سے ہوگا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سعد بن عبادہ چونکہ قبیلہ قریش سے نہیں ہیں اس لئے ان کو خلیفہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کسی قدر بحث کے بعد آخر کار لوگوں کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ قبیلہ قریش ہی کے کسی شخص کو خلیفہ بنایا جائے۔ کے مطابق حضرت ابو بکر صدیق خلیفہ اول مقرر ہوئے جو کہ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔ بظاہر یہ ایک متضاد بات ہے۔ پھر پیغمبر اسلام ﷺ نے ایسا کیوں فرمایا۔

پیچھے ایک عظیم حکمت تھی۔ وہ یہ کہ خلیفہ یا حکمران کو ایک وسیع انسانی سماج پر احکام کا نفاذ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ لوگ خلیفہ کی اطاعت پر راضی ہو جائیں۔ اطاعت رضاکارانہ ہونا چاہئے۔ جبری اطاعت کے ذریعہ وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جو اسلامی خلافت کا مقصود ہے۔

قدیم عرب میں سیکڑوں سال کی تاریخ کے نتیجہ میں قریش کے لوگوں کو سرداری کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ عوامی نفسیات کسی ایسے شخص کی سیادت کو آسانی کے ساتھ قبول کر لیتی تھی جس کا تعلق قریش کے قبیلہ سے ہو۔ اسی سماجی صورت حال کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ الائمۃ من قریش۔ یہ کوئی ابدی حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ کسی قوم میں جس گروہ کو قریش جیسی سیاسی حیثیت حاصل ہو جائے، وہاں اسی گروہ کے کسی فرد کو قوم کے اوپر حاکم بنایا جائے۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عملیت (Pragmatism) بھی رسول اللہ ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ انفرادی معاملہ میں ایک شخص کو ہمیشہ نظری معیار سامنے مگر اجتماعی معاملات میں بعض اوقات نظری معیار قابل عمل نہیں ہوتا، اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے معاملہ میں نظری معیار کو چھوڑ کر عملی تقاضے کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو زندگی کا نظام ہموار طور پر نہیں چل سکتا۔ فتح مکہ کے بعد عرب میں وہ دور آیا جس کو تاریخ میں عام الوفود کہا جاتا ہے۔ کے قبائل مدینہ آکر اسلام قبول کرنے لگے۔ ان میں سے ایک قبیلہ ثقیف بھی تھا جو طائف سے آیا تھا۔ یہ لوگ مدینہ آئے تو انھوں نے ایک انوکھی شرط پیش کر دی۔ انھوں نے کہا کہ

ہم اسلام تو قبول کر لیں گے لیکن ہم نہ زکوٰۃ دیں گے اور نہ جہاد کریں گے۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ عام لوگ اس قسم کے اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ نے حال سے اوپر اٹھ کر مستقبل کو دیکھا۔ آپ نے اپنی بصیرت کے تحت یہ سمجھا کہ یہ لوگ جب اسلام میں داخل ہو کر مسلم معاشرہ کا جزء بن جائیں گے تو وہ اپنے آپ سب کچھ کرنے لگیں گے۔ چنانچہ آپ نے ان کی شرطوں کو مانتے ہوئے انھیں اسلام میں داخل کر لیا۔ لوگوں کے اشکال کو رفع کرنے کے لئے آپ نے فرمایا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد وہ زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ (سیتصدقون و یجاهدون اذا اسلموا) سیرت ابن کثیر ۵۶/۴۔

پیغمبر اسلام ﷺ کے اس اسوہ سے ایک عظیم حکمت معلوم ہوتی ہے۔ یہ حکمت ایک لفظ میں مستقبل بینی ہے۔ انسان کوئی پتھر نہیں ہے جو تاثر کو قبول نہ کرے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسان کے حال پر اس کے مستقبل کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہئے۔ بوقت معاملہ فوری تبدیلی پر اصرار سے ضد پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اپنے آپ ایسا ہو گا کہ آدمی مستقبل میں عین وہی بن جائے گا جیسا کہ حال میں ہم دیکھنا چاہتے تھے۔ زیر طبع کتاب مطالعہ سیرت کا ایک باب (صفحات ۲۰۸)

Printed page